کشمیر میں تحریک کے پچاس دن اور ہماری بے حسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"azhar8 جولائی 2016 بھارت کے لئے بہت اہم دن تھا کیونکہ اس دن بھارتی فوج نے سوشل میڈیا پر مقبول ہونے والے کشمیری عسکریت پسند نوجوان، برہان وانی کی ہلاکت کا سہرا اپنے سر سجایا تھا۔ بھارت کے ایک بڑے اخبار ہندوستان ٹائمز کی ایک دستاویزی فلم \”کشمیرز نیو ایج مِلیٹنٹس\” کے مطابق برہان مظفر وانی، کشمیر کے رابن ہُڈ کے نام سے مشہور تھا اور مذکورہ اخبار کی تحقیقاتی مدیر، ہریندر باویجہ نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ان نوجوانوں کے رہائشی علاقے میں جا کر ایک دستاویزی فلم تیار کی اور اُن اسباب کو جاننے کی سعی کی جن کی وجہ سے برہان وانی اور اس جیسے کئی دوسرے نوجوانوں نے قلم اور کمرہ جماعت چھوڑ کر کلاشنکوف تھامی اور پہاڑوں کو اپنا مسکن بنایا۔ ہریندر باویجہ بتاتی ہیں کہ ماضی کے دہشتگردوں کی روش کے برخلاف برہان وانی اور اس کے ساتھی نوجوانوں نے اپنی شکلوں کو نقاب کے پیچھے چھپانے کی بجائے اپنی شناخت کو واضع کیا اور سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس پر پہاڑوں میں بنائی گئی وڈیوز کو دیدہ دلیری سے اپلوڈ کرتے رہے۔ ہریندر باویجہ نے پوری دستاویزی فلم میں برہان وانی اور اُس کے ساتھیوں کے والدین سمیت اُس وقت کے وزیر اعلٰی مرحوم مفتی سعید اور سابق وزیرِ اعلٰی عمر عبداللہ کے تاثرات بھی دیے، تاثرات دینے والے والدین کا کہنا تھا کہ آج کی جدوجہد 1989 کی تحریک سے قطعاً مختلف ہے کیوں کہ ماضی میں مختلف تنظیمیں نوجوانوں کو عسکری تربیت دینے کے لئے سرحد پار بھیجتی رہیں، کچھ نوجوان تربیت کے لئے گئے اور کچھ اپنی جان بچانے کے لئے، اب کی تحریک پڑھے لکھے لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو کارروائیوں کے لئے کسی سے پیسے نہیں لیتے اور اس مسلح جدوجہد کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے آزادی۔

اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ اگر 2013 میں 33 مقامی کشمیری عسکریت پسند تھے تو 2015 میں ان کی تعداد دوگنی ہو چکی تھی اور اسی طرح 2016 میں بھی کشمیر کے مقامی عسکریت پسند نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر برہان مظفر وانی کے والد کے تاثرات دیکھے جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک ایسا باپ ہے جسے برہان کے عسکریت پسند ہونے پر فخر ہے۔ بھارت کے سرکاری اعداد وشمار کے مطابق جنوبی کشمیر میں مقامی عسکریت پسند بیرونی عسکریت پسندوں سے دس گنا زیادہ ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کشمیر کے اندر جاری موجودہ تحریک کے روح رواں خالصتاً مقامی کشمیری نوجوان ہیں۔

بھارتی زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید مرحوم کے مطابق برہان وانی اور اُس جیسے دوسرے عسکریت پسند نوجوانوں نے تحریک کو بالخصوص اور بھارتی زیر انتظام کشمیر کے نوجوانوں کو بالعموم ایک نیا تخیل دیا ہے۔ مفتی سعید مرحوم جو کے بھارتیہ جنتا پارٹی اورجموں کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی مخلوط حکومت کے وزیر اعلٰی تھے، نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ یہ خالی برہان وانی کا مسئلہ نہیں ہے، یہ ایک عمومی رد عمل ہے جو بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے لوگوں میں پایا جاتا ہے، مفتی سعید نے اس بات پہ زور دیا تھا کہ برہان وانی اور اس رویے کے حامل دوسرے نوجوانوں کو سرے سے کنارے نہیں لگایا جا سکتا بلکہ انہیں سیاسی عمل کا حصہ بنانا ہو گا۔

برہان وانی کی ہلاکت کے بعد بھارتی زیر انتظام کشمیر میں ایک بغاوت برپا ہوئی جس کے نتیجے میں پچھلے پچاس دنوں میں بھارتی فوجی اور نیم فوجی دستوں کے ہاتھوں 70 لوگ مارے گئے، 6000 کے لگ بھگ زخمی ہوئے اور 200 سے زائد لوگ پیلٹ فائرنگ سے اندھے ہو چکے ہیں، جولائی ہی کے مہینے میں کنٹرول لائن کی اس طرف پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی مدت پوری ہونے کے بعد نئی اسمبلی کے انتخاب کے لئے انتخابات ہوئے، پاکستانی حکومت جو کشمیر پر اپنا قبضہ حق بجانب سمجھتی ہے، پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے انتخابات میں اپنے پورے وسائل کے ساتھ اتنی مصروف دکھائی دی کہ ایک موثر احتجاج تک نہ ریکارڈ کروا سکی۔ یہ صرف مسند حکومت پر بیٹھی پاکستان مسلم لیگ (ن) کا ہی رویہ نہیں تھا بلکہ پاکستان کی تمام روائتی سیاسی جماعتوں کا رویہ بھی ایسا ہی تھا۔ اچنبھے کی بات یہ ہے کہ وہ جماعت اسلامی ماضی میں جس کی سیاست مسئلہ کشمیر کے ارد گرد گھومتی تھی اس مرتبہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی حمایت کرنے کی وجہ سے بھارتی زیر انتظام کشمیر کے پرتشدّد واقعات پر واضع پوزیشن لینے میں ناکام رہی اور اس کا بیانیہ بھی پاکستانی ریاستی بیانئے کے ساتھ صف باندھے دکھائی دیا۔

پاکستان کا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا بھارتی فوج کے تشدّد کو نمایاں کرنے کی بجائے، بھارتی زیر انتظام کشمیر کے اندر ہونے والے لاکھوں افراد کے جلسوں میں ایک یا دو پاکستانی پرچموں کو نمایاں کر کے بھارتی میڈیا کی اس دلیل کو پختہ کرتا رہا کہ، کشمیر کے اندر جاری پرتشدّد واقعات اور عسکریت دراصل پاکستان کی امداد اور دخل اندازی کا نتیجہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں کالعدم جماعتوں کے زعماء لاہور سے راولپنڈی تک آزادیءِ کشمیر کارواں کے نام سے مارچ کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ برہان وانی اور اس جیسے دوسرے نوجوان اُن کے بغل بچے ہیں۔

کنٹرول لائن کی اس طرف پاکستانی زیر انتظام کشمیر جس کو آزادی کا بیس کیمپ کہا جاتا ہے کے عوام و خواص کی اخلاقی اور سیاسی بے بسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انتخابات کے غُل غپاڑے میں مگن کشمیری یہ بات تک بھول گئے کہ وہ ایک متنازعہ خطے کے باسی ہیں جس کی قسمت کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے اور اس متنازعہ خطے کے صدر، وزیراعظم اور تمام کابینہ کے تمام وزراء ایک بے اختیار اور علامتی حکومت کا حصہ ہوں گے، جن کی ڈوریں وزارت ِ امورِ کشمیر اور کشمیر کونسل کے چئیرمین کے ہاتھ میں ہوں گی اور اسی متنازعہ خطے کے دوسرے حصے میں کشت و خون کا بازار گرم ہے۔

18 اگست 2016 کو بھارتی صحافیوں اور سماجی کارکنان پر مشتمل ایک وفد بھارتی زیر انتظام کشمیر کے حالات کا اندازہ لگانے سرینگر پہنچا اور وفد میں شامل افراد تین دن بھارتی زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سرینگر کے آس پاس حالات کا جائزہ لے کر واپس بھارت پہنچے۔ وفد میں شامل مصنف اور صحافی پریم شنکر جہا نے کشمیر کی موجودہ صورت حال کے بارے میں اپنے تاثرات یوں قلمبند کئے ہیں۔

\” سرینگر کے لئے ہوائی ٹکٹ کی قیمت عام حالات اور اس موسم کی مناسبت سے تین گنا کم تھی اور سرینگر سے واپسی کی پرواز مسافروں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی کیونکہ بھارتی یوم آزادی کی تقریبات منعقد کروانے کے بعد فوجی دستے واپس دہلی جا رہے تھے۔ ہم ڈہل گیٹ کے جس ہوٹل میں ٹھہرے وہ بالکل خالی تھا۔ ہوٹل کے ریستوران میں صرف چاول، چپاتی، دال اور آلو میسر تھے کیونکہ باقی اشیائے خوردونوش کا ذخیرہ ختم ہو چکا تھا، سخت کرفیو کی وجہ سے دیہاتی کسان تازہ سبزیاں بیچنے کے لئے منڈی تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ ڈھل جھیل کے کنارے مکان نما کشتیاں اور شکارے بالکل خالی تھے اور ایک چھوٹی سی روشنی بھی رات کے وقت اُن کی موجودگی کا فریب نہیں دے سکتی تھی۔\”

پریم شنکر جہا نے بغیر کسی جھکاؤ کے یہ لکھا ہے کہ کشمیری یک نکاتی ایجنڈے پر متفق ہیں اور وہ ہے \”آزادی\”، وہ مزید لکھتے ہیں کہ حالیہ تحریک کی باگ دوڑ، بارہ سے بیس سال کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے اور کشمیر کے اندر بسنے والے تمام مکاتب فکر کے لوگ اُن نوجوانوں کے ساتھ ہیں۔ وہ 1990 کی تحریک سے حالیہ تحریک کا موازنہ کچھ یوں کرتے ہیں کہ کشمیر کے اندر بسنے والے بھارتی میڈیا کے منفی پروپیگنڈہ کے خلاف مشتعل بھی ہیں اور ناراض بھی، وہ یہ کہتے ہیں کہ انہیں لگا تھا کہ بھارتی میڈیا اُن کی آواز آگے تک پہنچائے گا مگر ایسا نہیں ہوا، 1992کی تحریک بیرونی قوّت کے زیر اثر تھی جبکہ حالیہ تحریک مقامی نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ مسلم جانباز فورس کے رہنما فردوس احمد نے بتایا کہ 92 کی عسکری تحریک کی تباہ کاریوں کا اندازہ ہمیں بعد میں ہوا، ہمیں یہ احساس ہو چکا کہ پاکستان نے بھی اپنے فوائد کے لئے کشمیریوں کا استحصال کیا، 1995 میں حزب المجاہدین کشمیر کے اندر بسنے والے لوگوں سے یا جہاد کے لئے ایک بیٹا بزورِ طاقت مانگتی تھی یا ایک لاکھ روپے اور آج کی حالت یہ ہے کہ آل کشمیر ٹریڈرز اینڈ مینو فیکچررز ایسوسی ایشن جس کے ممبران کی روزانہ کی اجرت 650 سے 750 کروڑ روپے ہے، نے اپنے عہدوں اور ممبرشپ سے استعفے دے دیئے ہیں اور اُن کا بھی مطالبہ آزادی ہی ہے۔

بھارتی زیر انتظام کشمیر کے سوا کروڑ انسان یہ حقیقت جان چکے ہیں کہ قومی آزادی کی تحریکیں جب تک اندرونی طور پر مضبوط نہیں ہوتیں اور آزادی کا پیغام عوام کی ساری پرتوں میں نہیں پہنچتا آزادی کا خواب مکمل نہیں ہو سکتا، شاید اسی لئے پچھلے پچاس دن میں بھارتی زیر انتظام کشمیر کے عوام یک نکاتی ایجنڈے پر متفق ہیں اور وہ ہے \”آزادی\”۔ صد افسوس کے سرحد کے اس پار پاکستانی زیر انتظام کشمیر جس کو آزادی کا بیس کیمپ بھی کہا جاتا ہے، کے عوام وخواص خود غرضی اور بے حسی کی مثال بنے رہے اور کشمیر کو اپنی شہ رگ کہنے والا پاکستان، پاکستان میں کالعدم قرار دی جانے والی جماعت الدعوۃ، جیش محمد، اہل سنت والجماعت اور اس جیسی کئی دوسری جماعتوں کے قائدین کی مدد سے سفارتی حمایت کرتا نظر آیا، جو یہ تاثر دینے کی ایک کوشش ہے کہ بھارتی زیر انتظام کشمیر کے اندر جاری آزادی کی تحریک کو آکسیجن پاکستان سے میسر ہو رہی ہے، اور قوی امکان ہے کہ ایک دفعہ پھر کشمیر کی آزادی کی تحریک کو سپانسرڈ تحریک کا کلنک لگا کر کر منطقی انجام تک پہنچنے کی مہلت نہیں دی جائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply