زندگی کا لینز

پچھلے دنوں الف کو ایک عجیب و غریب تجربہ ہوا۔ ایک رات کتاب پڑھتے ہوئے اسے یوں محسوس ہوا جیسے الفاظ آپس میں گڈ مڈ ہو رہے ہوں، اس نے لیمپ کی روشنی درست کی اور دوبار ہ پڑھنا شروع کیا مگر کچھ دیر بعد الفاظ پھر دھندلا گئے ، الف نے آنکھیں پھاڑ کر…

Read more

ہماری زندگی کا سب سے اہم کام

ہماری زندگیوں میں ایک کام ایسا ہے جو دنیا کے باقی تمام کاموں سے زیادہ اہم ہے، زمانہ قدیم سے اس کام کی اہمیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ہماری زندگی کا ہر لمحہ، ہمارا حال، ہمارا مستقبل اس کام سے جڑا ہے، یہ کام جتنا اہم ہے اتنا ہی مشکل بھی ہے۔ ہم سب…

Read more

ریکوڈک ۔ اب آرام ہے؟

ریکوڈک کا غلغلہ آج سے آٹھ دس سال پہلے اٹھا تھا، ان دنوں اخبارات میں خبریں شائع ہوئی تھیں اور بچے بچے کی زبان پر ریکوڈک کا نام چڑھ گیا تھا، کہانی سب کی ایک ہی تھی کہ سونے اور تانبے کے ان ذخائر کی مالیت دو ٹرلین ڈالر سے کم نہیں، یہ پاکستان کا…

Read more

بونگ، کلچے اور کائنات

میں ابھی ابھی کلچوں کے ساتھ بونگ، چنے اور آملیٹ کا ناشتہ کرکے فارغ ہوا ہوں، حلوے کے ساتھ کھویا میں نے میٹھے کے طور پر لیا ہے اور اب ڈائٹنگ کے پیش نظر مصنوعی شکر والی چائے پی رہا ہوں۔ اس ناشتے کے بعد جس سرور کی کیفیت مجھ پر طاری ہے اس میں…

Read more

ہندوستانی بادشاہوں کی ”سائنسی“ خدمات

دہلی پر جب بہادر شاہ ظفر کی ”حکمرانی“ تھی تو عالمِ پناہ کی سر پرستی میں آئے دن مشاعرے ہوا کرتے تھے، غالب، داغ، مومن، شیفتہ، آزردہ اور ذوق جیسے اساتذہ وہاں حاضر ہوتے، بادشاہ سلامت کے روبرو اپنی غزلیں کہتے اور داد سمیٹتے۔ ابراہیم ذوق چونکہ بہادر شاہ ظفر کے استاد تھے سو اس مناسبت سے ان کی تکریم زیادہ تھی، غالب کا خیال تھا کہ استاد ذوق بادشاہ کے محل تک رسائی میں رکاوٹ ڈالتا ہے اسی لئے غالب کو لال قلعے میں مشاعرے کے لئے نہیں بلایا جاتا، غالب کی انا کو بھلا یہ کیسے گوارا ہوتا۔

Read more

خوشی کیسے حاصل کی جائے

واصف علی واصف ایک درویش صفت آدمی تھے، آزاد منش فلسفی کی سی زندگی انہوں نے گزاری، کوئی لالچ کوئی طمع ان میں نہیں تھی، آپ دل موہ لینے والی باتیں کرتے جنہیں سننے کے لئے لوگ ہر وقت ان کے پاس جمع رہتے، لاہور کے میانی صاحب میں آپ دفن ہیں۔ جہاں ہر سال…

Read more

نقالوں سے ہوشیار رہیں

جب ہم کسی شخص کو تپتی گرمی میں سیاہ کوٹ میں ملبوس دیکھتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ وہ وکیل ہے، کسی شخص کو کلاس روم میں بلیک بورڈ کے سامنے کھڑا دیکھتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ وہ کوئی استاد ہے، کسی شخص کو لیبارٹری میں خورد بین سے معائنہ کرتے دیکھتے ہیں تو…

Read more

یورپ کے تاریک دور کا پادری

کالم کی سری: یورپ کی نشاۃ ثانیہ سے متعلق فی الحال یہ آخری کالم ہے۔ ایک ہی موضوع پر مسلسل تین کالم لکھ کر پہلے ہی میں اپنے ”حلف“ سے رو گردانی کا مرتکب ہو چکا ہوں مگر ہمارے ملک میں چونکہ یہ معمولی بات ہے سو امید ہے قارئین مجھے معاف فرمائیں گے۔ اگر…

Read more

ایک عیاش بادشاہ

اسکول میں جب ہم معاشرتی علوم پڑھتے تھے تو غالباً آٹھویں جماعت میں ایک باب مغل سلطنت کے زوال کے اسباب سے متعلق ہوا کرتا تھا، مجھے یہ بہت پسند تھا کیونکہ ہر سال اِس سے متعلق ایک سوال ضرور آیا کرتا تھا، اِس عظیم سلطنت کے زوال کی جو وجوہات ہمیں پڑھائی گئیں اُن میں سے ایک وجہ یہ بھی بتائی گئی کہ مغل بادشاہ عیش و عشرت میں پڑ گئے تھے، گانے بجانے کی محفلیں برپا کرتے تھے، محلات میں کنیزیں اور لونڈیاں ہوا کرتی تھیں جن کے ساتھ ان کے شب و روز گزرا کرتے تھے اور یوں وہ سلطنت کے امور سے غافل ہو گئے اور رفتہ رفتہ اقتدار اِن بادشاہوں کے ہاتھ سے نکل گیا۔

Read more

یورپ کا عروج، ہمارا زوال

ہمارے نظام شمسی کے ایک سیارے کا نام زہرہ ہے، چند سال میں ایک مرتبہ یہ سیارہ زمین اور سورج کے درمیان سے گزرتا ہے، اس مخصوص وقت میں اگر زمین کے مختلف حصوں سے اس کی گردش کا مشاہدہ کیا جائے تو ہم بآسانی زمین اور سورج کے درمیان فاصلہ ماپ سکتے ہیں۔ 1769…

Read more