اشیا کی مرمت کا حق اب چھیننا ہی پڑے گا
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کیسا عنوان ہے؟ مرمت کا حق کیا بلا ہے اور کس نے یہ چھینا ہے کہ اس کی واپسی کی بات کی جا رہی ہے۔ مرمت ہمارے اذہان میں تو کوئی ایسی چیز نہیں جس سے کوئی آپ کو روکتا ہو لیکن یہ ہماری غلط فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سامنے آئے بغیر سرمایہ دارانہ نظام کی پیروکار کمپنیاں یہ حق مختلف طریقوں سے صارفین سے چھیننے میں مصروف ہیں اور آگاہ صارف اس حق کو واپس حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں اور بہت سی سطح پر یہ جنگ جاری ہے۔
گزشتہ زمانے میں مرمت ایک ضروری چیز سمجھی جاتی تھی اور چیزیں تب تک نہیں پھینکی جاتی تھیں جب تک ان کی مرمت ممکن ہوتی تھی لیکن اب ایسا نہیں۔ آلات اب بہت پیچیدہ ہو چکے ہیں اور ان میں سافٹویئر کے استعمال کی وجہ سے آپ یا کوئی عام ٹیکنیشن مرمت خود نہیں کر سکتا بلکہ آپ کو کمپنی کے اپنے مرمتی مراکز پر جانا پڑتا ہے جہاں پر کچھ بنیادی مرمت تو کر دی جاتی ہے لیکن اکثر نئی چیز خرید لینے کا مشورہ دے دیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں کمپنیاں جان بوجھ کر متروکیت کی منصوبہ بندی بھی کرتی ہیں تاکہ صارف نئی چیز خریدنے پر مجبور ہو جائے جیسا کہ ایپل کمپنی پرانے آئی فون کو جان بوجھ کر آہستہ کرتی ہوئی پکڑی گئی تھی اور بعد میں انہوں نے یہ بہانہ بنایا کہ ہم تو اس لیے آہستہ کر رہے تھے کہ کہیں بیٹری زیادہ کرنٹ نکالنے کی وجہ سے خراب نہ ہو جائے۔
Read more

