EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

کیا فواد چوہدری کا انٹرویو فکس تھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فواد چوہدری جتنا بھی بولا اس کی تہہ در تہہ بہت اہمیت ہے یہ ایک عام انٹرویو نہیں تھا۔ اس کا اینکر اور فواد کی باڈی لینگویج بتاتی ہے کہ فکس انٹرویو تھا میسج دیا گیا ہے کہنے والے اس کی تشریح یوں بھی کرتے ہیں ووٹ کو عزت دو۔ یہ آنے والے موسموں کا پتہ دیتا ہے۔ سیاست میں کوئی دن حرف آخر نہیں ہوتا۔ لیکن چئیرمین نیب کی ویڈیو، قاضی فائز عیسی کے ریفرنس اور فوجی افسران کو سزائیں اور وزیرستان واقعہ، ان سب کی ٹائمنگ بہت اہم ہے جس کے بعد سیاسی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔

جو لوگ کوٹ لکھپت جیل جا کر معاملات کو طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ان کو جلدی ہے وہ مٹی پاؤ کے مشورے دے رہے لیکن میاں صاحب سے جب کچھ ملاقاتی ملے اور ان سے کہا کہ عمران حکومت دوہزار بیس تک چلی جائے گی تو دل کی بات زبان پر نہ لانے والے میاں صاحب نے ہنستے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے آپ مجھے ایک سال اور جیل میں رکھنا چاہتے ہیں۔

پاکستان میں طویل عرصے تک پاور کوریڈورز میں رہنے والے میاں نواز شریف جانتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں انہیں جیل سے باہر نہیں آنے دیا جائے گا۔ یہ ہی بات جہلم کے سیاسی خاندان سے تعلق رکھنے والے نوجوان وکیل اور سیاست دان فواد چوہدری نے بھی کی ہے کہ نواز شریف کے پاکستان یا جیل سے باہر جانے کا مطلب پی ٹی آئی کی سیاست کا خاتمہ ہو گا۔ نواز شریف نے ایک خاص وقت سے پہلے تحریک نہیں چلانی۔ لیکن جیل جانے سے پہلے پارٹی کی جس طرح کی اوور ہالنگ کر کے وہ گئے ہیں وہ وقت زیادہ دور نہیں جب وہ اس طرف باقاعدہ قدم بڑھا دیں گے۔

لیکن دوسری طرف عمران خان کے لیے سب سے بڑا چیلنج ان کی ناتجربہ کاری۔ اور بری پرفارمنس ہے جس سے وہ جان نہیں چھڑا پارہے۔ ٹیم کا انتخاب وہ درست نہ کرسکے۔ سب سے بڑا بلنڈر پنجاب میں مارا گیا۔ جس کے بعد سے اب تک وہ سنبھل نہیں پا رہے۔ ان کے مشیروں کی تعداد شاید انہیں خود بھی یاد نہیں لیکن ڈھنگ کا مشورہ دینے والا کوئی نہیں۔

وہ اپنی حکومت کا دفاع کرنے کے لیے اتنے لوگوں کو سامنے لا چکے کہ ان میں سے کسی کو پتہ نہیں چل رہا کہ اس کی ذمہ داری کیا ہے۔ یہاں وہ نواز شریف کے میڈیا منیجرز کی طرز پر رش لگا بیٹھے ہیں لیکن کام نہیں لے پا رہے۔ ہر گزرتا دن ان کی حکومت کے لیے نت نئے مسائل سامنے لا رہا ہے۔
ایسے میں بجٹ وہ مقام ہے جہاں اپوزیشن، حکومت اور دوسرے کئی کھلاڑیوں کو اپنی صفیں درست کرنے اور نئی سیاسی صف بندی سامنے لانے پر مجبور کر دے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •