تبدیلی زندہ باد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کل ایک ویڈیو نظر سے گزری کہ جس میں کسی سیاسی ”راہنما“ نے نام نہاد روزے داروں کو افطار پارٹی میں بلایا۔ کہ افطار کے بعد نعرے بھی باآوازِ بلند حلق سے نکلنے چاہیں۔ پر پاپی پیٹ یہاں بھی اپنی لگامیں توڑ کر بھاگ نکلا۔ نہ سائرن بجا نہ مغرب کی اذان کی گونج سنائی دی۔ پچھلی صدی کے بھوکے لوگ۔ کھانے پر ٹوٹ پڑے۔ اب اللہ کا رزق پاؤں تلے روندا جائے۔ یا خلق سے ثابت نیچے اتارا جائے۔ یہ قصہ الگ ہے۔ انگریز کہتا ہے پہلے دانہ پانی چھین لو بھوکا رکھو۔

پھر ایک ایک دانہ پھینکتے جاؤ۔ انسان دانے کے پیچھے پیچھے آتا جائے گا۔ اور آخر میں جب پیٹ بھر جائے گا تو تمہارے ہی قدموں میں پڑا لوٹ رہا ہو گا۔ یہ قوم کیا سوچ کر ووٹ دینے والی لائن میں کھڑی ہوتی ہے کہ ملک سنوارے گا؟ خوشحالی ان کے گھر کے دروازے پھاڑ کر اندر گھس آئے گی۔ ان کے بچے پڑھیں گے۔ پڑھ کر افسر بنیں گے۔ نہیں یہ خواب تو بہت بعد میں دیکھنے کے لئے آنکھیں بند کی جاتیں ہیں۔

سب سے پہلا خواب اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرنا ہے اور پیٹ کسے بھرتا ہے۔ کھانے سے۔ کھانا دو ووٹ لو۔ تالیاں اونچی ہونی چاہیں۔ جلسے بڑے ہونے چاہیں۔ لوگوں کا سمندر۔ ٹھاٹھیں مارتا سمندر۔ اور یہ سب ایک فی بندہ ایک پیکٹ سے ممکن ہے۔ پتہ ہے ناں۔ بھوک جان لیوا ہوتی ہے بچے بھوکے سو رہیں ہوں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ پیٹ بھر کر سونا ہی اصل سیاپا ہے۔ اور یہ پیٹ ہی ملک کو لے ڈبوبا۔ تبدیلی اچھی شے کو سمجھ بیٹھے ہم نادان لوگ۔

تبدیلی آ گئی ہے بے حساب آئی ہے۔ غریب اور غریب ہے امیر اور امیر۔ کبھی سڑک کنارے کسی گندے میلے کپڑے پر پڑے چھوٹے معصوم بچوں کو دیکھا ہے جو پیدائشی بھکاری ہیں۔ اپنی شیشے چڑھی کار کے اندر ٹھنڈے ماحول میں بیٹھ کر ان بھکاریوں کے اترے چہرے دیکھ کر لگتا ہے کیا۔ کہ یہ مخلوق پکی سڑکیں دیکھنا چاہتی ہے۔ یا ان کو ایران جاپان سے تجارت کی خبروں میں رتی برابر بھی دلچسپی ہو گی! نہیں ان کی بلا سے کون کون سا معاہدہ طے کرنے ملک سے باہر ہے یا ملک کے اندر۔

ان کی غرض ہے تو دو وقت کی روٹی۔ ان کو بس بھرے پیٹ کے ساتھ سونا ہی امیری لگتی ہے۔ نئے کپڑے نئے برتن یہ بھی ان لوگوں کی چاہت نہیں۔ بھوک اسی پیٹ کی بھوک کو سیاست دان کیش کرتا ہے۔ جتنے زیادہ بھوکے ننگے لوگ اتنے زیادہ ووٹ۔ جتنے ووٹ اتنے حکمرانوں کے عیش۔ یہ لمبی گاڑی میں سفر کرنے والے۔ اس پاک سرزمین کا نظام چلانے والے۔ صاف بے داغ قیمتی کپڑے پہنے اکڑی گردن والے یہ سیاست دان۔ اس سڑک کنارے پڑی بچی کی پیٹ کی بھوک کو لمحہ بھر کے لئے بھی محسوس کرنے سے عاری ہیں۔

یہ سیاست دان ان بھوکے پیٹ سونے والوں کا بس اتنی ہی دیر کے لئے اپنا ہے۔ جب تک کہ مہر لگا ووٹ ڈبے کے اندر نہ چلا جائے۔ تبدیلی کے خواب بہت سہانے ہوتے ہیں۔ غریب کی جانے بلا تبدیلی کیا شے ہوتی۔ دیکھنے میں کیسی لگتی۔ اسے تو بس روٹی چاہیے۔ اپنے لئے اپنے بچوں کے لئے۔ اور وہی روٹی اگر دے دی گئی تو ووٹ کم پڑ جائیں گے۔ پہلے ووٹ ہوتا ہے پھر روٹی ملتی ہے۔ روٹی دے دی تو ووٹ کسے ملے گا۔ بس یہی فارمولا ہر حکومت آزماتی ہے۔ اور شاید آزماتی رہے تو اپنی روٹی کے لئے جاتے جاتے ایک نعرہ لگاتے جائیں۔ تبدیلی زندہ باد

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •