چکی کے پاٹوں میں پستے عوام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریک انصاف کو معرض وجود میں تئیس برس بیت چکے ہیں، لیکن 2011 یادگار پاکستان پر جلسے کے بعد عوامی سطح پر کچھ پذیرائی ملنی شروع ہوئی۔ کیونکہ الیکٹ ایبل بڑی تعداد میں تحریک انصاف میں شامل ہوئے۔ لیکن الیکشن 2013 میں وہ خاطر خواہ کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے، جس کی بہت سی وجوہ میں سے ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ میثاق جمہوریت کے بعد بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے اور حکومت گرانے کے خلاف جو قطعی ارادہ کر کے ایک بیانیہ ترتیب دیا تھا، عوام نے اس کو پذیرائی بخشی تھی۔

ایک حساب سے تو اسٹیبلشمنٹ کا سیاست میں کردار بہت ہی محدود ہو کر رہ گیا تھا، کیونکہ پاکستان کی دونوں بڑی جماعتیں میثاق جمہوریت پر کار بند دکھائی دے رہی تھیں، جو کہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے ناقابل قبول تھا۔ سو انہوں نے تیسری بڑی سیاسی قوت کے خد و خال بنانے شروع کیے، جس کا آغاز مینار پاکستان پر ایک جلسے سے ہوا اور الیکٹ ایبل جوق در جوق اسٹیبلشمنٹ کی پروردہ تحریک انصاف میں شامل ہونے لگے۔

الیکشن 2013 میں ناکامی تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے لئے ایک دھچکا تھا۔ اس کا ازالہ کرنے کے لئے ایک سکرپٹ کے تحت الیکشن میں دھاندھلی کا شور شرابا بلند کیا گیا اور اس زور و شور سے مہم جوئی کی گئی جس میں 126 دن کا طویل دھرنا بھی شامل ہے۔ حکومت کو مفلوج کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی، لیکن اعلیٰ عدلیہ کی مداخلت کے بعد الیکشن دھاندلی کے تمام الزامات جھوٹے ثابت ہوئے۔ تحریک انصاف اپنے دعووں کے برعکس کوئی بھی ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہی۔

پاناما لیکس نے ملکی سیاست میں ایک بھونچال کھڑا کردیا، جس کا بھرپور فائدہ اسٹیبلشمنٹ نے تحریک انصاف کے ذریعے سے اٹھایا اور منتخب وزیر اعظم کو ایک متنازِع عدالتی فیصلے کے ذریعے گھر بھیج دیا گیا اور یوں ایک بار پھر پاکستان کی ستر سالہ تاریخ برقرار رہی، کہ کوئی بھی منتخب حکمران اپنی مدت پوری کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔

2011 سے 2018 تک اسٹیبلشمنٹ جمہوری سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں ایک سیاسی جماعت تیار کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوچکی تھی۔ عمران خان اور تحریک انصاف کو پاکستان اور عوام کا نجات دہندہ اور مسیحا بنا کر پیش کر چکی تھی۔ اس سارے عرصے میں جہاں بہت بلند و بانگ دعوے کر کے عوام کو سبز باغ دکھائے جا رہے تھے، وہیں مخالفین پر ایسے الزامات لگائے جارہے تھے، جس کے ثبوت اب جب کہ وہ حکومت میں ہیں، اب تک فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔

2018 کے الیکشن کے بعد تحریک انصاف کو حکومت بنانے کا موقع ملا اور آج تقریباً 9 ماہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد بلنگ و بانگ دعوے کرنے والے حکمران عملی طور پر کچھ کر کے دکھانے میں یکسر ناکام ہیں۔ نا صرف وہ اپنے کیے ہوئے دعووں اور عوام سے کیے گئے وعدوں کے برعکس حکومتی معاملات چلا رہے ہیں، بلکہ جب ان سے اس بارے پوچھا جائے، تو وہ فرماتے ہیں کہ یوٹرن لینا بڑے لیڈروں کا خاصہ ہوتا ہے۔

اس ساری صورتحال کے بعد نہ صرف ملکی معیشت کا برا حال ہے، عوام بھی اس سے براہ راست متاثر نظر آتے ہیں۔ معاشی اعداد و شمار سے قطع نظر سابق دور حکومت کی نسبت موجودہ دور حکومت پاکستان اور عوام کی معاشی حالت تشویشناک ہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں عوام کو ابتری میں دھکیلنے والی حکومت کو آڑے ہاتھوں لینے کی بجائے مصلحت پسندی کے جذبے سے سرشار ہیں، اور عوام بے بسی کو دیکھ تو رہے ہیں، لیکن کسی ان جانے خوف کا شکار نظر آتے ہیں۔ زبانوں پر تالے لگائے ہوئے ہیں۔

پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں بد ترین آمریتوں کے دور میں بھی صحافیوں نے ظالم حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق کہا ہے اور اس کی بھاری قیمت بھی چکائی ہے۔ شاید ستر سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ سب کو حکومت کی نا اہلی اور نا لائقی صاف صاف نظر آ رہی ہے لیکن کوئی نادیدہ طاقت ہے، جس نے ان کی قوت گویائی سلب کرلی ہے۔ عوام کو گرائینڈر میں ڈال کر کچومر نکالا جا رہا ہے۔ عوام کو چکی کے دو پاٹوں میں پیسا جارہا ہے اور ان کے حق کے لئے آواز بلند کرنے والے سیاستدان اور صحافی چپ سادھ چکے ہیں۔

شاید عوام پیدا ہی پسنے کے لئے ہوئے ہیں۔ یا شاید یہ ہر طرف کی خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے، جو ان سب کو اپنے ساتھ بہا کر لے جائے گا، جو ستر سال سے عوام کی تقدیر سے کھیل رہے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عابد چوہان کی دیگر تحریریں
عابد چوہان کی دیگر تحریریں