خان صاحب! تعلیم بہترین انتقام ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابھی کل ہی کی بات ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم نے آمدن سے زائد اثاثے اور مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے کے لیے لاہور میں شہباز شریف کی رہائشگاہ 96۔ ایچ ماڈل ٹاؤن پر چھاپہ مارا تاہم ان کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔ بعد ازاں نیب کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ نیب لاہور کی ٹیم ٹھوس شواہد کی بنیاد پر حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے گئی تھی۔

دوسری جانب حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ آج پہلی مرتبہ مجھے یہ محسوس ہوا کہ ہم شاید دہشت گرد ہیں، چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کیا گیا۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ترجمان شہباز گل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نیب ایک آزاد ادارہ ہے اور وہ پنجاب حکومت کو بتانے کا مجاز نہیں اور نیب کی کسی بھی کارروائی کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔

اس کے بعد ہر ٹی وی سکرین پر نیب کی کارروائی کے حوالے سے تجزیے اور تبصرے کیے جانے لگے۔ ہر سیاستدان اپنی پارٹی سے وفاداری ثابت کرنے میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف نظر آیا۔ یہ صورتحال جب سے نئی حکومت آئی ہے، مسلسل برقرار ہے۔ نیب، حکومت اور اپوزیشن کے اوپر تلے بیانات کے بعد عقل سمجھنے سے قاصر تھی کہ کون سچ بول رہا ہے کون جھوٹ؟ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ ایسے میں خان صاحب (یہ وہ تبدیلی کے علمبردار وزیراعظم عمران خان بالکل بھی نہیں ہیں اور نہ ہی ان کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے بلکہ اُس وقت جب ’تبدیلی‘ قوم کے بچوں، بوڑھوں، ماؤں، بیٹیوں غرض اس نظام کے پسے ہوئے طبقہ کے ہر فرد کو متاثر کر رہی تھی تب بھی ’تبدیلی‘ کی طرف مائل نہ ہوئے اور یاد رہے کہ یہ ٹھیٹھ پنجابی پٹھان ہیں) مل گئے تو پوچھا خان صاحب یہ کیا معاملہ ہے؟

جدھر دیکھیں حکومت ہو یا اپوزیشن تمام سیاستدان ایک ہی بات پر بحث کر رہے ہیں وہ ہے نیب کا کردار! جب سے نئی حکومت آئی ہے کوئی کہتا ہے قانون ٹھیک نہیں، نیب کے قانون کالے ہیں، دوسرا کہتا ہے ہم نے تھوڑی نہ بنائی ہے نیب! یہ تو آپ ہی کی کارستانی ہے، اسے دوسروں کو تنگ کرنے کے لئے استعمال کرنے کے سرخیل آپ ہی تو ہیں! قانون ٹھیک کر لیتے، اس میں ہمارا کیا قصور؟ تیسرا کہتا ہے نیب احتساب نہیں، انتقام کا ادارہ ہے، ہمارے خلاف بھی استعمال کیا گیا، اب بھی کیا جا رہا ہے۔ ہاں ایک بات پر حکومت اور اپوزیشن متفق نظر آتے ہیں کہ قانون میں تبدیلی ہونی چاہیے۔

کہنے لگے ’بٹ توں بڑا پولا ایں تینوں ایہہ گلاں تیری سمجھ وچ نئی آنیاں، توں اپنی روٹی پانی دی فکر کر، تے جلدی کج سوچ، ایس توں پیلے کو او وی تیرے کولوں کھو لین!

کہیں پڑھا تھا کہ ’احساس کا مر جانا انسان کے مر جانے سے بہتر ہے‘ حالات ایسے ہو چلے ہیں کہ جس ٹی وی سکرین پر نظر دوڑائیں ایک ہی قسم کی آوازیں آ رہی ہیں! قانون غلط، قانون ٹھیک، تم چور، تم چور، احتساب، انتقام، احتساب، انتقام، نہیں چھوڑیں گے، پکڑ کے دکھاؤ، نہیں چھوڑیں گے، پکڑ کے دکھاؤ کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔ تمام سیاستدان نیب قوانین پر اپنے اپنے ’اصولی‘ موقف پر ڈٹے نظر آتے ہیں لیکن عوامی مسائل اور ان کے حل کے بارے میں کوئی بھی بات کرنے کو تیار نہیں اور ملک کو ان حالات تک پہنچانے میں اپنا ’بہترین کردار‘ ادا کرنے والی اپوزیشن پارٹیاں بھی صرف اپنے آپ کو بچانے میں مگن نظر آتی ہیں۔

کوئی کرسی بچا رہا ہے، کوئی عزت بچا رہا ہے، کوئی کرپشن بچا رہا ہے، کوئی جھوٹ چھپا رہا ہے، انتقام کا رونا رو رہا ہے، کوئی احتساب کی صدائیں لگا رہا ہے جبکہ دوسری طرف بڑی ہی خاموشی سے ’تبدیلی‘ جہاں سے گزرتی ہے غریبوں کے چولہے بجھاتی چلی جا رہی ہے! اور پھر اچانک سے منظر تبدیل ہوتا ہے اور عوام کی رگوں میں جمے خون کی طرح، ایک تصویر پر نظر پڑتی ہے جس میں ’سرود کی محفل‘ سجی ہے اور قوم کا درد رکھنے والے، ایئرپورٹ پر عام عوام کے جیسے نیند سے ستائے کہیں بھی سو جانے والے اور مہنگائی کو غریب آدمی تک پہنچنے سے روکے رکھنے کے دعویدار لیڈر قطار اندر قطار معیشت کو نئی بلندیوں پر پہنچا کر اور عوام کے تمام مسائل حل کر لینے کے بعد اپنے آپ کو چند گھڑیوں کے لئے ریلیف دینے میں محو ہیں اور مسکراہٹیں ہیں کہ مت پوچھو، قوم کا دل چھلنی کیے دیتی ہیں!

شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں کہ میں زندگی میں باوجود کوشش کے دو بندوں کو تلاش نہیں کر سکا، ایک وہ جس نے خدا کی راہ میں دیا ہو اور وہ غریب ہو گیا ہو۔ دوسرا وہ جس نے ظلم کیا ہو اور وہ اللہ کی پکڑ سے بچ گیا ہو لیکن آج حالت یہ ہے کہ عام آدمی کی زندگی اتنی ابتر ہو چکی ہے کہ جس کسی کے ہاتھ میں بھی معمولی سا ’سرکاری، نیم سرکاری یا غیر سرکاری اختیار کیا آیا وہ سب کچھ چھین لینے کی ہوس کا شکار ہو گیا اور ظلم کرنا تو اپنا حق سمجھ بیٹھتا ہے۔

جناب خان صاحب (وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان) ’اس قوم نے آپ کو کرپشن، مہنگائی اور ملک کی ابتر معاشی صورتحال سے تنگ آ کر منتخب کر کے وزیراعظم بنایا تھا! لوگوں نے آپ کو ووٹ نہیں اپنی امیدیں دی تھیں۔ انہیں لگا تھا کہ آپ غریبوں کا درد رکھنے والے انسان ہیں، آپ کو ہمارے نظام میں موجود تمام خرابیوں کی خبر ہے۔ ان کے ووٹوں کو صرف انتخاب کی پرچی نہ سمجھیں یہ عوام کی آس ہے جو اس نے آپ سے لگائی تھی۔

ہم جان چکے کہ یہ صدیوں کا گند ہے، جلد صاف نہیں ہو گا، سارے کا سارا نظام گل سڑ چکا ہے! لیکن اس کی بہتری کے لئے آغاز بھی تو کہیں سے کرنا ہو گا۔ حالات کی دگرگوں صورتحال کے باوجود آج بھی عوام کہہ رہی ہے کہ عمران خان تو اچھا آدمی ہے مگر ان کی ٹیم ٹھیک نہیں! وہ آج بھی آپ سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں ان کی امیدیں مرنے مت دیجئے۔

خدارا! قوم کی بہنو ں، بیٹیوں، بھائیوں، بچوں، بزرگوں، نوجوانوں کی جانب سے بڑے مان اور امید سے ووٹ کی صورت دیے گئے اختیارات کو استعمال میں لائیے اور آپ کی ٹیم میں سے کوئی کچھ کرتا ہے کرے ”نہیں کرتا نہ کرے! نیب قوانین ٹھیک ہوتے ہیں ہوں، نہیں ہوتے نہ ہوں مگر آپ آگے بڑھئے اور کچھ اور کریئے یا نہ کریئے بس تعلیم کے علمبردار بن جائیے اور اس قوم کے بچوں کو تعلیم دینے کے لئے اپنی پوری طاقت لگا دیں! آپ جس تبدیلی کا خواب دیکھتے رہے ہیں اور قوم کو 22 سال تک دکھاتے رہے ہیں وہ ’تبدیلی‘ یہ قوم خود لے آئے گی اور تمام مفاد پرست جاگیرداروں، سیاستدانوں، بیوروکریٹس اور اس برسوں کے فرسودہ نظام کو اپنے ہاتھوں سے اکھاڑ پھینکے گی کیونکہ خان صاحب ’تعلیم بہترین انتقام ہے‘

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد ناصر بٹ کی دیگر تحریریں
محمد ناصر بٹ کی دیگر تحریریں
––>