چین کا جھانسہ دے کر پاکستانی لڑکیوں کا سکھ چین برباد کرنے والے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مورخہ یکم مئی 2019 کو رات آ ٹھ بجے مقامی ہوٹل میں شادی کی چینی لڑکے Zhongxurerue سے پاکستانی مسیحی لڑکی کی شادی کی تقریب ہو رہی تھی کہ لڑکی کے والد مشتاق مسیح ولد بنتو مسیح نے ایف آئی اے میں درخواست دی کہ مبینہ گروہ جس میں کینڈس چینی خاتون، انس، پاسٹر زاہد، کاشف، قیصر، جانو، پرکاش، عاشق اور رفیق مسیح وغیرہ نے میری بیٹی کو لالچ دے کر اور سبز باغ دکھا کر شادی کر کے چائنہ اسمگل کرنے کا پر وگرام بنا رکھا ہے۔ جس پر ایف آئی اے نے شادی کی تقریب کے فوراً کارروائی کرتے ہوئے مبینہ گروہ کے اراکین کو حراست میں لے لیا اور تفتیش کرنے پر پاسٹر زاہد کا نکاح لائسنس اور نکاح نامہ جعلی پا کر اور دیگر لوگوں کے غیر تسلی بخش جواب نہ دینے پر ملزمان کے خلاف ایف آئی آ ر کاٹ کے ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

دوران تفتیش چائینز لیڈی کینڈس نے موقف اختیار کیا کہ ہم گھر والوں کی مرضی سے شادیاں کرواتے ہیں اور یہ ہمارا بزنس ہے ہم اس شادیاں کرانے میں چائینز لڑکوں اور پاکستانیوں کو اپنی سروسز دیتے ہیں۔ ہم گھر والوں کو پیسے دیتے ہیں اور شادی کے سارے انتظامات خود کرتے ہیں۔ اس لئے سب کچھ گھر والوں کی مرضی سے کرتے ہیں۔

چائینز لڑکے سے شادی کرنے والے لڑکی اور اس کے خاندان سے ملاقات میں گھر والوں نے بتایا کہ ہمارے داماد پاکستان میں کام کرتا ہے اور راولپنڈی میں ان کا اپنا گھر ہے اور ہماری بیٹی اور داماد نے تین ماہ تک چائنا چلے جانا ہے اور بعد میں ہمیں بھی وہاں بلا لینے ہے۔ جہاں ہمارے داماد کا بڑا اچھا بزنس ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری بیٹی ٹرانسلیٹر سافٹ وئیر کے ذریعے اپنے میاں سے بات چیت کرتی ہے اور بڑ ی اچھی ازدواجی اور مذہبی زندگی گزار رہی ہے۔

فاروق مسیح نے ہمیں بتایا کہ اس گروہ کا ٹارگٹ زیادہ تر غریب گھروں کی لڑکیاں ہوتی ہیں اور انہیں پیسوں اور خاندان کے چائنا منتقل ہو جانے کے سبز باغ دکھائے جاتے ہیں، مگر بہت سی شکایتیں ایسی ہیں کہ جن لڑکیوں سے شادیاں کی گئیں ان میں سے بہت سی لڑکیوں کے نہ تو کچھ پتا ہے اور نا ہی ان کا والدین سے کوئی رابطہ۔ سو ایسے میں تشویش لاحق ہوئی، آیا ہماریاں لڑکیاں کہاں ہیں اور یہ گروہ مزید لڑکیوں سے شادیاں کرتے جا رہے ہیں۔ سو ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا عناصر کی تفتیش کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔

مسیحیوں کے مذہبی رہنما نے بتایا کہ یہ شادیا ں قطعاً مسیحی شریعت کے مطابق نہ ہیں اور چائینز لڑکے نا ہی مسیحی ہیں اور نا ہی مسیحت قبول کرتے ہیں۔ اس لئے جس طریقہ کار کے مطابق یہ گروہ شادیاں کرتا ہے، غیر قانونی اور غیر شرعی ہے۔ یہ صرف شادیاں کر کے ان لڑکیوں کے بیرون ملک لے جا کر بد فعلی کے کاروبار میں دھکیل دیتے ہیں۔

ایف آئی اے کے مطابق اطلاعات ہیں کہ یہ گروہ پاکستانی لڑکیوں کے چائنا لے جا کر مختلف طرح غیر قانونی کاموں استعمال کرتے ہیں اور اطلاعات ہیں کہ یہ گروہ لڑکیوں کے اعضا بیچ دیتے ہیں، لڑکیوں کو بد فعلی کے بزنس میں شامل کرتے ہیں، الغرض سنگین قسم کے غیر انسانی اور غیر اخلاقی کام کرواتے ہیں۔

ایسے میں ہمیں معاشرتی طور لوگوں کو آ گاہی دینے کی ضرورت ہے کہ اپنی معاشی مشکلات میں قطعاً پیسوں کے لالچ میں ایسی غیر قانونی شادیاں مت کریں، جن سے آپ اور آپ کی بیٹیاں شدید مشکلات کا شکار ہوتی ہیں یا ہو سکتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •