آئی ایم ایف ڈیل: کیا خوب سودا نقد ہے ۔۔۔ 

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آئی ایم ایف  نے سٹاف لیول کے ایک سمجھوتے پر دستخط کر کے ایک مرتبہ پھر  پاکستان کو ، بلکہ زیادہ اہم یہ ہو گا کہ خود کو بیل آوٹ  فراہم کیا ہے۔ 1958 سے پاکستان کے ساتھ آئی ایم ایف کا یہ 22 واں معاہدہ ہے۔ آئی ایم ایف کے بیل آوٹ اس قدر پر کشش ہیں کہ 1858 سے سبھی حکومتیں ان سے استفادہ کرتی آ ئی ہیں ، تاہم 1988 سے آئی ایم ایف کے پروگرام پاکستان کے لیے زیادہ سنجیدہ اور ناگزیر صورت اختیار کر گئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اگلے تین برس کے لیے  6 ارب ڈالر کا  یہ بیل آوٹ پیکیج 5 ارب 75 کروڑ ڈالر کے ان واجبات کی ادائیگی کو  ہی ممکن بنا سکے گا جو  تقریبا تین برس پہلے مکمل ہونے والے  آئی ایم ایف کے پروگرام  کے بقایا جات  میں سے پاکستان نے ابھی  ادا کرنے ہیں۔ اس طرح  یہ ایک ایسا سودا بن جاتا ہے جس میں نفع کا کوئی امکان ہی نہیں۔ آپ نے پرانے قرض اتارنے کے لیے کچھ  زیادہ نئے قرض لے لیے۔ پرانے قرضوں کی ادائیگی ،جسے بظاہر آئی ایم ایف نے اپنے لوگ بطور مشیر خزانہ اور گورنر سٹیٹ بینک تعینات کروا کر یقینی بنا لیا ہے،کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا دور مکمل ہونے تک پاکستان کے کھاتوں میں 6 ارب ڈالر کے مزید قرض واجب الادا ہوں گے۔

بے شک یہ ایک سمارٹ ڈیل ہے، مگر صرف آئی ایم ایف کے نقطہ نظر سے  ،کیونکہ وہ اپنے پرانے قرضوں کی وصولی یقینی بنانے کے لیے پاکستان کو نئے قرض دے رہے ہیں۔ اور  اس کے ساتھ ہی آئی ایم ایف نے  اگلے تین سال کے لیے اپنی مرضی کے مطابق پاکستانی معیشت کو ریگولیٹ کرنے کی کلین چٹ بھی حاصل کر لی ہے۔

اس حیران کن معاہدے کے بعد سٹاک مارکیٹ میں قیامت کا منظر تھا جہاں صرف تین رو ز(مئی 14 تا 16)کے دوران 1400 پوائنٹس کی کمی آئی اور سرمایہ کاروں کے 375 ارب روپے ڈوب گئے۔ اس کے علاوہ صرف ایک رو ز میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 5 فیصد کمی آئی، جبکہ دسمبر 2018 ،جب آئی ایم کے ساتھ قرض معاہدہ ابھی ابتدائی مراحل میں تھا، سے اب تک روپے کی قدر  45 فیصد تک گر چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کے بیرونی قرضوں کے حجم میں خود بخود 45 فیصد کا اضافہ ہو گیا اور یہ سلسلہ بدستور جاری  ہے۔  جبکہ افراط زر میں مزید اضافہ بھی طے شدہ امر ہے ، اور گاڑیوں سے لے کر کھانے پکانے کا تیل اور دالوں تک ہر شے کے نرخ بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔

صرف اشیائے خورو نوش کی مہنگائی میں ہی 20 فیصد  تک اضافہ ہو  نے جا رہا ہے اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ پاکستان میں 30 فیصد سے زائد اشیائے خورو نوش  درآمدی ہیں جن  کی ادائیگی ڈالر میں کی جاتی ہے جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافےسے ان اشیا کی باربرداری کی لاگت میں اضافہ ہو گا جس کا اثر بھی انہی اشیا کی قیمتوں پر پڑے گا۔

ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر گرانے کا اقدام بظاہر برآمدات بڑھانے کی خاطر کیا گیا  ،مگر برآمدات میں ابھی تک کوئی قابل ذکر بہتری کے آثار نظر نہیں آتے ۔پی ٹی آئی کے پہلے دس ماہ کے دوران  برآمدات  کا حجم 19 ارب ڈالر کے لگ بھگ رہا ہے۔

 آئی ایم ایف کے اب تک کے 21 قرض معاہدوں کا حقیقت پسندانہ  جائزہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اگر تجارتی خسارہ زیادہ ہو تو کرنسی کی قدر گرانے سے معیشت پر منفی اثرات پڑتے ہیں اور معیشت کے سکڑنے کا سبب بنتے ہیں۔  مگر حیران کن بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف معاشی استحکام کے لیے   ہمیشہ کرنسی کی قدر گرانے  کے نسخے ہی پر  کیوں اصرار کرتا ہے؟

تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کی برآمدات  پیداواری شعبے کو درپیش رکاوٹوں کی وجہ سے نہیں بڑھ پاتیں۔ یہ 70 سال میں برآمدی شعبے کے ڈھانچے میں خاطر خواہ  بہتری نہ ہونے  کا نتیجہ ہے۔ برآمدات کا زیادہ تر فوکس   ٹیکسٹائل اور ملبوسات  پر ہے۔ مگرآئی ایم ایف کی تجویز پر کرنسی کی قدر گرانے سے اگر ہم کوئی حقیقی فائدہ اٹھانا چا   ہتے ہیں تو       ہمیں اپنی برآمدات  کو بڑھانا ہو گا۔ روپیہ ڈالر کے مقابلے میں مسلسل بے قدری کا شکار ہوا ہے اور وہ بھی ایکسپورٹس میں قابل ذکر بہتری کے بغیر ۔ در اصل مہنگا ڈالر پاکستانی برآمدی  اشیا کے خریداروں کو فائدہ پہنچاتا ہے کیونکہ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوتا ہے۔

1987 سے اب تک پاکستان کا تجارتی توازن منفی رہا ہے۔ تاہم عدم توازن میں نمایاں اضافہ 2004 سے ہونا شروع ہوا جب جنرل پرویز مشرف نے  پاکستان  میں کنزیومرازم  کو فروغ دینا شروع کیا اور آنے والے برسوں میں اس میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا گیا۔ صرف یہیں تک محدود نہیں ، ایشیائی ترقیاتی بینک کے اندازے کے مطابق پاکستان کو اگلے تین برس کے دوران اپنے بیرونی قرض ادا کرنے کے لیے 37 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔  یہ ماہانہ قریب ایک ارب ڈالر بنتا ہے۔ کیا ایسامعیشت کے لیے پائیدار ہو گا؟

قرض کا پھندا مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ موجودہ پی ٹی آئی حکومت یومیہ 14 ارب روپے یا  قریب تین ارب ڈالر ماہانہ کے حساب سے قرض بڑھاتی جا رہی ہے۔ پاکستان کس طرف جا رہا ہے؟

حکومت پاکستان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آئی ایم ایف یا دوسرے قرض دہندگان کے قرض  کوئی مدد نہیں کر سکتے ، صرف مضبوط میکرو اکنامک انڈیکیٹرز ہی کوئی بہتری لا سکتے ہیں۔ آئی ایم ایف 1958 سے اب تک پاکستان کو 19 ارب ڈالر کے قریب  قرض  دے چکا ہے ۔ اس کا دو تہائی پچھلی ایک دہائی کے دوران وصول کیا گیا، جب پاکستان پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ نون اور اب پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف سے قرض لیے ہیں۔  ان قرضوں کا تفصیلی جائزہ ثابت کرتا ہے کہ یہ تمام قرض معاہدے  پچھلے 60 برس کے دوران پاکستان کے میکرو اکنامک انڈیکیٹرز  میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکے، سوائے 2001 سے 2004 کے مختصر دور کے جسے ہم ایک استثنیٰ قرار دے سکتے ہیں۔

مندرجہ ذیل خاکہ آئی ایم ایف کے پروگرام  سے پہلے اور بعد  پاکستانی معیشت کے کلیدی اشاریے ظاہر کرتا ہے۔

2008-2018 1998-2008 1988-1998 1978-1988 اکنامک انڈیکیٹرز
9.81٪ 5.6٪ 10.7٪ 7.6٪ افراط زر
11.3٪ 13.5٪ 17.4٪ 16.8٪ مجموعی رینویو(جی ڈی پی ٪)
4.3٪ 6.4٪ 4.5٪ 6.4٪ شرح نمو
8.30٪

14.3٪

13.4٪ 8.2٪ بچتیں (جی ڈی پی ٪)
15.6٪ 17.5٪ 9.1٪ 7.3٪ سرمایہ کاری (جی ڈی پی ٪)

آئی ایم ایف کے نسخے کے مطابق روپے کی قدر میں تیزی سے  آئی ہے 1979 میں ایک ہزار پاکستانی روپے کی مالیت آج کے حساب سے 20،865 روپے بنتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پچھلے 40 برسوں میں پاکستانی کرنسی کی قدر 2000 فیصد  کم ہوئی ہے یعنی سالانہ اوسطاً 50 فیصد کمی۔

1960 سے 1972 کے دوران ہم ایک ڈالر پانچ روپے میں خرید سکتے تھے ، 1972 سے 1982 کے دوران 10 روپے میں ، تاہم 1982 سے 2019 تک روپے کی قدر میں اصل گراوٹ شروع ہوئی ، اس دوران روپے کی قدر میں بنیادی طور پر آئی ایم ایف کے پروگرامز کی وجہ سے کمی آئی۔ایک ڈالر کا 150 روپے سے تجاوز کر جانا، اور وہ بھی   معیشت میں بنیادی اصلاحات اور سمتوں کے تعین کے بغیر، اس کا نتیجہ بے تحاشا مہنگائی اور شرح سو د میں اضافے کی صورت میں سامنے آئے گی۔ جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ معاشی سرگرمیاں جمود کا شکار ہوجائیں گی اورمعیشت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

یہ واضح ہے کہ پاکستان کے حکمران (سول اور فوجی دونوں) پاکستان کو لگاتار قرضوں کے پھندے کی جانب ہانکتے رہے ہیں، نادہندگی سے بچنے کی کسی حکمت عملی کے بغیر، خاص طور پر 1988 سے بعد کے برسوں میں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •