نلتر کی سات رنگی جھیل اور دوسرے رنگ


\"safdar-ali-safdar\"گلگت بلتستان کے ضلع غذر کی حسین وادیاں پھنڈر، شندور، خلتی اور یاسین درکوت کی تفصیلی سیرکے بعد اگلے مرحلے میں دیوسائی یاترا کا ارادہ تھا، مگردرکوت سے واپسی پر دفتر پہنچتے ہی وادی نلتر کی جانب سفرکا حکم مل گیا۔ دیوسائی کے پلان کی منسوخی پر مایوسی کے عالم میں دل میں دفتری انتظامیہ کو یہ کہتے ہوئے خوب کوسا کہ نلتر بھی کوئی دیکھنے والی جگہ ہے ۔ کیونکہ میں بھی کسی اجنبی کی طرح یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ نلترگرمیوں کے موسم میں سیاحت کے لئے موزوں جگہ ہی نہیں، ہاں البتہ سردیوں میں سکی کھیل کی وجہ سے اس علاقے کی خاصی شہرت ہے۔

لیکن مجھے اپنی غلط فہمی کا احساس اس وقت ہوا جب میں نلتر کے آخری کونے میں واقع ’’سات رنگی جھیل‘‘ کے کنارے ایک پتھر پر بیٹھ کر جھیل کے نظارے میں ڈوب کریہ گمان کررہا تھا کہ دنیا تو بس یہی ہے۔ تب مجھے یہ احساس ہوا کہ گلگت بلتستان کی حسین ترین وادیاں اگرسیاحوں کی جنت ہیں تو نلتر کی یہ خوبصورت جھیل کا منظر میری نظر میں بہشت بریں ہی ہو سکتا ہے۔

ہم ہلال احمر پاکستان کے گلگت بلتستان برانچ کی جانب سے منعقدہ یوتھ کیمپ میں شرکت کے سلسلے میں نلتر جا رہے تھے۔ گلگت شہر سے\"nalter مختلف اضلاع سے آئے ہوئے یوتھ کیمپ کے شرکاء کا قافلہ سہ پہرتین بجے نلتر کی طرف روانہ ہوا۔ نلترویلی گلگت شہر سے کم وبیش چالیس کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے، لیکن روڑکی خستہ حالی کے باعث نلترکا سفرخاصا طویل لگتا ہے۔

گلگت سے نلتردو اطراف سے راستے جاتے ہیں ، جو نومل میں جاکے آپس میں ملتے ہیں۔ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی سے بائیں جانب چھلمش داس سے نومل جانے والی سڑک انتہائی خستہ حالی کا شکار ہونے کے سبب زیادہ تر سیاح نلتر جانے کے لئے دنیور سائیڈ سے براستہ شاہراہ قراقرم نومل جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ نومل گاؤں کے اختتام پر واقع پولیس چوکی کراس کرنے کے بعد نلتر کی حدود شروع ہو جاتی ہے، جس کی آخری سرحد گلگت بلتستان کے دیگر علاقوں کے نالہ جات سے ملتی ہے۔

نلتر ویلی مختلف حوالوں سے اہمیت کی حامل ہے۔ اول یہ کہ نلتر گلگت شہراور مضافاتی علاقوں کے مکینوں کو اندھیری رات میں روشنی فراہم کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ 2007 میں سابق صدر پرویز مشرف کے دورحکومت میں ہمسایہ ملک چین کے تعاون سے نلترمیں اٹھارہ میگاواٹ ہائیڈرو پاور پلانٹ تعمیر کیا گیا۔ اس پلانٹ کی دیکھ بال کا انتظام جب تک چینی ماہرین کے ذمے تھا، وہاں سے گلگت شہر اور مضافاتی علاقوں کو وافرمقدار میں بلا تعطل بجلی فراہم کی جاتی رہی، مگر جب سے چینی ماہرین سے یہ ذمہ داری اٹھا کر مقامی محکمہ پانی وبجلی کے سپردکی گئی، تب سے عوام پر لوڈشیڈنگ کا عذاب نازل ہونا شروع ہو گیا۔ یوں آہستہ آہستہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ گرمیوں میں چھ سے آٹھ جب کہ سردیوں میں بیس گھنٹے سے بھی تجاوزکرگیا۔ جبکہ نلترپائین کے قریب واقع دوچھوٹے درجے کے بجلی گھروں سے مجموعی طورپر 2.28 میگاواٹ بجلی کی فراہمی اس کے علاوہ تھی۔

گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت اور محکمہ بجلی کے حکام گلگت میں اس قدرطویل لوڈشیڈنگ کے اسباب نلترمیں واقع بجلی گھروں \"nalterکے2010اور اس کے بعد وقتاً فوقتاً وقوع پذیر ہونے والی قدرتی آفات کی زد میں آنے اورصارفین کی تعداد میں اضافہ قراردیتے ہیں۔ تاہم حکومت کی جانب سے اس مسئلے پر قابو پانے کی غرض سے نلترمیں بجلی کے دونئے منصوبے شروع  کئے گئے، جن کے حوالے سے بتایا جارہا ہے کہ ایک کے پاس سولہ اور دوسرے کے پاس چودہ میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہو گی۔

نلتروادی کی دوسری اہمیت سکی کھیل کی بدولت ہے۔ سردیوں میں نلترمیں خاصی برفباری ہوجاتی ہے، جہاں پر پاکستان ایئرفورس کی جانب سے ہرسال سکی مقابلے منعقد کئے جاتے ہیں۔ اس کھیل سے لطف اندوزہونے کے لئے ملکی وغیرملکی شائقین کی ایک کثیرتعداد ٹھٹھرتی سردی کے باوجود نلتر کا رخ کرلیتے ہیں اور سکی سے خوب لطف اٹھاتے ہیں۔

نلترکا سکی چیئرلفٹ اگرچہ انتہائی خطرناک ہے، مگراسی چیئرلفٹ پر پریکٹس کرتے کرتے نلتر ہی کے چند مقامی نوجوانوں نے عالمی سطح پر منعقد ہونے والے سکی چمپئن شپس میں کمال کرتب دکھا کر پاکستان اور گلگت بلتستان کا نام فخر سے بلند کر دیا، جن میں ضلع غذر سے تعلق رکھنے والی دو بہنیں آمنہ ولی اور عارفہ ولی کا نام بھی شامل ہیں۔

تیسری اہم بات، نلترکا قدرتی حسن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے گلگت بلتستان کے دیگرعلاقوں کی طرح نلترکو بھی بے پناہ قدرتی حسن سے نوازا ہے۔ \"nalter3\"یہاں کا پرفضاء ماحول، گنے جنگل، سرسبزوشاداب وادیاں، شفاف چشمے، دودھ جیسی نہریں، برف پوش پہاڑ، گنگناتی ندیاں، رنگ برنگی جھلیں، شفائیت سے بھرپور جڑی بوٹیاں اور نایاب نسل کی جنگلی حیات نلترکی خوبصورتی کی نکھار ہے۔

علاوہ ازیں ، نلترکے آلو کی تو بات ہی کچھ اور ہے۔ نلتربالامیں صرف آلو کاشت کی جاتی ہے ۔ اس سے مقامی زمیندار اپنی ضرورت کا حصہ اٹھانے کے بعد باقی ماندہ ملک کے دیگر علاقوں میں درآمد کر کے اچھا خاصا سرمایہ کماتے ہیں۔ نلتر بالا میں داخل ہوتے ہی دائیں جانب آلو کے کھیت جبکہ بائیں جانب گنے جنگل کے درمیان سکی چیئرلفٹ پر نظر پڑ جاتا ہے، جسے دیکھ  کر دل سے بے ساختہ یہ صدا نکل آتی ہے کہ’’یااللہ تیری قدرت کا شکریہ‘‘۔

سکی چیئرلفٹ کے ساتھ پاکستان ایئرفورس کا کیمپ واقع ہے، جہاں پر ائیرفورس کا عملہ سال بھر موجود رہتا ہے۔ ساتھ ہی آرمی پبلک سکول ہے جہاں سے نلترکے طلباء معیاری تعلیم سے مستفید ہو رہے ہیں۔ گزشتہ برس مئی کے مہینے میں بدقسمتی سے اس سکول پر ایک ہیلی کاپٹر گرکر تباہ ہوا، جس کے نتیجے میں ناروے اورفلپائین کے سفرااورملائشیاء اور انڈونیشیاء کے سفراکی بیگمات سمیت آٹھ افراد لقمہ اجل بن گئے۔ جو مختلف نوعیت کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے سلسلے میں گلگت بلتستان کے تین روزہ دورے پر آرہے تھے اور نلتر میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف سے نلترمیں ان کی ملاقات طے ہوئی تھی۔

بعدازاں پاکستان میں واقع ناروے کے سفارتخانے کی جانب سے اس حادثے میں جاں بحق اپنے سابق سفیرLeif H Larsenکے نام پر ضلع ہنزہ کے گاؤں التت میں آغاخان فاؤنڈیشن کے تعاون سے ایک میوزک سکول قائم کیا گیا، جہاں پر نوجوانوں کو مقامی موسیقی کی تربیت فراہم کی جارہی ہے۔ جوکہ حکومت ناروے کی جانب سے گلگت بلتستان کے عوام کے لئے تحفہ سے کم نہیں۔

\"nalter5\"

نلتر میں قیام کے دوران ایک دن ہمیں پیدل چار گھنٹے کا سفر طے کرکے نلترکے آخری کونے تک جانے کا اتفاق ہوا، جوکہ یوتھ کیمپ کی سرگرمیوں کا ایک حصہ تھا۔ سفر انتہائی مشکل مگر یادگار رہا۔ راستے میں مختلف مقامات سے لطف اندوزی کے بعد بالآخرایک ایسی جگہ پہنچے جو واقعی دیکھنے کے قابل تھی۔

جی ہاں یہ وہی جگہ تھی جہاں پر نلترکی ’’سات رنگی جھیل‘‘ واقع ہے۔ ہم دوپہر بارہ بجے کے قریب جھیل کے کنارے پہنچ چکے تھے ، جبکہ ہم سے پہلے وہاں پر مقامی وغیرمقامی سیاحوں کی کافی تعدادموجود تھی۔ جھیل کے کنارے چند چھوٹے چھوٹے ہوٹلز بنائے گئے ہیں، جہاں کی انتظامیہ مہمانوں سے خندہ پیشانی سے پیش آ تی ہے اور خدمت میں کسی قسم کی شکایت کا موقع نہیں دیتی۔

جھیل پر چونکہ موسم خاصا سرد اور ساتھ ساتھ ٹھنڈی ہوائیں بھی چل رہی تھیں تو ایسے میں نمکین چائے ہی بہترین دوا بن سکتی تھی۔ ہم ہوٹل کے باہرکچھ دیر بیٹھے جھیل کا نظارہ کر رہے تھے ، اتنے میں ویٹر چائے لئے حاضر ہوا تو میں نے اس سے جھیل کا نام پوچھ لیا۔ جس پروہ بولنے لگے ، سر یہ ’’سات رنگی جھیل ‘‘ کہلاتی ہے۔ میں نے جب اس نام کی پوشیدہ حقیقت کے بارے میں استفسار کیا تو کہنے لگا کہ اس جھیل پر جب دھوپ پڑجاتی ہے تو سات مختلف رنگ نمایاں نظر آتے ہیں۔

تھوڑی دیرمیں جب بادلوں کے درمیان سے اچانک دھوپ نکل آئی اورسورج کی کرنیں جھیل پر چھائی رہیں توایک خواب کی مانند جھیل میں \"nalter4\"مختلف رنگ نمایاں ہوئے، پر نہ جانے یہ رنگ کتنے اقسام کے تھے، یہ ہم معلوم نہ کر سکے۔ ہم سب ناکام عاشقوں کی طرح جھیل کے نظارے میں اس قدر ڈوبے رہے جیسا کہ سمندرکی مچھلی ہو۔ کوئی یہ نہیں چاہ رہا تھا کہ اس قدر حسین وجمیل ماحول چھوڑ کر واپسی کے سفرپر روانہ ہوں، لیکن چونکہ شام ڈھلنے سے پہلے واپس سنٹر نلتر پہنچ جانے کا شیڈول طے ہواتھا تو بحالت مجبوری واپسی اختیارکرنی پڑی۔

شام کو سنٹر نلتر میں اپنے قیام گاہ پہنچے تواسلام آباد سے ہلال احمرپاکستان کے اعلیٰ افسران بھی تشریف فرما تھے۔ جنہیں موبائل میں جھیل کی تصویریں اور سیلفیاں دیکھنے کے باوجودیہ یقین نہیں آ رہا تھا کہ نلتر میں بھی ایسے سیاحتی مقامات موجود ہیں۔ بہرحال صبح سویرے وہ بھی ’’سات رنگی جھیل‘‘ کی طرف روانہ ہوئے اور ہماری طرح وہ بھی جھیل کے نظارے میں کھوئے کھوئے مجبوری کے عالم میں شام کو واپس لوٹ گئے۔

یہ تھی نلترکی خوبصورتی اور قدرت کے کمالات کی داستان۔ اب باقی ماندہ سطورمیں ہم نلترکے مسائل پر نظر دوڑائیں گے۔ جن میں سب سے اہم مسئلہ نلتر جانے والی سڑک کی خستہ حالی کا ہے۔ یہ روڈ گلگت شہراور نلتر کے درمیان زمینی رابطے کا واحد ذریعہ ہے، جس پر نلترکے مقامی لوگوں کے علاوہ سیاحوں کی ایک بڑی تعداد ہرموسم میں سفر کرتی ہے۔

2010سے قبل یہ سڑک سفرکے لئے کچھ آسان تھی ، مگر2010 اور بعد میں آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے تو روڈ کا کباڑہ کردیا۔ سڑک کی خستہ حالی دیکھ کر ایک مرتبہ نلتر کی سیرکرنے والا دوسری مرتبہ وہاں جانے سے توبہ کر لیتا ہے۔ جس سے نلترکی سیاحت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

علاوہ ازیں، نلترمیں بنیادی صحت، تعلیم اور دیگر سہولیات بھی نہ ہونے کے برابرہیں۔ ہماری موجودگی میں استور سے آئے ہوئے ایک سیاح \"nalter6\"کو موٹرسائیکل حادثے میں سخت چوٹیں آئیں ، لیکن اسے طبی امداد دینے کے لئے مقامی سطح پرکوئی انتظام موجود نہیں تھا۔ تاہم خوش قسمتی سے ہمارے ساتھ ہلال احمر کے شعبہ ابتدائی طبی امدادکا عملہ موجود تھا، جس کی بدولت زخمی شخص کی زندگی خطرے سے بچ گئی اور ہلال احمر کے ایمبولینس میں انہیں بروقت گلگت ہسپتال پہنچادیا گیا۔

نلتر جیسے دشوارگزار علاقے میں اس طرح کے واقعات آئے روز رونما ہو سکتے ہیں، لیکن ہروقت ہلال احمر کی خدمات دستیاب نہیں ہوسکتیں۔ لہذا گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کو ان مسائل پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے، تاکہ نلتر کی سیاحت ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

 

Facebook Comments HS