”سُرمئی نیند کی بازگشت” میں خواب کی چاپ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوسری جانب نظمیں دہشت گردی کے خلاف بر سرِ پیکار لگیں۔ باقاعدہ اگلے محاذوں پر۔ کینٹوپ اور بُلٹ پروف سامان کے ساتھ۔ صرف اپنا بچاؤ کرتے ہوئے نہیں بلکہ ایک عجیب طرزِ تخاطب اور للکار لیے ہوئے۔ نظم ” آخری لفظ کے بے کار ہونے تک لکھتے رہو” میں طرزِ شاعری دیکھیے:

زمین کائنات کا قبائلی علاقہ ہے

ازلی گنہ گاروں کی آما جگاہ

جہاں جنت سے نکالے گئے مردو زن رہتے ہیں

شاعرڈیفینسِو ہوئے بغیر بہادری سے مرضی کے مطابق الفاظ استعمال کرتا ہے۔ یہاں شکوہ کا اپنا انداز کارفرما ہے۔

” سرحدوں کے طرفین

اجازت ناموں کے لیے

بادل لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں

یہاں تک کہ پسینے میں شرابور ہو جاتے ہیں ”

جبر کی فضا کا جواب کیسے احسن طریقے سے دیا گیا ہے۔ اجتماعی سیانف سے سفر کرتا یہ ظلم ہم اپنے اپنے حصے کے حساب سے بھوگ رہے ہیں۔ شاعر حروف میں لڑتا ہے، دوسروں کو بھی اس جنگ پر اُکساتا ہے، اتنی خوں ریزی اور بربادی پر بھی پسپائی قبول نہیں کرتا۔ مزاحمتی شاعری اور کسے کہتے ہیں۔ فیشنی نقاد فیض اور جالب کے علاوہ کسی کو مزاحمتی شاعر نہیں مانتے۔ اس کتاب میں جگہ جگہ شاعر جنگی مورچوں پر بارودی سرنگیں پھلانگتا ہے۔ سو نصیر احمد ناصر بہ درجہ اتم ایک نظریاتی شاعر ہے۔

نظم ” اپالو اور اتیھنا ۔۔۔۔۔۔ حالتِ التوا میں لکھی گئی نظم” میں شاعر کہتا ہے:

ہم کاغذی کشتیوں سے کھیلنے والے

بالٹی بھر پانی کو بھی سمندر سمجھ لیتے ہیں

یہ تیسری دنیا کی بات ہو رہی ہے۔ اپنی کم مائیگی اور سادگی چھپائے نہیں چھپتی۔ نظم ” کہانی اور کتنی دور جائے گی” میں شاعر کے تیور دیکھتے ہیں:

کہانی کار!

ہمیں کچی بستی کے کرداروں کی طرح

بے آسرا مت چھوڑو

جو لوگ اُڑک چھوئے پڑے ہوتے ہیں ان کا المیہ بیان ہوا ہے۔ بے آسرا ہونے کا احساس وقت سے پہلے مار دیتا ہے۔ نظم” ریحانے جباری” دیکھیے:

جیل میں اور عدالت میں

موجود ہونے کے باوجود

خدا مجھے نہیں بچا سکا

خدا انسانوں کے لیے بنائے ہوئے قانون کے ہاتھوں مجبور ہے

بے بضاعتی کی غماز یہ نظم انسانوں میں مایوسی بھرتی ہوئی بغاوت پر بھی اُکساتی ہے۔

نظم “میں کوئی کام ڈھنگ سے نہیں کر سکتا” کی چند سطریں دیکھیے:

بیٹھے بٹھائے

بادلوں اور ہواؤں کے ساتھ چل پڑتا ہوں

اچھی بھلی دھوپ کے ہوتے ہوئے

بارشوں میں بھیگنے لگتا ہوں

بچوں کے ساتھ بچہ بن جاتا ہوں

اور ہنسی کھیل میں

رونے لگتا ہوں

اور سمندر آنکھوں کی بجائے جیبوں میں بھر لیتا ہوں

جانتے بوجھتے

عورتوں سے سچی محبت کرنے لگتا ہوں

دوستوں کے ایک میسج پر

خوامخواہ دروازہ کھول کر بیٹھ جاتا ہوں

اس طرح یہ نظم شاعروں، سادہ دلوں، سادہ روحوں کا بیانیہ بن گئی ہے۔

سُرمئی نیند کی بازگشت کی جلو میں خوابوں کی ںوحہ گری کا جلوس سڑک سڑک چلا آتا ہے۔ پاورٹی لائن کے نیچے کے پاتال میں گرتے مانسوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جاتا ہے اور ادھر قطار اندر قطار بڑھتے محل دُھوپ اور چھاؤں اپنے قبضے میں لیے نظر آتے ہیں۔ اس سپنوں کی مسماری میں، آنکھیں نیند اور حتیٰ کہ پورا انسان تباہی کے گڑھے میں لُڑھک جاتا ہے۔ ایک نایاب نظم “سُرمئی نیند کی بازگشت” جس میں مسلسل سُرمئی نیند کے پچھواڑے ایک سپنا دھرا ہے جو اپنی شکل میں آنے اور اپنے آدرش کو پانے کو تڑپتا ہے۔ نظم دیکھیے۔

”سُرمئی نیند کی بازگشت”

اُداسی مجھے تخلیق کرتی ہے

ہر روز ایک نئی نظم میں

میں جنگلوں اور پہاڑوں کے گیت سنتا ہوں

اور زمانوں کی قدامت میں گونجتا ہوں

میں بے گزر، دراز راستوں کا راگ ہوں

اور ہوا کے قدموں کی سُر ملی صدا

میں راتوں کا آرکیسٹرا ہوں

اور دنوں کے البم میں محفوظ کیا ہوا نغمہء ساز

میں زندگی کے شور میں سنائی نہیں دوں گا

دُنیا سماعت کا دھوکا ہے

صرف ایک دھماکے کی مار

جہاں محبت کی آواز

ہوا کی سرگوشیوں کے سنگ

آبادیوں کے آس پاس بھٹکتی رہتی ہے

اور گھروں اور دلوں میں داخل ہونے سے گھبراتی ہے

اور جہاں بوڑھی آتمائیں

جوان جسموں کے اندر بھنگڑا ڈالتی ہیں

اے خاموش سمفنی کے خدا

بادلوں کے پروں کی سرسراہٹیں

صرف مجھے کیوں سنائی دیتی ہیں؟

بچے اپنے اپنے کمروں میں سکون کی نیند سو رہے ہیں

اور باہر بارش

کوئی نئی دُھن ترتیب دینے میں مصروف ہے

دروازے اندر سے بند ہیں

اور کھڑکیاں ٹیرس کی طرف منہ کھولے ہوئے بیٹھی ہیں

اور میں ٹیبل لیمپ کی محدود روشنی میں سوچ رہا ہوں

کہ کچھ کتابیں پڑھے بغیر ختم کیوں ہو جاتی ہیں

اور جو شب گزار

صبح کا سورج

اور شام کا ستارہ نہیں بن سکتے

وہ کہاں طلوع ہوتے ہیں

رات کا سوناٹا ختم ہونے سے پہلے

مجھے خواب کے اُس سرے کی طرف جانا ہے

جہاں کسی آنکھ، کسی صبح کے آثار نہیں

بس سُرمئی نیند ہے

لاشوں اور مچھلیوں کی طرح

ایک دوسری کے اوپر ڈھیری کی ہوئی

مسلسل نیند

مجھےاُس نیند کی بازگشت سنائی دے رہی ہے

اس کے باوجود کہ ارد گرد پھیلی بہت ساری مایوسی نے شاعر کو لہجہ ترش کرتے ہوئے انگیختی حروف کے ساتھ آتش اُگلتی صفوں کے معرکے میں رکھا، سُرمئی نیند کی بازگشت میں خواب کی چاپ سے جُڑت کوئی چھوٹی بات نہیں!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
تنویرٍ قاضی کی دیگر تحریریں
تنویرٍ قاضی کی دیگر تحریریں