کیا جنوبی ایشا میں اقتصادی یونین ممکن ہے؟

\"mujahidاسلام آباد میں آٹھ جنوبی ایشیائی ملکوں پر مشتمل سارک SAARC وزرائے خزانہ کی دو روزہ کانفرنس کے اختتام پر علاقائی معاشی تعاون اور باہمی تجارت میں اضافہ کی امید ظاہر کی گئی ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کانفرنس ختم ہونے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امید افزا باتیں کیں اور قرار دیا کہ اگر باہمی تعاون میں فروغ جاری رہا تو جلد ہی جنوبی ایشیا اقتصادی یونین کا قیام عمل میں آسکتا ہے۔ کسی بھی اجلاس کے بارے میں امید افزا باتیں کرنا یا مستقبل کے بارے میں توقعات وابستہ کرلینا کوئی بری بات نہیں ہے لیکن جس اقتصادی ہم آہنگی اور علاقائی تعاون کے فروغ کے لئے تیس برس قبل سارک کے نام سے آٹھ ممالک نے یہ تنظیم قائم کی تھی ، وہ انہیں حاصل کرنے میں ابھی تک ناکام ہے۔

سارک وزرائے خزانہ کے اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں آٹھ میں سے چار ممالک نے وزیر خزانہ بھیجنے سے گریز کیا تھا۔ ان میں بھارت کے علاوہ افغانستان ، بنگلہ دیش اور مالدیپ شامل ہیں۔ پاکستان میزبان تھا۔ اس طرح صرف بھوٹان، نیپال اور سری لنکا کے وزرائے خزانہ اس اجلاس میں شریک تھے۔ باقی ملکوں کی نمائیندگی یا تو متعلقہ محکمہ کے سیکرٹری نے کی یا اسلام آباد میں ان ملکوں کے سفیر اجلاس میں شریک ہوئے۔ اس طرح یہ کانفرنس آغاز سے پہلے ہی ناکامی کی طرف گامزن ہو چکی تھی۔ وزیر اعظم اور وزیر خزانہ نے سارک کے مستقبل اور علاقائی ملکوں کے درمیان تجارت کے فروغ اور معاشی تعاون میں اضافہ کے بارے میں امید افزا باتیں ضرور کی ہیں۔ لیکن یہ ساری باتیں گزشتہ تیس برس سے دہرائی جا رہی ہیں۔ لیکن نہ تو فیصلوں پر عمل ہوتا ہے اور نہ ہی بد اعتمادی کی فضا ختم ہو سکی ہے۔ اب نومبر میں سارک ملکوں کی سربراہی کانفرنس منعقد ہوگی۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر جو کشیدگی سامنے آئی ہے، اس کی روشنی میں یہ گمان کرنا مشکل ہے کہ بھارت کے نریندر مودی اس سربراہی اجلاس میں شریک ہوں گے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے وزرائے خزانہ کانفرنس کے بعد امید ظاہر کی کہ رکن ممالک متفقہ ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے جنوبی ایشائی اقتصادی یونین کی طرف قدم بڑھائیں گے۔ یہ اصطلاح یورپی یونین کے تناظر میں استعمال کی جاتی ہے ۔ 28 یورپی ملکوں کے معاشی اتحاد نے گزشتہ تیس برس میں باہمی تعاون کی قابل ذکر مثال قائم کی ہے۔ اس کے باوجود مختلف امور پرسیاسی اختلافات کی وجہ سے اس یونین میں بھی پھوٹ کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ برطانیہ نے حال ہی میں یورپی یونین سے نکلنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ دوسرے کئی ملکوں میں بھی یونین مخالف جذبات پائے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود اس یونین کی کامیابی کی واحد وجہ یہ تھی کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپی ملکوں میں یہ احساس اجاگر ہؤا تھا کہ جنگ سے مسائل حل نہیں کئے جا سکتے ۔ اس کے لئے اقتصادی ترقی اور تعاون بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اس بنیادی سیاسی اصول پر اتفاق رائے کے بعد یورپ میں اقتصادی تعاون کے لئے اشتراک اور اتحاد کا آغاز ہؤا تھا۔ یورپ میں ایک دوسرے ملکوں میں آنے جانے کے لئے ویزا کی شرط موجود نہیں ہے اور نہ ہی بعض سیاسی اختلافات ہونے کے باوجود ایک دوسرے کو شبہ کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

اس تجربے سے صرف یہ سبق سیکھا جا سکتا ہے کہ اقتصادی تعاون کا آغاز کرنے کے لئے پہلے کسی بھی ریجن میں سیاسی اختلافات اور بداعتمادی کی فضا کو ختم کرنا ضروری ہے۔ جنوبی ایشیا میں یہ صورت حال موجود نہیں ہے۔ بھارت اس فورم کو مسلسل پاکستان کو تنہا کرنے اور مطعون کرنے کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اس طرح سارک کے اجلاس عام طور سے ان دونوں ملکوں کے درمیان تصادم کا منظرنامہ پیش کرتے ہیں اور دوسرے چھوٹے ملک یہ تماشہ دیکھ کر محظوظ ہوتے ہیں۔

تجارت اور معاشی تعاون کے لئے ویزا کی سہولتیں، بداعتمادی کے خاتمہ اور سیاسی اصولوں پر اتفاق رائے ضروری ہے۔ اس لئے اگر سارک کے رکن ممالک اس ادارے کو کامیاب بنانے کی خواہش رکھتے ہیں تو انہیں بیل کے پیچھے بھاگنے کی بجائے اسے سینگوں سے پکڑنے کی کوشش کرنا ہوگی۔ سنجیدہ اختلافات پر مل بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے انہیں حل کرنے پر اتفاق کے علاوہ فیصلوں پر عمل کرکے بھی دکھانا ہو گا۔ بصورت دیگر سارک ماضی کی طرح مستقبل قریب میں بھی کوئی رول ادا نہیں کرسکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words