شیدا۔ ہیلو آنٹی ہاؤ آر یو؟
میرے دادے جی نے میرے چاچے (چاچا پرنے وقتو ں میں باپ کو بھی کہا جاتا تھا ) کی ڈیوٹی لگائی ہوتی تھی کہ گامے نائی کے پاس اپنے اونٹ گدھے او ر چھترے کو لے جائے اور گاما نائی جو تو پیسے دے کر اور پنج دن انتظار کرکے چن چڑھا کے آیا ہے نہ مفت بنا کے دیا کرتا تھا ہاں میلے کے دنوں میں رش تو گامے کے پاس بھی بہت ہوتا تھا وہاں بھی اپنی واری کا انتظار کرنا پڑتا ہوتا تھا۔ کیونکہ گاؤں کے دوسرے لوگ بھی میلے کے لیے اپنے جانور تیار کرواتے ہوتے تھے پُتر یہ پھل کناریاں اور بے ڈھنگے ڈیزائن کھوتوں گھوڑوں پہ ای سوہنے لگتے تھے تیرا چن ورگا منہ کسی کھرک مارے جانور جیسا لگ رہا ہے پُتر۔
شیدا۔ اِٹ از ٹو مچ۔ مجھے آپ جیسے جاہل لوگوں کے منہ ہی نہیں لگنا چاہیے جن کو شعور ہی نہیں ہے زندگی میں انسان کو یونیک انداز اپنانا چاہیے زندگی ایک مکمل انجوائے منٹ کا نام ہے پرانی روایات پیاز لہسی اور دودھ کے ساتھ روٹی کھانا سرسوں کے تیل کی مالش کرنا لہسی کے ساتھ نہانا گاؤں میں گندے قینچی اوستروں سے بال اور خط کروانا سب جہالت ہے۔ ہمیں یورپ کے انداز اپنانے چاہییں وہاں کتنی صفائی ہے شور نہیں ہے کسی کو کسی دوسرے سے کوئی غرض نہیں کہ کوئی کیا کرتا ہے کیا کھاتا ہے کہاں جاتا ہے کوئی کسی دوسرے کی زندگی میں بلا وجہ دخل اندازی نہیں کرتا یہ سب تم دیہاتی لوگوں کے پرابلمز ہیں۔
ماسی پھتے۔ ہاں پُتر تو صحیح کہتا ہے تیرے ٹٹ پینے یورپ میں صفائی شاید ہو مگر پاکی ( ُپاکیزگی ) تو نہیں ناں اور یہ ہم دیہاتی لوگو ں کے پراگلم (پرابلمز) ہیں۔ ہم جاہل لوگ ہیں پُتر تو ٹھیک کہتا ہے تیری امی نے قرآن میرے پاس پڑھا تھا اور پہلے پنج ( پانچ ) کلمے میں نے ہی تجھے سکھائے تھے پُتر تو بالکل سچا ہے ہم گاؤں والے ایک دوسرے کی زندگی میں بلاوجہ ٹانگ اڑاتے ہیں پُتر جب عید ہوتی ہے تو ہم گاؤں والے اس وقت تک ناشتہ نہیں کرتے جب تک دوسرے آس پاس کے گھروں میں اپنی پکائی ہوئی کوئی چیز نہ بھیج دیں۔
ہر خوشی اور ہر غم ہم گاؤں والوں کا سانجھا ہوتا ہے پُتر۔ گاؤں میں اگر کسی کا کوئی فوت ہوجائے تو پورا گاؤں غم میں برابر کا شریک ہوتا ہے۔ گاؤں میں کسی کی بیٹی کی شادی ہو تو پورے گاؤں کو وخت پڑا ہوتا ہے جیسے ہر گھر کی بیٹی کی شادی ہو سرسوں کے تیل اور لسی سے نہانا غلط تھا پُتر مجھے پتہ ہے مگر آج کے دور میں سور کی چربی والے خوشبودار صابنوں سے گندے مندے شیمپوؤں سے نہانا ٹھیک ہے پُتر پیاز دودھ لسی کے ساتھ روٹی کھانا غلط تھا مگر مردہ برائلروں مردہ جانوروں کھوتوں (گدھوں ) کے گوشت کے بنے پیزے برگر شوارمے کھانا درست ہے پُتر دیسی گھی میں آٹا گوندھ کے پراٹھا بنا نا غلط تھا پُتر اور مردہ جانوروں کی چربی سے بنے آئل کھانا درست ہے پُتر اوٹ پٹانگ کریمیں لگانا داڑھی منڈوانے کے پعد حرام سپرے کرنا جائز ہے پتر مگر گاؤں میں گامے نائی کے جراثیم والے قینچی استرے استعمال کرنا غلط ہے پُتر۔ حالانکہ وہ پیچارہ بھی پھٹکڑی سے انھیں صاف کیا کرتا تھا۔
اپنے ہاتھ سے اگائی فصلیں اناج کھانا اپنے ہاتھ سے سبزیوں ٹماٹروں پیاز اور لہسن کی چٹنی بنا نا تازہ پھلوں کے مربے بنانا غلط تھا پُتر اور آج گلی سڑی سبزیوں پھلوں اور ٹماٹروں کے جام کیچپ جوس پینا ٹھیک ہے پُتر۔ تو بالکل ٹھیک کہتا ہے شیدے پُتر پچھلے دن نیہفاں (حنیفاں ) گوبھی لے کے آئی بازار سے اور گوبھی کے پھول سے جو نکلا میں بتا بھی نہیں سکتی شہروں سے نکلنے والے گندے نالوں کے پانی سے فصلوں اور سبزیوں کو سیراب کیا جاتا ہے تو پھر ہماری صحتیں بھی تو ایسی ہی ہونی ہیں نا۔
شیدا۔ اچھا ماسی میں نے غلطی کر لی تیری دکان پہ آنے کی دوبارہ نہیں آؤں گا بس ایک پیکٹ گولڈلیف سگریٹ اور تین ماؤتھ فریش دے دو تم لوگ کبھی ترقی نہیں کر سکتے۔
ماسی پھتے۔ سگریٹ اور ماؤتھ فریش پکڑاتے ہوئے ہاں پُتر ہم واقعی ترقی نہیں کر سکتے کیوں کہ جسے تیرے جیسے ولائتی بابو ترقی کہتے ہیں وہ گھٹیا سوچ اور بے حیائی کے سو ا کچھ بھی نہیں جا میرا پُتر ماں صدقے جیوند ا رہ سنیں ساتھیاں۔ تے مُڑ کے ایویں دے وال نہ کٹو ائیں جیویں پیھڈ (بھیڑ ) دا لیلا ہوندا اے (دوبارہ ایسے بال مت کٹوانا جیسے بھیڑ کا لیلا ہوتا ہے )

