بیٹیوں کو مارنے والوں سے لڑتا ایک بوڑھا رکشے والا


\"aliمیں ایک نیوز چینل میں کام کرتا ہوں۔ چند روز پہلے دفتر سے نکلا تو سامنے کئی رکشے والے کھڑے تھے۔ ایک دو سے بات نہیں بنی، تیسرے کے پاس پہنچا۔ بہت ہی بوڑھا آدمی تھا۔ مجھ سے زیادہ بحث نہیں کی گئی۔ میں نے 120 روپے بولا، اس نے 150 روپے اور میں چپ چاپ بیٹھ گیا۔
رکشہ ابھی تھوڑی ہی دور گیا ہوگا کہ وہ بولا، \”تسی ایتھے کم کردے او؟\” (آپ ادھر کام کرتے ہیں؟)
یہ عمومی طور پر بڑا مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ رکشے والوں کو کوئی نہ کوئی مسئلہ لاحق رہتا ہی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ میں حل نہیں کر سکتا۔ بہرحال چار و ناچار \’جی\’ کہہ دیا۔
بوڑھا آدمی بولا، \”تین واری لے کے آیا آں ایتھے اپنی بیٹی نوں۔ کچھ کردے ای نئیں\”۔ (تین دفعہ اپنی بیٹی کو یہاں لایا ہوں۔ کچھ کرتے ہی نہیں)
میں خاموش رہا۔ \”کچھ وی نئیں ہویا، تین واری لے کے آیا آں\”، وہ پھر سے بولا۔ (کچھ نہیں ہوا، تین دفعہ لایا ہوں)
اس شدید خواہش کے باوجود کہ اس بارے میں مزید جانوں، میں خاموش رہا۔ کیونکہ میں جانتا تھا میں کچھ نہیں کر سکوں گا۔ بات سن کر کیا دل خراب کرنا؟
لیکن تھوڑا دور جا کر وہ خود ہی بولنا شروع ہو گیا۔

\”میں اپنی کڑی دا ویاہ کیتا سی۔ اودے کار ہوئیاں دو دھیاں۔ جدوں تیجی ہوئی تے اوناں نے مار دتی\”۔

(میں نے اپنی لڑکی کا بیاہ کیا تھا۔ اس کے ہاں دو بیٹیاں ہوئیں۔ جب تیسری ہوئی تو اس کے سسرال والوں نے اسے مار ڈالا)

میں سن ہو گیا۔

\”اسی بڑی واری ایتھے آئے آں۔ کدی کہندے نیں پولیس چے رپورٹ کرو، کدی اوتھے جاؤ، کدی ایتھے جاو۔ پولس آلیاں نے بڑی مشکل پہلے تے رپورٹ لکھی، فیر پتہ نئیں اوتھوں پیسے کھا لئے یا کیہہ ہویا۔ نہ بندہ پھڑدے نیں، نہ کوئی تاریخ پیندی اے۔ کچھ وی نئیں ہویا۔ میری بیٹی کہندی اے اینہاں نے میری دھی ماری اے، میں بدلہ لینا اے۔ بڑا سمجھایا اے اوہنوں وی۔ پر او کہندی اے میری بچی مار دتی اینہاں نے\”۔

(ہم بہت دفعہ آئے ہیں یہاں۔ کبھی کہتے ہیں کہ پولیس کو رپورٹ کرو۔ کبھی یہاں جاؤ، کبھی وہاں جاؤ۔ پولیس والوں نے بھی بہت مشکل سے رپورٹ لکھی۔ مگر پھر پتہ نہیں کہ وہاں سے انہوں نے پیسے کھا لئے یا کیا ہوا؟ مگر وہ بندہ گرفتار نہیں کیا اور نہ ہی مقدمے کی کوئی تاریخ پڑتی ہے۔ کچھ بھی نہیں ہوا۔ میری بیٹی مجھ سےکہتی ہے کہ انہوں نے میری بیٹی ماری ہے میں ان سے بدلہ لوں گی۔ میں نے اسے بڑا سمجھایا مگر وہ کہتی ہے نہیں انہوں نے میری بیٹی ماری ہے۔)

وہ بولے جا رہا تھا۔

میرے حلق سے کوئی آواز نکلی ہی نہیں۔ کیا بولتا؟ دلاسہ دیتا؟ کیا کوئی دلاسہ ہو سکتا تھا؟

میں پیچھے سکتے کی حالت میں بیٹھا بس یہ سوچ رہا تھا کہ یہ کون سے زمانے کے لوگ ہیں، جہاں آج بھی بیٹی پیدا ہوتے ہی مار دی جاتی ہے؟ یہاں اسلام کیوں نہیں آیا؟ کیا ہم پر وقت ٹھہر گیا ہے؟ کیا ہمیں نبیﷺ کے آنے کا پتہ ہی نہیں چلا؟ ہم کہاں رہ رہے ہیں؟ اور ہم کب تک یہیں رہتے رہیں گے؟

میں بس سوچے جا رہا تھا۔ اس بوڑھے آدمی کو کچھ بھی نہیں کہہ سکا۔

Facebook Comments HS

One thought on “بیٹیوں کو مارنے والوں سے لڑتا ایک بوڑھا رکشے والا

  • 08/08/2016 at 9:58 صبح
    Permalink

    سچ کہا،
    اکثر پڑھے لکھے مذہبی گھرانوں میں بھی بیٹی کی پیدائش پر صف ماتم بچھ جاتی ہے۔

    ہماری ایک محلے دار جو خاصی صاحب حیثیت بھی تھیں خود تین بیٹیوں اور ایک بیٹے کی ماں تھیں۔ سب ہی پڑھے لکھے اور ویل سیٹلڈ۔ گھرانا بھی خاصا مذہبی۔
    اکلوتے بیٹے کے گھر پہلے بیٹی ہوئی چاروناچار قبول کر لی گئی۔ پھر چار سال بعد اللہ نے دوسری امید کا پھول کھلایا۔ ساس کی اٹھتے بیٹھتے بیٹے کی دعا۔ ہاسپٹل جاتے ہوئے بہو کو تلقین کہ بیٹا ہی لانا۔ لیکن ہاسپٹل سے بیٹی کی خبر آئی۔ اور پھر ساس نے وہیں رونا دھونا مچا دیا۔ بچی کی شکل دیکھنا تو درکنارگھر سے نہ نکلیں اور ہر آنے جانے والے کو رو رو کر دکھڑا سناتی رہیں۔ بہو کے گھر والے جو محلے دار ہی تھے ان کو بلا کر سخت سست سنائیں اور صاف کہہ دیا کہ اپنی بیٹی کو ہاسپٹل سے اپنے گھر لے جائیں۔
    ایک عجیب وحشت کا عالم تھا چونکہ بہو بھی بچپن سےاسی محلے کی رہنے والی تھیں اس لیے سب کی ہردلعزیز بھی تھیں اور وہ واقعتا بہت سلجھی ہوئی لڑکی ہیں۔
    ہاسپٹل کھانا پانی کچھ نہ بھجوایا گیا اور کھلم کھلا بائیکاٹ کر دیا گیا۔ بیٹا الگ گم صم، بیوہ ماں کی سنے یا اپنی شفقت پدری اور بیوی سے وفا کو نبھائے۔
    خیر شام تک یہی صف ماتم بچھی رہی اور شام میں خبر آگئی کہ وہ ننھی کلی اپنی ناقدری پر مرجھا گئی۔ وہ معصوم روح نفرتوں کی زہریلی فضا میں چند گھنٹے ہی سانس لے سکی۔

    بچی کی موت طبعی تھی لیکن میرا دل اسے اب تک طبعی موت نہیں مانتا۔

Comments are closed.