خاطر جمع رکھیں، دنیا ختم نہیں ہورہی

زمین سے زندگی پانچ طریقوں سے ختم ہو سکتی ہے۔ پہلا امکان یہ ہے کہ کوئی آوارہ گرد سیارہ زمین سے ٹکرا جائے اور سب کچھ فناہ کر دے، ایسا آج سے 66 ملین سال پہلے ہو چکا ہے جب خلا سے ایک شہاب ثاقب گھومتا گھامتا آیا تھا اور زمین سے ٹکرا گیا تھا، اِس کے نتیجے میں زمین پر موجود تین چوتھائی مخلوق ختم ہو گئی تھی جن میں ڈائنو سار بھی شامل تھے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ زمین اِس قابل ہی نہ رہے کہ یہاں زندگی پنپ سکے، ماحولیاتی آلودگی اِس سطح پر پہنچ جائے کہ ہمارے شہر سمندر میں ڈوب جائیں، تین کروڑ آبادی کا شہر جکارتہ ڈوبنا شروع ہو چکا ہے، گلیشئر پگھل رہے ہیں، درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، اگر یہ سب کچھ بغیر روک ٹوک جاری رہا تو زندگی اِس کرہ ارض سے ناپید ہو سکتی ہے۔

Read more

خبردار، کوئی ویکسین استعمال نہ کرے (مکمل کالم)

کسی کا خیال ہے کہ یہ قدرت کا انتقام ہے، انسان نے زمین کا ستیاناس کر دیا تھا، ماحول برباد ہو رہا تھا، جنگلی حیاتیات کو نقصا ن پہنچ رہا تھا، نیچر کا توازن بگڑ رہا تھا سو اسے درست کرنے کے لیے قدرت کا اپنا نظام حرکت میں آیا، ایک وائرس نے جُون بدلی…

Read more

مذہب اور سائنس کی بحث

یہ بحث جتنی پرانی ہے اتنی ہی دلچسپ ہے، دنیا میں جب بھی کوئی بڑی ایجاد ہوتی ہے، خوفناک جنگ چھڑتی ہے، وبا پھوٹتی ہے، انوکھی تحریک چلتی ہے، نا گہانی آفت آتی ہے یازمانہ کروٹ بدلتا ہے تو اِس بحث کو گویانیا ایندھن مل جاتا ہے۔ صدیاں گزر گئیں مگر یہ بحث آج بھی اسی زور شور سے جاری ہے، اہل مذہب کا ایمان ڈگمگایا ہے اور نہ سائنس نے ہار مانی ہے۔ سائنس کی تمام جادوئی ایجادات کے باوجود آج بھی دنیا کی سوا سات ارب آبادی میں سے چھ ارب مذہب کو مانتی ہے، آج بھی امریکی صدر بائبل پر حلف اٹھاتا ہے اورآج بھی ڈالر پرلکھا ہے ’ہم خدا پر ایمان رکھتے ہیں‘ ۔

Read more

کرونا نے انسان کو کیا سبق سکھایا – مکمل کالم

پاسپورٹ ایک سفری دستاویز ہے جس کے بغیر آج کی دنیا میں سفر کرنا ممکن نہیں، ہینلے اینڈ پارٹنرز نامی ایک فرم دنیا بھر کے ممالک کے پاسپورٹ کی درجہ بندی کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ کس ملک کا پاسپورٹ زیادہ طاقتور ہے۔ اِس درجہ بندی کے مطابق جاپان، سنگا پور، جنوبی کوریا، جرمنی،…

Read more

کرونا کو چاہیے امیروں کا لحاظ کرے

گزشتہ گرمیوں کی بات ہے، ایک تنظیم نے مجھے لیکچر دینے کے لیے مدعو کیا، لیکچر کا موضوع تھا ’’جدید دور کے چیلنجز اور آج کا انسان ‘‘۔ منتظمین کا خیال تھا کہ میں شاید انہیں بتاؤں گا کہ اکیسویں صدی کے انسان کا المیہ اداسی اور ڈپریشن ہے اور اپنی تمام تر مادی ترقی…

Read more

کیا ہم منحوس دور میں جی رہے ہیں؟

ہمارا سول سروس کا ایک دوست بڑی دلچسپ بات کیا کرتا ہے، وہ کہتا ہے کہ جب میں نیا نیا نوکری میں آیا تھا تو بڑاخوش تھا کہ افسر بن گیا ہوں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھ پر انکشاف ہوا کہ سرکاری نوکری میں اب وہ کرو فر نہیں رہا، میری جب بھی…

Read more

کرونا وائرس کا کوئی دین ایمان نہیں

اب تک دنیا میں صرف ایک ملک ایسا ہے جس نے کرونا وائرس کا دانشمندی سے مقابلہ کیا ہے، یہ وہ ملک ہے جس نے سب سے پہلے اِس خطرے کا ادراک کیا اوراپنے مرکزی کمانڈ سینٹر برائے وبائی امراض کو اُس وقت متحرک کیا جب ڈبلیو ایچ او نے اپنی ہنگامی کمیٹی کی پہلی…

Read more

تم سارا دن آخر کرتی ہی کیا ہو؟

Nobody in history has gotten their freedom by appealing to the moral sense of the people oppressing them۔ Assata Shakur یہ عورتیں بے حیائی پھیلا رہی ہیں، ہم جنس پرستی کا پرچار کر رہی ہیں، جسم فروشی کو قانونی حیثیت دینا چاہتی ہیں، این جی او چلاتی ہیں جس میں بیرونی فنڈنگ آتی ہے، مغرب…

Read more

میرے پاس تیزاب ہے

میرا نام جانو قتال پوری ہے، میں عورتوں کا بہت بڑافین ہوں، یعنی اُن کے حقوق کا۔ لیکن جب سے کچھ عورتوں نے ’میرا جسم میری مرضی‘ جیسا لغو اور بیہودہ نعرہ ایجاد کیا ہے میں سخت غصے میں ہوں۔ نہ جانے وہ کون لوگ ہیں جنہیں یہ فحش نعرہ پسند ہے، مجھے تو اِس نعرے کی کوئی کل سیدھی نظر نہیں آتی، بھلا یہ کیا بات ہوئی کہ میرے جسم پر میر ی مرضی چلے گی، یہ تو ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ میری گاڑ ی، میری مرضی، جیسے چاہوں چلاؤں، جہاں چاہوں پارک کر دوں اور جس میں چاہوں دے ماروں!

Read more

امان اللہ بلاشبہ اِس دور کا سب سے بڑا کامیڈین تھا

یہ اُس زمانے کی بات ہے جب میں مہینے میں کم از کم ایک مرتبہ سٹیج ڈرامہ ضرور دیکھتا تھا، دو ڈرامے لاہور کے الحمرا آرٹ سینٹر میں ہوا کرتے تھے اورایک باغ جناح کے اوپن ائیر تھیٹر میں، سنیما گھروں کوابھی تھیٹر میں تبدیل نہیں کیا گیا تھا۔ ایسا ہی ایک ڈرامہ دیکھنے میں باغ جناح گیا، مزاحیہ اداکاروں کی پور ی کہکشاں اس میں موجود تھی اور وہ سب مل کر امان اللہ پر جگتیں کر رہے تھے، امان اللہ کسی جگت کا جواب دینے کی کوشش کرتا تو کوئی نہ کوئی اسے ٹوک دیتا، کچھ دیر تک تو امان اللہ اُن کی جگتیں سنتا رہا پھر یک دم اپنے کندھے سے رومال اتار کر زمین پر بچھاتے ہوئے بولا ”تسی سارے اج اپنا شوق پورا کر لو، میں سب نوں واری واری جواب داں گا، پاویں اج رات دے دو وج جان، اللہ وارث ہے“۔ (تم سارے آج اپنا شوق پورا کر لو، میں سب کو باری باری جواب دوں گا چاہے آج رات کے دو ہی کیوں نہ بج جائیں، اللہ وارث ہے ) ۔ امان اللہ کے اِس جواب پر لوگوں نے تالیاں بجا بجا کر آسمان سر پر اٹھا لیا اور پھر اُس رات وہ ڈرامہ واقعی رات د و بجے ختم ہوا، امان اللہ نے اکیلے سب اداکاروں کی جگتوں کا شافی جواب دیا اور خوب داد سمیٹی۔

Read more