نوجوان سیاسی قیادت ہوشمند ہے لیکن تصادم اور تلخی سے گریز کرے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور پیپلز پارٹی کے چئیر مین بلاول بھٹو زرداری سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے موجودہ مایوس کن سیاسی ماحول میں امید کی کرن بنے ہوئے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کا پارلیمنٹ میں طرز عمل اور گزشتہ روز سندھ میں کی گئی تقریر، ان کی سیاسی بصیرت کا ثبوت ہے جبکہ مریم نواز نے آج لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کی سینئر قیادت کے مقابلے میں دوٹوک، واضح اور جرأت مندانہ مؤقف اختیار کیا ہے۔

یہ دونوں لیڈر اپنے سینئرز کے مقابلے میں سیاسی معاملات پر واضح مؤقف رکھتے ہیں اور جمہوری عمل میں متبادل رائے سامنے لانے کا سبب بنے ہیں۔ مریم نواز نے خاص طور سے آج لاہور میں میثاق معیشت کے سوال پر اپنی ہی پارٹی کے صدر اور چچا شہباز شریف کے مؤقف سے اختلاف سامنے لاکر اپنی خودمختارانہ رائے کا مظاہرہ کیا ہے۔ اگرچہ حکومت کی ترجمان فردوس عاشق اعوان نے فوری طور سے اسے مسلم لیگ (ن) میں توڑ پھوڑ سے تعبیر کرنے کی کوشش کی ہے لیکن مریم نواز کی اس رائے کو آسانی سے مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ کسی بھی بڑی پارٹی میں اختلاف، صحت مند جمہوری رویہ کا اظہار ہے۔ پارٹی لیڈر مختلف پلیٹ فارمز پر اپنی اپنی رائے کا اظہار کرسکتے ہیں۔ تاہم حتمی فیصلہ کسی بھی سیاسی پارٹی کا کوئی مجاز فورم ہی کرتا ہے۔

مریم نواز نے تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے بجٹ پر پیدا ہونے والے بحران پر سامنے آنے والی بحث اور اس حوالے سے میثاق معیشت کی تجویز کو ’مذاق معیشت‘ قرار دیا ہے۔ ان کے خیال میں ایک ایسی حکومت جو ملکی معیشت کو خطرناک سیاسی بحران کا شکار کرچکی ہے اور جس کی سیاسی حکمت عملی افتراق اور تصادم کا واضح اشارہ ہے، اسے قومی اسمبلی میں بجٹ کے حوالے سے ریلیف دینا مناسب نہیں ہوگا۔ ان کے خیال میں اس قسم کا فیصلہ ایک نا اہل حکومت کو بدستور اقتدار سے چمٹے رہنے کا موقع فراہم کرنے کے مساوی ہوگا۔ اس اقدام کو انہوں نے تحریک انصاف کی حکومت کو ’این آر او‘ دینے کے مماثل قرار دیا ہے۔

مریم نواز نے البتہ بعد میں ایک ٹوئٹ میں خود ہی اس بات کو تسلیم بھی کیا ہے کہ ’میثاق معیشت یا دوسرے سیاسی امور کے بارے میں پارٹی کی قیادت اور مجاز فورم ہی حتمی فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں۔ ان کے سیاسی اختلاف کو شریف خاندان کی باہمی لڑائی قرار دینے کی کوشش نہ کی جائے‘ ۔ اگرچہ یہ بات عام طور سے تسلیم کی جاتی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف حکمت عملی اور سیاسی مصلحت پسندی کے معاملہ میں پارٹی کے تاحیات قائد نواز شریف اور مریم نواز سے متفق نہیں ہیں۔ لیکن برس ہا برس تک دونوں شریف بھائیوں میں سیاسی حکمت عملی کا اختلاف ان کے راستے جدا کرنے کا سبب نہیں بن سکا۔ موجودہ حالات میں یہ ماننا مشکل ہے کہ ایسا اختلاف مسلم لیگ (ن) کو دھڑوں میں تقسیم کردے گا۔

ملکی سیاست پر اس وقت ایک طرف حکمران پارٹی اور عمران خان کے تند و تیز سیاسی بیانات اور دوسری طرف میڈیا پر پابندیوں اور ایک خاص طرح کی رائے کو عام کرنے کی ریاستی حکمت عملی کی وجہ سے جمود اور خوف کا سایہ ہے۔ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری اپنے ٹھوس مؤقف اور جرأتمندانہ اظہار سے اس جمود کو توڑنے اور خوف کی فضا کو ختم کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں۔ پاکستان میں جمہوری روایت کے تسلسل کے لئے ان دونوں کا کردار قابل تعریف ہے۔ اس لئے جب وہ سیاسی معاملات پر علیحدہ اور واضح رائے کا اظہار کرتے ہیں تو اسے کسی ایک پارٹی کے سیاسی انتشار کی بجائے اختلاف کی صحتمند روایت کا حصہ سمجھنا چاہیے۔ ملک کو اس رویہ کی جس قدر ضرورت اس وقت ہے، وہ اس سے پہلے شاید کبھی بھی نہیں تھی۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن پارٹیاں مضبوط سیاسی پوزیشن میں ہیں لیکن وہ حکومت کے بیانیہ کے سامنے دیوار کھڑی کرنے اور پارلیمانی امور میں اپنی اہمیت منوانے میں ناکام ہورہی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ دونوں بڑی پارٹیوں کی اعلیٰ قیادت قید و بند اور سنگین الزامات و مقدمات کا سامنا کررہی ہے۔ نواز شریف پر تو تاحیات سیاسی عہدہ سنبھالنے کی پابندی بھی لگا دی گئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے دیگر لیڈروں کے گرد بھی نیب کے ذریعے دائرہ تنگ کیا جارہا ہے۔

 ایسے میں اگر مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری باہمی ملاقاتوں اور بیانات کے ذریعے سیاسی تحریک پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں تو اسے حکومت گرانے کی جد و جہد نہیں کہا جاسکتا۔ اور نہ ہی یہ الزام دھر کر انہیں خاموش کروانے کی کوشش ہونی چاہیے کہ یہ دونوں اپنے اپنے مقید والد کو رہا کروانے کے لئے کوشش کررہے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نیب کی سرگرمی اور اس کی طرف سے سیاسی قائدین کو گرفتار کرنے یا قید کی سزائیں دلوانے کے عمل کو سیاسی انتقام قرار دیتی ہیں۔ نیب اور حکومت جب تک یہ ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہوجاتیں کہ یہ باہمی ملی بھگت کا نہیں بلکہ خالص میرٹ کا معاملہ ہے۔ اور احتساب عدالتیں حقائق کی بنیاد پر قانون کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے فیصلے صادر کرنے کے قابل نہیں ہوتیں، اس وقت تک ملک سے اس تاثر کو ختم نہیں کیا جاسکتا کہ قومی احتساب بیورو کو سیاسی انتقام اور ملک میں نئی قیادت کو خالی میدان دینے کی کوششوں کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔

اس حوالے سے فواد چوہدری کا بیان اور اس پر چئیر مین نیب کا ردعمل تازہ ترین مثال ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے کے بعد نیب کے چئیر مین سے ملاقات کی اور احتساب کے بارے میں اپنا نقطہ نظر ان کے گوش گزار کروایا۔ نیب کے سربراہ حال ہی میں بتا چکے ہیں کہ وہ حکومتی اہلکاروں کے خلاف کارروائی سے گریز کررہے ہیں تاکہ موجودہ حکومت کو گزند نہ پہنچے۔ اس بیان پر سامنے آنے والا سناٹا بھی احتساب کی کہانی کا سنسنی خیز پہلو سامنے لاتا ہے۔ ایسے میں نیب کی خود مختاری اور جانبداری پر سوال تو اٹھیں گے۔

جس طرح مریم نواز اپنے چچا اور پارٹی صدر کے میثاق معیشت کے بارے میں اپنی دو ٹوک رائے کا اظہار کررہی ہیں، اسی طرح بلاول بھٹو زرداری بھی اپنے والد کے مقابلے میں حکومت کو راہ راست دکھانے کے لئے بہادری سے بات کہنے کے جوہر دکھاتے ہیں۔ پختون تحفظ موومنٹ کے ارکان قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے سوال پر انہوں نے اصولی اور سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ جبکہ نیب کی حراست سے قومی اسمبلی میں آکر تقریر کرنے والے آصف زرداری نے مصالحت اور درگزر کی بات کرنا مناسب سمجھا۔ بلاول اس کے برعکس سیاسی جبر کا مقابلہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم کو مشورہ دیتے ہیں کہ ’حکومت سیاسی مخالفین پر اتنا ہی ظلم کرے جتنا اس کے ارکان بعد میں برداشت کرسکتے ہیں‘ ۔

سیاست دانوں کی دو نسلوں کے مزاج اور طریقہ سیاست میں فرق واضح ہورہا ہے۔ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری دو مخلتلف پارٹیوں سے ہی تعلق نہیں رکھتے بلکہ دو جداگانہ سیاسی سوچ کے وارث ہیں۔ لیکن ان کی باتوں اور سیاسی رکھ رکھاؤ میں جوش اور نیا پن ہے۔ یہ ولولہ ملک کی فرسودہ اور گھٹن زدہ سیاست کے لئے تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ اس کی آبیاری کرنے سے جمہوری سیاست کو تقویت ملے گی۔ اس کے ساتھ ہی ان نوجوان قائدین کو تلخی، ضد اور انتقامی سیاست سے گریز کرنا ہوگا۔ تاکہ انتشار اور پگڑی اچھالنے کے ایک مایوس کن دور کے بعد ملک میں باہمی احترام پر مبنی سیاسی کلچر فروغ پاسکے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1214 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali