کیا تہذیب سکھانا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے؟

\"hayaگو کہ ہم اپنے تمام مسائل کا ذمہ دار حکومت کو ہی ٹھہراتے ہیں لیکن کیا افراد کی تربیت کی ذمہ داری بھی حکومت پر ڈال کر عوام بری الزمہ ہو سکتی ہے؟ ایک اچھی حکومت ایک تہذیب یافتہ قوم بناتی ہے یا ایک تہذیب یافتہ قوم ایک اچھی حکومت چنتی ہے یہ کچھ اسی طرح کا سوال ہے کہ دنیا میں مرغی پہلے آئی یا انڈا جس کا جواب حاصل کرنا تھوڑا مشکل ہے۔

فرد ہی وہ اکائی ہے جس سے معاشرہ تشکیل پاتا ہے اور فرد کی تربیت میں دو ادارے بہت اہمیت کے حامل ہیں، خاندان اور اسکول۔ خاندان کے ادارے میں فرد کی شخصیت سازی میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا البتہ اسکول وہ صنعتیں ہو سکتی ہیں جہاں معیاری مصنوعات یعنی اچھے افراد تیار کیے جا سکتے ہیں اور یہ یقیناً ریاست کی اسکول سے متعلق اچھی پالیسیوں اور اصلاحات سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔

لیکن خاندان کا ادارہ جس کے سربراہ میں آپ اور ہم سب ہیں، اس ادارے کو تہذیب سکھانے کی ذمہ داری سے مبّرا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کہا جاتا ہے کہ ماں کی گود بچہ کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے۔ میں جزوی طور پر اس سے اتفاق کرتی ہوں لیکن مشرکہ خاندانی نظام کے حامل گھروں میں بچہ کی کردار سازی میں گھر کے تمام لوگ بلواسطہ یا بلاواسطہ اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر گھر کا سربراہ بجلی چوری کرتا ہے۔ سگنل پر نہیں رکتا یا محلہ داروں سے جھگڑتا ہے یا لوگوں کے اپنے گھریلو جھگڑے اور ان جھگڑوں میں کی جانے والی مار پیٹ یا گالم گلوچ بچے کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ بچہ ان تمام چیزوں کا نہ صرف خاموش ناظر ہوتا ہے بلکہ ان سب کا سب سے زیادہ \”متاثر \”ہوتا ہے اور ایسے \”متاثرہ \”افراد جو معاشرہ بناتے ہیں وہی معاشرہ ہمارا پاکستانی معاشرہ ہے۔ قوت برداشت، رواداری، دوسروں کی رائے کا احترام۔ دوسروں کی عزت، صحیح اور غلط کے درمیان فرق یہ سب ایک بچہ خاندان کے ادارے میں ہی سیکھتا ہے۔

ہمارے یہاں مائیں بچوں کو یہ تو سکھاتی ہیں کہ ماں کے حقوق پورے نہ کیے تو دوزخ میں جاؤ گے مگر دوسروں کے ساتھ زیادتی پر بھی بخشے نہیں جاؤ گے کا سبق پڑھانا بھول جاتی ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو صحیح اور غلط کا فرق نہیں سکھاتے بلکہ یہ سکھاتے ہیں کہ جو ہم کہتے ہیں وہ صحیح ہے جو دوسرے کہتے ہیں وہ غلط، پھر چاہے ایک خاندان کے اخلاقی معیار معاشرے میں رائج اصولوں سے کتنے ہی متصادم ہوں بچے اسے صحیح سمجھتے ہیں اسی لیے لوگ ہوٹل سے بچا ہوا کھانا پرس میں ڈالنے اور جہاز میں سفر کرنے پر باتھ روم سے صابن اور شیمپو اٹھانے میں کوئی عار نہیں سمجھتے۔

یورپی ممالک میں والدین بچوں کو شکریہ اور معاف کیجئے گا کے الفاظ اسی وقت سکھا دیتے ہیں جب وہ ماما اور پاپا کہنا سیکھ رہے ہوتے ہیں۔ بچے روزانہ یہ سیکھتے ہیں کہ جب کوئی آپ کی مدد کرے تو تشکر کا اظہار کرنا ہے اور اپنی غلطی پر شرمندہ ہونا ہے اور اس کی تلافی کے لیے معافی مانگنی ہے۔ جب بچہ میں شکر گزاری کا کا جذبہ پیدا ہوتا ہے تو وہ اس میں ان کساری اور نرم مزاجی جیسی صفات کی آبیاری کرتا ہے اور ندامت کا احساس اسے اپنی غلطی کی تصحیح پر ابھارتا ہے اور جب ایک شخص ان اعلیٰ اخلاقی اقدار کے ساتھ بڑا ہوتا ہے تو وہ یقیناً ایک مہذب معاشرے کی تشکیل میں ایک مثبت کردار ادا کرتا ہے۔

اسکول وہ دوسرا ادارہ ہے جہاں بچے کی کردار سازی کی جاتی ہے، چونکہ میں خود ڈنمارک میں تدریسی عمل کا حصہ رہی ہوں اور اب با ضابطہ ایک تدریسی تربیتی کورس کے دوران ان کے تدریسی طریقوں اور عملی طور پر ان کے اطلاق کا بغور مشاہدہ کر رہی ہوں اور اس سے یہ بات تو سمجھ آ گئی ہے کہ یہ جہاں آج کھڑے ہیں ہمیں وہاں پہنچنے میں شاید سو برس یا اس سے بھی زیادہ کا عرصہ درکار ہے۔ ان کے تدریسی تصورات اور نظریات پر روشنی ڈالنے کے لیے پوری کتاب بھی کم ہو گی۔ مختصراً یہ کہنا درست ہو گا کہ تدریسی عمل میں بچے کی انفرادی شخصیت توجہ کا مرکز ہوتی ہے اور اس انفرادی شخصیت کو معاشرے کے لیے کس طرح معاشی اور معاشرتی طور پر کار آمد بنایا جائے اس پر نرسری سے ہی کام شروع کیا جاتا ہے۔ یہاں صرف نظریات کی تدریس ہی نہیں ہوتی بلکہ عملی طور پر بچوں کی روزانہ کی زندگی میں تصورات کی مشق بھی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ٹریفک قوانین کی پابندی انہیں کنڈر گارڈن سے ہی سکھائی جاتی ہے۔ بچے اپنے ٹیچرز کے ساتھ باہر جاتے ہیں، ٹریفک سگنل پر لال بتی پر رکتے ہیں اور ہری پر چلنا شروع کرتے ہیں۔ یہیں انہیں قطار بنانے کی بھی تربیت ملتی ہے۔ بچہ کلاس میں یہ بھی سیکھتا ہے کہ اسے کیک کا ایک ہی ٹکڑا ملے گا کیوں کہ دوسرے بچوں کو بھی کیک ملنا چاہئے۔ اس طرح بچوں میں معاشرتی رواداری اور مساوات کا فروغ دیا جاتا۔

ہمارے اسکولوں میں صرف نظریات کو رٹایا جاتا ہے، ان کی عملی مشق کا کوئی تصور نہیں۔ اسلامیات کے مضمون میں پاس ہونے کے لیے اسکولوں میں اخلاقیات کے رٹے تو لگوائے جاتے ہیں لیکن عملی طور پر اس اخلاقیات کو بچوں کی شخصیت کا حصہ بنانے کی کوئی کوشش نہیں ہوتی۔ اسی لیے اسکولوں کے نصاب اور طریقہ تدریس میں انقلابی اصلاحات کی اور اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ اساتذہ کی تدریسی شعبے میں تعیناتی کی سخت ضرورت ہے اور یہ یقیناً حکومت وقت کی ذمہ داری ہے۔ اور کوئی بندہ خدا حکومت کو سمجھا دے کہ طلباء میں لیپ ٹاپ بانٹنا تعلیمی اصلاحات کے زمرے میں نہیں آتا۔

غرضیکہ ایک اچھی اور تہذیب یافتہ قوم عوام اور حکومت مل کر بناتے ہیں۔ حکومت تو اپنا کام تب کرتی ہے جب عوام زبان، نسل، جماعتی تعصب اور فرقہ پرستی سے بالا تر ہو کر کارکردگی پر ووٹ دیتے ہیں۔ جو کہ ہم نہیں کرتے اس لیے حکومت سے امید کرنا تو عبث ہے پر کیا خاندان کا ادارہ ایک تہذیب یافتہ معاشرہ تشکیل دینے میں اپنا کردار ادا نہیں کر سکتا ؟

Comments - User is solely responsible for his/her words
حیا خان کی دیگر تحریریں