اپنی حفاظت آپ چند اہم نکات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

  • سب سے اہم بات آیتہ الکرسی پڑھ کر اپنے بچوں اور گھر والوں پر حصار باندھیں اور اللہ کریم سے اپنے خاندان کی سلامتی اور حفاظت کی دعا مانگنا مت بھولیں۔
  • غیر ضروری نقل و حرکت سے پرہیز کیجیے۔
  • بھیڑ بھاڑ والی جگہوں پر جانے سے بھی اجتناب فرمائیے۔
  • سنسان دوپہروں اور بعد از مغرب بچوں کو باہر جانے سے سختی سے منع کر دیجئے۔
  • بچوں کو پابند کریں کہ اکیلے یا دوستوں کے ساتھ بھی باہر نہیں گھومنا جب تک گھر کا کوئی بڑا ساتھ نہ ہو۔
  • بچوں کو ابتدائی طور پر مدافعت کی تربیت دیجئے مثلاََ:
  • اجنبی سے بات نہ کرنا۔
  • اجنبی سے کچھ لے کر مت کھائیں۔
  • اجنبی کو راستہ دکھانے کے لیے رہنما بن کر ساتھ مت جائیں۔
  • کسی بھی عزیز، دوست یا پڑوسی کے گھر تنہا مت جائیں۔
  • کہیں بھی جانے سے پہلے والدین سے اجازت لیں اور صرف مطلوب مقام تک جا کر سیدھے گھر واپس آئیں۔
  • اگر کوئی زبردستی کرے تو شور مچا دیں۔
  • اغوا کنندہ کی آنکھوں پر یا ٹانگوں کے درمیان ضرب لگائیں اور بھاگ کر جان بچائیں۔
  • گھریلو ملازمین چپراسی یا ڈرائیورز کے ساتھ بچوں کو مت جانے دیں پیسوں کی ضرورت سب کو ہوتی ہے۔
  • یاد رکھیں بچے آپ کے ہیں اور درد بھی آپ کو ہی ہونا ہے سو بچاو بھی آپ نے ہی کرنا ہے۔
  • بچوں کو نام والدین کا نام گھر کا پتا اور فون نمبر ذہن نشین کروائیں۔
  • محلے یا گلی والے مل کر حفاظت گیٹ اور چوکیداری کا نظام قائم کریں۔ چوکیداری خود محلے کے جانے پہچانے نوجوان کریں کوئی باہر کا بندہ ہائر مت کریں۔
  • اس نظام کو دو یا تین شفٹس میں تقسیم کریں اور باقاعدہ ڈیوٹی رجسٹر بنائیں۔ جو محلے کے ہی کسی سمجھدار بزرگ کے پاس ہو اس پر شفٹس میں آنے اور جانے والے رضاکاروں کا اندراج کیا جائے۔
  • محلے کے نوجوان اپنے اسکول کالج یونیورسٹی کے دوستوں خصوصاََ بالکل نئے دوستوں کو گھر اورمحلے تک مت لائیں۔

یہ چند گزارشات ہیں کیونکہ یہ میرا تیرا نہیں ہم سب کا مسئلہ ہے بچے سب کے سانجھے ہوتے ہیں۔ آپ بھی اس پوسٹ میں مفید پوائنٹس کا اضافہ کروا سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *