انسپیکٹروں کو تحائف دے کر ڈیزائن پاس کروانے والے بوئنگ جہازوں کی تباہی

اب دوسرے حادثہ کے بعد بوئنگ کمپنی کے لئے بات کو دوسری طرف موڑنا ممکن نہ رہا۔ اب یہ بات بھی میڈیا میں آئی ہے کہ ایف اے اے کے سیفٹی انسپکٹر بوئنگ کمپنی کے سخت پریشر میں تھے اور جہاز کے ڈیزائن کے حفاظتی چیک، وقت بچانے کے لئے بوئنگ نے خود کر کے صرف ان سے دستخط کروا لیے۔ اب بتایا جا رہا ہے کہ فنڈز کی کمی کی وجہ سے یہ پریکٹس امریکہ میں کافی عرصے سے جاری ہے۔ اب امریکی میڈیا اس بات پر حیران ہے کہ ایک طیارہ ساز کمپنی خود سے ہی اپنے طیاروں کو چیک کر کے اوکے کیسے دے سکتی ہے یہ تو ایسا ہی ہے جیسے کہ ہمارے ہاں سارا فارم فیکٹری والے خود بھرتے ہیں اور پیسے لے کر سینڑی انسپکٹر صرف دستخط کر دیتا ہے اور شور مچنے پر فنڈز اور عملہ کی کمی کا رونا رویا جاتا ہے۔

اب بظاہر تو لوگ اُمید رکھتے ہیں کہ امریکی بوئنگ کمپنی پاکستان کی سوزوکی سے بہتر ہو گی لیکن شاید پیسوں کی بچت جب ترجیح بن جائے تو بڑی بڑی کمپنیاں ایسی حرکات شروع کر دیتی ہیں۔ اب معلوم ہو رہا ہے کہ ایف اے اے کے اہلکار بوئنگ کے دفتر میں ہی بیٹھتے تھے اور ان کے بوئنگ کے ساتھ بڑے زبردست اور دوستانہ تعلقات بن چکے تھے اور بوئنگ ان کے اخراجات بھی اُٹھا رہی تھی اور تحفے تحائف اور سیروتفریح بھی کروا رہی تھی۔ کچھ پاکستان جیسا ہی ماحول بن رہا تھا ریگولیٹر اور کمپنیوں کے بیچ میں۔ لگتا ہے کہ بجائے ہم ان سے کچھ سیکھیں، وہ ہم سے سیکھ رہے ہیں۔ بقول فہمیدہ ریاض کے ؛ تم بالکل ہم جیسے نکلے، اب تک کہاں چھپے تھے بھائی؟

Read more

گھریلو صارفین سے کمرشل سے دگنا تگنا گیس بل کیسے ٹھگا جا رہا ہے؟

سوئی گیس کے جیب خالی کر دینے والے بلوں کی آمد نے متوسط طبقے کو معاشی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اوگرا کا نیا ٹیرف ہے جو گھریلو صارفین کو تھوڑی سی زیادہ گیس استعمال کرنے پر اس کی قیمت کمرشل صارفین سے دگنی لگاتا ہے۔ پچھلے ٹیرف میں تین سو یونٹ سے زائد پر گیس کا ریٹ 600 روپے فی mmbtu تھا جبکہ کمرشل گیس کا ریٹ سات سو mmbtu تھا۔ اب تین سو سے اوپر اور کمرشل دونوں سات سو اسی ہیں۔ لیکن گھریلو صارفین چار سو سے زائد استعمال پر چودہ سو ساٹھ روپے فی mmbtu دیں گے جو کمرشل ریٹ سے بھی دگنا ہے۔

اوگرا کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ گیس اس گھر میں سے لیک ہو گئی ہے، اس گھر میں کتنے نفوس قیام پزیر ہیں (جو کہ غریبوں کے گھر میں جوائنٹ فیملی کی وجہ سے زیادہ ہی ہوتے ہیں ) وغیرہ۔ بس اگر آپ نے تین سو یونٹ خرچ کر دیے تو آپ کمرشل کا ریٹ دیں گے اور اگر تھوڑا ہیٹر یا گیزر سردی کی شدت کی وجہ سے زیادہ چلا بیٹھے تو کمرشل سے تقریباً دگنا ریٹ۔ اب گھریلو صارفین جانے کس جرم کی سزا پا رہے ہیں کہ ان کے لیے گیس کمرشل اور انڈسٹری سے دگنی مہنگی کر دی گئی ہے۔

Read more

ائیر کنڈیشنر کی سروس میں دھوکے سے کیسے بچیں؟

جب سے سپلٹ اے سی آئے ہیں، بل میں تو شاید بچت ہو جاتی ہو لیکن اگر آپ کو شفٹ کرنا پڑے یا ایک مرتبہ ٹیکنیشن کے ہاتھ لگ جائیں تو پھر گیس بھروا بھروا کر بھی پوری ٹھنڈک نصیب نہیں ہوتی۔ پوری مارکیٹ عطائی ٹیکنیشنز سے بھری ہوئی ہے جو تین سال کے HVAC کورس کی جگہ یہ تین دن استاد کے ساتھ لگا کر دو نٹ جوڑنا سیکھ کر مارکیٹ میں کمانے نکل پڑے ہیں اور لوگوں کے اے سی کا بیڑہ غرق شروع کر دیتے ہیں۔ آئیے آپ کو کچھ بنیادی باتوں سے آگاہ کرتے ہیں تاکہ آپ قابل اور نالائق کی پہچان کر سکیں اور ان کے جگاڑ والی مرمت سے اپنے پیسے اور اے سی کو محفوظ رکھ سکیں۔

Read more