طلباء میں تخلیقی صلاحیتوں کی کمی اور اساتذہ کا کردار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یونیورسٹی میں موسم بہار کی تعطیلات ہوئیں تو اگلے ہی دن گھر کے لیے روانہ ہو گئے۔ گھر پہنچ کر ایک عزیز کی کال آئی کہ چھوٹے بھائی کے انٹرمیڈیٹ داخلے کے لیے شہر کے ایک مشہور کالج میں جانا ہے آپ بھی ساتھ چلیں۔ ان کے ساتھ جانے کی حامی بھری۔ دوسرے دن کالج کے لیے روانہ ہوئے۔ وہاں پہنچ کر کالج کا ایک ملازم ہمیں پرنسپل صاحب کے کمرے تک لے گیا۔ کچھ دیر گفتگو کے بعد پرنسپل صاحب نے لڑکے سے گزشتہ امتحان کی کارکردگی کے بارے میں کچھ پوچھا۔

جب پتہ چلا کہ موصوف کے نمبر کافی اچھے ہیں تو شاباشی بھی دی۔ اس کے بعد پرنسپل صاحب نے کچھ کرپشن کے بارے میں پوچھا لیکن کوئی جواب نہ آیا۔ بہت دیر کے سناٹے کے بعد منہ سے صرف اِٹ اِز ہی نکلا اور پھر خاموشی چھا گئی۔ پھر پرنسپل صاحب نے کہا کہ کچھ فقرات اپنے سکول کے آخری دن کے بارے میں ہی بتا دیں۔ اس پر جناب نے فر فر کر کے دس بارہ فقرات انگریزی کے جھاڑے اور اس قدر روانی کے ساتھ جھاڑے کہ ہم حیران رہ گئے۔

وجہ دریافت کی تو پتا چلا کہ سکول میں اساتذہ نے صرف وہی دو چار مضمون ہی یار کرنے کا بلکہ رٹا مارنے کا کہا تھا جو کہ صرف امتحان کے لیے ضروری تھے۔ آج کل قریباً ہر سکول و کالج میں بالکل ایسا ہی ہو رہا ہے۔ اساتذۂ بچوں کو صرف اور صرف کتابوں میں لکھی گئی چند چیزیں پڑھا دیتے ہیں۔ اور سمجھتے ہیں کہ ان کا فرض پورا ہو گیا ہے۔ اس عمل سے ان کی تخلیقی صلاحیتیں بالکل ختم ہو رہی ہیں۔ طالب علم کتابوں کے رٹے مار کر وقتی طور پر تو اچھے نمبر حاصل کر لیتے ہیں لیکن ان میں خود سے کچھ کرنے یا جدت لانے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔

جب کبھی کسی خاص موقع پر طالب علموں سے کوئی ایسی چیز پوچھ لی جائے جو کہ ان کے نصاب سے ہٹ کر ہو تو وہ بالکل خاموش رہتے ہیں۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اگر آج ان طالب علموں کو خود سے کچھ کرنے کے لیے ابھاریں تو یہی طالب علم بڑے ہو کر نا صرف اپنا اور اپنے ماں باپ کا نام روشن کریں گے بلکہ اپنے ملک و قوم کا بھی نام روشن کریں گے۔ لیکن افسوس کہ انھیں صرف چند صفحات تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سکول اور کالج میں تو یہ طالب علم اچھے نمبر حاصل کر لیتے ہیں لیکن عملی زندگی میں ان کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اگر اساتذہ ان طالب علموں کو معاشرے کے اصل حقائق اور مسائل بتائیں تو یہی طالب علم ہمارے آنے والے کل میں معاشرے کی فلاح کے لیے ایک اچھا کردار ثابت کر سکتے ہیں۔ ہمارا معاشرے کو درپیش کئی مسائل ہیں کہ جن کا حل بے حد ضروری ہے اور یہ صرف اس وقت ہو سکتا ہے کہ جب اساتذہ اپنا کام ٹھیک سے کریں اور طالب علموں کو ان کے صحیح مقصد کا انتخاب کرنے میں مدد کریں اگر آج ان کو ٹھیک راستہ دکھایا جاتا ہے اور ان کی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جائے تو یہی طالب علم ہمارے آنے والے کل کو روشن کر سکتے ہیں۔

انھی میں سے ارفع کریم اور میر ظفر علی سامنے جیسے کئی طالب علم سامنے آ سکتے ہیں جو کہ نا صرف پاکستان میں بلکہ پاکستان کے باہر بھی ہمارے ملک کا نام روشن کر سکتے ہیں۔ لہذا اساتذہ کو چاہیے کہ وہ اپنے فرائض پوری ایمانداری سے سرنجام دیں اور طالب علموں کو ان کا اصل مقصد بتائیں تا کہ وہ پاکستان کے اچھے شہری بن سکیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •