تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آ چکی ہے


پاکستان تحریک انصاف نے عوام کے سامنے جو ایجنڈا اور منشور سامنے رکھتے ہوئے انتخابات 2018 میں حصہ لیا۔ ان میں سے ایک پنجاب کی پولیس میں نمایاں اصلاحات اور اسے حقیقی معنوں میں عوام کی خادم فورس بنانا بھی تھا۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے پی ٹی آئی کے صرف اسی منشور کو مد نظر رکھتے ہوئے عمران خان کی جماعت کو ووٹ دے کر حکمرانی کے تخت تک پہنچایا۔ پھر کیا ہوا جو ہر جماعت الیکشن میں کامیابی کے بعد کرتی ہے۔ تحریک انصاف نے بھی وہی کیا۔ موجودہ حکومت کو اقتدار میں آئے دس ماہ ہو گے۔ پنجاب کے تھانہ کلچر میں واقعہ تبدیلی آ نہیں رہی آ چکی ہے۔ شہباز شریف کے دور میں بنائے گے فرنٹ ڈیسک اکثر تھانوں میں برائے نام فرنٹ ڈیکس میں تبدیلی ہو چکے۔ سرعام رشوت مانگے کے بجائے اب بلیک میل کر کے رشوت لی جاتی ہے۔ آنے والے سائلین اور متاثرین کو طویل انتظار کرا کر پیغام دیا جاتا ہے کہ جو ہونا تھا ہو گیا۔ اب پولیس کو معاملے میں نہ گھسیٹو۔

ایف آئی آر کا اندراج گھنٹوں سے دنوں میں تبدیل ہو گیا۔ اثرورسوخ کے لیول میں کچھ درجہ ترقی آئی ہے۔ ایسی کی تبدیلیوں کا منظر راولپنڈی کے ایک معروف پولیس اسٹیشن ”تھانہ صادق آباد“ میں دیکھنے کو ملا۔ رمضان المبارک کے آخری ہفتہ میں ایک کیس کے سلسلہ میں تھانہ صادق آباد جانا پڑ گیا۔ ”صرف تبدیلی سرکار کے دعووں اور زمین حقائق جاننے کے لیے“ عام شہری کی طرح میں بھی سب سے پہلے فرنٹ ڈیسک کی طرف رخ کیا۔ کمرے میں تھانے کا اسٹاف کچھ مصروف نظر آیا۔ اس لیے سلام کیا اور ان کی فراغت کا انتظار کرنے لگا۔ کچھ دیر بعد فرنٹ ڈیسک پر بیٹھے نوجوان کو اپنا مسئلہ بتایا۔ جوابا اس نے کوئی قانونی کارروائی کرنے کے بجائے انتظار کرنے کو کہا بعد ازاں ایک اہلکار کے کمرہ میں داخل ہونے پر اس نوجوان میں مجھے اس کے ساتھ دوسرے کمرے میں بیٹھے اے ایس آئی کے پاس بھیج دیا۔ جس کے کمرے میں چھ، سات نوجوان بیٹھے ہوئے تھے۔ وہاں بھی کافی انتظار کرنا پڑا۔ کچھ وقت گزرنے پر ہمت کرتے ہوئے اے ایس آئی سے بات کرتے ہوئے اپنا مسئلہ بتایا۔

اس نے مجھے تفتیشی کے پاس بھیج دیا۔ پھر انتظار۔ کچھ دیر بعد تفتیشی کی آمد اسے بھی اول سے آخر واقعہ سنایا۔ جس کے بعد اس نے ایک سادہ کاغذ پر اسے تحریر کی صورت میں محفوظ کرتے ہوئے یہ کہہ کر جانے کو کہا کہ اب ہم خود اپ سے رابطہ کریں گے۔ اس بات کا کیا ثبوت کہ میں نے تھانہ میں شکایت درج کرائی۔ کوئی ڈائری نمبر وغٰیرہ نہیں دیا گیا۔ میں یہ سوچتا رہا کہ شاید میرا مسئلہ اس نوعیت کا نہیں کہ اسے لیے پولیس والے اتنی توجہ نہیں دے رہے۔

مگر میرا گمان اس وقت غلط ثابت ہوا جب ایک بزرگ معزز شخص وہاں اتا ہے اس کے ساتھ بھی ایسا ہی برتاؤ کیا جاتا ہے۔ حالانکہ اس کا مسئلہ میرے مسئلہ سے زیادہ سنجیدہ نوعیت کا تھا۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی کمرے میں موجود نوجوانوں اور اے ایس آئی کے درمیان ہونے والی گفت و شنید نے مزید پریشانی میں مبتلا کر دیا۔ پولیس اہلکاروں نے نوجوانوں کو ڈبل سواری پر پابندی کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا تھا ”رمضان المبارک کے دوران کرائم کے سدباب کے لیے پولیس نے راولپنڈی شہر میں ڈبل سواری پر پابندی لگا رکھی تھی جس کی اطلاع صرف ٹیلی ویژن پر چلنے والے ٹکرز اور نیوز کے ذریعے دی گئی“ نوجوانوں کا صرف ایک ہی اصرار تھا کہ انہیں اس پابندی کا علم نہیں اس لیے ایک وارننگ دے دیں مستقبل میں ایسی خلاف ورزی نہیں کریں گے مگر اے ایس آئی اور دیگر اہلکار کوئی بات سننے کو تیار نہ ہوئے۔

اے ایس آئی نے نوجوانوں کے سامنے مختلف اپشنز رکھے مگر ان نوجوانوں کے لیے سب ناقابل قبول تھے۔ جب پولیس والوں نے دیکھا کہ ان کی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے اپنا روایتی طریقہ یعنی بلیک میلنگ شروع کر دی۔ کہ اپ کا کیس بہت سنجیدہ نوعیت کا ہے، وکیل کرنا پڑے گا، پیسے لگانے پڑیں گے اور عدالتوں کے چکر وغیر۔ یہ جملے دہرانے کی دیر تھی کہ نوجوانوں کے چہروں پر پریشانی کے اثرات نمایاں ہونے لگے۔ اسی اثنا میں ایک اہلکار ایک نوجوان کو کمرے سے باہر لے جاتا ہے کچھ ہی دیر بعد وہی قانون کا رکھوالا سب نوجوانوں کو چلے جانے کی اجازت دے دیتا ہے۔

ان کے درمیان کیا بات ہوئی یا معاملات طے ہوئے اپ کو اندازہ تو ہو گیا ہوگا۔ یہ ہیں پی ٹی آئی حکومت کی وہ تبدیلیاں جس کے لیے عوام نے انہیں ووٹ دیا تھا۔ معروف شہروں کے تھانوں میں صورتحال ہے تو دیہاتوں کا کیا عالم ہوگا۔ عوام روزانہ کی بنیاد پر ایسے مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ حکومت کی جانب سے داد رسی نہ ہونے کی وجہ سے ان کے پاس سوائے خاموشی کے دوسرا کوئی اپشن نہیں۔ ساہیول میں بچوں کے سامنے پولیس کے ہاتھوں والدین کا قتل اور اسلام آباد میں بچی فرشتہ مہمند کا مبینہ زیادتی کے بعد قتل جیسے واقعات نے عوام کو مزید مایوس کر دیا ہے۔

Facebook Comments HS