عالمی مالیاتی اداروں کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت
سماج کی بہتری کے حوالے سے اکثر اوقات ہم حکمران سیاسی قوتوں سے جو امیدیں رکھتے ہیں، وہ پوری نہ ہونے کی وجہ سے پھر دوسرے حکمرانوں کو منتخب کرنے کی کوشش یا خواہش رکھتے ہیں۔ نتیجے میں اُس نو منتخب حکومت کی حالت پچھلی حکومت سے بھی زیادہ بدتر ثابت ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں اور پھر کسی تیسری حکومت کے بننے کی طلب کرتے ہیں۔ یے مثال بالکل بھی اس طرح ہے کے کسی کنویں میں کتا مرا پڑا ہو اور اس کنویں سے بالٹی کے ذریعے پانی نکال کر کنویں کو صاف کرنے کی تمنا رکھنا ہو۔
جہاں ہر نئی حکومت سارے مسائل کی ذمہ دار پچھلی حکومت کو ٹھہرائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس ملک کے نظام سے مسئلہ ہے۔ ہم کنویں سے کتنا بھی پانی بالٹی سے نکالیں، وہ گندا ہی رہنا ہے جب تک نظام بدل کر کنویں سے مرا ہوا کتا نہیں نکالا جائے گا۔ اس لئے چیزوں کی حقیقت کو جاننے کے لئے ان چیزوں کی ہیئت کو سمجھنا پڑے گا نہ کہ چیزوں کی ماہیت کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی رائے قائم کرنا یا امیدیں رکھنی چاہیے۔ ہمیں اس ملک کی معیشت پر قابض ان عالمی مالیاتی اداروں کی پالیسیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے، اور اس نتیجے میں ان اداروں کے استحصال کا کچھ حل نکالنے کی ضرورت ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں نے دوسری عالمی جنگ کے بعد خاص طور پر تیسری دنیا کے ممالک کو پہلے عطیے اور آسان شرائط کے بنیاد پہ قرضے دینے کی شروعات کی تھی جس نے ابھی بھیانک شکل اختیار کر لی ہے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے مالیاتی ادارے خاص طور پر قرضہ بھی ان ہی ممبر ممالک کو دیتے ہیں جو قرضہ واپس نہ کر سکنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ بلکہ سود خور اداروں کے اصول ہوتے ہیں، ایک تو وہ قرضہ دیتے نہیں اور اگر کسی کو دیتے بھی ہیں تو وہ قرضہ اترتا ہی نہیں ہے۔
ایسے مثال پاکستان میں آئی ایم ایف کے حوالے سے تو بہت ملتے ہیں پر چائنہ نے ایسے کچھہ نئے مثال قائم کیے ہیں، جس میں ”افریکا کے ملک زیمبیا کے کیپٹل سٹی کی لوساکا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو قرضے واپس ہونے تک گروی کر رکھا ہے اور سری لنکا کی ہمبن ٹوٹا بندر گاہ کو بھی قرضے کی واپسی تک ضبط کیا گیا ہے۔ “ چائنہ کے سی پیک کے مد میں ہمارے ملک پر کتنے خطرناک اثرات ہونے والے ہیں اس پے پہلے ہی بہت ساتھی تشویشناک تحریریں لکھ چکے ہیں۔
جیسے آئی ایم ایف نے پاکستان کو قرضہ دیتے وقت دوسری شرائط کے ساتھہ یہ بھی شرط رکھی ہے کہ آنے والے دو سال تک 27 ارب ڈالرز کا قرضہ واپس کرنا ہوگا۔ جب کے پاکستان کا بیرونی قرضہ 100 ارب ڈالرز سے بھی تجاوز کر گیا ہے اور ابھی ملک کو چلانے کے لئے آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالرز، ایشین اور ورلڈ بینک سے 2 سے 3 ارب ڈالرز لئے جا رہے ہیں۔ تو ایسی صورتحال میں 27 ارب ڈالرز کا بیرونی قرضہ واپس کرنا کیسے ممکن ہوگا؟ وہ بھی دو سال کے عرصے میں؟
حقیقت میں یہ تو عالمی مالیاتی ادارے بھی جانتے ہوں گے کہ اتنا قرضہ واپس کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ پھر بھی ایسی شرائط رکھنے کا کیا مقصد ہے؟ اس کے پیچھے کوئی اور اسباب نہیں ہو سکتے ماسوائے اس کے کہ زیادہ سے زیادہ نجکاری ہو سکے۔ مطلب چائنہ کی طرح آئی ایم ایف کو بھی قرضہ اور سود نہ ملنے کے مد میں آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھے گئے سرکاری ادارے سرمایہ داروں کو بیچ دیے جائے۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف کا یہ بھی ایک اصول ہے کہ تعلیم اور صحت پر خرچ ہونے والے بجٹ، اولڈ ایج، معذوری اور بیروزگاری الاؤنس کے علاوہ مختلف اشیاء سے سبسڈی وغیرہ کو کم یا ختم کیا جائے۔ اس سے بجٹ زیادہ مقدار میں بچے گا، جس کو سود کے مد میں مالیاتی اداروں کو دے سکیں اور اگر بیاج پھر بھی نہیں دیا گیا، تو اس صورت میں گروی رکھے گئے اداروں کی نجکاری کی جائے۔ اب اگر آئی ایم ایفکی ایسے عوام دشمن شرائط دیکھیں، تو ان میں سے آدھی سے زیادہ شرائط پہ حکومت نے عمل بھی کر دیا ہے۔
آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے لئے موجودہ حکومت نے ملک کو ترقی کی بلندیوں تک لے جانے والے معیشت دان اور امور خزانہ اسد عمر سے گذشتہ ماہ استعفی لیا گیا اور اس کی جگہ حفیظ شیخ کو مقرر کیا گیا۔ اب یہ بات تو عام ہو گئی ہے کہ حفیظ شیخ براہ راست آئی ایم ایف کا نمائندہ ہے۔ جس کا پچھلا رکارڈ کچھہ اس طرح ہے کہ ”اس نے مشرف دور حکومت میں ریاست کو 23 ارب ڈالرز کے گھاٹے میں ڈال دیا تھا، یہی نہیں بلکہ پی ٹی سی ایل، کراچی الیکٹرک، حبیب اور یونائیٹڈ بینک کی نجکاری کروانے والا بھی حفیظ شیخ ہی ہے۔
جب کہ 2007 میں 417 ارب کی نجکاری کرنے والے بھی یہی صاحب ہیں۔ اس کے ساتھہ ساتھہ پاکستان اسٹیل مل کی نجکاری کی ناکام کوشش بھی کر چکے ہیں۔ ”ابھی دوسری مرتبہ پاکستان اسٹیل مل کی نجکاری کے لئے حفیظ شیخ کو آئی ایم ایف کی مرضی سے اس عہدے پر مقرر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں چیئرمین کے عہدے پر معاشی ماہر شبر زیدی اور اسٹیٹ بینک گورنر کے طور پر رضا باقر کو مقرر کیا گیا ہے۔ ان دونوں حضرات کا بھی سیدھا تعلق آئی ایم ایف سے ہی ہے۔ مطلب اب قرضہ لینے اور دینے کے لیے آئی ایم ایف کے آئی ایم ایف کے ساتھہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔
حقیقت میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے مالیاتی اداروں کی مدد کے تحت چلنے والے ممالک کے بحرانوں کا وزن عوام کی کمر توڑ دیتا ہے۔ جب کہ حکمران طبقہ خود کو محفوظ کر لیتا ہے اور قرضہ لے کے ہڑپ بھی حکمران ہی کر لیتے ہیں اور بھگتنا عوام کو پڑتا ہے۔ معیشت پر عالمی مالیاتی اداروں کے ضوابط کے سبب ہی آج مزدور طبقہ زیادہ اضطراب کی زندگی گذار رہا ہے۔ ہر آنے والے دن میں مہنگائی دگنی ہوتی جا رہی ہے۔ صرف ایک سال کے اندر پاکستانی روپے کی قدر امریکی ڈالر کی نسبت 23 فیصد سے زیادہ کم ہو گئی ہے۔
اور ڈالر 150 ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں بہت سے بحرانوں نے جنم لے لیا ہے۔ اس قسم کی صورتحال پر ورلڈ بینک نے پیش گوئی کی ہے کہ اس سال پاکستان کے اندر مہنگائی 7.1 اور آنے والے سال 13.5 فیصد مزید بڑھ جائے گی۔ جب کہ اس وقت تک 55 فیصد مہنگائی بڑھ چکی ہے۔ دوسری جانب نئے مقرر کیے گئے آئی ایم ایف کے نمائندے جو کرسی ملتے ہی اپنے کام پر ٹوٹ پڑے ہیں۔ جو کام حکومت بننے سے گذشتہ ماہ تک اسد عمر نہ کر سکے وہ کچھہ ہی دنوں میں حفیظ شیخ نے کر دکھایا۔
اوپر سے کچھہ ہی دنوں کے اندر مہنگائی اور نجکاری کے عمل کو تیز کر دیا گیا ہے۔ یعنی کچھہ ہی دن پہلے پیٹرول اور ڈیزل کے ساتھہ بہت سی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا، موبائل کے ٹیکس بحال کر دیے گئے ہیں۔ جب کے آنے والی بجیٹ میں حکومت 700 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ مطلب آئی ایم ایف اپنے اہداف پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔ بجلی اور گیس کے بل مزید بڑھائے جائیں گیں۔ صحت کا بجٹ کم ہو جائے گا۔ تعلیم کے بجٹ سے 45 ارب روپے کی کٹوتی کر دی گئی ہے۔ جب کہ دوسری طرف اس سال بغیر کسی جنگ کے پاکستان کے دفاعی اخراجات میں 11 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔
ایک جانب عوامی بجٹ کو کم کیا جا رہا ہے اور نجکاری کر کے بیروزگاری کو دگنا کیا جا رہا ہے دوسری طرف مہنگائی کر کے عوام کو مزید بدحال کیا جا رہا ہے۔ اس قسم کی سرمایہ دارانہ معاشی پالیسی آنے والے وقت میں اور بھی بھیانک شکل اختیار کر لے گی۔ مہنگائی، بیروزگاری اور بدحالی کے مزید خطرناک اثرات ظاہر ہونے والے ہیں۔ کیا ایسی صورتحال میں اس نظام کے اندر عالمی مالیاتی اداروں کی پالیسیوں پر خاموش رہنا چاہیے؟


