سیاست میں مائنس اور پلس کے فارمولے نہیں چلتے


\"alamdarالطاف حسین نے بات کوئی نئی نہیں کی تھی ہاں البتہ ایک نعرہ ایسا لگوا دیا کہ جسے ادھر آسانی سے ہضم نہیں کیا جا سکتا تھا اسی لئے متعلقہ اور غیر متعلقہ حکومتی ادارے خلاف معمول فوری طور پر حرکت میں آ گئے اور ایم کیو ایم اس قدر دفاعی حالت میں چلی گئی کہ اسے بظاہر الطاف حسین کے اس قول و فعل سے لاتعللقی کآ اعلان کرنے کے اور کوئی چارہ نظر نہ آیآ۔ بریکنگ نیوز کے رسیا مائینس ون کا اعلان کرنےلگے اور ڈاکٹر فاروق ستار جیسے شریف آدمی کو اس جماعت کا نیا خود مختار سربراہ سمجھ بیٹھے لیکن ان کی یہ غلط فہمی چند ساعتوں ہی میں دور کردی گئی اور لندن سے وضاحت آگئی کہ کس کی مجال ہےکہ مائینس ون کر سکے گویا پرنالہ وہیں ہے البتہ زائد پانی کی نکاسی کا کوئی اور بندوبست ضرور کیا جا سکتا ہے ۔ اہل ابلاغ عامہ سے غلطی فاروق ستار کے بیان کے بین السطور مطالعے میں بھی ہوئی انہوں نے نہ صرف لطاف بھائی کی مودب تکرار جاری رکھی تھی بلکہ لاتعلقی کا اعلان اپنے الطاف بھائی کے مذکورہ قول و عمل سے کیا تھا ان کی ذات سے لاتعللقی اور مائینس ون کے سوال کا جواب وہ گول کر گئے ایک صحافی بھائی کے اصرار پر جب انہوں نے مظلومانہ یہ کہا کہ۔۔۔ اب آپ میری جان ہی لیں گے؟ تو کچھ نہ کہہ کر بھی بہت کچھ کہہ گئے جان واقعی بہت پیاری چیز ہے۔ وہ اپنی طبعی شرافت کے باعث اب تک محفوظ رہے ہیں اللہ آئندہ بھی انھیں محفوظ رکھے۔

 ایم کیو ایم الطاف حسین اور فاروق ستار کے مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں اور خبروں افواہوں کا بازار خوب گرم ہے حب وطن کا شدید درد رکھنے والے لوگ مطابہ کناں ہیں کہ اس جماعت اور اس کے لیڈروں پر فوری پابندی لگنی چاہئے جب کہ ایک مضبوط رائے یہ بھی ہے کہ ایسی پابندیاں عفریت کی زیادہ خوف ناک ماہئیت قلبی کا باعث بنتی رہی ہیں اس لئے اس کا نقصان زیادہ ہو گا ۔۔۔ یہ ایک گرم بحث ہے جو ابلاغ گھروں کی گہماگہمی کچھ عرصہ برقرار رکھے گی اور ہمیں اس کار بےسود پر کوئی اعتراض نہیں ۔

 ہمارے خیال میں زیادہ اہم اور خوفناک امر یہ ہے کے پاکستان کے کروڑوں کی آبادی والے اور ہزاروں کروڑ پتیوں کے شہر میں سینکڑوں لوگوں نے سات سمندر پار بیٹھے ایک پناہ گیر کے اکسانے اور کہنے پر ملک کے خلاف ایسے نعرے لگاتے ہوئے کئی ٹی وی چینلوں پر دھاوا کیا کہ جن کے دہرانے پر بھی ملک سے غداری کا مقدمہ قائم ہوسکتا ہے ۔۔۔ یہاں اس بارے میں کوئی رائے دینا مقصود نہیں ۔ مسئلہ یہ ہے کہ نعرے لگانے والے اس ملک کا مصدقہ شناختی کارڈ رکھنے والے اور اس شہر کی سب سے بڑی جماعت کے نئے اور لڑانے کارکن تھے جن میں سے کسی نے بھی اس قبیح عمل پر شرمندگی کا کوئی اظہار نہیں کیا ۔۔۔ ان کی نمائیندگی لندن سے اس جماعت کے ایک معتبر رہنما واسع جلیل نے اسی روز شام کو کر دی اور ایک چینل کے پروگرام میں الطاف کی تقریر اور نعروں پر شرمندگی کا اظہار کرنے کی بجائے اس کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی تو جناب والا فاروق ستار کے نسخوں سے بیماری کا کوئی علاج تو ہونے والا ہے نہیں۔ ادھر ایک عرصے سے حب الوطنی کے چیمپئن بالتکرار ایسی صورت حال سے نمٹنے کے لئے تمام اختیارات ان کو سونپنے کا تقاضا کر رہے ہیں جن کی تربیت ایسے کاموں کےلئے نہیں ہوئی لیکن بااختیار سیاست دانوں کی ہوس زر و جاہ کی الم نشرح داستانوں کے باعث کم امیدوں اور کم اندیشوں کی نظریں بوجوہ ادھر ہی اٹھتی ہیں اور 1971 کے المیے کو بھلا دیا جاتا ہے جب سارے اختیارات اور پالیسیاں اس ادارے کے کچھ پرانے سینئرز کے پاس تھیں ۔ لیکن کجھ افراد کے پیچھے جمع شدہ – غیر منظم سیاسی بھیڑ بھاڑ کو لوگ اپنے دلوں اور ذہنوں سےکوئی ایسی سیاسی جماعت تسلیم کر نہیں پا رہے جو ان کے سکھوں اور پریشانیوں کا مداوا کر سکے اس لئے وہ بار بار دکھ سہنے کے باوجود منظم اور طاقتور اداروں اور تنظیموں کی طرف دیکھتے ہیں ۔۔۔ اس لئے تحریر وتقریر کے سبھی ذرائع ابلاغ عامہ اور سوشل میڈیا پر کھلے دل اور وسیع قلب و نظر کے ساتھ کافی اور کھلے مکالمے کے آغاز کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ پاکستانیوں کو معاملات سلطنت میں شرکت کا احساس ہو سکے کہ تمام معاملات کا حل یہیں سے نکل سکتا ہے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر علمدار حسین بخاری

ڈاکٹر علم دار حسین بخاری بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے بطور پروفیسر اور ڈائریکٹر سرائیکی ایریا سٹڈی سینٹر ریٹائرڈ ہوئے ۔۔ ایک عرصہ صحافت سے بھی تعلق رہا کالم نویسی کی. تنقیدی و تحقیقی مقالات تحریر کئے. افسانہ نگاری و ناول نگاری کی ۔۔ آج کل تصنیف و تالیف پر توجہ ہے۔

alamdar-hussain-bukhari has 5 posts and counting.See all posts by alamdar-hussain-bukhari