پاکستانی موسیقی کا جنازہ

کالم کی سری:گزشتہ اتوار خاکسار نے بالی ووڈ کی موسیقی پر جو کالم لکھا تھا اس کے بعد انصاف کا تقاضا تھا کہ پاکستانی موسیقی کا بھی حسبِ توفیق پوسٹ مارٹم کیا جائے، سو آج وہی ہوگا۔ کچھ احباب نے متذکرہ کالم کے بعد سے مجھے موسیقی کا کوئی ’’خاں صاحب‘‘ سمجھ لیا ہے حالانکہ…

Read more

جنرل ڈائر او ر ادھم سنگھ

پہلی جنگ عظیم اپنے عروج پر تھی، ایک جانب برطانیہ اس جنگ میں الجھا ہوا تھا تو دوسری جانب ہندوستان میں بڑھتی ہوئی ’’بغاوت‘‘ نے اس کا ناطقہ بند کر رکھا تھا، ان باغی سرگرمیوں کو کچلنے کے لئے تاج برطانیہ نے ہندوستان میں ہنگامی نوعیت کے قوانین نافذ کر رکھے تھے۔ جب جنگ عظیم…

Read more

تیرے میرے ہونٹوں پہ۔ مکمل کالم

ایسے ہی ایک دن بیٹھے بٹھائے میں نے سوچا کیوں نہ اپنی پسند کے تمام گانے ایک یو ایس بی میں بھروا لیے جائیں، کھٹ سے گاڑی نکالی اور ایک میوزک سٹور کے باہر پہنچ کر بریک لگائی، دکان میں انیس بیس برس کا ایک لڑکا موجود تھا، میں نے اپنی پسندیدہ فلموں کی فہرست اسے تھمائی اور کہا کہ ان فلموں کے گانے بھر دو، اُس نے فہرست پراچٹتی سی نظر ڈالی اور پھر بولا کہ یہ چاندنی کون سی فلم ہے، کیا بہت پرانی ہے؟ اس سوال پر میں سٹپٹا گیا، عجیب نا معقول لونڈا ہے جسے چاندنی فلم کا نہیں پتا، بد قت تمام اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ایسی پرانی بھی نہیں، یہی کوئی 89 / 90 میں آئی ہوگی۔

اس پر وہ غریب معصوم سی شکل بنا کر بولا ”تو سرپرانی ہی ہوئی نا! “ اب میرا ماتھا ٹھنکا، غور کیا بیچارہ ٹھیک ہی توکہہ رہا تھا، جو فلم اُس کی اپنی پیدائش سے دس گیارہ برس پہلے آئی تھی اسے وہ پرانی نہ کہے تو اور کیا کہے! چاندنی کے تمام گانے مجھے آج بھی یاد ہیں، ”تیرے میرے ہونٹوں پہ“ کا تو جواب ہی نہیں، شفون کی زرد ساڑھی میں لپٹی سری دیوی سویٹزر لینڈ کی حسین وادیوں میں یہ گیت فلم بند کرواتی ہوئی غضب ڈھا رہی ہے، پھر لتا منگیشکر کی آواز نے تو جیسے گانے میں جادو بھر دیاہو، لتا کا ساتھ بابلا مہتا نے دیا ہے، اِس گلوکار کو زیادہ شہرت نہیں ملی حالانکہ اس کی آواز بہت مختلف تھی، عجیب سی کھنک تھی اس میں۔

Read more

اسلامی صدارتی نظام کا ماڈل

جنوبی کوریا ایک چھوٹا سا ملک ہے، کل رقبہ ایک لاکھ مربع کلومیٹر اور آبادی تقریباً پانچ کروڑ۔ پاکستان ایک بڑا ملک ہے، کل رقبہ پونے نو لاکھ مربع کلومیٹر اور آبادی الحمدللہ بائیس کروڑ۔ آئیں جنوبی کوریا سے اپنا مقابلہ کر کے دیکھتے ہیں۔ جنوبی کوریا کی 53 %آبادی افرادی قوت کا حصہ ہے جبکہ پاکستان میں آبادی کا فقط % 30 لوگ کام کرتے ہیں، گویا جس شرح سے جنوبی کوریا میں لوگ کام کرتے ہیں اگر وہی شرح ہم حاصل کرلیں تو ہماری افرادی قوت میں 49 ملین لوگوں کا اضافہ ہو جائے۔

پاکستان کی افرادی قوت کا % 42 زراعت سے وابستہ ہے اور ہماری زراعت کا جی ڈی پی میں حصہ % 20 بنتا ہے جبکہ جنوبی کوریا کی افرادی قوت کا % 5 زراعت کے شعبے سے منسلک ہے اور جی ڈی پی میں ان کا حصہ % 2 ہے مگر دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ اگر پاکستان کے کل جی ڈی پی اور افرادی قوت کا موازنہ کر کے نتیجہ نکالا جائے تو معلوم ہو گا کہ ہمارا ایک ورکر سالانہ صرف 4,750 امریکی ڈالر کا جی ڈی پی کماتا ہے جبکہ جنوبی کوریا کا ایک فرد سالانہ اپنے ملک کے لیے 54,269 ڈالر کا جی ڈی پی کماتا ہے لیکن یاد رہے کہ ہم ایک عظیم قوم ہیں اور اپنے وطن سے بہت محبت کرتے ہیں، ثبوت کے طور پر پیش ہیں بھارت کے اعداد وشمار جہاں یہ شرح 4,413 ڈالر سالانہ فی ورکر ہے جو ہم سے بھی بری ہے۔

Read more

پولیس اور شرم و حیا

ثناء نے سب سے پہلی غلطی یہ کی وہ پاکستان میں پیدا ہوگئی، دوسری غلطی اس کی یہ تھی کہ وہ لڑکی پیدا ہوئی اور اس کا تیسرا اور ناقابل معافی جرم یہ تھا کہ وہ ایک کمزور اور غریب گھرانے میں پیدا ہوئی۔ اوّل تو پہلی غلطی کا احساس ہونے کے فوراً بعد ہی…

Read more

ہم سب نے خول چڑھا رکھے ہیں

فلم کی کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک لڑکی اور لڑکا نائٹ کلب سے نکلتے ہیں، لڑکے نے شراب کچھ زیادہ پی رکھی ہے اور وہ گاڑی چلا رہا ہے، لڑکی بھی سرور میں ہے اور اس کے ساتھ بیٹھی گنگنا رہی ہے، دونوں اپنے دھیان میں مگن ہیں کہ اچانک ایک سائیکل سوار ان…

Read more

پوشیدہ و پیچیدہ نفسیاتی مسئلہ

کچھ عرصہ پہلے میرے دوست کے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا، وہ اپنی سرکاری گاڑی میں کہیں جا رہا تھا کہ راستے میں پرانی کتابوں کی ایک دکان نظر آئی، اسے چونکہ لکھنے لکھانے سے بھی شغف ہے سو اُس نے فوراً دکان کے پاس گاڑی رکوائی تاکہ اپنی پسند کی کوئی کتاب خرید سکے۔ اتنے میں ایک اور گاڑ ی پاس آکر رکی اور اُس میں سے ایک بزرگوار برآمد ہوئے جن کی عمر پچھتر برس کے قریب تھی۔ موصوف نے سفاری سوٹ پہن رکھا تھا۔ پہلے تو انہوں نے غور سے سرکاری گاڑ ی کو دیکھا، پھر میرے دوست سے گویا ہوئے ”کیا آپ مجسٹریٹ ہیں؟“ میرے دوست نے جواب دیا کہ نہیں اور پھر اپنے محکمے کا نام بتایا، اس پر موصوف نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہا ”میرا نام ج چ ہے اور میں وفاقی سیکریٹری ریٹائر ہوا ہوں، آپ مجھے جانتے ہوں گے! “

میرے دوست نے اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ نہیں، اس پر وہ صاحب تھوڑے سے جذبز ہو کر بولے کہ کمال ہے، میں تو فلاں فلاں محکمے میں سیکریٹری رہا ہوں، فلاں فلاں ضلع میں ڈپٹی کمشنر رہا ہوں، اب تو آپ کو یاد آگیا ہوگا!

Read more

میں عقل کُل ہوں

کبھی کبھار میں شام کو واک کیلئے باہر نکلتا ہوں تاکہ ’’عوام میں گھل مل سکوں‘‘ یہ اور بات ہے کہ عوام آج کل خود ہی گھلنا ملنا پسند نہیں کرتے، کل شام کو بھی کچھ ایسا ہی ہوا، میں واک کرنے گھر سے نکلا، میرا اصول ہے کہ سڑک کے دائیں طرف چلتا ہوں،…

Read more

میں عقل کُل ہوں

کبھی کبھار میں شام کو واک کے لئے باہر نکلتا ہوں تاکہ ”عوام میں گھل مل سکوں“ یہ اور بات ہے کہ عوام آج کل خود ہی گھلنا ملنا پسند نہیں کرتے، کل شام کو بھی کچھ ایسا ہی ہوا، میں واک کرنے گھر سے نکلا، میرا اصول ہے کہ سڑک کے دائیں طرف چلتا…

Read more

مشعال خان سے پروفیسر خالد حمید تک

20 مارچ 2019 کو گورنمنٹ کالج، بہاولپور کے ایسوسی ایٹ پروفیسر خالد حمید کو انہی کے ایک شاگرد نے اُس وقت چھریاں مار کر ہلاک کر دیا جب وہ اپنے دفتر میں بیٹھے تھے، ملزم بی ایس انگریزی کا طالب علم ہے /تھا جبکہ خالد حمید شعبہ انگریزی کے سربراہ تھے۔ قتل کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ نئے طلبا کا استقبال کرنے کی غرض سے کالج میں ایک تقریب کا اہتمام کیا جا رہا تھا جس پر ملزم کو اعتراض تھا کہ یہ تقریب خلافِ اسلام ہے اِس لیے نہیں ہونی چاہیے، اِس معاملے پر اُس کی خالد حمید سے بحث ہوئی جس میں ملزم نے اپنے استاد پر الزام لگایا کہ وہ خلافِ مذہب بات کرتا ہے جو اُس سے برداشت نہیں ہوئی چنانچہ اُس نے اپنے استاد کے سر اور پیٹ میں چھریوں کے وار کرکے قتل کر دیا۔

موقع واردات پر ایک وڈیو بھی ریکارڈ کی گئی ہے جس میں ملزم اُس کمرے میں بیٹھا ہے جہاں پروفیسر کا خون بکھرا ہے، ملزم کے چہرے پر کسی قسم کا ملال نہیں اور وہ اِس بات پرایک طرح سے فخر کا اظہار کر رہا ہے کہ اُس کا استاد اُس کے ہاتھوں قتل ہوا۔ وڈیو بنانے والے نے ملزم سے جب یہ پوچھا کہ اگر پروفیسر خالد حمید نے کوئی خلافِ مذہب بات کی تھی تو اسے چاہیے تھا کہ وہ کالج انتظامیہ یا قانون کے مطابق متعلقہ اداروں کے علم میں یہ بات لاتا جس کے جواب میں ملزم نے اطمینان سے کہا کہ ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں۔

Read more