مشعال خان سے پروفیسر خالد حمید تک

20 مارچ 2019 کو گورنمنٹ کالج، بہاولپور کے ایسوسی ایٹ پروفیسر خالد حمید کو انہی کے ایک شاگرد نے اُس وقت چھریاں مار کر ہلاک کر دیا جب وہ اپنے دفتر میں بیٹھے تھے، ملزم بی ایس انگریزی کا طالب علم ہے /تھا جبکہ خالد حمید شعبہ انگریزی کے سربراہ تھے۔ قتل کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ نئے طلبا کا استقبال کرنے کی غرض سے کالج میں ایک تقریب کا اہتمام کیا جا رہا تھا جس پر ملزم کو اعتراض تھا کہ یہ تقریب خلافِ اسلام ہے اِس لیے نہیں ہونی چاہیے، اِس معاملے پر اُس کی خالد حمید سے بحث ہوئی جس میں ملزم نے اپنے استاد پر الزام لگایا کہ وہ خلافِ مذہب بات کرتا ہے جو اُس سے برداشت نہیں ہوئی چنانچہ اُس نے اپنے استاد کے سر اور پیٹ میں چھریوں کے وار کرکے قتل کر دیا۔

موقع واردات پر ایک وڈیو بھی ریکارڈ کی گئی ہے جس میں ملزم اُس کمرے میں بیٹھا ہے جہاں پروفیسر کا خون بکھرا ہے، ملزم کے چہرے پر کسی قسم کا ملال نہیں اور وہ اِس بات پرایک طرح سے فخر کا اظہار کر رہا ہے کہ اُس کا استاد اُس کے ہاتھوں قتل ہوا۔ وڈیو بنانے والے نے ملزم سے جب یہ پوچھا کہ اگر پروفیسر خالد حمید نے کوئی خلافِ مذہب بات کی تھی تو اسے چاہیے تھا کہ وہ کالج انتظامیہ یا قانون کے مطابق متعلقہ اداروں کے علم میں یہ بات لاتا جس کے جواب میں ملزم نے اطمینان سے کہا کہ ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں۔

Read more

نیوزی لینڈ کی ریاست اور ہم

آج سے ہزاروں سال پہلے دنیا میں ریاست کا کوئی تصور نہ تھا، ملکوں کی سرحدیں ہوتی تھیں اور نہ باقاعدہ حکومتیں، کوئی لکھا پڑھا آئین ہوتا تھا اور نہ قانون، منظم فوجیں ہوتی تھیں اور نہ سرکاری محکمے۔ عدالتیں، پولیس اور کچہریاں بھی نہیں ہوتی تھیں، انسان آپس میں لڑ جھگڑ کر کسی علاقے…

Read more

کیا اب گوروں پر بھی شک کیا جائے گا؟

ہم پاکستانی مسلمان جب بھی کسی مغربی ملک کی سیر کا پروگرام بناتے ہیں تو دل میں تین دعائیں مانگتے ہیں، یا اللہ ویزا لگ جائے، ہوائی اڈے پر امیگریشن والے تنگ نہ کریں اور ہم خیر خیریت سے واپس آجائیں۔ یورپ، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ وغیرہ ایسی جگہوں پر جانے سے پہلے ہمیں…

Read more

عورت مارچ، اپریل، مئی ،جون۔۔۔

چلیں پہلے یہ طے کر لیتے ہیں کہ عورتوں کے خلاف آخر چارج شیٹ کیا ہے۔ پہلا الزام یہ ہے کہ اُنہوں نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر عورت مارچ کیا، جس میں چند عورتوں نے قابل اعتراض پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور اُن پر نہایت بیہودہ نعرے درج تھے۔ دوسرا الزام…

Read more

تالیاں بجاتی لڑکیاں

2012 ء میں ایک وڈیو کلپ منظر عام پر آیا، یہ وڈیو کوہستان کے ایک دور افتادہ گاؤں سرتائی میں ہونے والی کسی شادی کی تقریب کی تھی، اس کلپ میں پانچ لڑکیاں نظر آرہی تھیں جنہوں نے سروں پر چادریں اوڑھ رکھی تھیں جبکہ دو لڑکے روایتی موسیقی پر رقص کر رہے تھے اور یہ لڑکیاں انہیں دیکھ کر تالیاں بجا رہی تھیں۔ آٹھواں شخص ایک لڑکا تھا جس نے یہ وڈیو بنائی۔ سرتائی گاؤں قراقرم ہائی وے سے دو دن کی ”واک“ پر واقع ہے اور شادی کی ”تقریب“ کی وڈیو دیکھ کر اس کی پسماندگی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

بدقسمتی سے یہ کلپ اُس گاؤں میں پھیل گیا جس کے فوری بعد جرگہ بلایا گیا جس میں چالیس سے پچاس افراد شریک ہوئے، قبیلے کی غیرت پر ماتم وغیرہ کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ لڑکیوں کو تالیاں بجانے کی بے غیرتی کی سزا کے طور پر قتل کر دیا جائے۔ ایسا ہی ہوا۔ 30 مئی 2012 ء کو پانچوں لڑکیوں کو قتل کرکے دفنا دیا گیا۔ یہ بات مزید پھیل کر میڈیا میں آ گئی، اُس وقت کی عدالت عظمیٰ نے اِس واقعے کا ازخود نوٹس لیا اور کے پی انتظامیہ سے رپورٹ طلب کر لی، جواب میں پوری صوبائی انتظامیہ بشمول چیف سیکریٹری، ڈی آئی جی، کمشنر سب طرم خان، عدالت میں پیش ہوئے اور یک زبان ہوکر بیان دیا کہ انہیں لڑکیوں کے قتل ہونے کے کوئی ”شواہد نہیں ملے“۔

Read more

جنگ کی آگ بھڑکانے والے

ونسٹن چرچل نے ’دی سیکنڈ ورلڈ وار‘ کے نام سے چھ جلدوں پر مشتمل ایک کتاب لکھی، 1953میں اس کتاب پر چرچل کو ادب کا نوبیل انعام بھی دیا گیا، اس کی پہلی جلد The Gathering Stormکے نام سے ہے، اس میں چرچل لکھتا ہے کہ جب پہلی جنگِ عظیم ختم ہوئی تو دنیا کا…

Read more

ایک رومن غلام کی زندگی

فلسفیوں میں مجھے stoicبہت پسند ہیں، اس لفظ کا اردو ترجمہ رواقی ہے، اب رواقی کا کیا ترجمہ ہے، یہ مجھے معلوم نہیں۔ Stoicفلسفیوں کی ایک قسم ہے، جس کی بنیاد ان کے باوا آدم زینو نے رکھی تھی، آج سے اڑھائی ہزار سال پہلے پیدا ہونے والے اس فلسفی کی وجہ شہرت وہ معمے بنے جنہیں پیش کر کے وہ لوگوں کے ذہن کی گتھیاں سلجھانے کی کوشش کرتا تھا۔ Stoicفلسفے کو محض وقت گزاری کے لیے نہیں پڑھتے تھے بلکہ ان کا ماننا تھا کہ فلسفہ زندگی گزارنے کا طریقہ سکھاتا ہے اور زندگی بھی ایسی جو سادہ اور پُرمسرت ہو۔

آفاقی قوانین کے تابع ہو اور دنیاوی نفع نقصان اور موت کے خوف سے ماورا ہو کر ایک آزاد ذہن کے ساتھ گزاری جائے۔ ایسے ہی ایک فلسفی کا نام Epictatusتھا، یہ 55 عیسوی میں ترکی میں پیدا ہوا اور پھر وہاں سے بطور غلام روم لایا گیا، اُس کا مالک ایک دولت مند اور طاقتور شخص تھا جو خود روم کے شہنشاہ نیرو کا غلام رہ چکا تھا۔ نیرو کے دورِ اقتدار کے خاتمے کے بعد اُس کے پیشرو نے ایپکٹیٹس کے آقا کو قتل کروا دیا، جس کے نتیجے میں ایپکٹیٹس کو آزادی مل گئی۔

Read more

پیر بابوں کے کلائنٹس

مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ شہر میں ایک ایسی جگہ بھی ہے جہاں ہر بیماری کا شرطیہ علاج کیا جاتا ہے اور ہر غم کو خوشی میں تبدیل کرنے کی گارنٹی دی جاتی ہے۔ میرے ایک دوست نے اس جگہ کے بارے میں بتایا جو وہاں سے ہوکر آیا تھا۔ یہ جگہ ایک حکیم…

Read more

پاکستان میں سیاحت کا خلاصہ

پچھلی گرمیوں میں مظفر آباد جانے کا اتفاق ہوا، وہاں ایک ہی اچھا ہوٹل ہے اسی میں ہم ہمارا قیام تھا، اس ہوٹل سے پورا مظفر آباد نظر آتا ہے، شام کو خاص طور سے یہ نظارہ اور بھی دلکش ہو جاتا ہے، جب پورے شہر کی روشنیاں جگمگا اٹھتی ہیں، یوں لگتا ہے جیسے…

Read more

کشمیر پر شنڈلرز لسٹ پارٹ ٹو – مکمل کالم

ہندوستان پر انگریز کا راج تھا، سرکار نے نمک پر ٹیکس عائد کر رکھا تھا، قانون کے مطابق نمک پر حکومت کی مکمل اجارہ داری تھی، کوئی بھی شخص بغیر اجازت کے نمک کا ذخیرہ نہیں کر سکتا تھا، قانوناً زمین پر گرا ہوا نمک بھی حکومتی ملکیت تھی اور اسے اٹھانا جرم تھا۔ 31 دسمبر 1929 کو لاہور میں راوی کے کنارے جب کانگریس نے ہندوستان کا جھنڈا لہرایا اور ”پورنا سواراج“ کا نعرہ بلند کیاتو ساتھ ہی گاندھی کو سول نا فرمانی شروع کرنے کا اختیار بھی دے دیا۔

گاندھی نے انگریز کے نمک کے قانون کی خلاف ورزی کا فیصلہ کیا اور ایک مارچ کا اعلان کر دیا، یہ مارچ چوبیس دن تک جاری رہا ہے، ان چوبیس دنوں میں گاندھی نے پیدل دو سو چالیس میل کا سفر طے کیا، وہ جہاں جاتا لوگ جوق در جوق اس کے قافلے میں شامل ہو جاتے، ہزاروں لاکھوں کے اس قافلے نے بین الاقوامی میڈیا کی توجہ حاصل کر لی، دنیا کو جب علم ہوا کہ ہندوستان میں نمک زمین سے اٹھانا قانوناً جرم ہے اور گاندھی نامی ایک کمزور اور نہتا شخص اس بے رحم قانون کو توڑنے کے لیے پیدل سفر پر نکل کھڑا ہوا ہے تو انگریز سرکار پوری دنیا میں ذلیل ہو کر رہ گئی، ہندوستان، یورپ اور امریکہ کے اخبارات نے اس مارچ کو کوریج دی، ٹائم نے گاندھی کو 1930 کا مین آف دی ائیر کا خطاب دیا، نیو یارک ٹائمز نے روزانہ کی بنیاد پر مارچ کی خبریں دیں۔ 6 اپریل 1930 کی صبح گاندھی نے ڈانڈی (سورت کے قریب ایک گاؤں ) کے مقام پر ساحل سمندر سے مٹھی بھر نمک اٹھا کر مارچ ختم کرتے ہوئے کہا ”میں انگریز راج کی بنیادیں ہلا رہا ہوں۔ “ باقی تاریخ ہے۔

Read more