اشیا کی مرمت کا حق اب چھیننا ہی پڑے گا

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کیسا عنوان ہے؟ مرمت کا حق کیا بلا ہے اور کس نے یہ چھینا ہے کہ اس کی واپسی کی بات کی جا رہی ہے۔ مرمت ہمارے اذہان میں تو کوئی ایسی چیز نہیں جس سے کوئی آپ کو روکتا ہو لیکن یہ ہماری غلط فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سامنے آئے بغیر سرمایہ دارانہ نظام کی پیروکار کمپنیاں یہ حق مختلف طریقوں سے صارفین سے چھیننے میں مصروف ہیں اور آگاہ صارف اس حق کو واپس حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں اور بہت سی سطح پر یہ جنگ جاری ہے۔

گزشتہ زمانے میں مرمت ایک ضروری چیز سمجھی جاتی تھی اور چیزیں تب تک نہیں پھینکی جاتی تھیں جب تک ان کی مرمت ممکن ہوتی تھی لیکن اب ایسا نہیں۔ آلات اب بہت پیچیدہ ہو چکے ہیں اور ان میں سافٹویئر کے استعمال کی وجہ سے آپ یا کوئی عام ٹیکنیشن مرمت خود نہیں کر سکتا بلکہ آپ کو کمپنی کے اپنے مرمتی مراکز پر جانا پڑتا ہے جہاں پر کچھ بنیادی مرمت تو کر دی جاتی ہے لیکن اکثر نئی چیز خرید لینے کا مشورہ دے دیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں کمپنیاں جان بوجھ کر متروکیت کی منصوبہ بندی بھی کرتی ہیں تاکہ صارف نئی چیز خریدنے پر مجبور ہو جائے جیسا کہ ایپل کمپنی پرانے آئی فون کو جان بوجھ کر آہستہ کرتی ہوئی پکڑی گئی تھی اور بعد میں انہوں نے یہ بہانہ بنایا کہ ہم تو اس لیے آہستہ کر رہے تھے کہ کہیں بیٹری زیادہ کرنٹ نکالنے کی وجہ سے خراب نہ ہو جائے۔

Read more

بجلی کے استعمال پر کیسے نظر رکھیں تاکہ بل قابو میں رہے

مینجمنٹ کا اصول ہے کہ جس چیز کی آپ پیمائش نہیں کر سکتے، اسے قابو بھی نہیں کر سکتے۔ بل کو کم کرنے کا اکلوتا جائز طریقہ بجلی کے خرچ پر ہر وقت نظر رکھنا ہے۔ ہر صارف کو بجلی کے استعمال کے بارے میں بنیادی معلومات ہونی چاہیے تاکہ وہ اپنی بجلی کے خرچ کو صحیح طرح بجٹ کر سکے۔ ہم میٹر دیکھنے کی اکثر زحمت ہی نہیں کرتے اور بل دیکھ کر اچھل پڑتے ہیں۔ بجلی کا میٹر آپ کے لیے نہیں بلکہ واپڈا کے لئے پیمائش کر رہا ہے اور آپ کو اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے میٹر کو پڑھنے کی بجلی سے متعلق کچھ باتیں سمجھنا ہوں گی۔

تھری یا سنگل فیز بجلی : یہ بجلی کی گھر تک رسد کے طریقے ہیں۔ کم لوڈ والے گھر میں عمومی طور پر سنگل فیز سے بجلی دی جاتی ہے اور بڑے گھروں میں تھری فیز سے۔ میٹر ریڈنگ میں فیز کی تعداد سے کوئی فرق نہیں ہوتا۔ تین اے سی تک سنگل فیز عمومی طور پر کارآمد ہوتا ہے۔ اگر آپ کے گھر سنگل فیز میٹر لگا ہوا ہے اور کام چل رہا ہے تو تھری فیز لگوانے کی کوئی ضرورت نہیں۔

Read more

معاشی ترقی کا تصور ایک دھوکہ ہے

ایاز امیر صاحب نے کچھ عرصہ قبل اپنے کالم میں فرمایا تھا کہ دنیا کو کچھ آہستہ ہونا چاہیے۔ یہ ایک انتہائی خوبصورت مشاہدہ تھا اور یقیناً دنیا کے مسائل اس رفتار کی وجہ سے بڑھ رہے ہیں جو سرمایہ دارانہ نظام کو قائم رکھے ہوئے ہے۔ مشہور فرانسیسی فلاسفر برونو لاٹور نے 1988 میں کہا تھا کہ نوع انسانی کے لئے بڑا اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ماڈرن ہوا جائے (یعنی ترقی کی جائے ) یا ایکولوجائز کیا جائے یعنی کہ ماحولیاتی ہم آہنگی پیدا کی جائے۔

یہ سوال آخر کیوں پیدا ہوا کہ دونوں میں سے ایک ہی چیز کا انتخاب کیا جا سکتا ہے؟ کچھ مفکرین اس کی بڑی وجہ سرمایہ دارانہ نظام کو قرار دے رہے ہیں جو کہ ان میں سے صرف ایک چیز کے انتخاب کی گنجائش دیتا ہے۔ چونکہ پچھلے دو تین سو برس میں دنیا مکمل طور پر اس نظام کے پنجے میں آ چکی ہے لہذا اب دنیا اس ”ترقی“ کے راستہ پر گامزن ہے جو کہ بظاہر خوبصورت اور دلکش ہے لیکن اس کا انجام ماحولیاتی تباہی اور نوع انسانی کا شاید خاتمہ ہے۔

Read more

مفتی منیب الرحمان صاحب کا رویت پر اصرار سائنسی طور پر درست ہے

یہ ماڈرن سوچ کہ یہ سائنس کا دور ہے اور مذہب اور سائنس میں سائنس اوپر ہے، عید کے چاند کے تنازع کو دو مولویوں کی بحث سے بڑھا کر اب سائنس بمقابلہ مذہب کی حیثیت دے دی گئی ہے، کہ جب ہم سورج کو ڈوبتا دیکھے بغیر مغرب صرف سائنسی حساب کتاب کی بنیاد پر پڑھ لیتے ہیں، سفید اور کالا دھاگا دیکھے بغیر فجر ادا کر لیتے ہیں تو پھر حساب کتاب کی بنیاد پر قمری کیلنڈر کو کیوں نہیں استوار کر لیتے اور رویت پر اصرار کیوں کرتے ہیں؟

لوگ کہتے ہیں کہ اب سائنسی ترقی سے جب حتمی طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ آج چاند نظر ا جائے گا تو رویت ہلال کمیٹی کا کھڑاگ پالنے کی کیا ضرورت ہے؟ لیکن یہ استدلال سائنس کے مطابق نہیں بلکہ سائنسی حساب کتاب اور عینی شہادت دو مختلف چیزیں ہیں اور حساب کتاب، عینی شہادت کا بدل نہیں ہے بلکہ حساب کتاب گزشتہ عینی شہادتوں کی بنیاد پر آئندہ کی رویت ہلال کا احتمال (ہونے کا چانس) ہے اور پشین گوئی ہے۔ لہذا اس مضمون کا مقصد قارئین کو واضح کرنا ہے کہ مذہب دشمن عناصر یہاں غلط بات کر رہے ہیں اور مذہب اور سائنس میں کوئی تصادم نہیں ہے۔

Read more

پی کے 8303 حادثہ کی تفتیش میں کیا دیکھا جانا چاہیے؟

پی کے 8303 کے حادثے نے 97 جانیں لے لیں۔ نقصان اور زیادہ ہو سکتا تھا لیکن معجزانہ طور پر نا صرف دو مسافر بھی بچ گئے بلکہ نیچے آبادی میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ حادثے کی وجوہات پر حتمی بات تو تفتیشی رپورٹ آنے پر ہی واضح ہو گی لیکن اس پر قیاس آرائی پوری دنیا میں ہو رہی ہے اور ہوابازی کی حفاظت کے ماہرین اس میں بہت دلچسپی لے رہے ہیں اور اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔ اب تک کی تحقیقات نے یہ واضح کیا ہے کہ یہ نظام کی ناکامی ہے کیونکہ حادثات سے بچنے کے لئے تہہ در تہہ نظام بنایا جاتا ہے تاکہ اگر ایک جگہ خرابی ہو تو دوسری سطح پر اس کا سدباب ہو جائے۔ ابھی تک تو پاک فضائیہ کے ماہرین پر مشتمل ٹیم تشکیل دی گئی ہے لیکن آخر یہ حادثات اتنی تواتر سے کیوں ہو رہے ہیں؟

سنہ 1986 میں پی آئی اے کا جہاز کھٹمنڈو میں جلدی راستہ سے اتر کر کپتان کی غلطی سے تباہ ہو گیا۔ 2010 میں ائر بلیو کا جہاز بھی کپتان کی غلطی سے مارگلہ سے ٹکرا گیا۔ بھوجا ائر کا جہاز کپتان کے غلط فیصلہ کے باعث خراب موسم میں لینڈنگ کی کوشش میں گر کر تباہ ہو گیا۔ اتنے فضائی حادثات خاص طور پر ہوابازوں کی غلطیوں کی وجہ سے تو ہم سے کہیں کم ترقی یافتہ ممالک میں بھی نہیں ہوتے، ترقی یافتہ ممالک کی تو بات ہی اور ہے۔ آسٹریلیا کی قوانٹس ائرلائن میں آج تک کسی طیارے کو حادثہ پیش نہیں آیا اور امارات ائرلائن کا صرف ایک طیارہ آج تک حادثے میں تباہ ہوا لیکن اس کریش لینڈنگ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تو کیا ہمارے ہوابازوں میں ایک اشتہار کے مصداق آئیوڈین کی کمی ہے جو پے در پے حادثات ہوتے چلے جا رہے ہیں؟

Read more

کیا کرونا وائرس انسانی ریسرچ اور چھیڑ چھاڑ کی پیداوار ہے؟

نئے کرونا وائرس نے ڈاکٹروں کو چکرا کر رکھ دیا ہے کہ یہ آخر کس طریقے سے انسان کو بیمار کرتا ہے۔ فلو سانس کی نالی پر اٹیک کرتا ہے اور ایبولا خون پر۔ اسی طرح ہر بیماری کی علامات ہیں جو انفیکشن ہونے پر ظاہر ہوتی ہیں اور عمومی طور پر بیمار شخص ہی دوسروں کو بیمار کر سکتا ہے۔ یہ سب اصول  نئے کرونا پر پورے نہیں اتر رہی کیونکہ یہ سانس کی نالیوں پر بھی حملہ آور ہو سکتا ہے تو پیٹ میں آنتوں پر بھی۔ کسی کے دماغ میں اس کے حملے سے ورم آ جاتا ہے تو کسی کا خون اس کے حملے سے جم جاتا ہے۔ لیکن ستم ظریفی یہ کہ بہت سارے لوگوں میں یہ صرف پل کے دوسروں تک پہنچ جاتا ہے لیکن ان کو اس بات کا احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ کسی مرض میں مبتلا ہیں۔

Read more

کرونا وائرس اپنی موت مر جائے گا ، تب تک احتیاط کریں

کرونا وائرس اب پوری دنیا کا ایک ہی موضوع بن چکا ہے. وہیں اس کے بارے میں ابھی پاکستان میں سوشل میڈیا اور عام گپ شپ میں دو رائے بن چکی ہیں. ایک تو وہ حضرات جو کرونا کے بارے میں پڑھ پڑھ کر ہلکان ہو چکے ہیں اور مسلسل احتیاطی تدابیر کر رہے ہیں اور دوسروں کو تلقین کر رہے ہیں. دوسرے وہ جو اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ وہ موت سے نہیں ڈرتے اور جو رات

Read more

ڈگری بے وقعت کیوں ہو رہی ہے؟

ہم سب یہ بات سنتے ہیں کہ ہمارے دادا کے زمانے میں بی اے پاس کرنا کتنا بڑا فخر تھا اور جھٹ سے افسری مل جاتی تھی اور اب ہمارے دور میں تو ایم اے پاس اور اب ایچ ای سی کے زمانے میں تو پی ایچ ڈی بھی دھکے کھاتے پھرتے ہیں۔ ڈگریوں کی بے وقعتی کی وجہ تو ڈگریوں کی تعداد میں اضافہ ہے۔ پہلے بی اے پاس خال خال ہی ملتے تھے، اب کوئی بھی اس سے پہلے جاب مارکیٹ کا رخ نہیں کرتا اور اگر کرتا ہے تو ڈگری ہولڈر کی افراط کے باعث نوکری نہیں لے پاتا۔

کیا پینسٹھ اور اکہتر کی جنگ میں سپاہی کی ڈیوٹی اب سے مختلف ہوتی تھی کہ پہلے اس کے لئے میٹرک پاس ہونا ضروری نہ تھا جو کہ اب ہو گیا ہے؟ کسی فوجی افسر سے پوچھیں تو زیادہ تر سپاہیوں کی ڈیوٹی میں شاید جواب نفی میں ہی ہو گا کیونکہ اس میں غالب یا رابرٹ فراسٹ کی شاعری کو سمجھنے سے کوئی تعلق نہیں۔ آج کی دسویں جماعت میں بیس سال پہلے کی نسبت سے کہیں زیادہ پڑھایا جاتا ہے لیکن یہ پہلے سے کہیں زیادہ بے وقعت ہے۔ ایسا کیوں ہوا کو سمجھنے کے لئے ہمیں پہلے یہ دیکھنا پڑے گا کہ ڈگری درحقیقت ہے کیا؟

Read more

میرے ماموں مظہر کلیم کی پہلی برسی پر اُن کی یاد میں

آج میرے ماموں مظہر کلیم کو ہم سے بچھڑے ہوئے ایک برس گزر چکا ہے۔ دس رمضان المبارک چھبیس مئی دو ہزار اٹھارہ کو صبح سحری کے وقت صرف ایک روز کی علالت کے بعد وہ ہم سے جدا ہو گئے۔ میں نہ یہ سوچا ہے کہ موقع کی مناسبت سے کچھ باتیں آپ کے ساتھ ان کے بارے میں شیئر کروں۔

مجھے زندگی بھر اس بات پر فخر رہا ہے کہ مظہر کلیم ایم اے میرے سگے ماموں ہیں، سکول سے لے کر جاب تک، مجھے ہمیشہ یہ تعارف کرواتے ہوئے خوشی محسوس ہوتی تھی۔ جب میرے سکول کے دوست فرمائش کرتے کہ ہمیں ان کے آٹوگراف والا ناول لا دو تو سر فخر سے بلند ہو جاتا۔ ہم انہیں بڑے ماموں کہتے تھے کیونکہ دو مامووں میں وہ بڑے تھے۔ وہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے، دن میں دیوانی مقدمات کے وکیل، شام میں عمران سیریز کے مصنف اور ریڈیو پاکستان ملتان کے مشہور پروگرام جمہور دی آواز کے اینکر پرسن مظہر سائیں۔

Read more

جعلی دوائی سے اصلی علاج اور عطائی معالجوں کا مسئلہ

امرینہ خان کی ٹویٹ اور اس کے بعد چھڑنے والی سوشل میڈیا کی بحث نے علاج کی سہولیات کے میسر نہ ہونے کا زیادہ تر قصور ان خواتین ڈاکڑز پر ڈال دیا ہے جو میڈیکل کی تعلیم تو حاصل کر لیتی ہیں لیکن بعد میں مختلف وجوہات کی بنا پر کام نہیں کر سکتیں۔ لیکن شہروں میں تو ڈاکٹروں کی اتنی کمی نہیں اگر پرائیویٹ پریکٹس کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ دور دراز کا مسئلہ یہ ہے کہ کم ہی ڈاکٹر بڑے شہروں کو چھوڑ کر قصبات اور دیہات میں کام کرنا چاہتے ہیں خاص طور پر لڑکیاں۔

حالیہ دنوں میں خیبر پختون خواہ میں ڈاکٹروں نے اس بات پر ہڑتال کر دی کہ انہیں بڑے شہروں جیسا کہ پشاور سے اپنے آبائی علاقے میں کیوں پوسٹ کیا جا رہا ہے، وہاں تو ہمارے بچوں کے لئے اچھے سکول بھی نہیں ہیں (بس دادا دادی ہیں لیکن وہ اچھی تعلیم تو نہیں دے سکتے ) ۔ لیکن جب بات گاؤں اور غریب شہری علاقوں میں موجود جعلی عطائی ڈاکٹروں کی ہوتی ہے تو شدت جذبات سے سرخ ہو کر سب ڈاکٹر گورنمنٹ کو ملامت کرتے ہیں کہ ہمارے پسماندہ علاقوں اور شہر کے غریب لوگ عطائیوں کے ہاتھ خراب ہو رہے ہیں اور وہ اس کے لئے کچھ بھی نہیں کرتی۔

Read more

کیا جی ڈی پی کا ہندسہ ترقی ناپنے کا درست پیمانہ ہے؟

ہم آئے روز یہی بات سنتے ہیں کہ وہ قوم یا ملک ترقی نہیں کر سکتا جس کی خواتین لیبر فورس میں نہ ہوں۔ مثالیں بہت دی جاتی ہیں جیسا کہ بنگلہ دیش کی ترقی کا راز ان کی عورتوں کا گارمنٹس انڈسٹری میں کام کرنا ہے وغیرہ۔ عورتوں کے لیبر فورس میں شامل ہونے سے بنگلہ دیش کا جی ڈی پی تو بڑھ رہا ہے لیکن اکانومسٹ جریدے کے مطابق طلاق کی شرح بہت زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ وہ مزید کہتا ہے کہ پہلے عورتیں نوکری کرتی ہیں پھر ان کو ”آئیڈیاز“ آتے ہیں۔

ساتھ ہی وہ اس بڑھتی شرح طلاق کو ”اچھی“ چیز قرار دیتا ہے کہ بنگلہ دیش کی عورتیں تیزی سے لبرل ہو رہی اور وہ ایسی شادیوں کو چلانے میں دلچسپی نہیں رکھتیں جن میں وہ ”مطمئن“ نہیں ہیں۔ خاندان اور بچوں کی خاطر گزارا اور مفاہمت کا جو مشورہ ہمارے بڑے دیتے تھے، شاید اب غلط سمجھا جاتا ہے۔ پہلے صرف طلاق کی وجہ مرد کا مار پیٹ کرنا یا کردار کی خرابی ہونا ہوتا تھا اب صرف ”مطمئن“ نہ ہونے پر طلاق لے لی جاتی ہے۔ جانے کون اس مادی دنیا میں مادہ پرستی کی دوڑ میں مطمئن رہ سکتا ہے چاہے وہ شادی شدہ ہو یا طلاق یافتہ۔

Read more

انسپیکٹروں کو تحائف دے کر ڈیزائن پاس کروانے والے بوئنگ جہازوں کی تباہی

اب دوسرے حادثہ کے بعد بوئنگ کمپنی کے لئے بات کو دوسری طرف موڑنا ممکن نہ رہا۔ اب یہ بات بھی میڈیا میں آئی ہے کہ ایف اے اے کے سیفٹی انسپکٹر بوئنگ کمپنی کے سخت پریشر میں تھے اور جہاز کے ڈیزائن کے حفاظتی چیک، وقت بچانے کے لئے بوئنگ نے خود کر کے صرف ان سے دستخط کروا لیے۔ اب بتایا جا رہا ہے کہ فنڈز کی کمی کی وجہ سے یہ پریکٹس امریکہ میں کافی عرصے سے جاری ہے۔ اب امریکی میڈیا اس بات پر حیران ہے کہ ایک طیارہ ساز کمپنی خود سے ہی اپنے طیاروں کو چیک کر کے اوکے کیسے دے سکتی ہے یہ تو ایسا ہی ہے جیسے کہ ہمارے ہاں سارا فارم فیکٹری والے خود بھرتے ہیں اور پیسے لے کر سینڑی انسپکٹر صرف دستخط کر دیتا ہے اور شور مچنے پر فنڈز اور عملہ کی کمی کا رونا رویا جاتا ہے۔

اب بظاہر تو لوگ اُمید رکھتے ہیں کہ امریکی بوئنگ کمپنی پاکستان کی سوزوکی سے بہتر ہو گی لیکن شاید پیسوں کی بچت جب ترجیح بن جائے تو بڑی بڑی کمپنیاں ایسی حرکات شروع کر دیتی ہیں۔ اب معلوم ہو رہا ہے کہ ایف اے اے کے اہلکار بوئنگ کے دفتر میں ہی بیٹھتے تھے اور ان کے بوئنگ کے ساتھ بڑے زبردست اور دوستانہ تعلقات بن چکے تھے اور بوئنگ ان کے اخراجات بھی اُٹھا رہی تھی اور تحفے تحائف اور سیروتفریح بھی کروا رہی تھی۔ کچھ پاکستان جیسا ہی ماحول بن رہا تھا ریگولیٹر اور کمپنیوں کے بیچ میں۔ لگتا ہے کہ بجائے ہم ان سے کچھ سیکھیں، وہ ہم سے سیکھ رہے ہیں۔ بقول فہمیدہ ریاض کے ؛ تم بالکل ہم جیسے نکلے، اب تک کہاں چھپے تھے بھائی؟

Read more

گھریلو صارفین سے کمرشل سے دگنا تگنا گیس بل کیسے ٹھگا جا رہا ہے؟

سوئی گیس کے جیب خالی کر دینے والے بلوں کی آمد نے متوسط طبقے کو معاشی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اوگرا کا نیا ٹیرف ہے جو گھریلو صارفین کو تھوڑی سی زیادہ گیس استعمال کرنے پر اس کی قیمت کمرشل صارفین سے دگنی لگاتا ہے۔ پچھلے ٹیرف میں تین سو یونٹ سے زائد پر گیس کا ریٹ 600 روپے فی mmbtu تھا جبکہ کمرشل گیس کا ریٹ سات سو mmbtu تھا۔ اب تین سو سے اوپر اور کمرشل دونوں سات سو اسی ہیں۔ لیکن گھریلو صارفین چار سو سے زائد استعمال پر چودہ سو ساٹھ روپے فی mmbtu دیں گے جو کمرشل ریٹ سے بھی دگنا ہے۔

اوگرا کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ گیس اس گھر میں سے لیک ہو گئی ہے، اس گھر میں کتنے نفوس قیام پزیر ہیں (جو کہ غریبوں کے گھر میں جوائنٹ فیملی کی وجہ سے زیادہ ہی ہوتے ہیں ) وغیرہ۔ بس اگر آپ نے تین سو یونٹ خرچ کر دیے تو آپ کمرشل کا ریٹ دیں گے اور اگر تھوڑا ہیٹر یا گیزر سردی کی شدت کی وجہ سے زیادہ چلا بیٹھے تو کمرشل سے تقریباً دگنا ریٹ۔ اب گھریلو صارفین جانے کس جرم کی سزا پا رہے ہیں کہ ان کے لیے گیس کمرشل اور انڈسٹری سے دگنی مہنگی کر دی گئی ہے۔

Read more

ائیر کنڈیشنر کی سروس میں دھوکے سے کیسے بچیں؟

جب سے سپلٹ اے سی آئے ہیں، بل میں تو شاید بچت ہو جاتی ہو لیکن اگر آپ کو شفٹ کرنا پڑے یا ایک مرتبہ ٹیکنیشن کے ہاتھ لگ جائیں تو پھر گیس بھروا بھروا کر بھی پوری ٹھنڈک نصیب نہیں ہوتی۔ پوری مارکیٹ عطائی ٹیکنیشنز سے بھری ہوئی ہے جو تین سال کے HVAC کورس کی جگہ یہ تین دن استاد کے ساتھ لگا کر دو نٹ جوڑنا سیکھ کر مارکیٹ میں کمانے نکل پڑے ہیں اور لوگوں کے اے سی کا بیڑہ غرق شروع کر دیتے ہیں۔ آئیے آپ کو کچھ بنیادی باتوں سے آگاہ کرتے ہیں تاکہ آپ قابل اور نالائق کی پہچان کر سکیں اور ان کے جگاڑ والی مرمت سے اپنے پیسے اور اے سی کو محفوظ رکھ سکیں۔

Read more