استعمار زدہ معاشرے میں دانش اور دانشور

اطالوی مفکر، مصنف، اور ایکٹیوسٹ انتونیو گرامشی اور فرانسیسی فلسفی مشعل فوکو کے بعد ایڈورڈ سعید وہ مصنف ہے جس نے انسانی معاشروں میں موجود دانش اور دانشور کے کردار پر تفصیل سے لکھا ہے۔ ایڈورڈ سعید نے گرامشی اور فوکو کے نظریات کی تشریح، توسیع اور نظری اطلاق کا کام کیا ہے۔ گرامشی کے پیش نظر فسطائیت کا شکار اٹلی تھا جبکہ سعید کی توجہ ان مغربی دانشوروں پر رہی جو مشرق اور بالخصوص اسلام پر اپنے متعصبانہ نظریات

Read more

توہین، قاتل ہجوم اور مذہب

توہین مذہب کا الزام لگا کر قاتل ہجوم نے سوات میں ایک تازہ کارروائی کرتے ہوئے ایک اور بے گناہ شخص کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس نوعیت کا یہ نہ تو پہلا واقعہ ہے اور حالات دیکھتے ہوئے انتہائی تکلیف دہ پیش گوئی یہ بھی کی جا سکتی ہے کہ یہ آخری واقعہ بھی نہیں ہو گا۔ ہمارے کرم فرما حضرت سانول عباسی نے اس موضوع پر ایک گفتگو کا اہتمام کیا تھا جس میں اس موضوع پر

Read more

میں کیا کر سکتا ہوں؟

میرے استاد گرامی ڈاکٹر اختر احسن نے نفسیاتی امراض اور ان کے علاج کی تربیت کرتے ہوئے ایک اہم سبق ذہن نشین کرایا تھا۔ اور وہ یہ تھا کہ کبھی مرض کی علامات کا علاج نہ کرنا بلکہ ہمیشہ نفسیاتی مسائل کی اصل وجہ جاننے کی کوشش کرنا اور اسے اپنی تھیراپی کا اصل مخاطب اور ٹارگٹ بنانا۔ اس اصول کو استعمال کرتے ہوئے جب ملکی صورتحال کو دیکھتا ہوں تو علامات یہ نظر اتی ہیں۔ معاشرہ تقسیم در تقسیم

Read more

ایک مزاحمت کار کی زندگی

یہ غالباً 2001 کی بات ہے پرویز مشرف کے اقتدار کے ابتدائی دن تھے الیکٹرانک میڈیا نسبتاً زیادہ آزادی کے ساتھ بہت سے ممنوعہ موضوعات پر کھل کر گفتگو کر رہا تھا۔ پرائیویٹ ٹی وی چینلز نئے موضوعات پر ٹاک شوز ریکارڈ اور نشر کر رہے تھے۔ ہمارے دوست عبدالحمید صاحب حال مقیم کینیڈا نے کچھ اہم دانشوروں کے انٹرویو کا ایک منصوبہ بنایا۔ یہ انٹرویوز ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل سے نشر ہونے تھے۔ ہم نے پہلا انٹرویو آئی

Read more

سال 2023 اور پاکستانی معاشرے کی ذہنی صحت

یہ چند سال پہلے کا واقعہ ہے ملتان میں اپنے گھر کے قریب فارمیسی میں ایک نوجوان کو دیکھا جو سیلز مین (جو فارماسسٹ نہیں تھا) سے ایک ہائی پوٹینسی کی اینٹی انگزائٹی دوا مانگ رہا تھا اور وہ بھی کسی نسخے کے بغیر۔ سیلز مین نے 10 گولیوں کا ایک پتا بغیر کسی سوال کے اس کے حوالے کر دیا۔ میں نے اس سے کہا کہ آپ نے نوجوان کو کسی نسخے کے بغیر اتنی ہائی پوٹینسی کی دوا

Read more

فلسطینی کیوں لڑتے ہیں؟

فلسطینی تنظیم حماس اور اسرائیل کے درمیان تشدد کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوئے کچھ دن گزر چکے ہیں۔ تشدد کے یہ سلسلے فلسطینیوں، اسرائیلیوں اور اس تنازعے کو دیکھنے والوں کے لیے نئے نہیں ہیں۔ حسب سابق بے پناہ جانی اور مالی نقصانات کی اطلاعات ہیں۔ تاہم اس دفعہ جانی نقصان میں اسرائیلی اور فلسطینی اموات کا تناسب پہلے سے مختلف ہے۔ ایک چیز جو اس تنازعے کے حوالے سے خاص ہے وہ اس پر کیا جانے والا وہ

Read more

کیا عدالت جنس کا تعین کر سکتی ہے؟

گزشتہ برس ملتان لٹریری فیسٹیول کے منتظمین نے ایک سیشن ملک میں زیر بحث ”ٹرانس جینڈر بل“ پر گفتگو کے لیے مخصوص کیا تھا۔ وطن سے دوری (غربت) بہت سے موضوعات پر جاری بحث سے ناواقف رکھتی ہے۔ اس سیشن میں محترمہ تنویر جہاں کی گفتگو سے پیدا ہونے والے درجہ حرارت نے اس موضوع کے گرما گرم ہونے کا احساس دلایا۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ اب اس موضوع پر شائع ہونے والی ہر خبر خود بخود

Read more

عمران خان کیوں نہیں؟

عمران خان کے حامی اپنے نظریات اور خیالات کے اظہار میں جو شدت رکھتے ہیں اس سے ہم سب واقف ہیں۔ میں وقتاً فوقتاً اس شدت کو جانچنے کے لیے فیس بک پر ایک آدھ جملہ لکھ کر صرف یہ دیکھنا ہوں کہ اب تحریک انصاف کے دوست کیا اور کیسا محسوس کر رہے ہیں۔ ان دوستوں کی ہر پوسٹ نواز شریف اور آصف زرداری کی مبینہ کرپشن کی داستانیں بیان کر رہی ہوتی ہیں۔ فرصت میسر ہو تو ان

Read more

افراتفری، مزاحمت اور عوامی دانشور

بظاہر ضیا الحق کی آمریت کے خلاف مزاحمت کرنا بہت ہی مشکل کام تھا۔ میں نے لاہور کے شاہی قلعے میں عقوبت کا نشانہ بننے والوں کے انٹرویو کیے۔ جام ساقی مرحوم سے ان کی قید تنہائی کے احوال بھی سنے۔ نفسیات کے ایک طالب علم کی حیثیت سے دل پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہوں جب ان عظیم لوگوں کی باتیں سنتے ہوئے ان کی جگہ پر خود کو رکھ کر سوچتا تھا تو روح تک کانپ کر رہ

Read more

اعتبار، بے اعتباری اور ہماری نفسیات

پاکستان کی سیاسی تاریخ آمریت اور سیاسی عدم استحکام کے مختلف ادوار سے عبارت ہے۔ آمریت تو ظاہر ہے عوام کو اس خوش فہمی میں بھی مبتلا نہیں ہونے دیتی کہ وہ حکومتی معاملات میں شراکت داری کا سوچ بھی سکیں۔ تاہم جمہوری حکومتوں سے عوام بجا طور پر دو توقعات بہرطور رکھتے ہیں۔ ایک جمہوری طور پر منتخب حکومتیں عوامی مفاد کے فیصلے کریں گی۔ اور دوسرے یہ کہ یہ فیصلے بند دروازوں کے پیچھے نہیں بلکہ عوام کی

Read more

فرانز فینون: جائزہ اور افادہ، وفات کے ساٹھ برس بعد

نو آبادیاتی نظام Colonialism کے بارے میں یہ خوش گمانی عرصہ ہوئی دور ہو چکی کہ محکوم ممالک کو آزادی ملنے کے ساتھ اس کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ اس کا ثبوت پوسٹ کولونیلزم، نیو کولونیلزم، ڈیجیٹل کولونیلزم اور ہائپر کلونیلزم جیسی اصطلاحات کا وہ استعمال ہے جو نو آبادیات کے بہ ظاہر خاتمے کے بعد شروع ہوا۔ نوآبادیات یا استعماریت کے بارے میں ایک بات تو طے ہے کہ آج دنیا کا کوئی خطہ ایسا نہیں ہے کہ جس

Read more

پروفیسر خالد سعید اور پاکستان میں علم نفسیات

خالد سعید صاحب کی شخصیت اور کام کے لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ ایک نثر نگار تھے، شاعر تھے، نقاد تھے، مترجم تھے، ماہر نفسیات تھے، ماہر تعلیم تھے یا فلسفی۔ بہت سے لوگوں کو یہی الجھن میرے ایک اور استاد ڈاکٹر اختر احسن کے بارے میں بھی رہتی ہے کہ وہ ماہر نفسیات تھے، شاعر تھے یا فلسفی۔۔ میرے خیال میں یہ دونوں حضرات وہ سبھی کچھ تھے جس کا ان کے بارے میں گمان کیا جاتا

Read more

ایڈورڈ سعید، دانشور اور پاکستان

9 ستمبر 2001 کے حملوں کے چند ہفتوں کے بعد مجھے ایک ای میل کے ذریعے امریکی فلسفی نوم چومسکی کے ایک لیکچر کا تحریری مسودہ موصول ہوا۔ یہ لیکچر انہوں نے امریکی باشندوں کے سامنے کسی یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں دیا تھا۔ جب پورا مغرب ان حملوں کا تمام تر الزام مسلمانوں پر عائد کرنے کے بعد اسلام اور دہشت گردی کو ہم معنی قرار دے رہا تھا نوم چومسکی نے اپنے لیکچر میں امریکی حکومت کی ان فوجی

Read more

کچھ سیاسی تشدد کے بارے میں

سوشل میڈیا کی قباحتیں اپنی جگہ پر مگر اس کا یہ فائدہ کیا کم ہے کہ گاہے گاہے اس پر ان موضوعات پر گفتگو چھڑجاتی ہے جن پر ہمارے تعلیمی اداروں اور مین سٹریم میڈیا نے کبھی نظر ہی نہیں ڈالی۔ ایسے کئی موضوعات سوشل میڈیا یا پھر مختلف ویب سائٹس پر نظر آتے ہیں۔ انہی میں سے ایک موضوع جو گزشتہ دنوں زیر بحث رہا وہ تشدد کی سیاسی جدوجہد میں افادیت کے بارے میں تھا۔ گو یہ بحث

Read more

عمراں خان کا بیانیہ مذہبی انتہا پسندی کی توسیع ہے

اس خاکسار نے خود کو کبھی اس قابل نہیں پایا کہ سیاست، سیاست دانوں اور سیاسی صورتحال پر کچھ بھی کہہ سکے۔ لیکن جب سیاستدان اور ان کی سیاست معاشرے کے نفسی سماجی Psycho-social تاروپود بکھیر نے کے درپے ہو تو اپنے اساتذہ پروفیسر خالد سعید اور ڈاکٹر اختر احسن کی پیروی اور علم نفسیات کے عظیم ترین معماروں سگمنڈ فرائڈ، ولہلم رائخ، ایرک فرام اور فرانز فینون کی روایت میں رہتے ہوئے موجودہ صورتحال پر تبصرہ لازم ہو جاتا

Read more

خالد سعید: بالشتیوں میں سربفلک

موجودہ سیاسی و سماجی تناظر میں کثرت سے استعمال ہونے والی اصطلاح "بالشتیا” کے خالق پروفیسر خالد سعید 29 مئی کو اس دنیا سے سدھار گئے۔ وہ جب موجود تھے حتیٰ کہ جب وہ صاحب فراش بھی تھے کبھی یہ احساس تک نہ ہوا کہ دنیا ان کے بغیر کیا ہو گی۔ اس بات کا احساس عین اس صبح کو ہوا جب ان کے جانے کی اطلاع ملی۔ یہ اطلاع گو غیر متوقع نہیں تھی مگر پھر بھی ناقابل یقین

Read more

عہد تار کی واپسی (پروفیسر خالد سعید کے انٹرویو کی تشریح)

ہو سکتا ہے اس تحریر کے عنوان کو دیکھ کر آپ کے ذہن میں ناول ”ٹارزن“ کی واپسی ”یا پھر“ ڈریکولا کی واپسی ”نامی فلم کا خیال آیا ہو۔ اگر آیا بھی ہے تو کچھ غلط نہیں ہوا۔ عہد تار کdark age کی واپسی کا اعلان میرے ذی قدر استاد پروفیسر خالد سعید صاحب نے برادرم علی نقوی کو دیے گئے انٹرویو میں فرمایا ہے۔ یہ اعلان جتنا بڑا ہے اتنا زیادہ پریشان کن بھی ہے۔ یہ بات کسی ہما

Read more

عمران خان پیدا کرنے والا معاشرہ

یہ سن دو ہزار تین اور چار کے آس پاس کی بات ہے ملک پر جنرل پرویز مشرف کا تسلط مستحکم ہو چکا تھا۔ اہم سیاسی قائدین ملک سے باہر تھے۔ اس وقت تک عمران خان کوئی اہم سیاسی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے تھے مگر پھر بھی ایک سیاستدان کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ٹی وی چینلز جو اپنی نئی نئی آزادی کا فائدہ اور لطف اٹھا رہے تھے عمران خان کو اپنے ٹاک شوز میں مدعو کرتے۔

Read more

مرد عورتوں سے خوف زدہ کیوں ہیں؟

دنیا میں مدر سری Matriarchal نظام کبھی موجود تھا یا نہیں؟ اگر تھا تو کیا وہ موجودہ معاشرتی نظام کی ابتدائی شکل کہلایا جا سکتا ہے؟ کیا مدر سری نظام ہر جگہ موجود تھا یا کچھ مخصوص علاقوں تک محدود تھا؟ صنفی کرداروں کے حوالے سے ژنگ Jung کے بیان کردہ Anima اور Animus جیسے تصورات کی کوئی حقیقت ہے یا نہیں؟ ذرا ان سوالوں کو کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھیے اور مردوں کی جانب سے عورتوں پر

Read more

قاتل ہجوم کے ذہنی خدوخال

کیا یہ محض ایک اتفاق ہے کہ پاکستان اور ہندوستان میں ہجومی قتل کی ایک جیسی کارروائیوں کی شدت اور تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے؟ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ان کارروائیوں کی وجوہات میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے؟ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ پاکستانی اور ہندوستانی معاشروں میں مابعد استعماریت خصائص بھی یکساں طور پر موجود ہیں؟ کیا ماہرین نے استعماریت کے شکار معاشروں میں ”غیر“ The Other پیدا کرنے کے ایک مسلسل

Read more

نسل کشی، جمہوریت اور اکثریت پسندی‎‎

وسعت اللہ خان ہمارے ملک کے ان چند صحافیوں میں سے ایک ہیں جو انتہائی اہم اور نازک موضوعات پر انتہائی مہارت اور بھرپور معلومات کے ساتھ سادہ پیرائے میں بات کہنے پر قدرت رکھتے ہیں۔ ان کے کالم نہ صرف معلومات میں اضافے کا سبب بنتے ہیں بلکہ پڑھنے والوں کے لیے سوچنے اور سمجھنے کے نئے دریچے بھی کھولتے چلے جاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے نسل کشی پر دو قسطوں میں لکھا اور کیا خوب لکھا۔ وسعت

Read more

ایک نازک موضوع پر مزید گزارشات

جناب وجاہت مسعود کی تحریر کی تشریح کی غرض سے جو گزارشات تحریر کی تھی اس پر کچھ صاحبان علم نے وضاحت طلب فرمائی ہے۔ چند احباب کی خدمت میں تو ذاتی طور پر عرض کیا اور ان کے سوالات کا حتی المقدور جواب دینے کی کوشش کی۔ معروف مذہبی سکالر جناب عمار خان ناصر نے "ہم سب” پر اس طالب علم کی تحریر کے ذیل میں اپنا تبصرہ رقم فرمایا۔ ناصر صاحب کے بارے میں مجھے اتنا علم تو

Read more

‪ایک نازک موضوع پر کچھ اور محتاط خیالات‬

جناب وجاہت مسعود کی "ایک نازک موضوع پر کچھ محتاط خیالات” کے عنوان سے جو تحریر شائع ہوئی ہے میری درخواست ہے کہ میری اس گزارش کو اس تحریر کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے۔ وجاہت صاحب کی تمہید کو من و عن اس تحریر کی تمہید بھی سمجھا جائے تاکہ تکرار سے بچا جا سکے اور میں مختصراً چند گزارشات اسی موضوع پر آپ کی خدمت میں عرض کر سکوں جس پر وجاہت صاحب کی تحریر آپ پہلے ہی

Read more

اختر احسن: آنے والے وقتوں کا ماہر نفسیات

شعبہ اطلاقی نفسیات پنجاب یونیورسٹی میں داخلے سے پہلے ہی مجھے میرے ذی قدر استاد پروفیسر خالد سعید دام ظلہ نے ڈاکٹر اختر احسن کے بارے میں مختصراً یہ بتایا تھا کہ وہ ایک پاکستانی ماہر نفسیات ہیں۔ انہی کی طرح ڈاکٹر اجمل مرحوم کے شاگرد ہیں۔ شاعر ہیں۔ مائتھالوجی کے ماہر ہیں۔ فلسفی ہیں۔ اور نفسیاتی علاج کے ایک نئے مکتبہ فکر کے بانی ہیں۔ خالد سعید صاحب چونکہ فرائڈ کی عینک سے نفسیات کو دیکھتے ہیں اسی لیے

Read more

خود کش بمباروں سے زیادہ مہلک ہجوم‬

ملک کے پاور سنٹر نے اب جن گروہوں پر سرمایہ کاری کی ہے وہ ”توہین“ کا نعرہ لگانے والے ہجوم ہیں۔ ان سے پہلے انہی پاور سنٹرز نے خودکش بمباروں پر سرمایہ، وقت اور معصوم شہریوں کی جانوں کو داؤ پر لگا کر اپنے سیاسی کھیل کھیلے تھے۔ خودکش بمبار مارکیٹ میں نہیں ملتے، انہیں تیار کرنا پڑتا ہے اور اس تیاری کے کئی مراحل ہوتے ہیں۔ پہلے ایک مصنوعی دشمن تخلیق کیا جاتا ہے۔ ہر کسی کو یاد ہے

Read more

فکری روایات کی تفہیم اور تکریم‎‎

فرانسیسی فلسفی مشعل فوکو نے Episteme اور Discourse کے تصورات اپنے فلسفیانہ نظریات میں شامل کیے ہیں۔ مجھے اجازت دیں کہ غلط ہی سہی مگر میں Episteme کا ترجمہ "روح عصر” کروں. روح عصر سے فوکو کی مراد کسی ایک خاص وقت اور مقام پر موجود افراد کا وہ ذہنی ڈھانچہ ہے جس سے اس وقت کا تمام علم دریافت ہوتا ہے۔ یہ ذہنی ڈھانچہ ایک خاص وقت اور مقام پر نمو پذیر ہونے والے تمام علمی نظریات کے لیے

Read more

انسانی جان اور کٹھور پن کی نفسیات

 ہمارے ہر روز کے نیوز بلیٹن میں مختلف حادثات، وارداتوں اور تخریب کاری میں مرنے والوں کا بیان اب ایک لازمہ بن کر رہ گیا ہے۔ مان لیا کہ ہم ایک ترقی پزیر ملک ہیں ہمارے ذرائع محدود ہیں۔ حادثات، جرائم اور تخریب کاری کی روک تھام کے لیے ناکافی انتظامات کے سبب ایسے واقعات تسلسل سے رونما ہوتے رہتے ہیں ۔ لیکن بنیادی سوال ان رویوں کے بارے میں ہے جو انسانی جانوں کے ضیاع کی جانب اختیار کیا

Read more

جنس، جرائم اور تکرار‎‎

اختر علی سید سے شناسائی اور دوستی کے مرحلے نوجوانی ہی میں طے ہو گئے تھے۔ ان کے علم اور تدبر کا دبدبہ تو تب بھی تھا۔ یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس گہر ناتراشیدہ سے ایسا کٹیلا جوہر برآمد ہو گا اور اس مشت خاک سے ایسی ہمہ جہت روشنی پھیلے گی۔ موجودہ صدی کے ابتدائی برسوں میں وہ آئرلینڈ چلے گئے۔ ملاقات کم ہو گئی۔ او بصحرا رفت و ما در کوچہ ہا رسوا شدیم۔ اختر علی سید

Read more

مولانا کی ویڈیوز پر ایک مختصر گزارش‎

اٹھتی ہے در یار پہ اب پردے کی دیوار کس کا سر شوریدہ ہے ٹکرا نے کے قابل لاہور کے ایک مولانا کی ویڈیوز عام ہوئیں۔ "شور کی ثقافت” میں پہلے سے موجود بپا طوفان کی لہریں مزید بے قابو ہوئیں۔ ہمارے گھر کی رونق اب انھی طوفانوں پر موقوف ہے۔ تقسیم در تقسیم ہوتے معاشرے میں مورچہ زن گروہوں کے ہاتھ طعنہ زنی اور پوائنٹ اسکورنگ کے نئے بہانے لگے ہیں لہٰذا کچھ دن تو میلہ خوب جمے گا۔

Read more

آئی اے رحمان: انساں کی جستجو میں اک انساں چلا گیا‎

بڑوں کی وفات پر تعزیتی تحریر لکھنا دنیا بھر میں ایک روایت ہے۔ مرحومین کے لواحقین سے ہمدردی و تعزیت دنیا بھر میں سماجی رواج ہے۔ کون ہے جس کے جانے پر آنکھیں نم نہ ہوتی ہوں۔ شاید ہی کوئی ایسا ہو جس کے جانے پر پیچھے رہ جانے والے زندگی کی کتاب سے صفحات کی گمشدگی کا ماتم نہ کرتے ہوں لیکن زندگی بہرحال رواں رہتی ہے۔ لوگ آتے جاتے رہتے ہیں کہ ہر آنے والے نے جانا ہے۔

Read more

عمران خان کی نفسیات اور ان کے حامی بالشتیے

نفسیات کے طالب علم نجومی نہیں ہوتے۔ وہ فرد کی شخصیت اور ذہنی ساخت کی بنیاد پر کچھ اندازہ لگاتے ہیں۔ مختلف حالات میں فرد کے ممکنہ رویوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ علم، تجربہ اور تربیت ان اندازوں کے درست ہونے کا تعین کرتے ہیں۔ تین دن قبل اپنے احباب سے عرض کیا تھا کہ عمران خان کی ذہنی حالت اور شخصیت کو سامنے رکھا جائے تو یہ عین ممکن ہے کہ وہ کوئٹہ جانے سے انکار کر دے۔ لہٰذا

Read more

عمران خان اور سیاسی جماعتیں‎

عمران خان کو جب نوے کی دہائی کے آغاز میں سیاست کے میدان میں اتارنے کی تیاری کی جا رہی تھی حبیب لبیب جناب ضیغم خان اس ابھرتی ہوئی سیاسی شخصیت کا انٹرویو کرنے کے لیے لاہور تشریف لائے۔ وہ اس وقت انگریزی ماہنامے ہیرالڈ کے لیے کام کرتے تھے اور سیاستدان کی حیثیت سے یہ عمران خان کا پہلا بڑا انٹرویو تھا۔ ضیغم خان کے قیام کے دوران میں روزانہ رات گئے تک عمران خان کے ممکنہ سیاسی کردار

Read more

نام لینے کا موسم‎

یہ بات تو ڈاکٹر ناصر عباس نیر جیسے دانشور سے پوچھنے کی ہے کہ اردو میں Colonialism کا ترجمہ "نوآبادیاتی نظام” کیوں مستعمل ہو گیا جبکہ ایک لفظی ترجمہ "استعمار” بھی وہی مفہوم زیادہ بلاغت سے بیان کرتا ہے۔ عالم فاضل جناب حسین مرتضیٰ صاحب نے Colonizer کا ترجمہ "استعمار گر” اور Colonized کا اردو متبادل "مستعمر” تجویز فرمایا ہے۔ میں گذشتہ کئی سال سے Colonizer کو استعمار کہتا چلا آ رہا ہوں اب حسین مرتضیٰ صاحب سے استفادے کے

Read more

کیا اصل مسئلہ ریپ ہے؟

16 دسمبر 2012 کو نئی دہلی کی سڑکوں پر سائیکو تھراپی کی ایک 23 سالہ طالبہ جیوتی سنگھ کو ایک چلتی بس میں چھ مردوں نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ریپ کے بعد جیوتی کے اندرونی اعضاء کو ایک سریے سے اس قدر مجروح کر دیا کہ پہلے نئی دہلی اور بعد میں سنگاپور کے ڈاکٹروں کی بے انتہا کوشش کے باوجود بھی اسے بچایا نہیں جا سکا۔ اور اس واقعے کے دو ہفتے بعد وہ اس دنیا سے

Read more

قوت بازوئے احرار جہاں ‎

گیارہ ستمبر 2001 کے بعد کا زمانہ تھا جب میں آئرلینڈ پہنچا۔ یہاں خبروں کے لیے ابھی الجزیرہ بھی میسر نہیں تھا۔ سکائی نیوز اور سی این این پر اس وقت عراق پر ہونے والے حملوں کی تمہید باندھی جا رہی تھی۔ ایک دن اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے پارلیمنٹ سے خطاب کیا جس کو تمام چینلز نے براہ راست نشر کیا۔ تقریر کیا تھی اسے سن کر یوں لگتا تھا کہ صدام حسین اگلے چالیس

Read more

انتباہ کے چند حرف‎

دنیا بھر کے معاشروں میں درجنوں نہیں سینکڑوں افراد روزانہ قتل ہوتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات کی اکثریت اخبار کے صفحات اور ٹی وی کے نیوز بلیٹن میں جگہ بھی نہیں بنا پاتی۔ ایسے واقعات کی ایک بڑی تعداد کے حوالےسے شاید انصاف کے تقاضے بھی پورے نہ ہو پاتے ہوں۔ لیکن انسانی معاشرے ان حادثات کے مرتکب افراد کی جانب ایک عمومی رویہ بہرحال رکھتے ہیں اور یہ کم سے کم شدت میں بھی ناپسندیدگی کا رویہ ہوتا

Read more

نفسیات، پاکستان اور کرپشن

آپ نے سیاستدانوں اور دنیا کی دیگر اہم شخصیات کے نفسیاتی تجزیے ضرور پڑھے ہوں گے۔ ماہرین نے ھٹلر، مسولینی، اسٹالن اور صدام حسین کی شخصیات کے معرکۃالآرا تجزیے تحریر کیے ہیں۔ ان ماہرین میں ایرک فرام اور ہنری مرے جیسے ماہرین شامل ہیں۔ اس ضمن میں چند ماہرین کے تازہ تجزیے بھی شامل کیجیے۔ ہندوستان کے معروف ماہر نفسیات اشیش نندی نے نریندرا مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے اراکین کے انٹرویوز کے بعد اپنے تجزیے تحریر کیے تھے۔

Read more

کیا عوام جاہل ہیں؟‎

پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے مایوسی اور غصے کی انتہائی حالت میں لاہور کے عوام کو جاہل کیا کہہ دیا سیاست کی ہنگامہ خیز فضا میں مزید اضافہ ہوگیا۔ سنا ہے انہوں نے اپنے اس بیان پر معذرت بھی کرلی ہے مگر جو طوفان ان کے اس فرمودے سے سے اٹھا تھا اب وہ تھمتے تھمتے ہی تھمے گا کہ سیاست کے پاکستان میں ہی کیا دنیا بھر میں یہی چلن ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ اب سیاست میں

Read more

قیام کے وقت سجدہ سہو: کیا صحافت آزاد ہے؟  

کیا پاکستان میں صحافت آزاد ہے؟ یہ سوال سادہ نظر آتا ہے۔ سماجی سائنس کے ایک طالب علم کے طور پر میرے لیے یہ سوال اور اس کے ممکنہ جواب دونوں ہی بہت زیادہ دلچسپی کے حامل ہیں۔ پہلے اس سوال کو دیکھیے۔ اور اس کو پاکستان سے باہر نکال کر پوری دنیا پر پھیلایے اور پوچھیے کہ کیا دنیا بھر میں صحافت آزاد ہے؟ سوال میں موجود لفظ صحافت سے کیا مراد ہے؟ کیا اس سے مراد واقعات کی

Read more

ولہلم رائخ پر خالد سعید صاحب کے ایک مضمون کی شرح‎

میرے ذی قدر استاد پروفیسر خالد سعید صاحب نے جن ماہرین نفسیات پر 1980 کی دہائی میں مضامین تحریر فرمائے تھے ان میں سے ایک آسٹریا میں پیدا ہونے والے ولہلم رائخ Wilhelm Reich بھی تھے. پڑھے لکھے افراد کی اکثریت ان کو ان کی مشہور کتاب Mass Psychology of Fascism کے حوالے سے جانتی ہے۔ نفسیات کے طلباء کے پاس بالعموم ان کی 23 کتابوں کی فہرست ہوتی ہے۔ خالد سعید صاحب نے دس کتابوں کی فہرست اپنی تحریر

Read more

پاکستان، ایرک فرام اور پروفیسر خالد سعید صاحب‎

علم کا ہر شعبہ اور اس میں ہونے والی تمام ترقی انسانی جدوجہد کی تاریخ بیان کرتی ہے۔ انسانی ترقی کی تاریخ رات اور چراغ بنانے اور اسے جلائے رکھنے والے کے مابین موجود تعلق کو بیان کرنے کی تاریخ ہے۔ اس تاریخ میں جہاں رات کی مستقل مزاجی کا قصہ بیان ہوتا ہے وہی سرشام چراغ روشن کرنے والوں کے نام بھی درج ہیں۔ نہ ہر روز رات کی واپسی رکی ہے اور نہ چراغ جلانے والے کسی دن

Read more

طبقہ علماء اور ہماری دنیا‎

کسی بھی معاشرے میں بنیادی طور پر کرنے کے دو ہی کام ہوتے ہیں۔ یا تو لوگ پیداواری عمل کا حصہ ہوتے ہیں۔ کھیتوں میں کام کرتے ہیں مختلف صنعتوں میں کام کرتے ہیں۔ یا پھر سروسز کی فراہمی سے متعلقہ امور سرانجام دیتے ہیں جیسے کہ اساتذہ، ڈاکٹر اور مختلف دفاتر میں کام کرنے والے افراد۔۔ کاروبار کرنے والے افراد اپنے کاروبار کی نوعیت کے اعتبار سے انہی دو میں سے کسی ایک طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ غور

Read more

بدکلامی کرنے والوں کی نفسیات کیا ہے؟َ

غیر ضروری مناقشے طول پکڑ تے جاتے ہیں۔ کوئی دن جاتا ہے کہ پاکستان میں بات بات پر محشر نہ بپا ہوتا ہو۔ دانت کچکچاتے، کف اڑاتے، آستینیں الٹتے، مغلظات بکتے شرکائے گفتگو ایک دوسرے کو سینگوں پہ نہ اٹھاتے ہوں۔ معاملہ کریدیں تو (اللہ مجھے معاف کرے) نفسیاتی مسائل کے انبار کے علاوہ کچھ اور دکھائی نہیں دیتا۔ افتاد طبع تقاضا کرتی ہے کہ ضرور بولا جائے اور پھیپھڑوں کی پوری طاقت کے ساتھ بولا جائے مگر بزرگوں کی

Read more

تہذیبوں کا تصادم، عالمگیریت اور پروفیسر حراری

تہذیبوں کا تصادم Clash of civilization نامی تصور پر پہلے برنارڈ لویس Bernard Lewis نے لکھا تھا بعد میں سیمیویل ہنٹنگٹن Samuel Huntington نے اس تصور پر ایک مختصر سا مضمون 1992 میں شائع کیا تھا. اسی تصور کو بعد میں پھیلا کر ایک کتاب کی شکل میں شائع کیا گیا۔ اس ایک مختصر سے مضمون نے ایک بہت اہم اور متنازعہ بحث کو جنم دیا جس کی بازگشت ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد بھی سنائی دی جاتی رہی۔

Read more

لاہور کی ٹائر شاپ اور انسان کی بے حرمتی کے نئے اسلوب

جناب اشعر رحمان ملک کے ایک معروف صحافی ہیں۔ انہوں نے گزشتہ روز لاہور میں وقوع پذیر ہونے والا ایک واقعہ اپنے اخبار میں رپورٹ کیا ہے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے اس واقعے میں نئی بات انسان کی جان لینے کا ایک نسبتاً نیا اور زیادہ بے رحم طریقے کا ذکر ہے۔ لیکن علامتی اعتبار سے یہ واقعہ معاشرے میں اکھاڑ پچھاڑ کے ایک جاری و ساری عمل کی جانب آپ کی توجہ مبذول کراتا ہے۔۔۔ ایک نابینا شخص

Read more

نریندر مودی اور ان جیسے دیگر قائدین‎

آپ نے ہیوسٹن میں ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کا جلسہ دیکھا ہوگا۔ شاید آپ اس سلسلے میں امریکی صدر اور کانگریس کے اراکین کی شرکت پر حیران ہوئے ہوں گے لیکن میرے لئے اس سے زیادہ تعجب کی بات 50000 سے زائد ہندوستانیوں کی اس جلسے میں شرکت تھی۔ آپ میں سے جو امریکہ میں مقیم ہندوستانی باشندوں کے بارے میں واقفیت رکھتے ہیں انہیں معلوم ہوگا کہ پچاس ہزار افراد کا یہ مجمع صرف ٹیکسی چلانے والے اور چھوٹی

Read more

دنیا بھر کے عوام متنازعہ قیادت کیوں منتخب کر رہے ہیں؟

آپ نے امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی پر کئی تجزیے پڑھے اور سنے ہوں گے۔ اس سے پہلے ہندوستان میں نریندرا مودی کی سیاست اور بعدازاں ان کے وزیر اعظم بننے پر اشیش نندی اور ارون دھتی رائے جیسے دانشوروں اور اہل قلم کے خیالات بھی آپ نے پڑھے اور سنے ہوں گے۔ پاکستان میں عمران خان کی انتخابات میں کامیابی پر ان کی شخصیت بھی موضوع گفتگو رہی ہے۔ اب گفتگو کا موضوع انگلستان کے وزیراعظم بورس جانسن

Read more

مسلم ذہن کا مسئلہ۔ عاصم بخشی صاحب کی تائید میں چند گزارشات‬

عاصم بخشی صاحب کی تحریر کچھ مدت کے بعد نظر نواز ہوئی۔ انہوں نے مسلم ذہن کے ایک پیچیدہ مسئلہ کو دوبارہ اٹھایا ہے۔ جب کوئی مسئلہ کم از کم تین صدیوں پرانا ہو جائے تو اس کو دائمی کہنا شاید غلط نہ ہو۔ اس پیچیدہ اور دائمی مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے ہوئے بخشی صاحب نے مسلمانوں کے تصور علم کی وضاحت کی ہے۔ انہوں نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ علم سے مسلمانوں کی مراد علم دین ہے۔ اور عالم سے مراد مفتی تقی عثمانی، مولانا مودودی، ڈاکٹر اسرار احمد، اور جاوید غامدی صاحب جیسے ذعما ہیں نہ کہ پرویز ہودبھائی، ڈاکٹر اختر احسن، ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی اور ڈاکٹر عبدالسلام جیسے لوگ۔

Read more

شور کی ثقافت: مزید گزارشات‎

"خاموشی اور شور کی ثقافت” کے عنوان سے گزشتہ تحریر کے شائع ہونے کے بعد چند صاحبان علم احباب کا اصرار تھا کہ موضوع اس سے زیادہ تفصیل کا متقاضی تھا جو تحریر میں فراہم کی گئی۔ غالباً ان احباب کو اس طالب علم کی کم علمی کا کما حقہ ادراک نہیں ہے۔ تاہم حکم کی تعمیل میں چند مزید گزارشات پیش کرنے کی جسارت اس لیے بھی کر رہا ہوں کہ گزشتہ دن منعقد ہونے والی ایک پریس کانفرنس

Read more

خاموشی اور شور کی ثقافت

خاموشی کی ثقافت Culture of silence کے بارے میں آپ نے یقیناً سنا ہوگا۔ گھریلو، سیاسی، اور جنسی تشدد کے شکار افراد کی اختیار کردہ خاموشی کے بارے میں بہت سے ماہرین نے گراں قدر کام کیا ہے۔ خاموشی کی ثقافت کے بارے میں اہم بات یہ ہے کہ گو کچھ کہا نہیں جاتا مگر خاموشی اپنی زبان سے بولتی ہے۔ خاموشی کی اپنی زبان ہوتی ہے جو بسا اوقات لفظوں سے زیادہ بلند اور موثر ثابت ہوتی ہے۔ زباں

Read more

ہم ایک دوسرے کے خلاف کیوں ہیں؟ ‎

خواتین نے اپنے حقوق کے لیے آٹھ مارچ کو ملک کے بڑے شہروں میں ریلیاں نکالیں۔ خواتین کے ہاتھوں میں پلے کارڈز تھے ان پر تحریر عبارتوں نے حسب توقع ملک میں نئی بحث چھیڑ دی۔ ان نعرے نما تحریروں کے حق اور مخالفت میں جو کچھ لکھا اور کہا گیا کیا اس سے یہ اخذ کرنا مشکل ہے کہ مختلف سماجی گروہ ایک دوسرے کے خلاف ایک انتہائی EXTREME پوزیشن لے چکے ہیں۔ ابھی وہ بحث جاری تھی کرائسٹ

Read more

جنگ زدہ معاشرے کے نفسیاتی خدوخال

پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات میں اتارچڑھاؤ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین موجود تنازعہ نے چودہ فروری کو ایک مرتبہ پھر ایک شدید صورت اختیار کر لی۔ پلوامہ میں ایک خودکش حملے کے نتیجے میں 40 سے زائد بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے۔ اس حملے کی ذمہ داری ایک جہادی گروہ جیش محمد نے قبول کی۔ ہندوستان کی حکومت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر لگایا۔ پاکستان نے اس حملے سے مکمل لاتعلقی کا اظہار

Read more

ابو حمار اور نفسیات‎

آغاز ہی میں ایک اعتراف ضروری ہے۔ حضرت وجاہت مسعود کی تحریر سے پہلے میں ابو حمار نامی کسی اصطلاح اور اس کے معنی کے بارے میں مکمل طور پر لاعلم تھا اور اب بھی ہوں۔ اس لئے کہ انہوں نے بھی اس اصطلاح کی نہ تو تعریف فرمائی اور نہ ہی اس کا ماخذ بتلایا۔ تاہم ابوحمار کے چند اوصاف ضرور گنوائے۔ جن احباب کی نظر سے ان کی بصیرت افروز تحریر نہیں گزری ان کے لیے وہ اوصاف

Read more

پوسٹ ٹروتھ اور حالیہ انتخابات

جناب خورشید ندیم ایک سکہ بند دانشور ہیں انہوں نے حالیہ انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی کو پوسٹ ٹروتھ نامی تصور کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔ ان کی یہ تحریر "ہم سب” نے بھی شائع کی ہے۔ خورشید ندیم صاحب کا شمار پاکستان کے ان دانشوروں میں ہوتا ہے جو اپنی تحریروں میں تحریک انصاف سے اختلاف کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ تحریک انصاف سے انکے اختلاف اور ناپسندیدگی سے قطع نظر حالیہ انتخابات کے نتائج ایک سنجیدہ

Read more

ریحام خان کی کتاب میں ہماری دلچسپی کے اسباب

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی سابقہ اہلیہ کی آنے والی کتاب کے بارے میں مجھے جناب انعام رانا صاحب نے اکتوبر میں بتایا تھا۔ لندن میں ہونے والی ایک ملاقات میں انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ یہ کتاب پاکستان میں الیکشن سے ذرا پہلے شائع ہوگی۔ اس کتاب کے مشمولات اور اس کے شائع ہونے کے وقت کے مضمرات جاننے کے لیے نہ سیاسیات کا طالب علم ہونے کی ضرورت ہے اور نہ نفسیات کا۔۔۔تاہم نفسیات

Read more

کارپوریٹ جمہوری کلچر اور پاکستان سے متعلقہ سوالات

یہ خاکسار نفسیات کا ایک مبتدی طالب علم ہے۔ آج تک "ہم سب” کے لئے جو بھی گزارش کیا ہے وہ اپنے انتہائی محدود دائرہ علم میں رہتے ہوئے کیا ہے. آج جو کچھ گزارش کرنے جا رہا ہوں ہوسکتا ہے وہ بادی النظر (اس بدنام زمانہ لفظ کے استعمال پرمعذرت) میں نفسیات سے باہر کی بات لگے۔ اگر ایسا محسوس ہو تو پیشگی معذرت قبول فرمائیں لیکن اس طالب علم کے گمان میں آئندہ سطور میں ہونے والی گفتگو

Read more