پاکستان مردہ باد: قانون کیا کہتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"11219729_10153180502623096_4889787008341841884_n\"پاکستان میں ریاست کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے لئے تعزیرات پاکستان کی دفعہ
124-A کو استعمال میں لایا جاتا ہے۔ یہ دفعہ کہتی ہے کہ؛

\”جو شخص بھی الفاظ سے چاہے تقریر یا تحریر یا اشارے سے یا کھلے طور پر یا کسی اور ذریعے سے نفرت اور حقارت پھیلاتا ہے یا پھیلانے کی کوشش کرتا ہے یا فیڈرل یا صوبائی حکومت جو قانونی طور پر قائم کی گئی ہوں کے خلاف بدگمانی پھیلانے کے لئے اشتعال دلاتا ہے یا اشتعال دلانے کی کوشش کرتا ہے اسے  عمر قید کی سزا دی جائے گی جس میں جرمانہ بھی شامل ہوگا، یا اسے تین سال قید کی سزا ہوگی جس میں جرمانہ بھی شامل ہوگا، یا جرمانہ کی سزا ہوگی\”

الطاف حسین کے \’پاکستان مردہ باد\’ کا نعرہ لگانے کے بعد از خود یہ تصور کر لیا گیا کہ یہ بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا فی ذاتہٖ یہ نعرہ بغاوت کے زمرے میں شمار ہوگا؟

یہ یاد رکھنا چاہئے کہ 124-A کو برطانوی حکومت نے 1870 میں متعارف کروایا تھا اور اسے زیادہ تر قوم پرست لیڈروں کو کچلنے کے لئے استعمال میں لایا جاتا تھا۔

اس قانون کی مشکوک اور زہریلی تاریخ کا پتہ ہونا ضروری ہے تا کہ اس بات کا اندازہ لگایا جائے کہ بغاوت سے متعلق ایسے قوانین کی ایک آزاد اور جمہوری ریاست میں کیا جگہ ہے۔

قانون اور سیاست میں بغاوت کے الزامات ہمیشہ سیاسی ہوتے ہیں۔ جیسے کہ ہم ہندوستان میں دیکھتے ہیں کہ بغاوت کے الزامات کو ایک زبردست ہتھیار کے طور پر انتظامیہ استعمال کرتی ہے اور یہ اپنے مخالفین کی زبانیں بند کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے، اس کے لئے ضروری نہیں ہے کہ ان مقدمات کا فیصلہ سنایا جائے یا نہ۔

بغاوت کی کوئی مستند تشریح پاکستانی کورٹس نے ساٹھ کی دہائی کے بعد نہیں کی ہے۔ اس زمانے میں جو فیصلے دیے گئے ان کے مطابق جو زبان تقریر یا تحریر میں استعمال کی جاتی تھی اگر اس کو سننے اور پڑھنے والوں پر اثر حکومت کے خلاف غم و غصہ میں اس قدر بڑھاوے کی صورت ہوتا کہ اس سے عوام یا عوام کے ایک حصہ کی وفاداری حکومت سے ختم ہونے کا خدشہ ہو تو ایسی تقریر و تحریر کو بھی بغاوت کے زمرے میں ڈال دیا جاتا۔

ہندوستانی کیس لا اس سلسلے میں زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ اس سلسلے میں ایک بہت زبردست عدالتی تبصرہ ہے جو کیدار ناتھ سنگھ بمقابلہ ریاست 1962 میں دیا گیا تھا۔

\”عوامی اقدامات کی تنقید یا ان حکومتی اقدامات پر تبصرہ چاہے کتنا بھی سخت کیوں نہ ہو اسے بنیادی آزادی اظہار کے حقوق کی حدود میں واضح طور پر اور ان کی مطابقت میں ہونا چاہئے۔ جب ایسے الفاظ تحریر یا تقریر میں استعمال ہوتے ہیں جن کے پیچھے ضرر رساں رجحان یا نیت ہوتی ہے کہ نقص امن پیدا کیا جائے یا قانون کو توڑا جائے تب قانون حرکت میں آئے گا اور ایسی سرگرمیوں کو امن عامہ کے مفاد میں روکے گا۔\”

ایسے نعرے غیر قانونی تب ہی سمجھے جا سکتے ہیں جب انہیں بغاوت کے زمرے میں ڈالا جائے۔ ایک اور انڈین کیس لا جو Sedition یعنی بغاوت کے متعلق ہے (یہ یاد رہے کہ انڈین کیس لا پاکستان سے زیادہ ترقی یافتہ ہے) اس میں کہا گیا ہے کہ ایسے نعرے باغیانہ نہیں ہوتے اگر یہ اکیلے ہی لگائے جائیں اور ان کے ساتھ کسی قسم کی بڑی سکیم تشدد پر اکسانے کی نہ ہو۔

انڈین سپریم کورٹ نے بلونت سنگھ و دیگر بمقابلہ ریاست 1995 میں دو سرکاری افسروں کو جس دن اندرا گاندھی کو قتل کر دیا گیا تھا اس دن \”اک دکا نعرے\’\’ لگانے پر بری کر دیا جیسے کہ \’خالصتان زندہ باد اور ہندوستان مردہ باد\’ کیوں کہ یہ بات ثابت ہوگئی تھی کہ اس کا عوام کی طرف سے کوئی رد عمل نہیں آیا تھا۔

اس لئے ایسے نعرے سیاق و سباق، محرک اور عوامی رد عمل کے لحاظ سے اپنے آپ میں باغیانہ ہو بھی سکتے ہیں اور نہیں بھی۔ اس لئے موجودہ قوانین کے مطابق ان نعروں کو \’\’ریاست کے خلاف بغاوت\’ کہنا کافی حد تک مبالغہ آمیز ہوگا۔ اس کے لئے امن عامہ میں خرابی کے لئے اکسانا شامل ہے۔ الطاف حسین کا کیس اس کھاتے میں ایسے جاتا ہے کہ اس تقریر کے بعد تشدد اور انتشار بھی وقوع میں آیا۔ اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ لوگوں کو اکسایا گیا تھا۔

یہ خیال میں رہے کہ یہ مثال ہندوستانی سپریم کورٹ کی تھی۔ پاکستانی کیسز میں اور خصوصاََ ساٹھ کی دہائی میں اس کی حدود کو بہت نچلی سطح پر لے گئے تھے۔

یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جب بھی باغیانہ تقریر کا ذکر آئے گا تو انفرادی طور پر لگائے گئے نعروں پر توجہ نہیں دی جاسکتی جب تک کہ ان کا کوئی پس منظر نہ ہو۔ اس لئے یہ نعرہ \’\’پاکستان مردہ باد\” بغاوت کے زمرے میں آ بھی سکتا ہے اور نہیں بھی، مگر اس کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس کے پہلے اور بعد میں کیا کہا گیا تھا، اس کے پیچھے محرک کیا تھا اور لوگوں نے اس پر کیا رد عمل دیا۔

اسی کیس میں جس کا میں نے پہلے ذکر کیا تھا ہندوستانی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ تنہا نعرے جن پر کوئی بھی عوامی رد عمل نہ ہوا ہو باغیانہ نہیں کہے جا سکتے۔ الطاف حسین کا کیس زیادہ پیچیدہ ہے کیوں کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ مشتعل ہوئے تھے۔ یہ کہنا کہ کیوں مشتعل ہوئے تھے اس کا الطاف حسین کی ذات سے تعلق ہے اس لئے انہیں اس پورے منظر سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔

ہمیں پاکستان میں بڑی تعداد میں بغاوت کے مقدمات کا مشاہدہ کرنے کا موقع نہیں ملا اس لئے یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ حکومت اس پر بغاوت کا مقدمہ چلائے گی یا نہیں۔

جیسے کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ 124-A کی سب سے لبرل تشریحات بھی آزادی اظہار کے نقطۂ نظر سے مشکلات پیدا کرتی ہیں۔ اس لئے مبینہ طور پر باغیانہ تقریر اور تشدد پر اکسانے میں باہم تعلق قائم کرنا بہت ضروری نکتہ ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ریما عمر کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *