سچی خوشی اور خالص بھنگ

یہ اُس زمانے کی بات ہے جب ”بابا جی“ ہم ایسے گناہ گاروں کو بھی شرف ملاقات بخش دیا کرتے تھے، اُن دنوں ہمیں زندگی کے مختلف تجربات کرنے کا شوق ہوتا تھا سو کبھی کسی فقیر کے آستانے پر چلے جاتے تو کبھی آدھی رات کو راوی کے کنارے چلہ کاٹنے کی کوشش کرتے۔ یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ ایسے تمام تجربات میں ہمیں ناکامی کا منہ ہی دیکھنا پڑا، جس دن زیادہ مایوس ہوتے اُس روز بابا جی کے در پر پہنچ جاتے کہ وہاں ایک عجیب سا سرورملتا۔

Read more

مدارس، گرامر اسکول اور یکساں نظام تعلیم

آٹھویں جماعت کے تین اوسط ذہانت کے طلبا کو ایک ساتھ بٹھائیں، ان میں سے ایک مدرسے کا طالب علم ہو، دوسرا مہنگے انگریزی میڈیم اسکول میں پڑھتا ہو اور تیسرا سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کرتا ہو، اِن تینوں کو مختلف مضامین کے پرچے حل کرنے کے لیے دیں، پھر یہ حل شدہ پرچے چیک کریں اور دیکھیں کہ کون سا بچہ زیادہ نمبر حاصل کرتا ہے، غالب امکان ہے کہ مہنگے اسکول والا بچہ باقی دونوں سے بہتر نمبر لے گا۔ ابہام دور کرنے کے لیے یہ تجربہ مختلف بچوں پر ایک سے زیادہ مرتبہ آزمایا جا سکتا ہے، مگر اِس کھکھیڑ کی چنداں ضرورت نہیں کیونکہ لوگ اِس بات پر ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں کہ مہنگے انگریزی اسکولوں کا معیار باقی اسکولوں اور مدرسوں سے بہتر ہے۔

Read more

گوگل کی ریسرچ اور تین سو سال کی عمر

آج سے ٹھیک چھ سال پہلے 18 ستمبر 2013 کو امریکہ کے شہر سان فرانسسکو میں ایک کمپنی کی بنیاد رکھی گئی، کمپنی کا نام تھا ”CALICO“ یعنی کیلیفورنیا لائف کمپنی، اس کمپنی کا مشن بہت دلچسپ تھا، اس کا کہنا تھا کہ یہ بائیوٹیکنالوجی کی مدد سے جان لیوا بیماریوں کا علاج دریافت کرے گی، بڑھاپے پر قابو پائے گی اور موت کا مسئلہ حل کرے گی۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں تھا کہ کسی نے موت کو شکست دینے کا مشن اپنایا تھا، امریکہ میں کچھ کمپنیاں اور ادارے پہلے ہی اِس کام میں جتے ہیں، پے پال کے مالک پیٹر تھیل کی بھی خواہش ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے زندہ رہنا چاہتا ہے اور اِس مقصد کے لیے موصوف نے اپنی نیک کمائی میں سے کچھ ملین ڈالر ایک خیراتی ادارے کو دیے ہیں جو موت کو شکست دینے پر کام کر رہا ہے۔

Read more

مطالعہ پاکستان میں ہم نے کیا پڑھا؟

اسکول میں مطالعہ پاکستان میرا پسندیدہ مضمون تھا اور اِس کی وجہ یہ تھی کہ اِس میں نمبر بہت آسانی سے مل جایا کرتے تھے۔ دو قومی نظریہ، قائد اعظم کے چود ہ نکات، کانگریسی وزارتیں، تحریک خلافت، خطبہ الہ آباد، کیبنٹ مشن پلان اور نوزائیدہ مملکت پاکستان کو درپیش مسائل جیسے موضاعات اگر کوئی رٹ لیتا تو سو میں سے ستّر نمبر پکے ہو جاتے۔ جس قسم کا مطالعہ پاکستان ہمیں پڑھایا گیا اُس نے ہمارے ذہنوں میں کچھ ایسے سچے جھوٹے تصورات بٹھا دیے جن سے ہم برسوں تک پیچھا نہیں چھڑا سکے۔

Read more

ع غ قسم کے لوگ

ع غ ایک کامیاب انسان ہے اور جیسے کہ کامیاب لوگ ہوتے ہیں اُس میں کوئی خرابی نہیں، خرابیاں صرف ناکام انسانوں میں ہوتی ہیں، ع غ صبح بستر سے جاگنگ کرتا ہوا اٹھتا ہے اور رات کو سر کے بل کھڑا ہو کر مراقبہ کرتا ہے، یہ دونوں کام کرتے ہوئے آج تک اسے…

Read more

72 سال پرانی بیماری کا علاج

ہمارے ایک دوست ہیں، عمر تو اُن کی زیادہ نہیں مگر انہیں بیمار رہنے کا بہت شوق ہے، روزانہ خود کو ایک نئی بیماری کا شکار بتاتے ہیں اور پھر خود تشخیصی نظام کے تحت اپنے لیے دوا تجویز کرکے اُس کا بے دھڑک استعمال شروع کردیتے ہیں، دو دن میں جب دوا کا شوق…

Read more

مدرسوں کے طلبا کیا سوچتے ہیں؟ 

خورشید ندیم صاحب کا فون آیا، کہا میں لاہور میں ہوں، میں نے جواب دیا بڑی اچھی بات ہے لکشمی چوک سے بٹ کی کڑاہی گوشت کھائے کافی دن ہو گئے اکٹھے چلیں گے، فرمانے لگے وہ بھی ٹھیک ہے مگر کیا ہی اچھا ہو اگر ہم جامعہ نعیمیہ میں ملاقات کر لیں۔ سبحان اللہ،…

Read more

جمہوریت کس مرض کی دوا ہے؟

ہمارے ملک میں جمہوریت کے خلاف مقدمہ بنانا سب سے آسان کام ہے، کہیں کوئی بے گناہ تھانے میں مارا جائے، کوئی غریب عورت اسپتال کی سیڑھیوں پر بچہ پیدا کرتے ہوئے مر جائے، کہیں کسی بوسیدہ عمار ت کی چھت گر جائے یا زمین کے انتقال کے لیے پٹواری پیسے مانگ لے تو ہمارے دانشور صاحبان جھٹ سے ایک تُرپ کا پتہ پھینکتے ہوئے کہتے ہیں قوم کوایسی جمہوریت کا کیا فائدہ؟ عوام چونکہ پہلے ہی مسائل میں گھرے ہیں اور داد رسی کی کوئی صورت انہیں نظر نہیں آتی تو ایسے میں جب کوئی جمہوریت پر تبرا کرتا ہے تو بے بس عوام کے کلیجے میں ٹھنڈ پڑ جاتی ہے، ہمیں بیٹھے بٹھائے ریٹنگ مل جاتی ہے اورسب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی طاقتور شخص یا ادارہ ناراض بھی نہیں ہوتا۔

Read more

زمانہ نیا ہے، اسکول کیوں پرانے ہیں؟

قصے کہانیوں میں ہم پڑھا کرتے تھے کہ فلاں ملک پرایک بادشاہ حکومت کرتا تھا، بادشاہ بہت رحم دل تھا، رعایا (بغیر ٹیکس دیے ہی) خوشحال تھی، ملکہ بے حد خوبصورت اور رحم دل تھی، بس ایک کمی تھی کہ دونوں کی اولاد نہیں تھی، یہ غم بادشاہ کو روز بروز کھا رہا تھا کہ…

Read more

امام حسین ؓ کے ساتھ کون تھا؟

قاضی شریح ابن حارث مسلم تاریخ کی ایک عجیب و غریب شخصیت ہیں، انہوں نے رسول اللہﷺ کے زمانے میں اسلام قبول کیا مگر ان کی آنحضرتﷺ سے کبھی ملاقات نہیں ہو سکی، یہ ایک نہایت قابل شخص تھے، فقہ اور حدیث کے عالم تھے، شعر و شاعری سے بھی شغف تھا، حضرت عمرؓ نے…

Read more