تاریخ دہرانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا


\"edit\"کل شام کراچی میں ایم کیو ایم کے لیڈر الظاف حسین کی پاکستان دشمن تقریراور نعروں کے بعد ایک ٹیلی ویژن اسٹیشن پر حملہ سے جو صورت حال سامنے آئی ہے، اس نے الطاف حسین اور متحدہ قومی موومنٹ کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔ سیاست کے پرانے کھلاڑی الطاف حسین بھانپ چکے ہیں کہ انہوں نے کراچی میں اپنے کارکنوں کی وفاداری اور قوت کا اندازہ کرنے کے لئے جو بازی کھیل تھی ، وہ الٹی پڑی ہے۔ اسی لئے آج ان کا معافی کا بیان اور حب الوطنی کا اعلان بھی سامنے آ گیا ہے۔ دوسری طرف ایم کیو ایم کی پاکستان میں قیادت شدید انتشار کا شکار ہے۔ بعض لیڈر الطاف حسین سے علیحدگی یا ان کے پاکستان دشمن بیان سے فاصلہ اختیار کرکے اپنے لئے جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سندھ اور مرکز میں حکمران پارٹیوں کے لیڈر مسلسل مذمتی بیان جاری کررہے ہیں۔ حسب توقع الطاف حسین اور ان کے ساتھیوں کے خلاف متعدد مقدمات قائم کرلئے گئے ہیں۔ ان میں غداری کا مقدمہ بھی شامل ہے۔ اس مقدمہ میں الطاف حسین کے علاوہ ان لیڈروں کو بھی نامزد کیا گیا ہے جو کل کے جلسے میں موجود تھے اور الطاف حسین کی نفرت انگیز تقریر کو سن کر اس پر صاد کہہ رہے تھے۔ تاہم رینجرز نے کل جن لیڈروں کو گرفتار کیا تھا ، ان میں ڈاکٹر فاروق ستار سمیت بعض لوگوں کو رہا کردیا گیا جبکہ کم از کم تین مرکزی رہنماؤں کا ریمانڈ حاصل کرلیا گیا ہے۔ پولیس اور رینجرز نے رات بھر کارروائی کے دوران کراچی اور حیدر آباد میں متحدہ قومی موومنٹ کے دفاتر سیل کردئے ہیں اور پچاس سے زائد لوگوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں ایم کیو ایم کے کچھ لیڈر تھوڑی دیر میں کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والے ہیں ۔ امید کی جا رہی ہے کہ یہ گروہ کسی نہ کسی طرح الطاف حسین یا ایم کیو ایم سے علیحدگی کا اعلان کرے گا۔ اس دوران ٹویٹ پر معافی کا بیان جاری کرنے کے علاوہ الطاف حسین منقار زیر پر ہیں۔ لندن میں ایم کیو ایم کی قیادت بھی خاموش ہے لیکن نجی طور پر بعض صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان میں سے بعض لیڈروں نے یہ اعتراف کیا ہے کہ پارٹی برطانیہ اور پاکستان میں مشکل ترین صورت حال کا سامنا کررہی ہے۔ اس کی وجہ بھی وہ الطاف حسین کی تقریر کو سمجھتے ہیں۔ لیکن جو لوگ یا لیڈر الطاف حسین سے اختلافات کا عام اظہار کرنے کا حوصلہ کریں گے ، ان کی پارٹی میں کوئی جگہ باقی نہیں رہے گی۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کے پٹھو کہلائیں گے۔

الطاف حسین نے اپنے بیان میں معافی مانگتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو معاف کردیا جائے اور پارٹی کے خلاف کارروائی کرکے اسے تنہا کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ خالص سیاسی نقطہ نظر سے بات کی جائے تو اس مشورہ پر عمل کرنا ہی بہتر راستہ ہے۔ لیکن پاکستان کے معروضی حالات میں ایسا ہو گا نہیں۔ اس کی بجائے لندن میں پاکستانی آج 10۔ ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر مظاہرہ کرکے برطانوی وزیر اعظم سے الطاف حسین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کریں گے۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر سعید غنی نے بجا طور سے کہا ہے کہ اس وقت کوئی چاہے بھی تو بھی الطاف حسین کی مدد نہیں کرسکتا۔

تاہم یہ سوال باقی رہے گا کہ کیا تاریخ دہرانے سے کچھ حاصل ہو سکتا ہے۔ کیا ایم کیوایم توڑنے سے الطاف حسین تنہا ہو جائیں گے یا زخمی شیر کی طرح وہ زیادہ طاقت سے حملہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان سوالوں کے جواب بھی ماضی قریب میں کئے گئے تجربوں میں مضمر ہیں۔ جب تک کراچی کی گلیوں اور محلوں میں کوئی دوسری پارٹی سیاسی کام کر کے، عوام کا اسی طرح دل جیتنے کے لئے کام نہیں کرے گی، جس طرح الطاف حسین اور ان کے ساتھیوں نے کیا ہے، تاریخ خود کو دہراتی رہے گی۔ کیا پاکستان یا اس کے باشندوں کو اس عمل سے کچھ حاصل ہو سکتا ہے۔ اس کا سادہ جواب ’نہ‘ میں ہے۔

اصل فیصلہ 2018 کے انتخابات میں ہو گا۔ اگر تب الطاف حسین کے نمائندے ہار گئے تو الطاف حسین بھی ختم ہو جائیں گے۔ ورنہ ہم ایک بار پھر تاریخ کے سبق کو نہ سیکھنے کی سزا بھگت رہے ہوں گے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “تاریخ دہرانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا”

  • 23/08/2016 at 6:23 شام
    Permalink

    One life ended due to tirade of this person and all we get an apology. The author implies that it is enough and it is good for greater good to tolerate such acts. I wish you would have at least had some sympathy for the the family of the deceased. Youe apathy is abhorrent.

Comments are closed.