جمہوریت ، جواب دہی اور احتساب


\"edit\"سپریم کورٹ کے جسٹس ثاقب نثار نے آج ایک فیصلہ میں یہ اصول طے کیا ہے کہ پارلیمانی جمہوریت میں وزیراعظم نہ تو صدر کا متبادل ہوتا ہے اور نہ ہی اسے مطلق العنان حاکم کی حیثیت حاصل ہے۔ وہ حکومت کا سربراہ ضرور ہے لیکن تمام اہم فیصلے کرنے کی اصل مجاز حکومت ہے جو وفاقی کابینہ اور وزیراعظم پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ رہنمائی سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ میں فراہم کی گئی ہے جو بعض نجی کمپنیوں کی طرف سے محاصل میں اچانک اضافہ کے خلاف دائر کی گئی پٹیشن کا فیصلہ کرتے ہوئے سنایا گیا۔ اس سے قبل درخواست گزار اسلام آباد ہائیکورٹ کو اس اصول پر قائل کرنے میں ناکام رہے تھے۔ سپریم کورٹ نے ایک وزارت کی طرف سے محاصل بڑھانے کے فیصلہ کو کالعدم قرار دیا ہے۔ اور بتایا ہے کہ حکومت کے فیصلے اسی وقت آئین کے تقاضوں کے مطابق قانونی کہلا سکتے ہیں جب کابینہ ان پر غور کرکے انہیں منظور کرے گی۔ بصورت دیگر یہ فیصلے باالخصوص مالی معاملات میں کئے جانے والے سارے فیصلے قانون کے خلاف قرار پائیں گے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کوئی آرڈیننس جاری کرنے یا قانونی تجویز پارلیمنٹ میں بھیجنے کا فیصلہ بھی وزیراعظم یا کابینہ کا ایک رکن یا کوئی افسر اپنے طور پر نہیں کر سکتا۔ بلکہ اس مقصد کےلئے کابینہ کی اجازت حاصل کرنا ضروری ہو گا۔ جسٹس ثاقب نثارنے فیصلہ میں واضح کیا ہے کہ اس قسم کے معاملات پر غور کرنے کےلئے کابینہ کے ارکان کو مناسب وقت فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔

مختصراً ملک کی سب سے بڑی عدالت نے حکومت پر یہ واضح کیا ہے کہ ایک پارلیمانی جمہوری نظام میں امور مملکت کیسے چلائے جانے چاہئیں۔ میاں نواز شریف تیسری بار ملک کے وزیراعظم منتخب ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ کے طور پر بھی ایک جمہوری نمائندے کی حیثیت میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ اس کے باوجود ان کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ تن تنہا اپنی مرضی و منشا کے مطابق امور مملکت طے کرتے ہیں اور تمام اہم فیصلے خود کرتے ہیں۔ یہ بات بھی ہر عام و خاص کے علم میں ہے کہ وزیراعظم بعض منتخب اور غیر منتخب لوگوں کو اپنے قریب سمجھتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر ان سے ہی مشورہ کرتے ہیں اور انہی کی رائے پر عمل بھی کرتے ہیں۔ جس طرح میاں نواز شریف قومی اسمبلی کے اجلاس میں آنے سے گریز کرتے ہیں، اسی طرح وہ کابینہ کا اجلاس بلانے اور اہم امور پر کابینہ میں غور و خوض کرنا بھی ضروری نہیں سمجھتے۔ اسی لئے وفاقی کابینہ کے اجلاس شاذ و نادر ہی منعقد ہوتے ہیں۔ ان اجلاسوں میں بھی وزرا زیادہ تر وزیراعظم کی ہاں میں ہاں ملانے کا فرض ہی ادا کرتے ہیں۔ کیونکہ انہیں اس بات کا پوری طرح ادراک ہے کہ اگر انہوں نے اختلاف کرنے یا یہ نشاندہی کرنے کا حوصلہ کیا کہ وزیراعظم یا ان کے من پسند مشیر کسی معاملہ میں غلطی بھی کرسکتے ہیں تو وہ اپنے عہدے سے محروم ہو سکتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ حکومت کی جس ساخت اور طریقہ کار کے بارے میں آج سپریم کورٹ نے نشاندہی کی ہے، پاکستان کی وفاقی حکومت اس طریقہ کے مطابق عمل نہیں کرتی۔ یعنی حکومت سے مراد وزیراعظم ہی لیا جاتا ہے جو برسر اقتدار پارٹی کا سربراہ بھی ہوتا ہے۔ اس لئے کابینہ ہی نہیں قومی اسمبلی کی نشست بھی اکثر صورتوں میں اس ایک شخص کی مرہون منت ہوتی ہے۔ جبکہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق آئین کے نزدیک حکومت ایک ایسے انتظام کا نام ہے جس میں وزیراعظم اور کابینہ کے تمام ارکان شامل ہوتے ہیں۔ یہ معاملہ صرف اسی حد تک نہیں ہے بلکہ کوئی فیصلہ اس وقت تک قانونی اور آئینی قرار نہیں پا سکتا جب تک کابینہ کے غور و خوض کے بعد اس پر عمل کرنے کا فیصلہ نہ کیا جائے۔

میاں نواز شریف سربراہ حکومت کے طور پر آمرانہ طرزعمل اختیار کرنے والے اکیلے نہیں ہیں۔ ان کے بھائی میاں شہباز شریف بھی پنجاب کے وزیراعلیٰ کے طور پر نہ تو کابینہ کے اجلاس منعقد کرتے ہیں اور نہ ہی اسمبلی کے اجلاسوں میں شریک ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں بظاہر جمہوری نظام ہونے کے باوجود جمہوری رویے اور طریقہ کار دیکھنے میں نہیں آتا۔ اس طریقہ پر حیرت اس لئے بھی ہوتی ہے کہ شریف برادران نے برس ہا برس سیاست میں گزارنے اور سیاسی وجوہات کی بنا پر 8 برس تک جلا وطنی کاٹنے کے باوجود نہ تو جمہوری طریقہ کار اختیار کرنے کی ضرورت محسوس کی ہے اور نہ ہی وہ آج کے فیصلے سے قبل یہ جان سکے ہیں کہ جمہوری لیڈر کے طور پر آئین ان پر کیا پابندیاں عائد کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن کے رہنما اکثر میاں برادران کی حکومتوں کو تخت لاہور اور ان کے طرز عمل کو بادشاہت سے مماثل قرار دیتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اس تنقید کو درست سمجھا جا سکتا ہے۔

عدالت عظمیٰ کے سامنے اگرچہ محاصل میں اضافہ کا ایک معاملہ لایا گیا تھا۔ اس پر فیصلہ دیتے ہوئے حکومت کی ساخت اور اس کے ارکان کے اختیارات پر عائد قدغن کا ذکر کرنے اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں تھی کہ حکومت کو موجودہ آئینی انتظام میں کس طرح کام کرنا چاہئے۔ لیکن عدالت نے یہ تفصیل بتانا ضروری سمجھا ہے۔ اس سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ موجودہ حکومت کے رویہ اور طرز عمل کے بارے میں عدالتوں میں بھی بے چینی موجود ہے۔ اس سے پہلے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی پاناما لیکس کی تحقیقات کےلئے حکومت کی درخواست پر کمیشن مقرر کرنے سے انکار کرچکے ہیں۔ اس فیصلہ سے بھی یہی بات سامنے آئی تھی کہ سپریم کورٹ حکومت کے طریقہ کار کو قانون کے تقاضوں کے مطابق درست نہیں سمجھتی۔

اب ایک فیصلہ میں حکومت کی تشریح کرتے ہوئے فیصلے کرنے کا طریقہ کار بتایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کی یہ رہنمائی جہاں خوش آئند ہے کہ وہ ملک کے منتخب رہنماؤں کو آئین کے مطابق ان کے اختیارات اور فرائض سے آگاہ کرتی ہے تو اس کے ساتھ ہی یہ بات تشویش کا سبب بھی ہے کہ متعدد بار اسمبلیوں کے رکن منتخب ہونے والے اور بار بار حکومت کی ذمہ داری سنبھالنے والے لیڈران موجودہ آئینی انتظام میں اپنے فرائض سے صریحاً غافل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی آئے روز جمہوریت کا تحفظ کرنے اور جمہوری نظام کو لاحق خطرات سے نمٹنے کی بات بھی کی جاتی ہے۔ کیا یہ لیڈر اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ اگر ان کا اپنا طریقہ اور رویہ ہی آمرانہ ہو گا، وہ خود ہی جمہوری روایات اور آئینی تقاضوں کو اہمیت نہیں دیں گے اور ایک شخص وزیر یا وزیراعظم بننے کے بعد خود کو خودمختار اور ہر طرح کے فیصلے کرنے کا مجاز سمجھے گا تو جمہوریت کےلئے ان کی چیخ و پکار کو کوئی کیوں سنے گا۔ عام لوگ کیوں کر یہ سمجھ سکیں گے کہ ملک میں جمہوری لیڈر کی موجودگی کسی آمریت سے بہتر ہے۔ عام آدمی کےلئے یہ فرق واضح کرنا جمہوری لیڈروں کی ذمہ داری ہے۔ لیکن وہ اس میں بری طرح ناکام ہو رہے ہیں۔

جمہوریت میں عوام کی رائے سے منتخب ہونے والے نمائندے عوام کی بہبود اور ان کی ضرورتوں ، تقاضوں اور توقعات کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔ اسمبلیوں میں مختلف معاملات پر رائے دینے اور بات کرنے سے قبل ان نمائندوں کو اپنے حلقوں میں عوام کی رائے اور مرضی بھی معلوم کرنا چاہئے۔ اس طرح جمہوری نظام میں عام لوگ براہ راست اسمبلیوں کے رکن نہ ہوتے ہوئے بھی اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی قدرت رکھتے ہیں۔ بدنصیبی سے پاکستان میں اس قسم کا نظام استوار کرنے کا اہتمام نہیں کیا گیا۔ اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کےلئے ذاتی اثر و رسوخ ، خاندان یا برادری کے تعلقات اور بدتر صورتوں میں دھاندلی اور انتظامی اختیارات کا استعمال کیا جاتا ہے۔ رکن منتخب ہونے کے بعد اکثر اراکین قانون سازی کا فریضہ ادا کرنے کی بجائے صوبائی یا وفاقی حکومتوں سے فنڈز کے حصول کی کوشش کرنے لگتے ہیں۔ ان وسائل کو اپنے حلقوں میں صرف کر کے آئندہ انتخاب کےلئے لوگوں کو ووٹ دینے پر آمادہ کیا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ملک کی تمام سیاسی پارٹیاں بلدیاتی انتخابات سے گریز کرتی ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ بلدیاتی ادارے قائم ہونے سے صوبائی حکومتوں اور اراکین اسمبلی کا اثر و رسوخ کم ہو جائے گا۔ کیونکہ صوبائی حکومتیں جو فنڈ ارکان اسمبلی کے ذریعے بانٹ کر حلقوں میں لوگوں کو متاثر کرتی ہیں، انہیں وہ بلدیاتی اداروں کو فراہم کرنا ہوں گے۔ ارکان اسمبلی اس صورت میں اپنے حلقوں میں ترقیاتی یا فلاحی کام کروانے کےلئے بلدیاتی نمائندوں کے محتاج ہو جائیں گے۔ اس طرح وہ لوگوں کو براہ راست کوئی خاص سہولت فراہم کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ اس صورت میں اسبملی کے ارکان کو خود کو بے اثر اور بے توقیر اور صوبائی حکومت لاچار سمجھنے لگے گی۔ یہی وجہ ہے کہ عدالتوں کے حکم پر صوبوں میں بلدیاتی انتخاب منعقد کروانے کے باوجود کسی بھی صوبے میں انہیں کام کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ حالانکہ اسمبلی کے ارکان کا کام گلیوں کی صفائی کروانا یا دیگر شہری سہولتیں فراہم کرنا نہیں ہے بلکہ اسمبلی میں حکومت کی باز پرس کرنا اور عوام کی سہولت کےلئے قانون سازی کرنا ہوتا ہے۔

سپریم کورٹ نے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کو حکومت کے معاملات کے حوالے سے جو ہدایت جاری کی ہے، اسے صرف ایک معاملہ میں اختلافی فیصلہ سمجھتے ہوئے نظر انداز کرنے کی بجائے، اس کی روح کو سمجھنے اور پارلیمانی نظام کے مطابق جوابدہی کا نظام متعارف کروانے کےلئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک میں ایک دوسرے کا احتساب کرنے اور اس مقصد سے ادارے اور کمیشن بنانے کے مطالبے سامنے آتے رہتے ہیں۔ لیکن سپریم کورٹ ہمیں بتا رہی ہے کہ اگر حکومت آئین کے تقاضوں کے مطابق کام کرنا شروع کر دے گی تو جوابدہی کا خود کار نظام مستحکم ہو جائے گا۔ یعنی اگر کوئی وزیر کوئی اہم حکم جاری کرنا چاہتا ہے یا قانون بنوانا چاہتا ہے تو وہ کابینہ کے سامنے اپنے موقف کے حق میں دلائل دے گا۔ اس کے دلائل اگر تجربہ کی روشنی میں غلط ثابت ہوتے ہیں تو وہ کابینہ کے سامنے جوابدہ ہو گا اور اپنی غلط رائے پر شرمندگی کے علاوہ اسے یہ بھی بتانا پڑے گا کہ اس نے یہ مشورہ کس بنیاد پر تیار کیا تھا۔ یہی طریقہ وزیراعظم پر بھی لاگو ہو گا۔

اس طرح نظام حکومت فرد واحد کے ہاتھ سے نکل کر حکومت یعنی کابینہ کے ہاتھ میں آجائے گا اور سارے ارکان ایک دوسرے کی کمزوریوں کی گرفت بھی کر سکیں گے اور ان کی اصلاح کےلئے بھی کردار ادا کریں گے۔ جوابدہی کا یہی نظام دراصل احتساب کی ابتدائی شکل ہے۔ اگر اقتدار پر قابض لوگ خود ہی اپنی غلطیوں کا ادراک کرنے کے کسی نظام سے گزرنے کےلئے تیار نہیں ہوں گے تو وہ ہمیشہ احتساب سے خوفزدہ رہیں گے۔ ہم ملک کی سیاست میں بخوبی اس صورتحال کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali