خاموشی اور شور کی ثقافت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Harry Frankfurt

اس طالب علم کے مطابق انیس سو اسی میں لبرل ازم کی بلا شرکت غیرے حکومت کے آغاز میں ہی شور کی ثقافت کی بنیاد رکھ دی گئی تھی۔ شور کی یہ ثقافت سرد جنگ کے پروپیگنڈے اور برین واشنگ سے مختلف تھی۔ کون ذی شعور سرد جنگ کے دوران میں ہونے والے مکالمے میں بے تحاشا جھوٹ کی آمیزش سے انکار کر سکتا ہے۔ تاہم سرد جنگ کے دوران ہونے والی یہ گفتگو صحیح اور غلط کے تعین کے لیے ہوتی تھی سرد جنگ کے خاتمے نے صحیح اور غلط کی یہ گفتگو ختم کردی۔ مجھے اجازت دیجیے کہ اپنی بات کی وضاحت کے لیے ایک فلسفی کا سہارا لوں۔

پروفیسر ہیری فرینکفرٹ فلسفہ اخلاقیات کے ایک سکالر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے 2005 میں ایک مختصر سی کتاب تحریر کی جس کا نام تھا On Bullshit۔ حبیب لبیب جناب ضیغم خان نے اپنی ایک تازہ انگریزی تحریر میں اس کتاب کے بنیادی تصور کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستانی سیاست کی موجودہ صورت حال سمجھنے اور سمجھانے کی ایک قابل قدر کوشش فرمائی ہے۔

غور فرمائیے کہ یہ کتاب دو ہزار پانچ میں شائع ہوئی جو ہراری کے مطابق لبرلزم کے عروج کا زمانہ تھا۔ یہی بات اس طالب علم نے کہنے کی کوشش کی ہے لبرل ازم کی بنیاد میں یہ بات شامل تھی کہ اب گفتگو صحیح یا غلط اور سچ یا جھوٹ کے علاوہ کسی اور پیمانے پر کی جائے گی۔

فرینکفرٹ نے جھوٹ یا سچ کے علاوہ تیسری شے بکواس/ لغو گوئی Bullshit (اس طالب علم کی کوتاہ علمی سے درگزر فرمایں اور Bullshit کا موزوں اردو متبادل خود منتخب کیجیے) کی جانب اشارہ کیا ہے۔ اس مختصر سی کتاب میں انتہائی منطقی انداز میں فرینکفرٹ نے یہ بتایا ہے کہ لغو گوئی ضروری نہیں ہے کہ جھوٹ ہو مگر یہ جھوٹ سے اس لیے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ جھوٹے شخص کے پاس سچ کا ادراک بہرحال موجود ہوتا ہے اور وہ سمجھ بوجھ کر سچ چھپانے کے لئے جھوٹ بولتا ہے۔ جبکہ لغو گو (فرینکفرٹ نے اس کے لیے Bullshitter کا لفظ استعمال کیا ہے ) کے پاس سچ کا ادراک تک نہیں ہوتا وہ لغو گوئی کو سچ سمجھ کر بولتا ہے۔ لغو گوئی کا ایک وصف تو جھوٹ اور سچ کی بنیادی تقسیم سے بالکل الگ ہونا ہے۔ اور دوسرے اس میں حقیقت کا ایک ایسا تصور پنہاں ہوتا ہے جو دوسروں کے لیے لائق ادراک نہ ہونے کے ساتھ ساتھ حقیقت پر مبنی نہیں ہوتا۔ لہذا لغوگو کو اس بات سے مطلقاً غرض نہیں ہوتی کہ اس کی بات کا حقیقت سے تعلق کتنا ہے۔ ضیغم صاحب نے چند وزراء کے حالیہ بیانات کو فرینکفرٹ کے اس تصور کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔

سوال یہ ہے کہ لغو گوئی کے بنیادی اسباب کیا ہیں۔ کیا اس کی وجہ وہ ہے جس کی جانب ہراری نے اشارہ کیا ہے یعنی اس وقت کسی بھی کہانی (تھیوری) کا نہ ہونا۔ کیا لبرلزم کی تعمیر میں لغو گوئی کی یہ صورتحال مضمر تھی؟ یا پھر صورت حال جان بوجھ کر اس سمت میں موڑ دی گئی ہے؟ کیا لبرل تھیوری کا تنہا تنہا باقی رہ جانا لغو گوئی کا سبب بنا ہے۔ یعنی جب لبرل تھیوری ہی واحد سچ کے طور پر باقی رہ گئی اور موازنے کے لئے کچھ بھی باقی نہ بچا تو ایسے میں پیدا ہونے والے خلا نے گفتگو کو سچ اور جھوٹ کے روایتی پیمانوں سے بے نیاز کر دیا۔ اس طالب علم کے نزدیک غالبا یہ وہ مقام ہے جہاں سچ اور جھوٹ کے پیمانوں کی ناقابل انکار موجودگی کا ثبوت ملتا ہے۔

انسان کی اخلاقی زندگی سچ اور جھوٹ، صحیح اور غلط کے پیمانوں کے بغیر استوار نہیں ہو سکتی۔ لبرل ازم سے پہلے یہ پیمانے خارج میں متعین ہوتے تھے اور انسان ان کو اختیار کرتا تھا۔ لبرل ازم نے ان پیمانوں کو موضوعی بنا دیا ہے۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ اب جتنے لوگ ہیں اتنے ہی سچ ہیں۔ ایک کے سچ کو دوسرے کے سچ سے نہ غرض ہے اور نہ ان کا آپس میں موازنہ ممکن ہے۔ لیکن سچ میں مضمر ایک شے سے بہر طور نجات نہیں پائی جا سکی۔ اور وہ ہے دوسروں سے اپنے سچ کو منوانے کی ایک بے قابو خواہش۔ اس خواہش کے زیر اثر آپ کسی سچے کے لیے چپ رہنا ممکن نہیں رہا۔ ہر سچا بول رہا ہے اور اپنے پھیپھڑوں کی پوری قوت سے بول رہا ہے۔ دوسروں کے سچ کے لیے کسی احترام کے بغیر بول رہا ہے۔ ہر سچا کسی بھی ایسے معیار کے بغیر بول رہا ہے کہ جس پر سچ کو پرکھا جا سکے۔ دلیل Reason ایک معیار کے طور پر رد ہو چکی ہے۔ انسانی جان اپنی عظمت گنوا چکی۔ سچ مسلسل رہا ہے لیکن دوسروں کو قائل کرنے کی کوشش اپنی جگہ اسی طرح موجود ہے جس طرح وہ ہمیشہ سے تھی۔ لہذا سچ کا ایک طوفان ہے جس کا مقابلہ جھوٹ سے نہیں بلکہ صرف سچ سے ہے۔ سچ کا اتنا شور ہے کہ کان پڑا سچ سنائی نہیں دیتا۔ شور کی اس ثقافت کی تعریف پر دوبارہ توجہ فرمائیں

”ایک ایسا ماحول جس میں ہر آدمی کے پاس بظاہر ہر بات کہنے کا یارا ہوں مگر اس سے قبل کے بعد سنی جائے اس کے اردگرد شکوک وشبہات کا ایسا ہالہ پیدا کر دیا جائے کہ بات سماعتوں میں اترنے سے پہلے مشکوک ہوجائے“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2