جعلی دوائی سے اصلی علاج اور عطائی معالجوں کا مسئلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کے ہومیوپیتھک معالج کا طریقہ علاج بھی یہی ہے کیونکہ ان کی گولیوں میں تو کچھ نہیں ہوتا۔ آکوپنکچر پر ٹرائلز میں بھی پلیسیبو کی طاقت شامل پائی گئی اور آج کل مشہور حجامہ سے علاج میں بھی شاید کچھ ایسی ہی طاقت شامل ہو گی۔ ان سب کے بر عکس جدید میڈیکل سائنس نے اسے ایک نفسیاتی چال اور غیر اخلاقی چیز سمجھ کر چھوڑ دیا ہے اور اس طرح ایک طاقتور طریقہ علاج کونظر انداز کر دیا ہے جس سے مریضوں کا نقصان ہو رہا ہے۔

بتا کر کیے جانے والے پلیسیبو کے تجربات نے یہ واضح کیا ہے کہ علاج میں ایک خاص طریقہ کار کی بہت اہمیت ہے۔ ایک معالج اگر اپنے باقاعدہ لباس میں جیسا کہ ڈاکٹر کا سفید کوٹ اور گلے میں سٹیتھوسکوپ لٹکا کر مریض کو اگر تسلی سے سنے، مختلف انسٹرومنٹس سے اسے چیک کرے اور باقاعدہ دوائی دے تو بہت سی روزمرہ شکایات کا ازالہ ہو جاتا ہے۔ اور اب مغرب کے بہت سے ڈاکٹر جو پلیسیبو پر ریسرچ کر رہے ہیں، کہ رہے ہیں کہ ہم ڈاکٹروں کو بھی اس سے علاج کو ترجیح دینی چاہیے۔

ہر چیز کا تو اس طرح سے علاج نہیں ہو سکتا لیکن جس کا ہو سکتا ہے، اسے تو کیمیکلز سے نہ کیا جائے۔ صرف کیمیکل سے علاج کے فلسفہ کی پیروی کرنے کے باعث بہت کم ڈاکٹر ہمدردی اور تسلی سے مریض کی بات سنتے ہیں اور زیادہ تر ایک روبوٹ کی طرح شکایت سنتے سنتے دوائی تحریر کرتے جاتے ہیں۔ اس پر ستم انٹرنیٹ نے ڈھا دی ہے جہاں مریض اپنی بیماری کی ریسرچ کر کے وہ معلومات بھی حاصل کر لیتا ہے جو صرف اس کے ڈاکٹر کے پاس ہونی چاہیے جیسا کہ اس دوائی کا کامیابی کا تناسب کیا ہے، اس بیماری کی علامات عمومی طور پر کیا ہیں اور میری علامات کس بیماری کی نشاندہی کرتی ہیں، اس بیماری کے علاج میں کیا مسائل ہیں؟

اب ان معلومات سے لیس ہو کر مریض جب ڈاکٹر کے پاس پہنچتا ہے تو اس کو ڈاکٹر پر شک ہی رہتا ہے کہ شاید یہ میرا صحیح علاج نہیں کر رہا اور صحیح دوائی نہیں دی۔ اس شک سے پلیسیبو کی طاقت سے تو وہ محروم رہتا ہی ہے بلکہ اصل دواؤں کا بھی شاید اثر کم پڑ جاتا ہے۔ یقین کی طاقت سے ایک ان پڑھ غریب مریض کو رنگین پانی والی بوتل سے بھی آرام آ جاتا ہے (بقول ہماری کام والی خالہ کے، بوتل لگواتے ہی فوراً آرام آ جاتا ہے اور طاقت بحال ہو جاتی ہے ) لیکن اس نعمت سے آج کے ’پڑھے لکھے‘ مریض محروم ہیں۔ احمد جاوید صاحب نے کیا خوب کہا ہے کہ انٹرنیٹ نے نہ ہی لوگوں کو عالم بننے دیا اور نہ ہی جاہل رہنے دیا۔

پلیسیبو کی طاقت سے علاج ہو سکنے کی بات نے عطائیوں کے بارے میں بھی صحت کے پالیسی سازوں میں بحث کا رخ تبدیل کر دیا ہے۔ عطائی چونکہ پابندی کے باعث چھپ کر کام کرتے ہیں اور ڈگری یا لائسنس نہیں رکھتے تو ان کے علاج مضر صحت بھی ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ کم ہی حفضان صحت کے اصولوں کا علم رکھتے ہیں یا اس کی پرواہ نہیں رکھتے۔ ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ انہیں باقاعدہ ایک آدھ سال کی حفظانِ صحت اور بنیادی علاج کی تربیت دے کر اس بات کی تسلی کی جائے کہ وہ کوئی مضر صحت کام نہ کریں اور معمولی بیماری جس میں سادہ دوائیں دینا ہوتی ہیں (جو عمومی طور پر بہت زیادہ ہوتی ہیں اور جہاں پلیسیبو سے بھی کام چل سکتا ہے ) کا علاج باقاعدہ معالج کے طور پر کر سکیں۔

جب دیکھیں کہ بیماری زیادہ ہو رہی ہے تو مریض کو بڑے قصبوں اور شہروں کے ڈاکٹروں کے پاس بھیج سکیں۔ ان کو علاج کا ایک محدود لائسنس دے کر سسٹم میں لا کر نقصان کو کم کریں نہ کہ زبانی طور پر ان پر پابندی لگائیں لیکن ڈیمانڈ اور سپلائی کے مسائل کی وجہ سے اسے روک نہ سکیں۔ ڈاکٹر کی پڑھائی پر اس قدر خرچ ہوتا ہے کہ وہ سستا کام نہیں کر سکتا اور غریب لوگ اس سے علاج کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اس کے علاوہ پانچ سال کی پڑھائی کا انجام اگر شکایات سن کر دس بارہ قسم کی گولیاں اور دو تین ٹیکوں پر ہی ہو تو یہ توپ سے مکھی مارنے والی بات ہے۔

اسی وجہ سے کمپاؤنڈر حضرات تھوڑے ہی عرصے میں صرف سن سن کر بنیادی دوائیں دینا سیکھ جاتے ہیں اور دوردراز علاقوں یا غریب علاقوں میں ’پریکٹس‘ شروع کر دیتے ہیں اور بڑک مارتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب کو ایسی کیا چیز پتہ ہے جو مجھے نہیں پتہ۔ سوچ یہ ہے کہ بغیر اجازت کے بھی تو عطائی خطرناک طریقہ سے کام کر رہے ہیں تو کیوں نہ کچھ دے کر کچھ لے لیا جائے ؛ یعنی محدود لائسنس کے بدلے حفاظتی انتظامات۔ مزید یہ کہ ان میں دو طبقے بن جائیں گے، ایک لائیسنس یافتہ ہیلتھ ورکر اور دوسرے غیر لائسنس یافتہ لہذا لوگ خودبخود تربیت یافتہ کے پاس جائیں گے جس کے پاس لائسنس ہو گا۔

یہ بات تو مصمم ہے کہ چاہے جتنے ڈاکٹر بنا لیں، چک نمبر فلاں فلاں میں تو وہ نہیں جانے والے۔ اکانومسٹ میگزین نے اس پر ایک پوری رپورٹ شائع کی کہ اس کے بغیر چارہ نہیں کیونکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق برصغیر میں اسی فیصد تک معالجوں کے وزٹ عطائیوں کے پاس ہوتے ہیں۔ ورلڈ بینک اور دوسرے امداد دینے والے ادارے اس پر غوروفکر کر رہے ہیں کہ اس تجویز کو تیسری دنیا میں علمی جامہ کیسے پہنایا جائے جہاں ڈاکٹر دیہی علاقوں میں نہیں جاتے۔

تجاویز دی جا رہی ہیں کہ ایک تمام لائسنس یافتہ عطائیوں کو بنیادی مرکز صحت کے ڈاکٹر کے ماتحت کر دیا جائے جسے وہ رپورٹ کریں اور جو ان کی پریکٹس کی نگرانی کرے۔ علاوہ ازیں یہ سارے اپنی پریکٹس کا ڈیٹا بھی فون ایپس کے ذریعہ سسٹم کو بتانے کے پابند ہوں وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ڈاکٹر حضرات اس کے سخت خلاف ہیں کہ آپ چوروں کو چوری کرنے کے اوزاروں سے لیس کر رہے ہیں اور ان کو چوری کا لائسنس دینا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ عربی کے اونٹ والا معاملہ ہو گا کہ اگر ایک مرتبہ جسم کا علم حاصل کیے بغیر (میڈیکل کی طویل تعلیم انسانی جسم کو سمجھنے میں لگتی ہے ) علاج کا راستہ کھول دیا گیا اور اس کو سرکاری سرپرستی دے دی گئی تو پھر اس کو روکا نہیں جا سکے گا اور یہ اصل علاج کو بھی نکال باہر کرے گا۔

اس بات میں بہت وزن ہے جس کے باعث یہ بحث جاری ہے۔ لیکن اس بات کے حمایتی پالیسی ساز کہ رہے ہیں کہ ڈاکٹروں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ علاج عطائیوں کے ذریعے تو پہلے ہی ہو رہا ہے اور صرف سرکاری سرپرستی نہ ملنے سے رُکا نہیں۔ جو نقصان وہ کر رہے ہیں، پابندی اور گرفتاریوں سے رُکنے والا نہیں کیونکہ یہ مال بنانے کا موقع ہے اور اگر آپ ایک کو گرفتار کریں گے تو دوسرا اس کی جگہ لے لے گا۔ ابھی ڈاکٹروں کی برادری میں عزت پریکٹس اور آمدنی سے ہے۔

شہروں میں سینیر ڈاکٹروں کی زیر نگرانی وہ جلد سپیشلائز کر جاتے ہیں اور علاج کی نئی تکنیکوں سے واقف ہو جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے دوردراز علاقوں میں کام ان کو گناہ بے لذت محسوس ہوتا ہے۔ ڈاکٹرز کو چاہیے کہ خود سے کوئی طریقہ وضع کریں جس میں وہ کمیونٹی میں عزت اور سوشل پریشر کے ذریعے دوردراز اور غریبوں کے لئے ڈاکٹرز کو بھجوائیں۔ انسان عزت کے لئے کیا نہیں کرتا، جنگوں میں سب سے آگے حملہ کر کے مارا جاتا ہے کیونکہ بہادری اور جرآت کی کمیونٹی عزت دیتی ہے تو دوردراز علاقوں میں کام کرنا تو اس سے کہیں آسان کام ہے۔

وکٹر ہیوگو کا کہنا ہے کہ اُس آئیڈیا سے طاقتور کوئی چیز نہیں جس کا وقت آ گیا ہو اور اگر عطائیوں کو استعمال کرنے کا وقت آ گیا تو وہ اسے روک نہیں پائیں گے۔ ڈاکٹرز کو چاہیے کہ پلیسییبو کی طاقت جس کو وہ ان عطائیوں سے بہتر سمجھتے ہیں (کیونکہ عطائیوں کے برعکس ان کو معلوم ہے کہ کہاں تک پلیسیبو کام کرتا ہے اور کہاں نہیں ) علاج میں استعمال کریں تاکہ ان عطائیوں کا راستہ بند ہو جو اس طریقہ سے مریضوں کا اعتماد حاصل کر رہے ہیں۔ دوسرا یہ کہ دوردراز میں پریکٹس مسئلوں کا حل خود اپنی کمیونٹی میں ہی نکالیں، چاہے وہ سپیشلائزیشن کوان علاقوں میں تجربہ سے منسلک کر دیں یا اور کسی طریقے سے اس تجربہ کو عزت دیں۔ لیکن یہ تو مشکل کام ہیں، کیوں نہ عطائیوں کے خلاف او پی ڈی بند کر کے ہڑتال کر دی جائے؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •