ماں کی محبت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

12 مئی کو عالمی طور پر ماں کی محبت کے حوالے سے دن منایا گیا۔ تمام لوگ اپنی ماں سے محبت کا اظہار اپنے انداز سے کرتے نظر آئے، اور کیوں نہ کرتے کہ ماں وہ عظیم ہستی ہے، جب اللہ نے اپنے بندے سے محبت کا اظہار کیا، تو تقابل میں جس ہستی کی محبت کو رکھا، اسے ”ماں“ کہتے ہیں۔

اس دن جب ہر طرف ماں کی عظمت کے حوالے سے پروگرام نشر ہوئے، تو ایسا محسوس ہوا کہ جس معاشرے میں ماں کو اس قدر عزت و احترام حاصل ہے اور 12 مئی کو ماں سے محبت کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے، اس میں حقیقی جائزہ لیا جائے کہ ماں جس کے قدموں تلے جنت ہے، ہم اس کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔

عمومی طور پر جب نظر دوڑائی اور زبانی کلامی باتیں دیکھیں، تو تمام لوگ ماں کو ”اف“ تک نہ کہنے کے قائل تھے۔ مگر میدانِ عمل میں اس محبت کو پرکھنے کی خاطر لاہور کے ایک اولڈ ہاؤس کا رخ کیا۔ وہاں 33 مائیں جو کہ اس زمین پر کسی نہ کسی کے لیے جنت تھیں اپنے بڑھاپے میں اپنی اولاد کی منتظر تھیں۔ وہ اولاد جو ان کو کھانا کھلانے کے بہانے سے اس نفسیاتی قید خانے میں چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ اور 15 سال یا 20 سال تک واپس مڑ کر نہ دیکھا کہ کیا ہماری جنت میں خدا کی رحمت کے پھول مرجھا تو نہیں گئے۔

ایک سوال نے ذہن میں جنم لیا کہ کمی کہاں رہی، کہ وہ مائیں جس اولاد کو اپنا سکون کہتی رہیں، اس اولاد نے انہیں ان کو اپنے سکون کی خاطر اپنی زندگی کا حصّہ بھی رہنے نہ دیا۔ کچھ لوگوں کی جنت سڑک پر تپتی دھوپ میں جھلستی دیکھی تو کچھ نے اس کو پاس رکھ کر وہ سلوک کیا کہ وہ موت کو پسند کرنے لگی۔

آخر میں اسی فکر کی دعوت دوں گا کہ جس ماں نے اپنے آرام کی قربانی دے کر بچے کو پروان چڑھایا، کیا وہ اتنا حق بھی نہ رکھتی تھی کہ موت تک اس شخص کی صورت دیکھ سکتی۔ بے شک کہ اکثر افراد ماں کی عزت اپنے دل و جاں سے کرتے ہیں، مگر اللہ نے تو ہر ماں کے قدموں تلے جنت رکھی ہے، تو کچھ گھروں میں کیوں اور کچھ سڑک اور اولڈ ہاؤس میں کیوں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد مجتبی علی کی دیگر تحریریں
محمد مجتبی علی کی دیگر تحریریں