کیا جمہوریت کا راستہ کوٹ لکھپت جیل سے ہو کر گزرتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایف اے ٹی ایف کا کوئی منفی فیصلہ پاکستان کی موجودہ دگرگوں مالی پریشانیوں میں شدید اضافہ کا سبب بن سکتا ہے۔ بلیک لسٹ ہونے کی صورت میں عالمی لین دین اور منڈیوں سے قرض لینے میں زیادہ مشکلات پیش آئیں گی۔ اس صورت میں سادہ سا یہ سوال ہنوز جواب طلب ہے کہ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کا سامنا کررہا ہے اور ایک دہائی سے اسے امریکہ اور دیگر ملکوں اور عالمی اداروں کی طرف سے انتہاپسند گروہوں اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کا مشورہ دیا جارہا ہے۔ دو سال سے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے والا پہلا ملک قرار دینے کی کوششیں بھی کی جاتی رہی ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ اب تک دہشت گردوں کے مالی وسائل کا راستہ روکنے کے لئے حکومت کوئی ایسے ٹھوس اقدامات نہیں کرسکی جو عالمی اداروں کو مطمئن کرسکیں۔ حالانکہ بنیادی طور پر تو یہ اقدام پاکستانی شہریوں کے تحفظ کے نقطہ نظر سے پاکستانی حکام کو خود ہی کر لینا چاہئے تھا۔ لیکن نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ہر تھوڑی مدت کے بعد ایف اے ٹی ایف کی طرف سے پاکستان کے طریقہ کار میں نقائص کی نشاندہی کی جاتی ہے اور پاکستانی نمائندے ان کی وضاحتیں کرنے پر مامور کئے جاتے ہیں۔
سیاسی طور سے تحریک انصاف کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ وہ ان تمام مسائل سے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے اور حقیقی صورت حال مباحث کے لئے پیش کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ کابینہ میں ’اعلیٰ اہلیت‘ کے نام پر غیر منتخب لوگوں کو شامل کرکے اس تاثر کو تقویت دی گئی ہے کہ اختیارات کا منبع اب وزیر اعظم ہاؤس نہیں ہے۔ حکومت کو آسان کام قرار دینے کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہو کہ عمران خان وزیر اعظم تو ہیں لیکن انہیں کام کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ۔ کیوں کہ کرنے کاکوئی کام ان کے اختیار میں نہیں رہا۔ یہ قیاس بالکل غلط اور دشمن سیاسی قوتوں کا پروپیگنڈا بھی ہو سکتا ہے لیکن جب حکومت پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہی کے لئے تیار نہیں ہوگی اور اپوزیشن کے ساتھ عدم اعتماد میں کمی کی بجائے اضافہ ہی کو اپنی کامیابی کی دلیل سمجھا جائے گا تو اس قسم کے شبہات راسخ ہوتے دیر نہیں لگتی۔
اسی لئے مبصرین اور جمہوریت پسند حلقوں کی نگاہیں ہر مشکل صورت حال میں کوٹ لکھپت جیل کے مکین کی طرف اٹھتی ہیں کہ میاں نواز شریف قوم کی اس مشکل کا کیا حل تجویز کرتے ہیں۔ گزشتہ دنوں مسلم لیگ (ن) کی تنظیم نو اور مریم نواز کو نائب صدر نامزد کرنے کے بعد ایک بار پھر یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ نواز شریف ’ووٹ کو عزت دو اور اداروں کو منتخب حکومت کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے‘ کے سیاسی سلوگن پر قائم ہیں۔ اسی لئے بعض عناصر یہ توقع کرتے ہیں کہ نواز شریف زیادہ سرگرمی سے سیاسی بیانات کا سلسلہ شروع کریں گے یا عوامی مہم جوئی کا راستہ اختیار کریں گے۔ اسی تناظر میں یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ کیا مسلم لیگ (ن) سمیت ملک کی سیاسی جماعتیں سیاسی تحریک چلانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں؟ یہ سوال اٹھاتے ہوئے اس کا یہ جواب بھی سامنے لایا جاتا ہے کہ نواز شریف کو ووٹر کی حمایت تو حاصل ہے لیکن وہ کوئی حکومت مخالف تحریک چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
تاہم ملک کو درپیش سنگین معاشی مسائل اور عالمی سفارتی تنہائی کے تناظر میں یہ سوچنا بھی ضروری ہے کہ کیا اس وقت کوئی حکومت مخالف تحریک کسی بھی طرح ملک کے مفاد میں ہوگی؟ کیوں کہ اس قسم کی تحریک کے نتیجہ میں ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان ہو گا اور موجودہ مالی مسائل دوچند ہوجائیں گے۔ ماضی میں بھی عوامی تحریکوں کے نتیجہ میں کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہوسکی تھی ۔ ایک حد تک بعض عناصر یہ خوف بھی محسوس کرسکتے ہیں کہ اگر مہنگائی کے خلاف کوئی تحریک معرض وجود میں آئی تو شاید فوج ایک بار پھر سے اقتدار پر قبضہ کرلے گی۔
اگرچہ اس امکان کو صریحاً مسترد نہیں کیا جاسکتا لیکن موجودہ حالات میں اس کا امکان بہت کم ہے۔ عسکری ادارے تحریک انصاف کے ساتھ ایک پیج کی پالیسی کے تحت اس وقت تمام امور حکومت پر مکمل دسترس حاصل کرچکے ہیں۔ اسی لئے پارلیمنٹ کو جزو معطل اور کابینہ کو غیر نمائندہ بنایا جاچکا ہے۔ ان حالات میں اگر ملک اور جمہوریت کے وسیع تر مفاد میں غور کیا جائے تو سیاسی عوامی تحریک کی صلاحیت پر بحث کی بجائے یہ غور کرنا ضروری ہے کہ ایسی تحریک سے ملک یا جمہوریت کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس لئے ووٹ کو عزت دو اور منتخب حکومت کے معاملات میں درپردہ مداخلت اور نگرانی کے طریقہ کی مخالفت کے اصول کا پرچار موجودہ اندھیری رات سے نکلنے کا واحد راستہ ہوسکتا ہے۔
نواز شریف اگر منتخب حکومت کی خودمختاری اور ووٹ کے احترام کے اصول پر قائم رہے اور آئندہ انتخاب اس اصول کی بنیاد پر ہی لڑا گیا تو اس بات کا امکان ہے کہ فوج اور سول قیادت کے ایک پیج پر ہونے کا تنازعہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے۔ تب یہ کہا جاسکے گا کہ ملک میں جمہوریت کا راستہ دراصل کوٹ لکھپت جیل سے ہو کر گزرتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1342 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali