ایک جھیل کی کہانی

اس جھیل کی کوئی کہانی نہیں۔ اس پہ کوئی پری نہانے آتی ہے نہ اس پہ کوئی دیو پہرہ دیتا ہے۔ اس جھیل سے کوئی رومان وابستہ ہے۔ نہ ہی کسی لشکر کے پڑاؤ کا کوئی تذکرہ۔ ہاں مگر یہ جھیل خود ایک کہانی ہے۔ ایک ایسی کہانی جس میں جانے کتنی آہیں، کتنی چیخیں، کتنی ہی سسکیاں دفن ہیں۔ کتنے ہی ارمان، امیدیں، ارادے اور کتنی ہی خواہشیں اس کی تہہ میں بیٹھ چکی ہیں۔ یہ جھیل ان آنکھوں

Read more

زوئی کی موت پر کیا رونا

زوئی جب ہمارے گھر آئی تو صرف ایک ماہ کی تھی۔ اتنی ڈرپوک اور شرمیلی کہ دو تین دنوں تک پردوں صوفوں اور دروازوں کے پیچھے چھپتی رہی۔ پھر جب مانوس ہوئی تو ہم لوگوں میں چھپنے لگی۔ کبھی ایک گود، کبھی دوسری۔ ذرا ذرا سی آواز پہ چونکتی اور بھاگ کر چھپ جاتی۔ پتہ نہیں کون سا خوف تھا جو اس کے دل میں بیٹھ گیا تھا۔ ماہر نفسیات کا کہنا ہے، بچوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔

Read more

بلو کی کلیجی جل گئی

بلو کو منڈی میں دیکھتے ہی ابا اس پر فریفتہ ہو گئے۔ ”ماشا اللہ ماشا اللہ“ کہتے نہیں تھکتے تھے۔ ”بھرا ہوا جسم، چوڑے پٹھے، صحت مند ٹانگیں، سینگ ایسے، جیسے کسی حسینہ کی ستواں ناک۔ اور آنکھیں تو ایسی غضب کی، دیکھنے سے جی نہیں بھرتا تھا۔“ ابا اس کے حسن و شباب کے قصیدے ہر کسی کو بٹھا کر سناتے تھے۔ ابا نے ایک بیل کی بات تقریباً پکی کردی تھی۔ بس دو چار ہزار اور توڑنے کے

Read more

بلو کی کلیجی جل گئی

بلو کو منڈی میں دیکھتے ہی ابا اس پر فریفتہ ہو گئے۔ ”ماشا اللہ ماشا اللہ“ کہتے نہیں تھکتے تھے۔ ”بھرا ہوا جسم، چوڑے پٹھے، صحت مند ٹانگیں، سینگ ایسے، جیسے کسی حسینہ کی ستواں ناک۔ اور آنکھیں تو ایسی غضب کی، دیکھنے سے جی نہیں بھرتا تھا۔“ ابا اس کے حسن و شباب کے قصیدے ہر کسی کو بٹھا کر سناتے تھے۔ ابا نے ایک بیل کی بات تقریباً پکی کردی تھی۔ بس دو چار ہزار اور توڑنے کے

Read more

قصور سنیتا مارشل کا بھی ہے

میرے چچا نے اپنا سفید جوڑا پہنا اور اوپر سے کالی واسکٹ، پگڑی باندھ کر، روئی میں عطر لگا کر کان میں اڑس لی تو میری دادی نے آخری بار تنبیہ کی۔ ”بیٹا۔ میں پھر کہہ رہی ہوں، مت جاؤ۔ کم ظرف مرتبے میں کتنا ہی اونچا کیوں نہ ہو جائے، اس سے کوئی نہ کوئی نیچ حرکت ضرور سرزد ہو جاتی ہے۔ اس کی محفل اور مجلس سے جتنا بھی ہو سکے، اجتناب کرو۔“ مگر نئے منتخب ہونے والے

Read more

بلی اور مولوی کی دوستی!

میرے دوست حافظ رفیق نے ایک بار اپنے پاﺅں کا ایک پرانا زخم دکھاتے ہوئے مجھ سے کہا تھا ”طالب (دینی مدرسے کا طالب علم) کی بلی سے دوستی ہو سکتی ہے، کیونکہ وہ اُس کا بچا ہوا کھاتی ہے، مگر کتے سے اس کی دشمنی فطری ہے۔ کیونکہ کتا اسے کھانے سے پہلے چھینتا ہے۔“ رفیق ان مقامی مدرسے کے طلبا میں سے ایک تھا، جن کی ڈیوٹی مغرب اور عشا کی نمازوں کے درمیان گھروں سے کھانا مانگنے

Read more

لاپتہ پشو کی کہانی

”کاش کہ وہ مر جاتی، مگر لاپتہ نہیں ہوتی“ ۔ میری بیٹی نے جب بے بس ہو کر یہ ہوک بھری ہچکی لی، تب میں نے جانا کہ لاپتہ ہونا، مرجانے سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ وہ لڑکی جو ”پشو“ پہ جان چھڑکتی تھی، اس کی ذرا سی چھینک پر سب سے لڑ جھگڑ کر اسے لے کر ڈاکٹر کے پاس پہنچ جاتی تھی، وہ بھی پشو کی موت کی دعا مانگ رہی تھی۔ اولاد کی تکلیف کہاں دیکھی

Read more

ہزارہ ہم خدا دارہ

پتہ نہیں قربان علی آج کہاں ہے۔ وہ جو اپنے ہر دکھ میں مغموم، خوشی میں مسرور، ناکامی پہ پرامید اور کامیابی پہ مست ہوکر چلّاتا تھا۔ ”ہزارہ ہم خدادارہ “ یعنی ”ہزاروں کی بھی خدا سنتا ہے“۔ جو ہر مصیبت، ہر راحت، ہر مشکل اور ہر آسانی پہ صبر اور شکر کیلئے یہی ایک نعرہ لگاتا تھا۔ ”ہزارہ ہم خدادارہ“۔ قربان علی کون تھا اور آج کیوں مجھے اتنی شدت سے یاد آرہا ہے۔ اس کی تفصیل میں جانے

Read more

جھولی پھیلانے کی جسارت

جب حاکمِ وقت خود جھولی پھیلائے اپنی رعایا سے بھیک کی استمداد کر رہا ہو، تو مجھے ڈر لگتا ہے کہ ایسے وقت میں رعایا کا چندہ مانگنے کی جسارت کرنا کہیں جرم قرار نہ پائے۔ میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ میری قوم کے خدا ترس، نیک اور پارسا مخیر حضرات جب اس مشکل وقت میں ایثار، قربانی اور توکّل کے سب اسباق کو پس ِپشت ڈال کر حالات کی خرابی کا رونا روتے ہوئے زیادہ سے زیادہ پس

Read more

نریندر مودی کے نام خانہ بدوش کا خط

شروع اُس ذات کے نام سے جو دو جہانوں کا بادشاہ ہے۔ آپ کو ہندوستان کی بادشاہی دوسری مرتبہ مبارک ہو۔ پہلی مرتبہ ایک بکرا لے کر مبارک باد دینے آیا تھا۔ لیکن محل کے دربانوں نے بکرا لے کر مجھے اندر جانے نہیں دیا۔ سُرخ رنگ کا بربری بکرا۔ ویسا ہی بڑے سینگوں، اونچی گردن اور بڑے سینے والا جوان، جس نے بچپن میں آپ کو ٹکر ماری تھی، جب آپ ہماری زرد رنگ کی گائے کے آگے پرنام

Read more

اب سومنات کی طرف سے حملہ ہم پر ہو گا

کشمیر کا مسئلہ حل ہو، نہ ہو۔ اُس نے ہمارا ایک مسئلہ حل کردیا ہے۔ ”اُمّہ“ والی خوش فہمی یا غلط فہمی ہماری توقعات کی گود سے اٹھا کے پرے رکھ دی۔ لیکن افسوس کہ ہم پھر بھی مسئلہ کشمیر کو اُمّہ کی گود سے اٹھانے کو تیار نہیں ہیں۔ اب بھی ہم توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے اس روتے، بلکتے، سسکتے بچے کی مسکراہٹوں کے لئے اپنے سارے مفادات قربان کر دے گا۔ کم از کم میرا اپنا

Read more

محسن عباس حیدر ایک ٹیسٹ کیس ہے

آپ نے بالکل درست فرمایا محترمہ۔ محسن عباس حیدر واقعی ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ اور اس کو بہت سیریس لینا ہے۔ اس کو عبرت کی ایسی مثال بنانا ہے کہ آئندہ کوئی مرد اپنی عورت پہ ہاتھ اٹھانے سے پہلے سو مرتبہ سوچے۔ ٹیسٹ کیس کا شاید یہی مطلب ہوتا ہے۔ مگر کیسے؟ فاطمہ سہیل کے ساتھ ہونے والے اس توہین آمیز رویے کو کیسے ایک ٹیسٹ کیس بنایا جا سکتا ہے۔ جہاں تک تھانے، کورٹ کچہری کا تعلق ہے۔

Read more

فواد چوہدری، ہمارے لاپتہ چاند کی تلاش میں مدد فرمائیں

چوہدری صاحب ! جب آپ وزیر اطلاعات تھے تو لوگوں کو سنجیدہ قسم کے لطیفے سنایا کرتے تھے۔ اور جب آپ وزیر سائنس و ٹیکنالوجی بنے، تو لوگوں نے بھی آپ کو اُتنے ہی سنجیدہ لطیفے سنانا شروع کردیئے۔ دوسروں کے لئے یہ کتنا ہی غیر سنجیدہ عمل کیوں نہ ہو، لیکن میرے لئے یہ دو طرفہ غیر سنجیدہ رویہ انتہائی اطمینان کا باعث رہا ہے۔ مجھے یقین تھا کہ اس مضحکہ خیزی کے بطن سے یقینا کوئی نہ کوئی

Read more

اندھی محبت کی نفرت بھری آنکھیں

ٹھہرئیے! ذرا سوچئے! آپ جو کمنٹ کر رہے ہیں، اُس کے الفاظ کتنے مناسب ہیں۔ اُس میں کتنی منطق ہے؟ کتنی دلیل ہے؟ کہیں آپ جذبات اور غصے کی رو میں بہہ کر کچھ ایسا تو نہیں لکھ رہے، جو آپ کو نہیں لکھنا چائے۔ آپ جس پوسٹ یا ٹوئٹ پہ کمنٹ کر رہے ہیں، جس تصویر یا ویڈیو کو بنا دیکھے، بنا جانچے آگے شیئر کر رہے ہیں، اُس کی حقیقت کیا ہے؟ کیا آپ کو یہ معلوم ہے

Read more

روحانیت گلے پڑنے والی ہے

روحانیت سے نابلد کچھ لوگوں کا ردعمل کپتان کے اعلان کے بارے میں بڑا جاہلانہ ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ سوہاوہ میں ”القادر“ نام کی جو یونیورسٹی بنائی جارہی ہے۔ وہ چرسیوں اور موالیوں کی آماجگاہ بنے گی اور اس کے سوا کچھ نہیں۔ ذاتی مشاہدوں کی بنا پر یہ بات ازراہ بغض و تمسخر کہی جاسکتی ہے، مگر حقیقت نہیں۔ اور جو لوگ تلفظ کی غلطی کو مذاق بنارہے ہیں، اُن کو نہیں معلوم کہ کپتان روحانیت کو

Read more

نشواء جیت گئی

وہ 8 ماہ کی عمر میں ایسا کام کر گئی جو لوگ 88 سال کی عمر تک بھی نہیں کرپاتے۔ اُس نے ثابت کردیا کہ عمر تو جسم کی ہوتی ہے، روح کی نہیں۔ مجھے لگتا ہے یہ اُس کی روح تھی، جس نے پورے ایک نظام کو جھنجھوڑ دیا۔ سوال اٹھا دیے۔ پردے ہٹا دیے۔ اُس کی ذات نے 16 دن کی جدوجہد میں ساری مشینری ہلادی۔ صوبہ۔ وفاق۔ پولیس۔ جوڈیشری۔ وزارت صحت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل ایسوسی ایشن۔ ایسے ایسے ادارے اور مصروف شخصیات۔ جن کو بعض اوقات چیختے چنگھاڑتے جلسے جلوس بھی متوجہ نہیں کرپاتے۔ اُس بچی کی خاموشیوں نے سب کی دوڑیں لگوادیں۔ اُس کا نام تھا نشواء۔

جب نشواء (خوشبو) نام رکھا جارہا تھا، تو اعتراضات اٹھے۔ اتنا مشکل نام۔ کون یاد رکھے گا۔ اُس وقت کوئی نہیں جانتا تھا کہ ایک دن یہ نام اتنا مقبول ہوگا، کہ بھلایا ہی نہیں جائے گا۔ صرف زبانوں پر ثبت نہیں ہوگا، دلوں میں بھی اُتر جائے گا۔ 8 ماہ کی بچی اتنی بڑی اسٹار بن جائے گی کہ شوبز کے اسٹار اُس کی ایک جھلک دیکھنے کو آئیں گے۔ لوگ اُس کے گھر، محلے اور رشتہ داروں کو اُس کے حوالے سے جاننے لگیں گے۔ وہ اپنے اردگرد کے لوگوں کا تعارف بن جائے گی۔ واقعی وہ خوشبو تھی۔ اور خوشبو مرتی نہیں ہے، سفر کرتی ہے۔ اس لئے وہ پیدا تو شہلا اور قیصر کی گود میں ہوئی، مگر آج اُس کی مہک ہر اُس گود تک پہنچ گئی ہے، جو انسانیت پر یقین رکھتا ہے۔ نشواء نے یہ بھی ثابت کردیا کہ ایسے لوگوں کی تعداد ہمارے معاشرے میں بہت زیادہ ہے۔

Read more

یہ سلیوٹ آپ کو مہنگا پڑ سکتا ہے، سنجو بھائی

سنجو بھائی، السلام علیکم ! یہ خط میں آپ کو ونگ کمانڈر ابہی نندن کی جیب میں ڈال کر بھجوارہا ہوں۔ جب آپ اُن کو سلیوٹ کرنے جائیے گا، تو ضرور لے لیجئے گا۔ باقی حالات یہ ہیں کہ یہاں سب خیر خیریت ہے۔ اور آپ کی طرف بھی خیر خیریت ہی نظر آ رہی ہے۔ اور گھبرائیے مت، انشاءاللہ سب خیر خیریت ہی رہے گی۔ ہماری اور آپ کی ساری بلائیں کشمیر والے ہی اٹھا رہے ہیں۔ اور آگے

Read more

سنجو بھائی یہ سلیوٹ آپ کو مہنگا پڑسکتا ہے

سنجو بھائی، السلام علیکم!یہ خط میں آپ کو ونگ کمانڈر ابہی نندن کی جیب میں ڈال کر بھجوارہا ہوں۔ جب آپ اُن کو سلیوٹ کرنے جائیے گا، تو ضرور لے لیجیے گا۔ باقی حالات یہ ہیں کہ یہاں سب خیر خیریت ہے۔ اور آپ کی طرف بھی خیر خیریت ہی نظر آرہی ہے۔ اور گھبرائیے مت، انشاء اللہ سب خیر خیریت ہی رہے گی۔ ہماری اور آپ کی ساری بلائیں کشمیر والے ہی اٹھارہے ہیں۔ اور آگے بھی یہی لگتا ہے کہ وہی واری واری جائیں گے۔ایک منٹ ذرا ٹھہریئے، پہلے ادھر کچھ دوستوں کے اعتراضات تو دور کردوں، جو ایک ہندو کو سلام کرنے اور بھائی بولنے پر کچھ خفا ہورہے ہیں۔ اُن کی خدمت میں عرض ہے کہ مجھے بھی آپ کے کچھ ڈائی ہارڈ فینز کی طرح یہ غلط فہمی ہے، کہ آپ نے چپکے سے اسلام قبول کرلیا ہے۔ تب ہی تو آپ کو وہاں کی تنگ نظر قوتوں کے ہاتھوں بڑی سخت کٹاس پڑی تھی۔

Read more

کوئٹہ کا لاپتہ کیمپ اور لاہور کا حیا کیمپ

ابھی کچھ دن پہلے بلوچستان میں اپنے لاپتہ عزیزوں کی بازیابی کے لئے بین کرتی ہوئی خواتین اور بچوں کے خشک، زرد اور مرجھائے ہوئے چہروں کا کیمپ اور اُس کے چند روز بعد اپنے متوقع اغوا برائے تاوان کا خوف لے کر اپنے ایک اغوا شدہ ڈاکٹر کی بازیابی کے بہانے کلینکس چھوڑ کر ایک بھوک ہڑتالی کیمپ کے بوکھلائے ہوئے ڈاکٹروں کے چہرے دیکھنے کے بعد جب میں نے لاہور میں لگے ’حیا کیمپ‘ کے نوجوانوں کے چہرے

Read more

بلوچ خان اور نیا پاکستان

اپنے گھر کے ٹیرس پہ اپنے بچوں کے ساتھ جھنڈیاں اور برقی قمقمے لگاتے ہوئے مجھے اچانک سے بلوچ خان کا خیال آگیا، جو آج سے کم و بیش سولہ سال پہلے مجھے عجیب ڈرامائی انداز میں ملا تھا۔ یہ سال 2002ءکی بات ہے، جب چاغی کے اطراف میں قحط سالی کا ایک بہت بُرا دور آیا تھا۔ لوگ دوردراز کے علاقو ں سے نوشکی میں لگے ریلیف کیمپس تک پہنچ رہے تھے۔ جہاں حکومتی اور غیر حکومتی (این جی

Read more

منظور بلوچ کا مشکیزہ

برسوں بعد مستونگ سے ایک اچھی خبر سننے کو ملی۔ NA- 267 مستونگ سے منظور بلوچ کی کامیابی۔ منظور بلوچ کی مالی حالت کا اندازہ اُس کی موٹر بائیک سے لگایا جاسکتا ہے، جس کو اگر وہ فروخت کرنا چاہے، تو جتنے اُس نے ووٹ (25738) لئے ہیں، کوئی اُس کے چوتھائی کے برابر بھی اُس کی موٹر بائیک کی قیمت نہ لگائے۔ ایک غریب سیاسی کارکن کی جیت سے نہ صرف مستونگ کے نام پہ لگی دہشت گردی کی

Read more

”کتا تو مر گیا خان صاحب “

آپ نے انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنی پہلی تقریر میں حضرت عمرؓ کے سنہری دور خلافت کا ذکر کرتے ہوئے اُن کا وہ مشہور قول دہرایا کہ ”اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مرتا ہے، تو اُس کا ذمہ دار میں (حضرت عمر فاروقؓ) ہوں گا۔ “۔ یقینا آپ تک یہ اطلاع پہنچ چکی ہوگی کہ آپ کی تقریر کے اگلے ہی دن ایک کتا آپ کی پارٹی کا پرچم لپیٹے بنوں کی ایک گلی میں

Read more

گدھے اور گائے کی سیاست

کسی میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ ہمارے ملک کی سیاست کے بدخواہوں کو کرارا جواب دے، جو ایک گدھے کی موت کو ایشو بناکر ہمارے سیاسی جوش جنوں پر انگلیاں اٹھارہے ہیں۔ کوئی نہیں ہے جو اُنہیں ہندوستان کی گلیوں میں پڑی ہوئی وہ لاشیں دکھائے جو آئے دن گائے کے نام پہ گرائی جارہی ہیں۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ دونوں واقعات کم و بیش ایک ہی وقت میں ہوئے۔ پاکستان میں ایک انسان کی

Read more

مستونگ میرا شہر ہے اور میں دہشت گرد نہیں ہوں

میرا خیال ہے کہ بات شروع کرنے سے پہلے مجھے آپ کو مستونگ کے جغرافیے کے بارے میں بتانا چاہئے۔ کیونکہ بدقسمتی سے آپ کے یہاں اکثریت کو یہ بھی نہیں معلوم کہ ”کوئٹہ بلوچستان میں ہے یا بلوچستان کوئٹہ میں“۔ ہاں البتہ کچھ ریئل اسٹیٹ ایجنٹس کی آواز اور سی پیک کا شور جہاں جہاں تک پہنچا ہے، وہاں لوگ تھوڑا بہت گوادر کے بارے میں ضرور جانتے ہیں۔ کم و بیش ڈھائی لاکھ کی آبادی اور ساڑھے پانچ

Read more