کیا ہر کامیابی کے پیچھے وردی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ روز پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائیریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کے ہمراہ لارڈز میں ورلڈ کپ میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کا میچ دیکھا۔ یہ میچ پاکستان نے 49 رنز سے جیت لیا تھا۔ آرمی چیف آج کل برطانیہ کے سرکاری دورہ پر ہیں۔ کسی سماجی تقریب میں شرکت یا ایک ون ڈے میچ دیکھنے کے لئے جانا کوئی معیوب معاملہ نہیں ہے۔ تاہم اس شرکت کی شہرت اور سوشل میڈیا پر آئی ایس پی آر کے سربراہ کی خفگی، دھمکی اور خوشی کے اظہار سے یوں لگتا ہے کہ پاکستان کسی بھی شعبہ میں کوئی بھی کارنامہ سرانجام دے، اس کا کریڈٹ فوج کو دینے کی روایت مستحکم ہو رہی ہے۔ سوال ہے کہ کیا یہ مزاج راسخ کرنے کے لئے فوج کا شعبہ تعلقات عامہ خاص طور سے سرگرم ہے؟

لارڈز کے میدان میں جنرل قمر جاوید باجوہ کی موجودگی پر وہاں موجود پاکستانیوں نے گرمجوشی اور خوشی کا مظاہرہ کیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ فوجی قیادت عام طور سے اپنی پیشہ وارانہ سرگرمیوں کی وجہ سے عام شہریوں سے گھلنے ملنے کو کوشش نہیں کرتی لیکن ملک کی سیاست اور سماجی رویوں پر فوج کا اثر و رسوخ بہت گہرا ہے۔ جس کی وجہ سے اہل پاکستان خواہ ملک کے اندر ہوں یا بیرون ملک مقیم ہوں، فوج کی قیادت سے خاص طرح کا لگاؤ اور انسیت محسوس کرتے ہیں۔ یہ رویہ صرف پاکستانی عوام سے مخصوص نہیں ہے۔ دنیا کے ہر ملک کے عوام اپنی مسلح افواج کے بارے میں قوم پرستی کے جذبہ سے سرشار ہوتے ہیں اور قوم و ملک کی حفاظت کے لئے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ پاکستانی فوج کے لئے تحسین اور محبت کے عوامی جذبات کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

تاہم گزشتہ روز لارڈز میں جنرل قمر جاوید باجوہ کی موجودگی اور اس میچ میں لگاتار متعدد میچ ہارنے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم کی اچانک اور شاندار کامیابی پر سوشل میڈیا نے جس رد عمل کا اظہار کیا، وہ پاکستانی فوج کی شہرت اور معاشرے میں اس کے کردار کے حوالے سے خوش آئند طرز عمل نہیں ہے۔ عوام میں اگر یہ تاثر پیدا کیا جائے گا اور اس بات پر اصرار کیا جائے گا کہ فوج ہی اس ملک کے تمام معاملات کو دیکھ اور سنبھال سکتی ہے جبکہ باقی سب ادارے ناکارہ اور بے مقصد ہیں۔ تو یہ سوچ ملک میں جمہوریت کے حوالے سے افسوسناک ہونے کے علاوہ فوج کی شہرت کے لئے بھی کوئی اچھا شگون نہیں۔ مثال کے طور پر سوشل میڈیا پر متحرک صارفین میں سے ایک نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کامیابی پر یہ فقرہ لکھا کہ ’ یہ جو کارکردگی ہے اس کے پیچھے وردی ہے‘۔ اسی طرح ایک دوسرے صارف نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی اسٹیڈیم سے واپس جاتے ہوئے ایک تصویر شئیر کرتے ہوئے یہ سرخی جمائی کہ ’ تم سرخرو ہو گے ہر میدان میں۔۔۔ کام پورا ہؤا، اب چلتے ہیں‘۔

لوگوں کے جوش و خروش اور ٹوئٹ پیغامات میں ’حکمت ‘ تلاش کرنا شاید اہم نہیں کیونکہ ٹیم کی کامیابی پر خوش ہونے والے کسی نہ کسی طرح اپنے جذبات کا اظہار کرنا چاہتے تھے۔ اسی طرح فوجی افسروں کو دیکھ کر یا ان کی موجودگی کے بارے میں جان کر بھی پاکستانیوں میں یقیناً گرمجوشی پیدا ہوئی ہوگی۔ اس کا اظہار بھی سوشل میڈیا پر متحرک لوگ اپنے اپنے انداز اور طریقہ سے کرتے رہے ہیں۔ تاہم اس بحث اور نوک جھونک میں میجر جنرل آصف غفور نے شریک ہو کر اور سخت لب و لہجہ میں ٹوئٹ پیغام دے کر صورت حال کو قابل غور و فکر بنا دیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے سربراہ کی ایک میچ میں شرکت کے حوالے سے ٹوئٹ، متوازن اور خوش آئند نہیں تھے۔

میجر جنرل آصف غفور کو ایک صارف کے اس لایعنی ٹوئٹ پر تو کوئی اعتراض نہیں تھا کہ کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کے پیچھے وردی ہے کیوں کہ ٹوئٹر پر متحرک میجر جنرل صاحب نے اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ انہیں اس بات پر بھی کوئی تعرض نہیں ہؤا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ اسٹیڈیم آئے اور ٹیم کو جتوا کر واپس چلے گئے کیوں کہ یہ فوج ہی ہے جو ہر میدان میں سرخرو ہوتی ہے۔ البتہ جب عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما اور پارلیمنٹ کی سابق رکن بشریٰ گوہر نے ایک ٹوئٹ پیغام میں یہ سوال کیا کہ ’کیا فوجی افسر میچ دیکھنے نجی دورہ پر برطانیہ گئے تھے۔ انہیں کس نے میچ دیکھنے جانے کی اجازت دی اور کس نے اس کے اخراجات برداشت کئے۔ امید ہے یہ اخراجات ٹیکس دہندگان کے روپوں سے ادا نہیں ہوئے ہوں گے‘۔

 اس پر میجر جنرل آصف غفور نے نہایت غصے کا اظہار کیا اور ایک سخت ٹوئٹ میں کہا کہ ’ بشریٰ گوہر سے میری عاجزانہ درخواست ہے کہ وہ آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر یا غلط نمبر کا چشمہ پہن کر ٹوئٹ نہ کیا کریں۔ پاکستانی ٹیم کی بہتر کارکردگی اور کامیابی کا لطف لیں۔ کوشش کریں کہ اگلا میچ دیکھنے آئیں اور اپنی ٹیم کو سپورٹ کریں۔ آپ میری مہمان بھی ہوسکتی ہیں‘۔ آئی ایس پی آر کے سربراہ نے فوج اور اس کے جرنیلوں کے بارے میں دوسرے غیر ذمہ دارانہ ٹوئٹ پیغامات پر تو کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن ایک تلخ تبصرہ پر ردعمل دیتے ہوئے یہ خیال بھی نہیں رکھا کہ وہ ٹوئٹ کرنے والی ایک خاتون تھیں۔ اس کے علاوہ وہ ایک سیاسی جماعت کی لیڈر ہیں اور ملک کے ہر ادارے پر ہونے والے اخراجات یا اس کے طریقہ کار کے بارے میں سوال اٹھانے کا آئینی حق رکھتی ہیں۔

بشریٰ گوہر نے البتہ میجر جنرل آصف غفور کے اس ’حملہ‘ کا جواب دیتے ہوئے ایک نئے ٹوئٹ میں لکھا کہ ’ جنرل صاحب لگتا ہے احتساب کی بات کر کے میں نے کسی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں پر توجہ دیں اور ذاتی نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیان جاری نہ کریں۔ ویسے یہ تو بتائیں کہ آپ اپنی تنخواہ میں مجھے یہ فراخدلانہ پیشکش کس طرح کر سکتے ہیں۔ کیا آپ کی لاٹری نکلی ہے؟‘ میجر جنرل آصف غفور نے تو اس ٹوئٹ کا جواب نہ دے کر دانشمندی سے ایک تلخ گفتگو کو لپیٹنے کی کوشش کی لیکن ایک خاتون ڈاکٹر نے اسٹیڈیم میں پاکستانی جرنیلوں کے داخلہ کی ویڈیو شئیر کرتے ہوئے یہ الزام عائد کردیا کہ ’ اس ویڈیو سے ظاہر ہے کہ اسٹیڈیم جانے کے ٹکٹ انیل مسرت نے تحفہ کئے تھے۔ وہ ایک سیاسی کارکن ہیں۔ کیا ایک سیاسی کارکن سے تحفہ لینا فوج کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں ہے‘۔

اس سخت اور واضح الزام پر مبنی ٹوئٹ پر بھی میجر جنرل آصف غفور نے ایک جذباتی ٹوئٹ کر کے اپنی اور فوج کی پوزیشن کے بارے میں نیا سوال کھڑا کردیا۔ انہوں نے لکھا کہ ’ اسٹیڈیم میں موجود ہر پاکستانی ہماری میزبانی کرنا چاہتا تھا۔ سوشل میڈیا پر لوگوں کے جذبات دیکھنے کی کوشش کریں۔ میرے پاس اس الزام کا جواب دینے کے قانونی آپشنز موجود ہیں لیکن میں آپ کی کم نظری اور ایجنڈا کی بنیاد پر دیے گئے ٹوئٹ کو نظرانداز کر رہا ہوں۔ یہ تمام پاکستانیوں کے لئے معاف کرنے اور لطف اٹھانے کا لمحہ ہے‘۔

کھیل کے ایک ایونٹ میں آرمی چیف کی معمول کی شرکت، سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث اور اس پر آئی ایس پی آر کے ٹوئٹ پیغامات نے یہ سوال تو پیدا کیا ہے کہ کیا واقعی پاکستان میں کچھ بھی اچھا ہو تو اس کی وجہ پاک فوج ہی ہو سکتی ہے اور زندگی کے باقی سب شعبے ناکام ہو رہے ہیں۔ اور اسی وجہ سے پاک فوج کو سول سیکورٹی سے لے کر خارجہ امور اور معاشی معاملات تک میں رہنمائی کا کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔ اس سے پہلے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بھی کچھ اسی قسم کا دعویٰ کرچکے ہیں۔ کہ پارلیمنٹ ہو یا معیشت یا پھر کھیل کا میدان، ہر شعبہ میں ہیجان اور بحران ہے اور صرف عدلیہ سے اچھی خبریں سامنے آرہی ہیں۔

ملک کے آئینی اور ریاستی ادارے خود کو سیاست دانوں اور پارلیمنٹ سے بہتر اور زیرک ثابت کرکے آخر کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ بشری ٰ گوہر کے سوال پر میجر جنرل آصف غفور کے جواب کا کیا یہی مقصد نکالا جائے کہ ملک میں جب بھی کچھ اچھا ہو تو اس کا کریڈٹ فوج کو ہی دینا ضروری ہے ورنہ فوجی افسر ناراض ہو سکتے ہیں۔ ملک کا آئین فوج کو مصلح قوم کا کردار تفویض نہیں کرتا۔ فوج کے ترجمان کو بھی یہ بھاری  پتھر اٹھانے سے گریز ہی کرنا چاہئے۔

 آرمی چیف متعدد مواقع پر خود یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ قوم کی تائید و حمایت کے بغیر فوج سرحدوں کی حفاظت نہیں کر سکتی۔ عوام اور فوج کے درمیان عزت و احترام کا رشتہ استوار ہے۔ یہ احترام اپنے اپنے دائرہ کار میں کام کرتے رہنے سے ہی پائیدار ہوسکتا ہے۔ فوج ملک کی ہر کامیابی کی ضامن نہیں ہے۔ اس ملک کے 22 کروڑ لوگ اس ملک کو اٹھانے اور آگے لے جانے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہیں۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1275 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali