ہم اور اُسامہ کائرہ کی حادثاتی موت


کسی باپ کے لیے اُس کے جوان بیٹے کی موت کمر ٹوٹ جانے کا باعث بنتی ہے۔ اکثر بیٹے باپ کے جنازے کو کندھا دے کر قبر میں دفن کرتے ہیں۔ مگر جب باپ اپنے جگر گوشے کا جنازہ اٹھاتا ہے تو وہ گھڑی قیامت سے کم نہیں ہوتی۔

بے موسمی بارش اور بے موسمی موت فصل اور نسل کو تباہ کر دیتی ہے۔ ایک باغباں کوجب یہ پتہ چلتا ہے کہ تیز چلنے والی آندھی نے اُس کے پھلدار پودے کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ تو اُسکی حالت کا اندازہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرنے والے شخص کے چہرے پے چھا جانے والی اُداسی سے بخُوبی لگایا جا سکتا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران جب ایک بے حس رپوٹر نے قمرالزمان کائرہ صاحب کو بتایا کہ سر ابھی ابھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ آپ کے بیٹے کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔

ہم بحثیت مُعاشرہ اور بحثیت ہجُوم اتنے بے حس اور سفاک ہو چُکے ہیں کہ ہمارے سے بیھڑیے بھی مُنہ چُھپائے پھرتے ہیں۔ ہماری سیاسیت سے لے کے میڈیا انڈسٹری تک سارے حمام میں ننگے ہیں۔ اور جنگل میں رہنے والے جانوروں کا مُنہ چڑاتے پھرتے ہیں۔ اس سے زیادہ غیر تربیت یافتہ اور بچگانہ فعل کیا ہو سکتا ہے کہ ایک نام نہاد صحافی کیمروں کے ہجُوم میں ایک باپ کو اُس کے بیٹے کے ایکسیڈنٹ کی خبر دے۔ لیکن اس قبیلے کا تعلق صرف بریکنگ نیوز نامی صنعت سے ہے۔ (مجھے یاد آتا ہے کہ جب مجھے اپنے ابو کی موت کا پتا چلا تو بتانے والے نے مجھے پہلے ذہنی طور پے تیار کیا۔ پانی کا گلاس پکڑایا اور کہا پیو۔ پھر کہیں جا کے بتایا کہ تمھارے ابو فوت ہو گئے ہیں۔ لیکن ابھی تک وہ آواز کان میں پڑنے والی ابو فوت ہو گئے ہیں میرا پیچھا کرتی ہے )

ہمارا اپنا حال بھی کوئی اِتنا مُہذب نہیں کہ ہمیں تمغہ حُسن کارکردگی سے نوازا جائے۔ جہاں ایسے بے شُمار اہل دل حضرات کائرہ صاحب اور اہلخانہ کو اظہار تعزیت پیش کر رہے تھے اور اِس غمناک و المناک سانحہ پے انتہائی رنجیدہ تھے۔ وہاں ایسے نابغہ روزگار بھی تھے جو اس درد ناک واقعے سے موروثی سیاست کا خاتمہ کر رہے تھے۔ ایک حضرت فرماتے ہیں یہ مکافات عمل ہے۔ جبکہ ایسا نہیں ہے خُدا نے اپنی لاریب کتاب میں فرمایا۔ ”اللہ مومنوں کو اُن کے مال اور اولاد کے ذریعے آزماتا ہے“

پھر ایک شخص نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ قوم کے بچوں کا حق مار کر اپنے بچوں کو کھلانے والوں کے اپنے بچے مرنا شروع ہو چکے ہیں۔ موصوف نے قوم کا لفظ اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ دیکھا جائے تو قوم میں پائے جانے والے اوصاف حمیدہ کی ہمارے ہاں بہت قلت ہے۔ ہم تو جانوروں کا ریوڑ ہیں جو مسلسل کئی دہائیوں سے ہانکے جا رہے ہیں۔

حیرت ہوتی ہے اس نسل پر کہ جس کے شعور سے احساس نوچ کر سوشل میڈیا پر لاوارث پھینک دیا گیا ہے۔ ہمیں اختلاف کسی کے نظریات، خیالات اور عقائد کو مدنظر رکھ کے کرنا چاہیے نا کہ اختلاف اُس کی ذات سے اور اُس کی جان سے کرنا چاہیے۔ معاشرے میں پائی جانے والی بے حسی، عدم برداشت، دشنام طرازی اور گالم گلوچ جیسے رویہ کی حوصلہ شکنی نا کی گئی تو وہ دن دور نہیں جب ایک جماعت کے سیاسی کارکن یا ایک مذہبی فرقے کے ماننے والے اپنے مخالف کے بیٹے کی موت پر قہقے ہی نہیں بلکہ تمسخر بھی اُڑائیں گے۔ ہمارے ارباب اختیار اور مذہبی عُلما کو اِس سنگین صورتحال پے مزید چشم پوشی اختیار نہیں کرنی چاہیے بلکہ ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو اس ریوڑ کو ایک قوم بنانے میں مدد فراہم کرے۔

مالک کائرہ صاحب اور اہلخانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

Facebook Comments HS