مردوں کو بھی ماہواری آتی ہے؟
اور تو اور اب آپ Transgendersکا دل بھی نہیں دکھا سکتے کہ ٹرینوں، بسوں یا جہازوں میں اعلان کرتے ہوئے لیڈیز اینڈ جنٹلمین کی بجائے آپکو ’معزز لوگو‘ کہنا ہوتا ہے کہ مبادا معزز خواتین و حضرات کہنے سے Transgenders برا نہ مان جائیں اور تو اور کینیڈا نے انہیں Transgendersسے اظہار یکجہتی کے لیے اپنا قومی ترانہ تک بدل دیا ہے۔ مجھے پچھلے دنوں، کچھ لڑکیوں اور مخلوط اسکولوں کا دورہ کرنے کا موقع ملا تو مجھے وہاں بھی جابجا، نمایاں خدمات سرانجام دینے والے ہم جنس پرست عورتوں اور ہم جنس پرست مردوں کے پوسٹر دیکھنے کو ملے جو بچوں کو یہ پیغام دے رہے تھے کہ اگر آپ کو کسی قسم کی جنسی شناخت میں تذبذب ہے تو گھبرائیے مت۔ اعتماد کے ساتھ اپنی شناخت کا اظہار کیجئے اور دیکھیے کہ اس قسم کے لوگ معاشرے میں کتنا اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
اب ہو یہ رہا ہے کہ برطانیہ میں نوبالغ بارہ تیرہ سال کے بچے بچیاں اور حتیٰ کہ اس سے بھی کم عمر کے بچے بچیوں کو جنسی شناخت دینے کے ساتھ ساتھ دھڑا دھڑ آپریشن تجویز کئے جا رہے ہیں۔ جس سے مذہبی حلقے تو اپنی جگہ بےچین ہیں ہی اب غیر مژذہبی و لبرل والدین کی بھی چیخیں نکلنے لگی ہیں۔ مگر حکومتی ادارے ہیں کہ وقتی طور پر ایک کان سے بات سنتے ہیں اور پھر دوسرے کان سے باہ رنکال دیتے ہیں۔ ایک کیتھولک ڈاکٹر نے جب Transgenger کے ساتھ ساتھ دیگر ہم جنس پرستوں کی شناخت کو فراڈ قرار دیا تو اسے نوکر ی سے ہاتھ دھونے پڑے۔
اب تو معروف ماہر نفسیات نے بھی خبر دار کرنا شروع کردیا ہے کہ بچوں کو ان کی شناخت کے حوالے سے تذبذب میں مت ڈالیں ورنہ آئندہ نسل تباہ ہو کر رہ جائے گی اور تو اور وہ ادھیڑ عمر Transgendersجنہوں نے بچپن یا لڑکپن میں اپنے نجی اعضاء کے ساتھ بذریعہ سرجری کھلواڑ کروایا تھا وہ اب نہ صرف اپنے کئے پر نادم ہو رہے ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر رو رو کر نئی نسل کو پیغام بھی دے رہے ہیں کہ خدارا اس عذاب میں نہ پڑیں، یہ سب دھوکا ہے۔ مرد ، مرد ہی ہوتا ہے وہ کبھی عورت نہیں بن سکتا اور عورت کبھی مرد نہیں بن سکتی۔
یہ بات اس طرح بھی اب صحیح ثابت ہو رہی ہے کہ حال ہی میں ایک Transgender جو کہ مرد تھا مگر اس نے اپنے آپ کو عورت بنا رکھا تھا۔ اس نے خواتین کے ٹوائلٹ میں ایک بچی سے جنسی زیادتی کر ڈالی اور تو اور ایسے ہی ایک جرائم پیشہ Transgender مرد کو جب بطور عورت شناخت کر کے عورتوں کی بیرک میں ڈالا تو اس نے کئی عورتوں سے جنسی زیادتی کر ڈالی۔ اور اس قسم کے واقعات اب آئے دن میڈیا میں آتے رہتے ہیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ پرانے زمانے کے بادشاہ اپنے حرم کی حفاظت پر مامور مردوں کے اعضائے تناسل کٹوا دیا کرتے تھے ۔
اب جبکہ LGBTیعنیLesbian, Gay, Bisexual, Transgender کے بارے پرائمری اسکولوں میں بھی پڑھایا جانے لگا ہے تو مسلمانوں کے ساتھ ساتھ کیتھولک حلقوں میں بھی بےچینی بڑھتی جا رہی ہے۔ برمنگھم میں تو مسلمانوں نے نہ صرف اس قسم کی جنسی تعلیم پر اسکولوں کے خلاف بھرپور احتجاج کیا بلکہ بھاری تعداد میں اپنے بچوں کو بھی ایک ایسے ہی LGBTکی تعلیم دینے والے اسکول سے اٹھا لیا کہ اسکول کی انتظامیہ کو بادل نخواستہ ایسی جنسی تعلیم وقتی طور پر بند کرنا پڑی جس کا کئی انسانی حقوق کے علمبرداروں نے برا منایا اور بھرپور تنقید کا نشانہ بنایا۔ مگر مسلمانوں کا پڑھا لکھا طبقہ اس کی آگہی دینے کے لیے رضا کارانہ طور پر بھی آگہی دے رہا ہے۔جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔
مگر اسکے باوجود Transgnder کا ایشو جہاں مذہبی حلقوں میں پریشانی کا باعث ہے ، وہیں LGBTکے حامی ، اس کی ترویج و اشاعت پر بھی بھر پور توجہ دے رہے ہیں ۔ اور جیسا کہ میں اوپر ذکر کرچکا ہوں کہ ان Trangender کو ہر مقتدر حلقے کی سپرستی حاصل ہے کہ ان کے خلاف کوئی بول کر تو دیکھے کہ مجھے اس کا ذاتی طور پر تجربہ ہوا کہ جب برطانوی اخبارات میں برونائی کے بارے آیا کہ انہوں نے ہم جنس پرستوں کی سزا سنگساری مقرر کردی ہے تو سوشل میڈیا میں اس کے خلاف بھرپور ردعمل آیا۔ میں نے صرف ایک فقرہ لکھا کہ ’’غیر فطری فعل کی غیر فطری سزا‘‘ تو یقین جانیے مجھ کو لینے کے دینے پڑ گئے۔
میرے خلاف تمام ہم جنس پِل پڑے اور مجھے، جاہل، انسانیت دشمن، وحشی اور پتہ نہیں کیا کیا نہیں کہا گیا کئی ایک نے تو پولیس کو رپورٹ کرنے کی دھمکی دے دی۔ ایک نے تو مجھ سے یہ بھی پوچھا کہ تم ہم جنس پرستوں کو کیا سزا دو گے تو میں نے برجستہ جواب دیا میرے بھائی نما بہنو!، پم جنس پرستی تو خو د سے ایک سزا ہے اسے مزید سزا کی ضرورت نہیں۔ اور پھر میری جان اس طرح چھوٹی کہ کسی نے میرے کمنٹس کی رپورٹ کر کے اسے سوشل میڈیا سےخارج کروا دیا۔ کہ میرے ریمارکس سے ایک خاص کمیونٹی کا دل دکھا ہے ۔۔۔ لوکر لو گل۔۔۔۔ کہ بعد میں میرے دوست نے بتایا شکر کرو تمہارے کمنٹس اڑ گئے ورنہ پولیس ایسے کمنٹس کی شکائت پر فوراً ایکشن لیتی ہے۔ تمہی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا؟
آخر میں، میں ایک لسٹ دے رہا ہوں جس میں برطانوی سرکار نے تیرہ سال کے بچوں سے پوچھا ہے کہ وہ اپنی جنسی شناخت کیسے کرتے ہیں ۔ یہ لسٹ اپنے بچوں کے آگے مت رکھیے گا بلکہ خود پڑھیے اور سر دھنیے ۔۔۔۔ اور مجھے شک ہے کہ کہیں یہ لسٹ پڑھ کر آپ کو بھی اپنی شناخت پر شک نہ ہونے لگ پڑے جس کا میں ذمہ دار نہیں ہوں گا ۔۔ جی ۔۔۔
- Male
- Female
- Girl
- Boy
- Tomboy
- (Young) woman
- (Young) man
- Trans-girl
- Trans-boy
- Gender fluid
- Agender
- Androgynous
- Bi-gender
- Non-binary
- Demi-boy
- Demi-girl
- Genderqueer
- Gender non-conforming
- Tri-gender
- All genders
- In the middle of boy and girl
- Intersex
- Not sure
- Rather not say
- Others

