کرونا وائرس کی مادہ کہاں ہے؟

مبلغ اڑھائی مہینے گھر میں مقید رہنے کے بعد یکایک آج مجھ پر القا ہوا ہے کہ میں نے اب تک کووڈ 19 کا شکریہ ادا نہیں کیا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ اور کہوں، یہ واضح رہے کہ اشرافیہ میں اس بیماری کا نام کووڈ 19 جبکہ عوام میں کرونا ہے، سو دھوتی سے جینز میں آنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ کووڈ 19 کہنا سیکھ لیں۔ یہ اور بات ہے کہ اگر آپ وائرس کا نام بدل کر امراؤ جان ادا بھی رکھ دیں گے تو وہ بیماری ہی دے کر جائے گا مجرا نہیں کرے گا۔ یہ خیال بھی ابھی میرے ذہن میں آیا ہے کہ یہ مردود وائرس مذکر ہے، کوئی مادہ وائرس ہوتی تو بیویوں نے اپنے شوہروں کو بغیر کسی ویکسین کے خود ہی اس سے بچا لینا تھا۔

Read more

میں اہم تھا، یہی وہم تھا

میں روزانہ صبح سویرے اس سڑک کے کنارے ٹہلتا ہوں، یہ سڑک میرے گھر سے زیادہ دور نہیں، چند قدم کا فاصلہ ہوگا۔ عموماً لوگ چہل قدمی کے لیے کسی باغ کا رخ کرتے ہیں مگر مجھے یہ سڑک پسند ہے۔ علی الصبح یہاں ٹریفک کا رش ذرا کم ہوتا ہے، گاڑیوں کی چیخ پکار اور لوگوں کی دھکم پیل بھی نہیں ہوتی مگر پھر ذرا سی دیر میں ہی یہاں ایک ہنگامہ سا برپا ہو جاتا ہے۔ کوئی دفتر کو دوڑ رہا ہوتا ہے، کسی کو اسکول پہنچنے کی جلدی ہو تی ہے، کسی نے اپنی دکان کھولنی ہوتی ہے، یکایک ہڑبونگ مچ جاتی ہے۔

Read more

مانوس اجنبی – مکمل کالم

میں روزانہ صبح سویرے اِس سڑک کے کنارے ٹہلتا ہوں، یہ سڑک میرے گھر سے زیادہ دور نہیں، چند قدم کا فاصلہ ہو گا۔ عموماً لوگ چہل قدمی کے لیے کسی باغ کا رُخ کرتے ہیں مگر مجھے یہ سڑک پسند ہے۔ علی الصبح یہاں ٹریفک کا رش ذرا کم ہوتا ہے، گاڑیوں کی چیخ…

Read more

سول سروس کا شیر دل – جہاز حادثے نہیں نااہلی کا شکار ہوا

میں لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا کہ اچانک سکرین پر ایک خبر نمودار ہوئی، پی آئی اے کا طیارہ کراچی میں اترتے ہوئے حادثے کا شکار، بے ساختہ منہ سے نکلا یا اللہ خیر۔ فوراً ٹی وی لگایا، ہر طرف کہرام مچا ہوا تھا اور طیارے کے حادثے کی تفصیلات بتائی جا رہی تھیں۔ چند منٹ بعد ایک ٹی وی چینل نے اس طیارے میں سوار مسافروں کے ناموں کی فہرست بھی سکرین پر دینی شروع کر دی، ایک نام نظر سے گزرا، خالد شیر دل، میں دھک سے رہ گیا، یک دم دل سے دعا نکلی کہ خدا کرے یہ جھوٹ ہو، مگر یہ بات مجھے اچھی طرح معلوم تھی کہ دنیا میں اس نام کا ایک ہی آدمی ہے اور وہ ہے میرا بیچ میٹ، خالد دی شیر دل۔

Read more

نومولود کو بھی قتل کیا جا سکتا ہے – مکمل کالم

اس واقعے کو سات دن گزر چکے ہیں، جنگ میں اس واقعے کی خبر صفحہ اول پر سنگل کالمی شائع ہوئی، ایک دوسرے اخبار میں تین کالمی جبکہ ایک انگریزی اخبار میں اس سے متعلق تصویر اور سنگل کالمی خبر صفحہ اول پر شائع ہوئی۔ اب تک میں نے اس واقعے پر صرف تین کالم دیکھے ہیں، دو اردو میں اور ایک انگریزی میں، شاید اکا دکا کہیں اور بھی شائع ہوئے ہوں مگر میری نظر سے نہیں گزرے، کسی بڑے اردو اخبار نے اس خبر پر اداریہ لکھنے کا تکلف نہیں کیا اور کسی قابل ذکر لیڈر نے زبانی کلامی مذمت کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی، کچھ صحافیوں نے البتہ ٹویٹر پر اس خبر پر افسوس کا اظہار ضرور کیا۔ اب ’رائٹرز‘ کی زبانی خبر بھی سن لیں۔

Read more

ہیرو ایسے نہیں بنائے جاتے – مکمل کالم

ہیرو کا تو پتا نہیں البتہ ہیروئن کے بارے میں میرا تصور بالکل واضح ہے۔ ایک مرتبہ دوستوں کے ساتھ یہ بحث ہوئی کہ کون سی فلمی ہیروئن زیادہ خوبصورت ہے، وہ کالج کے دن تھے، مادھوری اپنے عروج پر تھی، میں نے مادھوری کا نام لیا مگر پھر خیال آیا کہ تبو بھی کم نہیں سو ساتھ ہی اس کا نام بھی جوڑ دیا، پھر یکایک میری پاکستانیت جاگی اور میں نے کہا کہ نیلی کا کوئی مقابلہ نہیں۔ اگلے پانچ منٹ میں میرا بیان تبدیل ہو کر کچھ یوں ہو چکا تھا کہ پاک و ہند کی کوئی ایسی ہیروئن نہیں جس کے حسن پر تنقید کی جا سکے، ایک باریش اور متقی دوست نے اس بیان میں ہالی وڈ کا اضافہ بھی کر دیا۔ اس کے بعد یہ میٹنگ ان بیبیوں کے حق میں دعائے خیر و جملہ پوشیدہ و پیچیدہ خواہشات کے ساتھ برخاست ہو گئی۔

Read more

لوگوں کو کیسے جانچا جائے؟

”سوچنا ایک مشکل کام ہے، اس لیے لوگ بنا سوچے ہی دوسروں کے بارے میں رائے قائم کر لیتے ہیں۔“ کارل یونگ۔

کچھ سال پہلے تک میں بھی یہی کرتا تھا، کسی کا لباس دیکھ کر رائے بنا لیتا تھا، کسی کا حلیہ دیکھ کر ذہن میں مفروضہ قائم کر لیتا تھا، کسی کی شکل پسند نہیں آتی تھی تو اس سے خدا واسطے کا بیر پال لیتا تھا، کسی کے بارے میں اڑتی ہوئی کوئی خبر سن لیتا تو اس کے پورے خاندان کی ریپوٹیشن کو اس سے جوڑ دیتا تھا، کسی کی کوئی بات میرے نظریات سے ٹکرا جاتی تھی تو اسے غیر محبت وطن سمجھ بیٹھتا تھا اور اگر کوئی بندہ میری ذات کو میرٹ پر بھی ہدف تنقید بناتا تھا تو میں اسے اپنا دشمن سمجھ لیتا تھا۔

Read more

کامیاب لوگوں کی مضحکہ خیز عادات – مکمل کالم

مجھے دو قسم کی کتابیں بہت پسند ہیں، ایک مزاحیہ کتب اور دوسری سیلف ہیلپ (خود اعانتی)۔ سچ پوچھیں تو بعض اوقات سیلف ہیلپ کی کتابیں مجھے مزاحیہ لگتی ہیں جبکہ طنز و مزاح کی کچھ کتابیں مجھے سیلف ہیلپ جیسا لطف دیتی ہیں۔ سیلف ہیلپ کی کتابوں میں ذہین فطین اور کامیاب لوگوں کے…

Read more

معجزوں کا انتظار کرنے والی قوم

ہو سکتا ہے معجزہ ہو جائے اور کرونا وائرس کی ویکسین جامعہ بنوریہ کراچی کا کوئی طالب علم دریافت کر لے اور مدرسوں کے خلاف ہونے والی تنقیدکا منہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے۔ اِس بات کا امکان بھی ہے کہ ریاض میں قائم کالج برائے دوا سازی کا کوئی ڈاکٹر یہ ویکسین ایجاد…

Read more

نو برس کا ”ہٹا کٹا مزدور“

اس بچے کی عمر یہی کوئی نو دس سال ہو گی، یا شاید آٹھ سال، سات سال بھی ہو سکتی ہے، یقین سے نہیں کہہ سکتا، ہاں اتنا یقین ضرور ہے کہ میرے چھوٹے بیٹے سے بھی کم عمر کا تھا۔ ننھے منے ہاتھوں میں وائپر پکڑ کر کسی ریستوران کے باہر صفائی کر رہا…

Read more