ڈگری بے وقعت کیوں ہو رہی ہے؟

ہم سب یہ بات سنتے ہیں کہ ہمارے دادا کے زمانے میں بی اے پاس کرنا کتنا بڑا فخر تھا اور جھٹ سے افسری مل جاتی تھی اور اب ہمارے دور میں تو ایم اے پاس اور اب ایچ ای سی کے زمانے میں تو پی ایچ ڈی بھی دھکے کھاتے پھرتے ہیں۔ ڈگریوں کی بے وقعتی کی وجہ تو ڈگریوں کی تعداد میں اضافہ ہے۔ پہلے بی اے پاس خال خال ہی ملتے تھے، اب کوئی بھی اس سے پہلے جاب مارکیٹ کا رخ نہیں کرتا اور اگر کرتا ہے تو ڈگری ہولڈر کی افراط کے باعث نوکری نہیں لے پاتا۔

کیا پینسٹھ اور اکہتر کی جنگ میں سپاہی کی ڈیوٹی اب سے مختلف ہوتی تھی کہ پہلے اس کے لئے میٹرک پاس ہونا ضروری نہ تھا جو کہ اب ہو گیا ہے؟ کسی فوجی افسر سے پوچھیں تو زیادہ تر سپاہیوں کی ڈیوٹی میں شاید جواب نفی میں ہی ہو گا کیونکہ اس میں غالب یا رابرٹ فراسٹ کی شاعری کو سمجھنے سے کوئی تعلق نہیں۔ آج کی دسویں جماعت میں بیس سال پہلے کی نسبت سے کہیں زیادہ پڑھایا جاتا ہے لیکن یہ پہلے سے کہیں زیادہ بے وقعت ہے۔ ایسا کیوں ہوا کو سمجھنے کے لئے ہمیں پہلے یہ دیکھنا پڑے گا کہ ڈگری درحقیقت ہے کیا؟

Read more

میرے ماموں مظہر کلیم کی پہلی برسی پر اُن کی یاد میں

آج میرے ماموں مظہر کلیم کو ہم سے بچھڑے ہوئے ایک برس گزر چکا ہے۔ دس رمضان المبارک چھبیس مئی دو ہزار اٹھارہ کو صبح سحری کے وقت صرف ایک روز کی علالت کے بعد وہ ہم سے جدا ہو گئے۔ میں نہ یہ سوچا ہے کہ موقع کی مناسبت سے کچھ باتیں آپ کے ساتھ ان کے بارے میں شیئر کروں۔

مجھے زندگی بھر اس بات پر فخر رہا ہے کہ مظہر کلیم ایم اے میرے سگے ماموں ہیں، سکول سے لے کر جاب تک، مجھے ہمیشہ یہ تعارف کرواتے ہوئے خوشی محسوس ہوتی تھی۔ جب میرے سکول کے دوست فرمائش کرتے کہ ہمیں ان کے آٹوگراف والا ناول لا دو تو سر فخر سے بلند ہو جاتا۔ ہم انہیں بڑے ماموں کہتے تھے کیونکہ دو مامووں میں وہ بڑے تھے۔ وہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے، دن میں دیوانی مقدمات کے وکیل، شام میں عمران سیریز کے مصنف اور ریڈیو پاکستان ملتان کے مشہور پروگرام جمہور دی آواز کے اینکر پرسن مظہر سائیں۔

Read more

جعلی دوائی سے اصلی علاج اور عطائی معالجوں کا مسئلہ

امرینہ خان کی ٹویٹ اور اس کے بعد چھڑنے والی سوشل میڈیا کی بحث نے علاج کی سہولیات کے میسر نہ ہونے کا زیادہ تر قصور ان خواتین ڈاکڑز پر ڈال دیا ہے جو میڈیکل کی تعلیم تو حاصل کر لیتی ہیں لیکن بعد میں مختلف وجوہات کی بنا پر کام نہیں کر سکتیں۔ لیکن شہروں میں تو ڈاکٹروں کی اتنی کمی نہیں اگر پرائیویٹ پریکٹس کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ دور دراز کا مسئلہ یہ ہے کہ کم ہی ڈاکٹر بڑے شہروں کو چھوڑ کر قصبات اور دیہات میں کام کرنا چاہتے ہیں خاص طور پر لڑکیاں۔

حالیہ دنوں میں خیبر پختون خواہ میں ڈاکٹروں نے اس بات پر ہڑتال کر دی کہ انہیں بڑے شہروں جیسا کہ پشاور سے اپنے آبائی علاقے میں کیوں پوسٹ کیا جا رہا ہے، وہاں تو ہمارے بچوں کے لئے اچھے سکول بھی نہیں ہیں (بس دادا دادی ہیں لیکن وہ اچھی تعلیم تو نہیں دے سکتے ) ۔ لیکن جب بات گاؤں اور غریب شہری علاقوں میں موجود جعلی عطائی ڈاکٹروں کی ہوتی ہے تو شدت جذبات سے سرخ ہو کر سب ڈاکٹر گورنمنٹ کو ملامت کرتے ہیں کہ ہمارے پسماندہ علاقوں اور شہر کے غریب لوگ عطائیوں کے ہاتھ خراب ہو رہے ہیں اور وہ اس کے لئے کچھ بھی نہیں کرتی۔

Read more

کیا جی ڈی پی کا ہندسہ ترقی ناپنے کا درست پیمانہ ہے؟

ہم آئے روز یہی بات سنتے ہیں کہ وہ قوم یا ملک ترقی نہیں کر سکتا جس کی خواتین لیبر فورس میں نہ ہوں۔ مثالیں بہت دی جاتی ہیں جیسا کہ بنگلہ دیش کی ترقی کا راز ان کی عورتوں کا گارمنٹس انڈسٹری میں کام کرنا ہے وغیرہ۔ عورتوں کے لیبر فورس میں شامل ہونے سے بنگلہ دیش کا جی ڈی پی تو بڑھ رہا ہے لیکن اکانومسٹ جریدے کے مطابق طلاق کی شرح بہت زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ وہ مزید کہتا ہے کہ پہلے عورتیں نوکری کرتی ہیں پھر ان کو ”آئیڈیاز“ آتے ہیں۔

ساتھ ہی وہ اس بڑھتی شرح طلاق کو ”اچھی“ چیز قرار دیتا ہے کہ بنگلہ دیش کی عورتیں تیزی سے لبرل ہو رہی اور وہ ایسی شادیوں کو چلانے میں دلچسپی نہیں رکھتیں جن میں وہ ”مطمئن“ نہیں ہیں۔ خاندان اور بچوں کی خاطر گزارا اور مفاہمت کا جو مشورہ ہمارے بڑے دیتے تھے، شاید اب غلط سمجھا جاتا ہے۔ پہلے صرف طلاق کی وجہ مرد کا مار پیٹ کرنا یا کردار کی خرابی ہونا ہوتا تھا اب صرف ”مطمئن“ نہ ہونے پر طلاق لے لی جاتی ہے۔ جانے کون اس مادی دنیا میں مادہ پرستی کی دوڑ میں مطمئن رہ سکتا ہے چاہے وہ شادی شدہ ہو یا طلاق یافتہ۔

Read more

انسپیکٹروں کو تحائف دے کر ڈیزائن پاس کروانے والے بوئنگ جہازوں کی تباہی

اب دوسرے حادثہ کے بعد بوئنگ کمپنی کے لئے بات کو دوسری طرف موڑنا ممکن نہ رہا۔ اب یہ بات بھی میڈیا میں آئی ہے کہ ایف اے اے کے سیفٹی انسپکٹر بوئنگ کمپنی کے سخت پریشر میں تھے اور جہاز کے ڈیزائن کے حفاظتی چیک، وقت بچانے کے لئے بوئنگ نے خود کر کے صرف ان سے دستخط کروا لیے۔ اب بتایا جا رہا ہے کہ فنڈز کی کمی کی وجہ سے یہ پریکٹس امریکہ میں کافی عرصے سے جاری ہے۔ اب امریکی میڈیا اس بات پر حیران ہے کہ ایک طیارہ ساز کمپنی خود سے ہی اپنے طیاروں کو چیک کر کے اوکے کیسے دے سکتی ہے یہ تو ایسا ہی ہے جیسے کہ ہمارے ہاں سارا فارم فیکٹری والے خود بھرتے ہیں اور پیسے لے کر سینڑی انسپکٹر صرف دستخط کر دیتا ہے اور شور مچنے پر فنڈز اور عملہ کی کمی کا رونا رویا جاتا ہے۔

اب بظاہر تو لوگ اُمید رکھتے ہیں کہ امریکی بوئنگ کمپنی پاکستان کی سوزوکی سے بہتر ہو گی لیکن شاید پیسوں کی بچت جب ترجیح بن جائے تو بڑی بڑی کمپنیاں ایسی حرکات شروع کر دیتی ہیں۔ اب معلوم ہو رہا ہے کہ ایف اے اے کے اہلکار بوئنگ کے دفتر میں ہی بیٹھتے تھے اور ان کے بوئنگ کے ساتھ بڑے زبردست اور دوستانہ تعلقات بن چکے تھے اور بوئنگ ان کے اخراجات بھی اُٹھا رہی تھی اور تحفے تحائف اور سیروتفریح بھی کروا رہی تھی۔ کچھ پاکستان جیسا ہی ماحول بن رہا تھا ریگولیٹر اور کمپنیوں کے بیچ میں۔ لگتا ہے کہ بجائے ہم ان سے کچھ سیکھیں، وہ ہم سے سیکھ رہے ہیں۔ بقول فہمیدہ ریاض کے ؛ تم بالکل ہم جیسے نکلے، اب تک کہاں چھپے تھے بھائی؟

Read more

گھریلو صارفین سے کمرشل سے دگنا تگنا گیس بل کیسے ٹھگا جا رہا ہے؟

سوئی گیس کے جیب خالی کر دینے والے بلوں کی آمد نے متوسط طبقے کو معاشی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اوگرا کا نیا ٹیرف ہے جو گھریلو صارفین کو تھوڑی سی زیادہ گیس استعمال کرنے پر اس کی قیمت کمرشل صارفین سے دگنی لگاتا ہے۔ پچھلے ٹیرف میں تین سو یونٹ سے زائد پر گیس کا ریٹ 600 روپے فی mmbtu تھا جبکہ کمرشل گیس کا ریٹ سات سو mmbtu تھا۔ اب تین سو سے اوپر اور کمرشل دونوں سات سو اسی ہیں۔ لیکن گھریلو صارفین چار سو سے زائد استعمال پر چودہ سو ساٹھ روپے فی mmbtu دیں گے جو کمرشل ریٹ سے بھی دگنا ہے۔

اوگرا کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ گیس اس گھر میں سے لیک ہو گئی ہے، اس گھر میں کتنے نفوس قیام پزیر ہیں (جو کہ غریبوں کے گھر میں جوائنٹ فیملی کی وجہ سے زیادہ ہی ہوتے ہیں ) وغیرہ۔ بس اگر آپ نے تین سو یونٹ خرچ کر دیے تو آپ کمرشل کا ریٹ دیں گے اور اگر تھوڑا ہیٹر یا گیزر سردی کی شدت کی وجہ سے زیادہ چلا بیٹھے تو کمرشل سے تقریباً دگنا ریٹ۔ اب گھریلو صارفین جانے کس جرم کی سزا پا رہے ہیں کہ ان کے لیے گیس کمرشل اور انڈسٹری سے دگنی مہنگی کر دی گئی ہے۔

Read more

ائیر کنڈیشنر کی سروس میں دھوکے سے کیسے بچیں؟

جب سے سپلٹ اے سی آئے ہیں، بل میں تو شاید بچت ہو جاتی ہو لیکن اگر آپ کو شفٹ کرنا پڑے یا ایک مرتبہ ٹیکنیشن کے ہاتھ لگ جائیں تو پھر گیس بھروا بھروا کر بھی پوری ٹھنڈک نصیب نہیں ہوتی۔ پوری مارکیٹ عطائی ٹیکنیشنز سے بھری ہوئی ہے جو تین سال کے HVAC کورس کی جگہ یہ تین دن استاد کے ساتھ لگا کر دو نٹ جوڑنا سیکھ کر مارکیٹ میں کمانے نکل پڑے ہیں اور لوگوں کے اے سی کا بیڑہ غرق شروع کر دیتے ہیں۔ آئیے آپ کو کچھ بنیادی باتوں سے آگاہ کرتے ہیں تاکہ آپ قابل اور نالائق کی پہچان کر سکیں اور ان کے جگاڑ والی مرمت سے اپنے پیسے اور اے سی کو محفوظ رکھ سکیں۔

Read more