اسلامی صدارتی نظام کا ماڈل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 262
  •  

جنوبی کوریا ایک چھوٹا سا ملک ہے، کل رقبہ ایک لاکھ مربع کلومیٹر اور آبادی تقریباً پانچ کروڑ۔ پاکستان ایک بڑا ملک ہے، کل رقبہ پونے نو لاکھ مربع کلومیٹر اور آبادی الحمدللہ بائیس کروڑ۔ آئیں جنوبی کوریا سے اپنا مقابلہ کر کے دیکھتے ہیں۔ جنوبی کوریا کی 53 %آبادی افرادی قوت کا حصہ ہے جبکہ پاکستان میں آبادی کا فقط % 30 لوگ کام کرتے ہیں، گویا جس شرح سے جنوبی کوریا میں لوگ کام کرتے ہیں اگر وہی شرح ہم حاصل کرلیں تو ہماری افرادی قوت میں 49 ملین لوگوں کا اضافہ ہو جائے۔

پاکستان کی افرادی قوت کا % 42 زراعت سے وابستہ ہے اور ہماری زراعت کا جی ڈی پی میں حصہ % 20 بنتا ہے جبکہ جنوبی کوریا کی افرادی قوت کا % 5 زراعت کے شعبے سے منسلک ہے اور جی ڈی پی میں ان کا حصہ % 2 ہے مگر دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ اگر پاکستان کے کل جی ڈی پی اور افرادی قوت کا موازنہ کر کے نتیجہ نکالا جائے تو معلوم ہو گا کہ ہمارا ایک ورکر سالانہ صرف 4,750 امریکی ڈالر کا جی ڈی پی کماتا ہے جبکہ جنوبی کوریا کا ایک فرد سالانہ اپنے ملک کے لیے 54,269 ڈالر کا جی ڈی پی کماتا ہے لیکن یاد رہے کہ ہم ایک عظیم قوم ہیں اور اپنے وطن سے بہت محبت کرتے ہیں، ثبوت کے طور پر پیش ہیں بھارت کے اعداد وشمار جہاں یہ شرح 4,413 ڈالر سالانہ فی ورکر ہے جو ہم سے بھی بری ہے۔

پاکستان کا جی ڈی پی 304 ارب ڈالر اور جنوبی کوریا کا 1.655 کھرب ڈالر ہے، ہماری برامدات بمشکل 25 ارب ڈالر جبکہ جنوبی کوریا کی 596 ارب ڈالر ہیں۔ 2016 میں جنوبی کوریا کی پانچ کروڑ آبادی نے اپنی تخلیقات و مصنوعات کے حقوق استعمال کو محفوظ بنانے کے لیے 108,875 (patent) درخواستیں جمع کروائیں، اس وقت وہاں قریباً ساڑھے نو لاکھ تخلیقات کے حقوق محفوظ کیے جا چکے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ جنوبی کوریا میں فی کروڑ 21,775 حقوق دانش محفوظ ہو چکے ہیں جبکہ اپنے پیارے وطن میں 2016 میں ایسی جمع کروائی گئی درخواستوں کی کل تعداد فقط 214 تھی اور اب تک کل 1,848 تخلیقات کے حقوق ہم نے محفوظ کیے ہیں جو فی کروڑ تعداد 10 بنتی ہے، بھارت کی یہ فی کروڑ تعداد 60 ہے۔

(ماخذ: عالمی حقوق دانش اشاریہ 2017، جنیوا) مگر یاد رہے کہ ہم میں بے پناہ ٹیلنٹ ہے اور اس بات کے ثبوت کے لئے اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ ”آیا جے غوری“۔ 1990 میں پاکستان کی پرائمری اسکول شرح اندراج % 40.46 تھی جو 2015 تک % 54 ہوگئی جبکہ بھارت میں یہ % 95 اور جنوبی کوریا میں % 100 ہے، تاہم مقرر عرض ہے کہ ان اعداد وشمار سے ہماری عظمت پر کوئی فرق نہیں پڑتا، ہم زندہ قوم ہیں، کیا ہوا اگر وینٹی لیٹر پر ہیں!

پاکستان میں زچگی کے دوران فی لاکھ میں سے 178 عورتیں مر جاتی ہیں جبکہ بھارت میں یہ تعداد 174 اور جنوبی کوریا میں 11 ہے، اسی طرح پیدائش کے وقت فی لاکھ میں سے پاکستان میں 64 بچے مر جاتے ہیں، بھارت میں 35 اور جنوبی کوریا میں یہ تعداد 3 ہے لیکن کوئی بات نہیں، ان بچوں کو ہم بدقسمتی کے کھاتے میں ڈال کر مطمئن ہو سکتے ہیں۔ جنوبی کوریا کی % 57 آبادی غیر مذہبی ہے گویا وہ کسی دین کے پیروکار نہیں، پاکستان کی % 96 آبادی مسلمان ہے جس کا نصف ایمان صفائی سے مشروط ہے، مہمانداری جن کی روایت ہے مگر حیرت ہے کہ 2016 میں جنوبی کوریا میں تقریباً پونے دو کروڑ لوگ سیروسیاحت کی غرض سے گئے جبکہ پاکستان میں یہ تعداد پانچ لاکھ سے نہیں بڑھی۔

ان تمام اعداد وشمار کے بارے میں ہم یہ کہہ کر دل کو تسلی دے سکتے ہیں کہ جھوٹ دو قسم کا ہوتا ہے، ایک سفید جھوٹ اور دوسرا اعداد وشمار، مگر مصیبت یہ ہے کہ کالم فقرے بازی کی مدد سے لکھا جا سکتا ہے، مگر ملک جملے بازی سے نہیں چلتے۔ ہم اپنے منہ میاں مٹھو بن کر یہ کہتے رہیں کہ ہم بہت قابل اور ہنرمند قوم ہیں، ہم میں ہر کام کرنے کی صلاحیت ہے، ہم دنیا کی امامت کرنے کے اہل ہیں اور ان دعوؤؤں کے ثبوت کے طور پر کبھی ہم کسی ان پڑھ نوجوان کی گڈی چڑھاتے ہیں، جس نے کہیں سے انجن خرید کر دو پروں والا چھوٹا جہاز بنانے کی کوشش کی ہو، کبھی کسی چھوٹی سی بچی کو دیو مالائی کردار بنا دیتے ہیں، جس نے مائیکرو سافٹ کے کسی امتحان کا ریکارڈ توڑا ہو اور کبھی کسی نوجوان کو رول ماڈل بنا کر پیش کرتے ہیں جس نے اے لیول میں جھنڈے گاڑے ہوں، مگر دنیا بڑی ظالم ہے، وہ ان باتوں کو نہیں مانتی، دنیا تخلیق کاروں اور سائنس دانوں کو سر پر بٹھاتی ہے، خالص دانشوروں اور فلسفیوں کو عزت دیتی ہے اور جن لوگوں نے اپنے شعبے میں کمال حاصل کیا ہو، انہیں اپنے ملک کی شہریت مفت میں دینے کو تیار ہو جاتی ہے۔

ایک ہم ہیں جو خود فریبی میں ہی زندہ ہیں، ہم نے یہ فرض کر لیا ہے کہ دنیا غلط ہے، جو ہمارا ہنر نہیں پہچانتی ورنہ ہم میں تو ایسا ایسا جوہر پوشیدہ ہے جو تن تنہا انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ غلط فہمی اب ہمیں دور کر لینا چاہیے، جس طرح کوئی انسان خود فریبی میں زندہ رہ کر کامیاب نہیں ہو سکتا اسی طرح کوئی قوم بھی خود فریبی کی راہ پر چل کر ترقی نہیں کر سکتی، ثبوت اس کا وہ تمام اعداد وشمار ہیں جو آئے روز ہمارا منہ چڑھاتے ہیں، مگر ہم ان تمام اشاریوں سے نظریں چرا کر سارا ملبہ غیر متعلقہ باتوں، نظام کی خرابی اور کھرے لیڈر کی عدم دستیابی پر ڈال کر دعا کرتے ہیں کہ ملک میں صلاح الدین ایوبی ٹائپ کا کوئی لیڈر آئے جو ڈنڈے کے زور پر ”اسلامی صدارتی نظام“ نافذ کرکے چشم زدن میں ہمارے تمام مسائل حل کر دے۔ یہ کوئی نہیں بتاتا کہ کیا ایسا لیڈر آسمان سے براہ راست ٹپکے گا، بالفرض محال اگر وہ آگیا تو جائے گا کیسے اور اگر وہ بھی بدنیت نکلا تو کیا پھر ”اسلامی صدارتی نظام“ کی ناکامی مان لی جائے گی؟ ویسے تین مرتبہ یہ تجربہ کر کے ہم دیکھ چکے، پٹ چکا، مگر ہم باز نہیں آنے والے۔

جنوبی کوریا ہماری ہی طرح کا ملک ہے، آبادی اور رقبے کی شرح ہم سے بھی زیادہ ہے، مگر ترقی کے ہر زینے پر وہ ہم سے کہیں اوپر ہے، % 57 لوگ غیر مذہبی ہیں اور ریاست کا بھی مذہب سے تعلق نہیں، اس کے باوجود عیسائیت یا بدھ مذہب کو کسی سے کوئی خطرہ نہیں، ہر کوئی اپنے مذہب کی پیروی میں آزاد ہے، ادارے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہیں اور عوام کسی دائمی زندگی کی آس لگائے بغیر موجودہ زندگی کو ہی کامیاب بنانے کے لیے کوشاں ہیں، جنوبی کوریا یہ طے کر چکا ہے کہ اسے اپنے عوام کی خوشحالی کا ماڈل اپنانا ہے اور وہ اسی ماڈل پر کاربند ہے۔

بغل میں شمالی کوریا ہے، ہمارے پسندیدہ ماڈل کے تحت ایک مرد آہن وہاں کا تن تنہا سربراہ ہے، ایٹمی ہتھیار اس کے پاس ہیں، نت نئے میزائلوں کا تجربہ وہاں ہوتا رہتا ہے، اسلحے کی خریداری اس کا شوق ہے، عوام کا حال مگر یہ ہے کہ ہر کوئی ملک سے بھاگ جانا چاہتا ہے، حتی کہ اکثر سفارتکار بھی یورپی ممالک میں غائب ہو جاتے ہیں، ریاست جبر کے ماڈل پر چل رہی ہے، چاروں طرف غربت اور پسماندگی کا ڈیرا ہے، مہنگائی عروج پر ہے اور کسی بھی عالمی انڈیکس میں شمالی کوریا کی حالت قابل رشک نہیں سوائے فوجی طاقت کے۔ دونوں ماڈل ہمارے سامنے ہیں، اب یہ فیصلہ ہم نے کرنا ہے کہ کون سا ماڈل ہمیں سوٹ کرتا ہے۔
بشکریہ جنگ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 262
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 300 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada