نشواء جیت گئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زندگی کی سب سے بڑی خوشی کے موقع پر اُس نے پاکستان کو اپنا مہمان خصوصی بنایا تھا۔ قیصر کی تیسری بڑی طاقت اُس کی ماں کی دعائیں ہیں اور چوتھی طاقت اُس کی بیوی شہلا کا ساتھ اور اعتبار ہے۔ شہلا کے بارے میں ہمارے دوست نورالحسن کا کہنا ہے کہ وہ قیصر علی کا لکی علی ہے۔ مگر سچ پوچھیں تو میرے جیسے حقیقت پرست شخص کی نظر میں قیصر کی سب سے بڑی طاقت خود نشواء بن گئی۔ قیصر کی سادگی بھی اُن روایتی تسلیوں اور ڈھکوسلوں میں الجھی رہتی، جہاں ایک باپ انسان کی غلطیوں کو خدا کی رضا سمجھ کے معاف کردیتا ہے۔

لیکن ایک جانب تڑپتی ہوئی بچی اور دوسری جانب بے حسی۔ دھمکیاں اور چلتر بازیاں۔ قیصر کو وہاں لاکر کھڑا کردیا، جہاں اُس کی نرم مزاجی چلّا اٹھی۔ اور جب معصومیت چیختی ہے تو سنگدل سے سنگدل انسان بھی متوجہ ہوجاتا ہے۔ اس لئے ہزاروں لوگ ہر طرح کی سپورٹ لے کر قیصر کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ اس میں صرف دوست، رشتہ دار، شوبز اور میڈیا کے لوگ نہیں ہیں۔ ڈاکٹر۔ وکلاء۔ سیاستدان۔ دکاندار۔ صنعت کار۔ سرمایہ دار۔ ۔ مزدور۔ سرکاری ملازمین۔ سب شامل ہوگئے۔ اور ان کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ قیصر کا غم ایک جذبے کی شکل اختیار کررہا ہے۔ اور یہ جذبہ نشوا ء فاؤنڈیشن کی صورت میں جنم لے رہا ہے۔

ایک ایسا ادارہ۔ جو ان ہسپتالوں میں ہونے والی اُن لاپرواہیوں پہ نظر رکھے گا۔ جو مجرمانہ غفلت بن کر جیتے جاگتے انسانوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیتے ہیں۔ اُس کی نگاہ اُن لالچی عناصر پر بھی ہوگی، جن کی وجہ سے تربیت یافتہ لوگ بے روزگاری کے دھکے کھارہے ہیں اور غیر تربیت یافتہ عملہ اونے پونے پر بھرتی ہوکر لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے۔ یہ ادارہ ماہر وکلاء اور ڈاکٹرز کی رضاکارانہ مدد کے ساتھ ان اسپتالوں کے لئے بنائے گئے قوانین کے بارے میں نہ صرف لوگوں کو آگاہی دے گا بلکہ اُن پر عمل درآمد کرنے کے لئے آواز بھی اٹھائے گا۔ اس کے رضا کاروں کی نظر ہر اسپتال کے ایمرجنسی، آئی سی یو اور آپریشن تھیٹر پر ہوگی۔ اور جہاں کہیں پر بھی نشواء جیسا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے، وہاں ”نشواء“ ہر طرح کی سپورٹ لئے غمزدہ ماں باپ کے ساتھ کھڑا ہوگا۔

میرا اس تمام واقعہ کو بیان کرنے کا مطلب ”نشوا فاؤنڈیشن“ کے لئے کوئی کمپین چلانا یا کوئی اشتہار بازی کرنا نہیں ہے۔ میں تو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ تبدیلیاں صرف عوامی اعتقاد کی صورت میں رونما ہوتی ہیں۔ یہ معاشرہ انقلاب کے لئے زرخیز ہے۔ بار بار لوگوں کے جذبات، احساسات، امیدوں اور امنگوں کو تبدیلی اور انقلاب کے نام پر ایکسپلائٹ کرنے کے باوجود زرخیز ہے۔ یہاں قیصر جیسا عام آدمی بھی ڈٹ جائے، تو بہت کچھ بدل سکتا ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ اُس کا دماغ بھی ٹھیک ہو، اور اُس کی نیت بھی۔ یہ لڑائی نظام سے ہو، نہ کہ کسی سے ذاتی۔

گھر اور دفتر کے بیچ تک محدود رہنے والا قیصر بھی کچھ ہی دنوں میں سیاسی شعور کے اُس مقام تک پہنچ گیا، جہاں وہ اپنے ساتھیوں بیچ میں بیٹھا بول رہا ہے۔ ”یہ انسان کی انسان سے نہیں، انسانیت کی حیوانیت سے جنگ ہے“۔
کاش ہمارے رہنماؤں کو بھی اتنی سیاسی تمیز آجائے۔ اس ملک میں واقعی کوئی تبدیلی رونما ہوجائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •