میشا شفیع کا فیفی ہارون کے ساتھا انٹرویو: ’ہراساں کرنے سے متعلق جو قوانین بن گئے ہیں وہ کوئی پتھر پر لکیر تو نہیں‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’ایسا نہ ہو کہ میرا کیس ایسی مثال بن جائے جس سے جنسی ہراس جیسے مسائل کا سامنا کرنے والی باقی خواتین، لڑکیاں اور لڑکے پہلے سے زیادہ مایوس ہو جائیں۔ (یہ نہ ہو کہ) وہ اس کیس سٹڈی کو دیکھیں اور سوچیں کہ یہ سب تو فضول، بے کار اور وقت کا زیاں ہے۔ ہراساں کرنے سے متعلق جو قوانین بن گئے ہیں وہ کوئی پتھر پر لکیر تو نہیں، ان میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔‘

یہ کہنا تھا پاکستانی گلوکارہ میشا شفیع کا۔ جنسی ہراس کی شکایت کرنے کے بعد ان کی زندگی کن نشیب و فراز سے گزری، انھوں نے اس بارے میں ہماری ساتھی فیفی ہارون کے ساتھ گفتگو کی۔

کچھ عرصہ پہلے میشا نے ایک ٹویٹ میں اعلان کیا کہ وہ سوشل میڈیا سے ’بریک‘ لے رہی ہیں۔ ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا ’اس لیے نہیں کہ مجھے ڈرایا، دھمکایا گیا ہے بلکہ اس لیے کیونکہ گیم آف تھرونز کے سپائلرز کچھ زیادہ ہی ہو رہے ہیں۔ میں ٹوئٹر سے بریک لے رہی ہوں‘۔

جب اس ٹویٹ کے حوالے سے ان سے پوچھا گیا کہ ان کی زندگی میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے باوجود انھوں نے اپنی حسِ مزاح کیسے برقرار رکھی ہے، تو میشا کا کہنا تھا ’یہ بہت ضروری ہے، کیونکہ مشکل وقت میں ذرا سا مزاح بھی بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔ آپ کی ذہنی صحت کے لیے تھوڑا سا ہنسی مذاق برقرار رکھنا بہت ضروری ہے۔‘

’ہر چیز کا اپنا ایک وقت ہے۔ وہ اپنے وقت پر شروع ہوتی ہے اور اپنے وقت پر ختم ہوتی ہے۔ اس سب کے بیچ میں آپ نے اپنا وقت کیسے گزارنا ہے، صرف یہ ایک چیز ہے جس پر آپ کا کنٹرول ہوتا ہے۔‘

اسی بارے میں مزید پڑھیے

’میشا شفیع آپ اکیلی نہیں ہیں‘

بات نکل چکی ہے اور یقیناً دور تلک جائے گی۔۔۔

’میشا شفیع کا الزام جھوٹا ہے، عدالت لے کر جاؤں گا‘

پچھلے ایک سال کے دوران میشا کی زندگی نے کافی کروٹیں بدلیں، لیکن کیا وہ خود بھی بدلی ہیں؟

اس سوال کے جواب میں میشا نے کہا ’بلکل بدلی ہوں، لیکن یہ پہلی بار نہیں۔ میرا خیال ہے کہ تبدیلی اور ارتقا زندگی کا ایک حصہ ہے اور جیسے ہی آپ اپنے حالات سے تھوڑے پُرسکون ہوتے ہیں تو کچھ نہ کچھ ایسا ہو جاتا ہے جو آپ کی زندگی میں کسی قسم کی بے چینی لاتا ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ یہ چیزیں کسی مقصد کے لیے ہوتی ہیں اور ان سے کچھ سیکھنا چاہیے۔‘

علی ظفر

Getty Images
میشا شفیع نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے گلوکار علی ظفر پر انھیں جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا

انھوں نے بتایا کہ یہ پورا سال ان کے لیے ذہنی اور جذباتی طور پر کافی مشکل رہا۔ ’جب مجھے اور کچھ سمجھ نہیں آتی تو میں اپنے آپ سے یہی پوچھتی ہوں کہ اس سے میں نے سیکھنا کیا ہے؟‘

نئی میشا یا پرانی میشا؟

’پرانی میشا اپنی کمزوریوں اور حساس ہونے کا اعتراف نہیں کرتی تھی۔ وہ ایک مضبوط، با اثر اور آزاد خاتون کے روپ میں خاصی ڈھل چکی تھی۔ لیکن جب آپ کسی بھی قسم کے تجربے یا صدمے کو تسلیم نہیں کرتے تو وہ باہر نکلنے کے اور راستے ڈھونڈتا ہے اور اس کا اثر اور بہت سی چیزوں پر پڑتا ہے۔‘

’کچھ بھی ایسا جس سے آپ گزرے ہوں یا اس نے آپ کو متاثر یا اُداس کیا ہو تو ان چیزوں کو حل کرنا آپ کی جذباتی صحت کے لیے ضروری ہے۔۔۔ چونکہ ان کو تسلیم کرنا اور حل کرنا تکلیف دہ ہوتا ہے تو ہم اس سے بھاگتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’میں بھی انسان ہوں اور میں بھی کافی چیزوں سے بچنے کی یا بھاگنے کی کوشش کرتی ہوں۔ پریشانی کا باعث بننے والی چیزوں سے بچنے کے لیے ہم یہ دکھاتے ہیں کہ ہم کتنے طاقتور اور با اثر ہیں، لیکن ہمیشہ یہ ظاہر کرنا کہ آپ طاقتور ہیں اور سب کچھ سہہ سکتے ہیں، یہ بھی آپ کی ذہنی صحت کے لیے اچھا نہیں ہے۔‘

میشا کے ساتھ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟

علی ظفر پر الزام لگانے کے بعد کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ ’ارے میشا کے ساتھ اس قسم کا سانحہ یا اس قسم کی چیز کیسے ہو سکتی ہے؟ میشا تو چماٹ مار دے کسی کو۔ میشا تو ایسی کوئی چیز کبھی برداشت نہیں کریں گی۔‘

جب میشا سے پوچھا گیا کہ اس طرح کی باتیں سن کر انھیں کیسا محسوس ہوتا ہے، تو انھوں نے کہا ’یہ باتین سن کر مجھے ایسا لگتا ہوتا ہے کہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ مجھے جانتے ہیں، لیکن وہ واقعی مجھے نہیں جانتے۔‘

’ان کا خیال ہے کہ ان کو میرے سے واقفیت ہے یا میرے بارے میں اتنا پتا ہے کہ وہ پیش گوئی کر سکیں کہ کسی بھی صورتحال میں، میں کیسا ردِعمل ظاہر کروں گی۔‘

میشا کے مطابق ’آپ جتنے مضبوط دکھتے ہیں اتنا ہی آپ نے جھیلا ہوتا پے۔‘

میشا کے گانے ’میں’ کو جہاں بہت سے لوگوں نے سراہا، وہیں کچھ لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ یہ گانا انا کو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہے، اور یہ خود پسندی سے متعلق ہے۔

اس گانے پر ہونے والی تنقید کو سن کر انھیں کیسا لگا؟

’پچھلے پورے سال کے دوران میں نے اتنا کچھ سنا ہے، تو میں یہ دیکھ کر اور پڑھ کر صرف مسکرائی۔ میں ایک انسان ہوں، میرے اندر ہر وہ حس، ہر وہ عمل اور ہر وہ جذبہ ہے جو ہر انسان میں ہوتی ہے۔ یہ گانا ایک بہت وسیع موضوع کے بارے میں بات کر رہا ہے، اس کو سمجھنے کے لیے ایک خاص جذباتی، ذہنی اور روحانی صلاحیت چاہیے۔‘

’جنسی ہراس سے متعلق قوانین پتھر پر لکیر تو نہیں‘

میشا کا ماننا ہے کہ پیشہ وارانہ زندگی میں ’سیلف امپلائڈ‘ خواتین کو حفاظت اور حقوق حاصل نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں خود ایک سیلف ایمپلائڈ خاتون ہوں، مجھے کام کرتے تقریباً 17-18 سال ہو گئے ہیں، میری والدہ بھی ایک اداکارہ ہیں، وہ بھی سیلف ایمپلائڈ ہیں اور میں نے بہت قریب سے دیکھا ہے کہ سیلف ایمپلائڈ ہونا، کوئی یونین نہ ہونا، کوئی ایسا نظام نہ ہونا جہاں جا کر آپ شکایت کا اندراج کرا سکیں، یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔‘

’جب میں فیشن انڈسٹری میں کام کر رہی تھی تو میں نے ماڈلز کو اکھٹا اور متحرک کرنے کی بہت کوشش کی تھی۔ کچھ بنیادی حقوق اور ضابطے تو ہونے چاہیں۔ اپنی طرف سے میں سب کے فائدے کی بات کر رہی تھی۔ اگر اُس زمانے میں یہ ہو جاتا تو شاید آج بڑے بڑے مسائل پر بھی کوئی واضح قوانین موجود ہوتے۔‘

جنسی ہراس سے متعلق قوانین کے بارے میں میشا کا کہنا تھا ’یہ قوانین جو بن گئے ہیں وہ کوئی پتھر پر لکیر تو نہیں، انھیں بھی ارتقا کے عمل سے گزرنا ہے۔ ہمیں تجربوں سے سیکھ کر بہتری کی طرف جانا ہے۔ کسی بھی قانون کو لکھتے، ڈرافٹ کرتے اور اسے پاس کرتے وقت آگے ہونے والے واقعات آپ کے سامنے نہیں ہوتے۔ وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آنے والی کیس سٹڈیز سے ہی ہم سیکھتے ہیں، اس لیے ان قوانین میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔‘

میشا کہتی ہیں کہ جب وہ مبینہ جنسی ہراس کا شکار بنیں اور پھر جب انھوں نے اس بارے میں بات کرنے کا فیصلہ کیا، تب انھیں یہ احساس ہوا کہ وہ کس چیز کے خلاف کھڑی ہوئی ہیں اور زیادہ تر لوگ لوگ کیوں نہیں بولتے۔

’اب خاموش رہنے کا رواج ختم ہوگیا ہے‘

جنسی ہراسگی کے بارے میں آواز اٹھانے میں تاخیر کے بارے میں میشا نے بتایا ’اسے میری سادگی کہہ لیں، لیکن میں اس لیے نہیں بولی کیونکہ یہ میری کہانی ہے اور میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں نہیں بولوں گی۔ لیکن جب میں بولی تو مجھے یہ احساس ہوا کہ اس پر میرا اختیار نہیں ہے، بلکہ یہ ایک فطری عمل ہے۔ آپ بغیر سوچے خود کو یہ یقین دلا چکے ہوتے ہیں کہ بولنا نہیں ہے اور آپ کو لگتا ہے کہ یہ آپ ہی کا فیصلہ تھا۔ لیکن دراصل یہ ایک ایسا عمل ہوتا ہے جس میں آپ بولنے کے قابل ہی نہیں ہوتے۔‘

وہ کہتی ہیں ’ہمارے دماغوں میں ایک بات بیٹھی ہوئی ہے کہ جب ہم بڑے ہو رہے ہوتے ہیں ہم کسی بھی واقعے پر بڑوں کا ڈر اور ان کا ردِعمل دیکھتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ’جھگڑا‘ ایک ایسا لفظ ہے جسے زیادہ پسند نہیں کیا جاتا۔‘

یہ بھی پڑھیے

’ہراسانی کا شکار مرد ہوں یا خواتین، خاموش رہنا حل نہیں’

بالی وڈ میں جنسی ہراس حقیقت کیوں ہے؟

آؤ تمھیں ہراساں کروں!

’جب میرے بارے میں طرح طرح کی باتیں کی گئیں، مجھے پریشان کیا گیا، میرے کردار پر الزامات لگائے گئے، اس وقت میرے خاندان نے میرا بھرپور ساتھ دیا اور ابھی تک دے رہے ہیں۔ میرے شوہر میرا ساتھ دے رہے ہیں، میرے دوست میرا ساتھ دے رہے ہیں۔‘

’میں یہ نہیں کہہ رہی کہ میں کمزور نہیں لیکن میں صرف مضبوط عورت بھی نہیں۔ مجھے خود کو یاد کروانا پڑتا ہے کہ جس طرح سے لوگ آپ کو دیکھ رہے ہوتے ہیں آپ کا اپنا نقطہ نظر وہ نہیں ہوتا۔‘

میشا کہتی ہیں کہ صرف عورتوں کو ہی نہیں، بچوں، لڑکوں اور خواجہ سراؤں کو بھی ہراساں کیا جاتا ہے۔ تاہم ان کے نزدیک اب خاموش رہنے کا رواج ختم ہو گیا ہے۔

’ایک غلط چیز ہونے پر کوئی تنقید نہیں ہوتی، اس کا اعتراف نہیں کیا جاتا، لیکن اگر کوئی اعتراف کر لے تو یہ اس سے بھی بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ہریسمنٹ کے بارے میں بولنا اور پھر بولنے کے بعد ہراساں ہونا، یہ بہت آؤٹ آف بیلینس (اس کا توازن بہت بگڑا ہوا) ہے۔

میشا شفیع

AFP
میشا کے مطابق جب لکس سٹائل ایوارڈز کے حوالے سے تحریک چل رہی تھی تو انھوں نے ماڈل ایمان سلیمان کو بتایا کہ وہ بہت شکرگزار ہیں، لیکن اس وقت ان کی توجہ مقدمے پر تھی اسی لیے ان سے اپنا نام واپس لینے میں تاخیر ہوئی

’ہر لڑنے والے کو ایک بچانے والا بھی چاہیے‘

اس مقدمے کے نتیجے میں انڈسٹری میں ہونے والے بٹوارے پر ان کا کہنا تھا کہ ’میں کبھی کیمپس کے حق میں نہیں تھی اسی لیے مجھے انڈسٹری سے سپورٹ ملنے میں بہت دیر لگی۔‘

میشا کہتی ہیں وہ تنقید کو اتنی اہمیت نہیں دیتیں لیکن ماڈل ایمان سلیمان کی طرف سے ملنے والی حوصل افزائی پر بہت شکرگزار ہیں۔

’کوئی بھی اکیلے نہیں لڑتا رہ سکتا، آپ کو مدد کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر آپ اسے ایک تحریک کہتے ہیں تو ایک بندہ کب تک کوئی تحریک چلائے گا؟‘

لکس ایوارڈز سے نام واپس لینے کے بارے میں بات کرتے ہوئے میشا کہتی ہیں ’جب یہ تحریک چل رہی تھی تو میں نے ایمان کو بتایا کہ میں بہت شکرگزار ہوں لیکن اس وقت میری توجہ مقدمے پر ہے، اسی لیے میں نے تاخیر سے اپنا نام واپس لیا کیونکہ میں کہیں اور مصروف تھی۔‘

’جب میں بولتی ہوں تو مجھے خود کو اس کے ردِ عمل کے لیے بھی تیار کرنا پڑتا ہے۔ میرے عورت مارچ میں آنے پر بھی میرے اوپر بہت دباؤ ڈالا گیا۔ بہت حملے ہوئے، بہت غلط باتیں کی گئیں، میری کردار کشی کی گئی، اور لکس ایوارڈز کے وقت انہی سب الزامات کا سلسلہ پھر سے شروع ہوا۔‘

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 9170 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp