الطاف حسین کا بھوت


 \"mqm\"ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے ایک بار پھر پارٹی کے بانی الطاف حسین کے پاکستان دشمن بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے لندن آفس اور الطاف صاحب سے رابطہ منقطع کر دیا ہے۔ اب ہمیں سیاسی پارٹی کے طور پر زندہ رہنے اور کام کرنے کا حق دیا جائے۔ ایم کیو ایم کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے پہلی بار الطاف حسین کو الطاف بھائی کی بجائے الطاف صاحب کہہ کر پکارا۔ اسی طرح انہیں قائد تحریک کہنے کی بجائے پارٹی کا بانی قرار دیا۔ اس طرح انہوں نے ایک بار پھر متحدہ قومی موومنٹ کو انتقامی کارروائیوں سے بچانے کی سرتوڑ کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مسئلہ صرف الطاف حسین سے ہے تو ہم ان سے قطع تعلق کر چکے ہیں۔ اگر ایم کیو ایم کے کارکنوں کی گرفتاریاں اور اس کے دفاتر کو بند کرنے کا سلسلہ جاری رہا تو ہم یہ سمجھنے پر مجبور ہوں گے کہ حکام کو اصل مسئلہ ایک فرد سے نہیں بلکہ ایم کیو ایم سے بطور سیاسی جماعت ہے۔ انہوں نے اپنے بیانات کی صداقت پر سوال اٹھانے والے صحافیوں کی بھی مذمت کی اور کہا کہ وہ اور ان کے نمائندے کسی ایسے ٹاک شو میں نہیں جائیں گے جہاں ہمارے اخلاص پر شبہ کیا جائے۔

اس پریس کانفرنس کے ذریعے ڈاکٹر فاروق ستار نے ایک بار پھر پاکستانی حکام جن میں سندھ اور وفاقی حکومت اور رینجرز شامل ہیں ۔۔۔۔۔ اور برطانیہ میں پارٹی قیادت کے درمیان تصادم میں اپنے اور ساتھیوں کےلئے جگہ بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ پارٹی کو پاکستان میں آزادی سے سیاسی کام کرنے کی اجازت دی جائے کیوں کہ یہ اس کا بنیادی آئینی حق ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار کے اس مطالبہ سے ہرگز اختلاف نہیں کیا جا سکتا کہ ایم کیو ایم کے جن کارکنوں اور قائدین نے کوئی قانون شکنی نہیں کی ہے، انہیں ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ لیکن جب وہ یہ حق تسلیم کروانے کے لئے الطاف حسین سے نیم دلانہ فاصلہ اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو سوالات بھی سامنے آتے ہیں، شبہات بھی سر اٹھاتے ہیں اور ان کی نیک نیتی پر شبہ ہونا بھی لازم ہے۔ ایک طرف فاروق ستار کی مجبوری یہ ہے کہ وہ ایک مخلص کارکن کے طور پر کسی بھی قیمت پر پارٹی کا علم بلند رکھنا چاہتے ہیں۔ انہیں اس بات کا بھی بخوبی اندازہ ہے کہ 22 اگست کو ‘پاکستان مردہ باد‘ کے نعرے لگوا کر الطاف حسین نے صرف فوج یا برسر اقتدار لوگوں کو ہی ناراض نہیں کیا بلکہ پاکستان کے عام شہری بھی اس قسم کی افسوسناک نعرے بازی پر پیچ و تاب کھا رہے ہیں۔ اگر فاروق ستار کا یہ مطالبہ برحق اور آئینی ہے کہ ان کی پارٹی کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان سے یہ توقع کرنا بھی اتنا ہی جائز اور درست ہے کہ وہ الطاف حسین کے ایک یا دو بیانات یا ایک آدھ جملے پر معذرت اور وضاحت کرنے کی بجائے یہ اقرار کریں کہ الطاف حسین نے قابل مذمت حرکت کی ہے اور پاکستان میں سیاست کرنے کے خواہشمند لوگ اس قسم کے شخص کو اپنا قائد نہیں مان سکتے۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے آج اپنے ماہرانہ سیاسی انداز میں یہ بات کہنے کی کوشش کی ہے کہ ان کا الطاف حسین یا لندن آفس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ رابطہ اب ختم کر دیا گیا ہے۔ اسی تاثر کو یقین میں بدلنے کےلئے انہوں نے الطاف بھائی کو الطاف صاحب اور قائد تحریک کو ایم کیو ایم کا بانی بنایا ہے۔ لیکن وہ الطاف حسین کی مذمت کرنے اور ان کے پاکستان دشمن خیالات کو مسترد کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ اگرچہ ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے خواجہ اظہار الحسن اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ 23 اگست کو جو پریس کانفرنس کی تھی، اسی میں یہ بات واضح کر دی گئی تھی اور جن لوگوں کو یہ باتیں سمجھ میں نہیں آئیں وہ یا تو بدنیت ہیں، یا ایم کیو ایم کو توڑنا چاہتے ہیں یا انہیں اردو زبان سمجھنے کےلئے کسی ماہر لسانیات سے رابطہ کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی بیان بازی میں اس قسم کا لب و لہجہ اصل مقاصد کو چھپانے کا آزمودہ طریقہ ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت اگر واقعی لندن قیادت اور بطور خاص الطاف حسین سے بغاوت کا فیصلہ کر چکی ہے تو ڈاکٹر فاروق ستار اس کا مناسب لفظوں میں اظہار کرنے پر قدرت رکھتے ہیں۔ ایسی صورت میں نہ انہیں دوسروں کی بدگمانی کا شکوہ ہوتا، نہ حکام کی انتقامی کارروائیوں پر شکایت ہوتی اور نہ وہ ناقدین کو اپنی باتیں سمجھنے کےلئے کسی ماہر لسانیات سے مشورہ کرنے کی بات کرتے۔ ڈاکٹر فاروق ستار خود جانتے ہوں گے کہ ان کی پیچیدہ سیاسی باتیں اردو زبان کا کوئی ماہر بھی سلجھانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

البتہ یہ کام ڈاکٹر فاروق ستار اور ان کے ساتھی بخوبی کر سکتے تھے اور ان کے پاس اب بھی اس بات کا موقع ہے کہ وہ اس دعوے کو یقینی بنانے کےلئے کہ ایم کیو ایم کے نام پر پاکستان میں سیاست کرنے والوں کا الطاف حسین سے تعلق ختم ہو چکا ہے، ان کے خلاف پاکستان دشمن ہرزہ سرائی پر قرارداد مذمت منظور کریں۔ متحدہ کی پاکستانی رابطہ کمیٹی صرف اس حد تک بات نہ کرے کہ وہ الطاف حسین سے رابطہ ختم کر چکے ہیں بلکہ پارٹی کے اس دستور کو بھی مسترد کرے جس کے تحت متحدہ قومی موومنٹ کے جملہ حقوق الطاف حسین کے نام پر محفوظ ہیں۔ پارٹی آئین کے ان حصوں کو تبدیل کیا جائے جن کے تحت الطاف حسین کو پارٹی ، اس کے فیصلوں اور اس سے وابستہ لوگوں پر تقریباً ’’مالکانہ‘‘ حقوق حاصل ہیں۔ یعنی الطاف حسین صرف فیصلے کرنے یا انہیں تبدیل کرنے کا حتمی اختیار ہی نہیں رکھتے بلکہ وہ پارٹی سے متعلق کسی بھی شخص کو مسترد کرنے کا حق بھی محفوظ رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار سمیت ان کے سب ساتھیوں کو الطاف حسین سے وفاداری کے حلف کو واپس لے کر نئی ایم کیو ایم کے سیاستدان یا رکن کے طور پر پاکستان سے وفاداری کا حلف لینا ہو گا۔ جب تک ڈاکٹر فاروق ستار اور ان کے ساتھی الطاف حسین کی وفاداری کے حلف پر کاربند ہیں، ان کی سب باتوں پر شبہ کرنا درست سمجھا جائے گا۔

ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت دراصل عوامی ناپسندیدگی کے اس طوفان سے باہر نکلنا چاہتی ہے جو الطاف حسین کی بدزبانی کی وجہ سے اٹھا ہوا ہے۔ لیکن ڈاکٹر فاروق ستار سمیت کوئی بھی ایسا سیاستدان جو کراچی اور حیدر آباد میں ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے سیاست کرنا چاہتا ہے ۔۔۔۔۔ الطاف حسین سے دائمی قطع تعلق نہیں کر سکتا۔ اسی لئے بعض لوگ اس حکمت عملی کو لندن اور کراچی قیادت کی ملی بھگت قرار دے رہے ہیں اور بعض مبصر یہ سمجھتے ہیں کہ رینجرز اور فوجی ادارے ڈاکٹر فاروق ستار کے ذریعے پاکستان میں اس پارٹی پر قبضہ کر کے اسے اپنی مرضی سے چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بادی النظر میں یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار بجا طور سے لندن سے قطع تعلق کر چکے ہوں گے لیکن دوری کا یہ فیصلہ عارضی ہے۔ اس کا اظہار ان کی باتوں اور الفاظ کے چناؤ سے بخوبی کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح رینجرز یا بعض سرکاری ادارے ضرور یہ خواہش رکھتے ہوں گے کہ ایم کیو ایم پاکستان، لندن اور الطاف حسین سے علیحدہ ہو کر ان کے زیر سایہ پروان چڑھنے لگے لیکن یہ خواہش بھی اس خواب ہی کی طرح ہے جو کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوتا۔ اس الجھن کو کراچی اور حیدر آباد کے کروڑوں ووٹروں کی رائے کو پیش نظر رکھے بغیر حل کرنا ممکن نہیں ہے۔ اسی پریشانی میں ڈاکٹر فاروق ستار الجھی الجھی باتیں کرتے ہیں اور اسی خواہش کی تکمیل میں رینجرز اور پولیس، کراچی اور حیدر آباد میں ایم کیو ایم کے دفاتر بند یا مسمار کر رہی ہے۔ بااثر کارکنوں کو گرفتار کر کے پارٹی کی کمر توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

24 اگست کو کراچی اور حیدر آباد میں میئر اور بلدیات کے عہدیداروں کے انتخابات میں ایم کیو ایم کے منتخب کونسلرز نے جس طرح ووٹ ڈالے ہیں، اس سے ہی حقیقت حال واضح ہو جاتی ہےکہ یہ سب الطاف حسین کے وفادار ہیں۔ اگر ڈاکٹر فاروق ستار یا ان کے ساتھی واقعی الطاف حسین سے وفاداری کا حلف ختم کر چکے ہوتے تو وفاداروں کی ان قطاروں میں کوئی تو ہوتا جو الطاف حسین سے اس ’’بغاوت‘‘ کو مسترد کرتا اور مختلف عہدوں پر پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ نہ دیتا۔ یہ کہتے ہوئے یہ قیاس کیا گیا ہے کہ وسیم اختر سمیت مختلف عہدوں کے لئے نامزد امیدوار ڈاکٹر فاروق ستار کی پریس کانفرنس کے ساتھ ہی الطاف حسین سے باغی ہو چکے تھے۔ سچ یہ ہے کہ اگر پارٹی لیڈر الطاف حسین کے گن گاتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ انہی کے نام پر ووٹ دیتے ہیں۔ جب تک یہ صورت تبدیل نہیں ہوتی اور جب تک کراچی اور حیدر آباد کا ووٹر کسی متبادل قیادت کو قابل بھروسہ نہ سمجھنے لگے، اس وقت تک ڈاکٹر فاروق ستار سے یہ امید کرنا عبث ہے کہ وہ الطاف حسین کا پلو چھوڑ دیں گے۔ ایسی صورت میں تو وہ ایم کیو ایم پاکستان کا راگ الاپنے کی بجائے پاک سرزمین پارٹی کی طرف رجوع کر سکتے تھے جہاں مصطفی کمال انہیں ہاتھوں ہاتھ لینے کےلئے تیار بیٹھے ہیں۔

وہ سچائی جو ڈاکٹر فاروق ستار کے پاؤں کی زنجیر بنی ہوئی ہے، حکمرانوں کو بھی سمجھ آنی چاہئے۔ یا تو وہ ابھی سے ایسی سیاسی حکمت عملی کا آغاز کریں کہ دو سال کی مدت میں الطاف حسین کے اشارے پر ووٹ ڈالنے والے لوگ ان سے منہ موڑ لیں اور نئی سیاسی تحریک کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیں۔ ایسی صورت میں دفتر مسمار کرنے، قانونی یا غیر قانونی گرفتاریاں کرنے اور الطاف حسین کو برطانیہ میں سزا دلوانے کے وعدے اور دعوے کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ووٹر نے فیصلہ بدل لیا تو الطاف حسین کو سزا ہو یا نہ ہو، ان کی حیثیت بڑے زیرو جیسی ہو جائے گی۔ لیکن الطاف حسین کی عوامی مقبولیت کے سچ کو جانتے ہوئے اس سے انکار کرنے والے سیاستدان ہوں یا خفیہ ادارے ۔۔۔۔۔ انہیں ناکامی ہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ الطاف حسین کا بت توڑنے کےلئے اگر دہائیوں پرانے ہتھکنڈے ایک بار پھر آزمائے جائیں گے تو ان کا نتیجہ بھی وہی نکلے گا جو اس سے پہلے سامنے آ چکا ہے۔

اصل فیصلہ 2018 کے انتخابات کریں گے۔ ڈاکٹر فاروق ستار جانتے ہیں کہ اگر وہ اس بحران سے سرخرو نکل آئے تو آئندہ انتخابات کے بعد وہ کسی کو بات نہیں کرنے دیں گے۔ اس لئے الجھی ہوئی باتیں ہی تیر بہدف حکمت عملی ہے۔ تاہم الطاف حسین اور ایم کیو ایم کو سیاسی طور سے ختم کرنے کی خواہش رکھنے والوں کی حکمت عملی غیر واضح ہے۔ فی الوقت الزامات ، گرفتاریوں اور دفاتر بند کر کے جو تاثر دیا جا رہا ہے، وہ کسی کامیاب حکمت عملی کا پیش خیمہ نہیں ہو سکتا۔ اس دوران الطاف حسین کا بھوت حامیوں اور مخالفین کے سر پر پوری قوت سے سوار رہے گا تا آنکہ وہ ایک جمہوری معاشرے کے تقاضوں کے مطابق راست طریقہ اختیار کرنے کا حوصلہ کر سکیں۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali