آرمی چیف کا مشورہ اور بجٹ 2019 کی منظوری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد نے آج صبح ’پاکستانی معیشت کو لاحق اندیشے اور آگے بڑھنے کا راستہ‘ کے موضوع پر ایک سیمینار منعقد کیا۔ اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے معاشی مسائل سے نمٹنے کے لئے ملک کے تمام عناصر کو فوج کے نقش قدم پر چلنے کی تلقین کی اور حکومت کے ’مشکل اور ضروری‘ اقدامات کو کامیاب بنانے کے لئے تعاون کرنے کا مشورہ دیا۔ آج ہی شام کو سیاہ پٹیاں باندھے ہوئے اپوزیشن ارکان کے احتجاج کے باوجود قومی اسمبلی کی واضح اکثریت نے تحریک انصاف کی حکومت کا پیش کردہ بجٹ منظور کرلیا۔ کہا جاسکتا ہے کہ ’قوم‘ نے آرمی چیف کی آواز پر لبیک کہا ہے۔

یوں تو صبح کے وقت منعقد ہونے والے سیمینار اور قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں سوائے اس کے کوئی قدر مشترک نہیں تھی کہ دونوں مواقع پر ملکی معیشت اور اس کو لاحق خطرات کے بارے میں بات کی گئی۔ لیکن اسمبلی میں ہونے والی گفتگو ایک خود مختار اور فیصلے کرنے والے ادارے کے پلیٹ فارم پر کی جارہی تھی جس کے ارکان کثرت رائے سے کوئی بھی فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ صبح کا سیمینار ایک یونیورسٹی نے اہم قومی مسئلہ پر تبادلہ خیال کے لئے منعقد کیا تھا جس میں کی گئی گفتگو ہر شرکت کنندہ کی ذاتی رائے تھی اور ان میں سے کوئی بات بھی حکم کا درجہ نہیں رکھتی تھی۔ ایسے سیمینار، ایک دوسرے سے اتفاق کرنے کے لئے منعقد نہیں ہوتے بلکہ ان میں مختلف نقطہ ہائے نظر کو سامنے لاکر ان کا باہمی موازنہ کیا جاتا ہے تاکہ بااختیار ادارے ان افکار کو فیصلے کرتے وقت بروئے کار لاسکیں۔ اس لحاظ سے آرمی چیف کے ارشادات بھی بحث کو آگے بڑھانے اور ملک و قوم کے لئے بہتر راستہ تجویز کرنے کی کوشش تھی۔

تاہم حکومت وقت کے مشکل معاشی فیصلوں کے بارے میں آرمی چیف کی دو ٹوک رائے کے بعد اسی روز قومی اسمبلی میں بھاری اکثریت سے ایک متنازع اور ناقص بجٹ کا منظور ہوجانا کیا محض اتفاق ہے؟ قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں سرکش اپوزیشن کے ہوتے ہوئے آج ہی کے روز بجٹ کو رائے دہی کے لئے پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا کیوں کہ حکومت نے یکم جولائی تک آئی ایم ایف کو اس فیصلہ سے آگاہ کرنا ہے تاکہ اس 6 ارب ڈالر کے پیکیج کی منظوری حاصل کی جاسکے جس کے لئے بجٹ کو ’بچت و کفایت‘ کا بجٹ قرار دیتے ہوئے عام شہریوں کی مالی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کیا گیا ہے۔ ایک امریکی ڈالر 164 روپے کی حد پار کرچکا ہے۔ گیس میں دو سو فیصد تک اضافہ کی نوید سنادی گئی ہے۔ اب بجٹ میں منظور شدہ تجاویز پر عمل درآمد سے عام شہریوں کی جیبوں پر مزید بوجھ پڑے گا ۔ مہنگائی کا ایک نیا طوفان آئے گا اور حکومت اسے سابقہ حکومتوں کی غلط کاریاں قرار دے کر بدعنوانی اور احتساب کے باب میں کچھ نئے اقدامات کرکے روتے بسورتے لوگوں کو خاموش کروانے کی کوشش کرے گی۔

پارلیمانی نظام میں معمولی اکثریت سے اقتدار سنبھالے ہوئے کوئی بھی حکومت اس قدر بددماغ اور خود سر نہیں ہوتی کہ وہ بجٹ یا دیگر اہم معاملات پر فیصلے کرتے ہوئے اپوزیشن کو رجھانے کی کوئی کوشش نہ کرے۔ اس قسم کے جمہوری نظام میں اگر حکومتی پارٹی کو واضح اور بڑی اکثریت بھی حاصل ہو، تو بھی وہ اپوزیشن کی اشک شوئی کے لئے کچھ نہ کچھ مفاہمت کرنے یا بجٹ تجاویز میں کوئی تبدیلی کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ لیکن تحریک انصاف جسے قومی اسمبلی میں خود اپنے ارکان کی بنیاد پر اکثریت بھی حاصل نہیں ہے، کے تکبر کا یہ عالم رہا ہے کہ 11 جون کو بجٹ پیش کرنے کے بعد اسی رات قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے اپوزیشن لیڈروں کو ایک بار پھر چور اور لٹیرے قرار دیا۔ اور دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اپنی لوٹ کھسوٹ کے ذریعے ملک کو کثیر بیرونی قرضوں کا زیر بار کردیا ہے۔ اسی لئے انہوں نے گزشتہ دو حکومتوں کے ادوار میں لئے گئے غیر ملکی قرضوں کی ’تحقیقات‘ کے لئے ایسا کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا جو ان کے ’نیچے‘ کام کرے گا۔

گزشتہ دو ہفتے کے دوران قومی اسمبلی کو مچھلی بازار بنانے میں جتنا کردار اپوزیشن کا رہا ہے ، اس سے کہیں زیادہ حکومت نے معاملات کو مشکل اور پیچیدہ بنایا ہے۔ حکومت نے کسی بھی معاملہ پر اپوزیشن کے ساتھ مفاہمت کرنے اور معاشی یا انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لئے وسیع تر اشتراک عمل کا آغاز کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی ہے۔ لیکن آج بجٹ پر رائے دہی سے پہلے قومی سالمیت و حاکمیت، معیشت، سیاست اور مشکل فیصلوں کے بارے میں جنرل قمر جاوید باجوہ کے اقوال زریں ضرور ٹیلی ویژن اسکرینوں کے ذریعے گھر گھر پہنچ چکے تھے۔ قومی اسمبلی میں بجٹ پر ووٹ دینے والے سارے ارکان بھی اس رائے سے آگاہ تھے۔ اور شاید یہ بھی سمجھ گئے ہوں گے کہ اس رائے کو مسترد کرنے یا غلط قرار دینے کا کیا مقصد ہوسکتا ہے۔

اسے تحریک انصاف اور عمران خان کی خوش قسمتی بھی کہا جاسکتا ہے کہ بجٹ پر ووٹنگ سے پہلے ’قوم کے مسیحا ‘ نے اپنی دو ٹوک رائے سامنے لانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ لیکن اس افواہ سازی کا راستہ بھی نہیں روکا جاسکتا کہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا سیمینار، اس میں آرمی چیف کا خطاب اور اسی شام بجٹ اجلاس میں رائے دہی کا فیصلہ، ایک حکمت عملی کے مختلف پہلو ہیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے قومی حاکمیت کو معاشی کامیابی سے منسلک قرار دیا۔ لیکن تحریک انصاف کی بجٹ تجاویز کی قیمت ادا کرنے والے ملک کے 22 کروڑ عوام یہ ضرور سوچتے ہوں گے کہ یہ حاکمیت کس بلا کا نام ہے؟ ان کو نہ یہ خود مختاری حاصل ہے کہ وہ اپنی تقدیر کے فیصلے خود کرسکیں اور نہ ہی ان کا ووٹ اس قابل ہوتا ہے کہ ملک و قوم کے سیاست دان اور بااختیار ادارے اس کا احترام کریں۔ کبھی ان کی گنتی میں دھاندلی کے ذریعے، کبھی نام نہاد الیکٹ ایبلز کا بازو مروڑ کر اور کبھی قومی معیشت کے لئے درست فیصلوں کی نشاندہی کرکے ، عام لوگوں کو کم عقل کہا جاتا ہے ۔ ان کی مرضی نافذ ہونے کا ہر موقع کسی اعلیٰ تدبر والے کی رائے کے سامنے بے بس ہو کر رہ جاتا ہے۔ عوام ہر دور کے مسیحا کے مشوروں کی قیمت ادا کرنے پر مجبور کردیے جاتے ہیں۔ اور وہ اگلے انتخاب اور نئے نعروں کے انتظار میں پھر سے دن لگتے ہیں۔

پاک فوج کے سربراہ نے آج کے جامع خطاب میں جو سنہری باتیں کی ہیں انہیں انہی کے الفاظ میں دیکھ لینے سے صورت حال واضح ہوجاتی ہے۔ انہوں نے فرمایا:

1) اقتصادی خودمختاری کے بغیر قومی حاکمیت کا تصور نہیں کیا جا سکتا ۔ 2) مالی بدانتظامی کی وجہ سے ہمیں معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ 3) ہم مشکل فیصلے کرنے سے ہچکچاتے رہے ہیں۔ 4) مسلح افواج نے رضاکارانہ طور پر دفاعی بجٹ میں کمی قبول کرکے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ اور افواج معیشت کے حوالے سے صرف یہی کام نہیں کررہی ہیں۔ 5) ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت نے طویل المدت فائدے کے لئے مشکل مگر ضروری فیصلے کئے ہیں۔ ہم اس میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ 6) ہم سب کو اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔ تاکہ یہ مشکل اقدامات کامیاب ہوسکیں۔

ان میں سے ہر نکتہ خود میں ایک داستان لئے ہوئے ہے۔ لیکن اس بنیادی مسئلہ پر آفاقی اتفاق رائے موجود ہے کہ جب تک کسی ملک کے معاشی معاملات درست نہیں ہوں گے ، عوام خوش حال اور مطمئن نہیں ہوں گے ، اس کی سرحدوں کی حفاظت یعنی سلامتی کا یقین نہیں دلوایا جاسکتا۔ اسی لئے سوشل ویلفئر ریاست کا تصور کامیاب ریاست کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان کو البتہ اس راستے سے ہٹاکر سیکورٹی ریاست بنانے والے ملک کے سیاست دان نہیں ہیں۔ ملک اس وقت جس اقتصادی گرداب میں پھنسا ہؤا ہے، اس کی بنیادی وجہ اپنی معاشی استعداد سے زیادہ دفاع اور افواج پر صرف کرنے کا چلن ہے۔ اپنے سے پانچ چھے گنا بڑے ملک بھارت کا مقابلہ کرتے کرتے ہم نے پوری دنیا کی مخالفت مول لے کر جوہری صلاحیت حاصل کی۔ اب اسے ہی اپنے دفاع کا سب سے مؤثر ذریعہ سمجھنے اور قومی وقار کی نمایاں علامت قرار دینے میں مگن ہیں۔

آرمی چیف نے ملکی معیشت کی اصلاح کے لئے افواج کے ایثار کا ذکر کیا ہے۔ کیا وہ صرف یہ بتا سکتے ہیں کہ دنیا کے کتنے خود مختار اور باوقار ممالک میں فوج دفاعی مصارف کا تعین کرنے کا حق رکھتی ہے۔ اور جہاں سویلین حکمران ایک خاص سال میں دفاعی اخراجات میں اضافہ نہ کرنے پر فوج کا شکر گزار ہو نا پڑتا ہے۔ اور فوج اسے اپنا ’احسان ‘ بنا کر پیش کرنے میں کوئی حیا محسوس نہ کرتی ہو۔ حالانکہ پاکستان کی حد تک یہ بات غیر واضح ہے کہ ’بچت کے نئے بجٹ‘ میں واقعی دفاعی اخراجات میں کمی کی گئی ہے یا مدات کے گورکھ دھندے میں لوگوں کو بے وقوف بنایا گیا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1191 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali