اس نے ایک اجنبی سے محبت کی تھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اکی ورزشی جسم کا ہینڈسم شخص تھا۔ اس کی عمر تیس برس رہی ہوگی۔ وہ ٹو پیس سوٹ پہنے ہوئے تھا۔ اینا کو اس کی شخصیت پر کشش لگی تھی۔ اس نے آ کر شرارتی انداز میں ہیلو ہائے کی اور ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ کھانے کے دوران بھی وہ چٹکلے چھوڑتا رہا۔ اینا اور افرا بار بار ہنستی رہیں۔ کھانے کے بعد وہ ٹہلنے چلے گئے۔ پھر اکی نے آئس کریم کی آفر کر دی۔ انکار کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ انہوں نے ڈھیروں باتیں کیں لیکن جی ہی نہیں بھرتا تھا۔ آخر اینا نے نہ چاہتے ہوئے بھی اجازت لی اور گھر آ گئی۔ چندا دیر سے آنے پر دبے لفظوں میں شکایت کرنا چاہتی تھی کیونکہ اس کی ڈیوٹی بہت لمبی ہو گئی تھی لیکن اینا کو خوش دیکھ کر چپ ہو رہی۔

عینی کو اس کے بیڈ روم میں سلا کر وہ اپنے بیڈ روم میں لیٹی تو ایک میسیج آ گیا۔ اس نے چونک کر فون چیک کیا۔ ”کہاں ہو؟ گھر پہنچ کر کم از کم خیریت کا ایک میسیج تو کر دیتیں۔ “

اکی کا میسیج تھا۔ وہ مسکرا اٹھی۔ ایسے بے تکلف ہو رہا ہے جیسے برسوں سے میرا واقف ہو۔ ”تم کہاں ہو؟ “ اینا نے سوال کے بدلے سوال بھیجا۔ رات گئے تک میسیجنگ جاری رہی۔

اب تو روز کا ملنا شروع ہو گیا تھا۔ جب اینا گھر آ جاتی تو فون شروع ہو جاتے۔ ہاں ایک بات تھی جب وہ تینوں ہوتے تھے تو اکی کا رویہ دوستوں جیسا ہوتا تھا۔ لیکن فون پر ایسا لگتا تھا جیسے وہ اینا پر مر مٹا ہے۔ اینا جیسے پھر سے جینے لگی تھی۔ اسے اب احساس ہو رہا تھا کہ برسوں سے وہ کبھی دل سے تیار بھی نہیں ہوئی تھی، نہ میک اپ کیا تھا اور نہ اچھے کپڑے خریدے تھے۔ وہ ایک روکھی پھیکی زندگی گزار رہی تھی۔ گزشتہ ایک ہفتے میں وہ جتنا ہنسی تھی اتنا تو سات برسوں میں نہ ہنس سکی تھی۔

وہ آئینے کے سامنے بیٹھ کر خود کو دیکھ رہی تھی اور مسکرا رہی تھی اسے اکی کی باتیں یاد آ رہی تھیں۔ ”ٹھیک ہی تو کہتا ہے میں واقعی بڑی پیاری ہوں۔ “ وہ دل ہی دل میں سوچ کر خوش ہو رہی تھی مگر وہ اور پیاری لگنا چاہتی تھی خاص طور پر اکی کے سامنے۔ اس نے اکی کو ڈنر پر بلایا تھا، صرف اکی کو۔ ایسا اس نے جان بوجھ کر کیا تھا۔ پتہ نہیں کیوں وہ چاہتی تھی بس وہ دونوں ہوں کوئی اور نہ ہو۔

چندا نے کھانا بہت اچھا بنایا تھا۔ اکی بار بار تعریفیں کر رہا تھا۔ اینا خواہ مخواہ اترا رہی تھی۔ کھانے کے بعد باتوں کا دور چلا۔ چندا چلی گئی تھی۔ عینی سونے کی ضد کر رہی تھی۔ اکی نے دھیرے سے اجازت چاہی۔

”ابھی نہ جاؤ ناں، میں ابھی کافی بناتی ہوں۔ “ اکی بھی شاید باتوں کے موڈ میں تھا رک گیا۔ اینا عینی کو سلا کر کافی بنا لائی۔ کافی پینے کے بعد اینا بولی۔
”اکی اب تم جانا چاہو تو جا سکتے ہو۔ “

”کیا تم مجھے اپنے گھر سے نکال رہی ہو؟ “ اکی نے جھوٹ موٹ ناراضی سے کہا۔
”ارے نہیں میں تمہیں کیوں نکالوں گی۔ تم یہیں سو جاؤ۔ “ اینا نے ہنستے ہوئے مذاق سے کہا۔

”پہلے مجھے اپنا بیڈ روم دکھاؤ پھر میں فیصلہ کروں گا کہ وہ سونے کے قابل ہے یا نہیں۔ “
”چلیے جناب“

اینا اٹھ کھڑی ہوئی۔ اکی نے بیڈ روم کا ایک طائرانہ جائزہ لیا اور بڑی بے تکلفی سے بیڈ پر بیٹھ گیا۔
”آؤ ناں، باتیں کرتے ہیں“۔

اینا مسکراتے ہوئے اس کے پاس بیٹھ گئی۔ ”ذرا اپنا ہاتھ دو، میں دیکھوں تمہارے ہاتھ کی لکیروں میں کیا لکھا ہے؟ “ اس نے اینا کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔ اینا کے سارے بدن میں ایک لہر سی دوڑ گئی۔ وہ جب جب اسے چھوتا تھا اس کا بدن تپنے لگتا تھا اور آج تو تپش کچھ زیادہ ہی تھی۔ وہ اس کا ہاتھ تھامے پتہ نہیں کیا کہہ رہا تھا۔ اینا کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ اینا کو ایسا لگ رہا تھا جیسے بخار ہو گیا ہو۔ بدن کی حرارت بڑھتی جا رہی تھی۔

”اینا بولو ناں، تم تو چپ ہی ہو گئی ہو۔ “ اکی کی بات سن کر وہ چونک اٹھی۔
”اکی! کاش تم ہمیشہ میرے پاس رہتے۔ میرے ہو جاؤ ناں، مجھ سے شادی کر لو“۔ اینا جیسے بے خودی میں بول رہی تھی۔ اکی نے اپنا بازو اس کی کمر کے گرد رکھا پھر کھینچ کر اسے گلے لگا لیا۔ ”میں تو کب سے تمہارا ہو چکا ہوں۔ “ اس نے دھیرے سے کہا۔ اینا کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ وہ پورے زور سے اس کے سینے سے لگ گئی۔ اسے یوں لگ رہا تھا جیسے بدن میں آگ سی بھر گئی ہو۔

صبح جب اینا کی آنکھ کھلی تو خود کو دیکھ کر مسکرا اٹھی۔ رات اسے اتنی گرمی لگ رہی تھی کہ کپڑے گرم کمبل کی طرح لگ رہے تھے۔ اس نے اکی پر نظر ڈالی وہ چت لیٹا بے خبر سو رہا تھا۔ اینا نے اس کے بدن پر چادر ڈالی پھر قالین سے اپنی قمیص اٹھا کر واش روم میں گھس گئی۔

اکی جب ناشتے کے لیے ٹیبل پرآیا تو اینا دفتر جانے کے لیے تیار ہو چکی تھی۔
”جانو! آؤ ناشتہ کر لیں۔ “ اکی نے اسے دیکھ کر کہا۔ اینا اس کے اس انداز پر مسکرا اٹھی۔
”جی نہیں، مجھے آفس سے دیر ہو رہی ہے اور میں ناشتہ بھی کر چکی ہوں۔ آپ ناشتہ کریں میں جا رہی ہوں۔ “ اس نے تیزی سے کہا اور باہر کی طرف قدم بڑھا دیے۔

آفس میں سارا دن اس کا کام میں دھیان ہی نہیں تھا۔ ہر طرف اکی کا چہرہ نظر آ رہا تھا۔ وہ بس ہواؤں میں اڑ رہی تھی۔ کئی بار اس کا دل چاہا کہ اکی کو فون کرے لیکن پھر رک جاتی تھی۔ اب آفس کے بعد ہی اس سے ملوں گی۔ اس نے دل میں سوچا۔

گھر آئی تو اکی کے بارے میں پوچھا۔ چندا نے بتایا کہ وہ ناشتے کے بعد چلا گیا تھا۔ عینی بھی سکول سے آ چکی تھی۔ وہ اسی ایریا کے سکول میں پڑھتی تھی۔ اسے سکول لے جانا اور لانا بھی چندا کے ذمے تھا۔ وہ اپنی بیٹی سے باتیں کرنے لگی۔ اس کا دھیان فون کی طرف تھا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اکی کا فون آئے گا۔ رات ہو گئی مگر فون نہ آیا۔ اینا کو بہت غصہ آ رہا تھا۔ جی چاہ رہا تھا اکی سے خوب جھگڑا کرے۔

تنگ آ کر اس نے فون ملایا۔ اکی کا فون بند تھا۔ اگلے دن افرا سے بات ہوئی تو پتہ چلا کہ اکی کچھ دنوں کے لئے کہیں گیا ہے۔
”کہاں گیا ہے؟ “ اس نے حیرت سے پوچھا۔

”کمال ہے اس نے تمہیں بتایا نہیں، بھئی وہ بزنس مین ہے۔ اسے مختلف جگہوں پر آنا جانا پڑتا ہے۔ ملک کے اندر بھی اور باہر بھی۔ “ افرا بولی۔
”لیکن اس کا فون کیوں بند ہے؟ “
”جب وہ کام پر ہوتا ہے تو یہ نمبر بند رکھتا ہے۔ دیکھنا فرصت ملتے ہی خود فون کرے گا۔ “

اینا کے دل کو چین نہیں مل رہا تھا۔ دو تین دن بعد افرا بھی واپس کراچی چلی گئی۔ اینا بے حد اداس تھی۔ دن گزر رہے تھے اوراکی کا کوئی فون نہیں آیا تھا۔ اینا کو اپنے بدن میں کسی تبدیلی کا احساس ہو رہا تھا۔ وہ ڈاکٹر عظمیٰ کے پاس چلی گئی۔ ”مبارک ہو رپورٹ پازیٹو ہے۔ “

ڈاکٹر کے یہ الفاظ سن کر وہ ساکت سی ہو گئی۔ گھر آ کر اس نے بار بار اکی کا نمبر ملایا مگر اس کا فون اب بھی بند تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کیا کرے۔ اس نے افرا کا نمبر ملایا۔ بیل جا رہی تھی۔

”ہاں اینا کیسی ہو؟ “ دوسری طرف سے افرا کی آواز سنائی دی۔ ”شکر ہے کسی نے تو فون اٹھایا۔ ’اینا بول اٹھی۔
” کیوں کیا ہوا؟ “ افرا بولی اس کے ساتھ ہی پیچھے کسی کی آواز سنائی دی۔ ”جانو کس سے بات کر رہی ہو؟ آؤ ناں میرے پاس آؤ۔ “

اینا کی کنپٹیاں سلگنے لگیں۔ وہ آواز اکی کی تھی۔ ”افرا کیا اکی تمہارے ساتھ ہے؟ “ اینا نے پوچھا۔
”ہاں اینا! وہ مجھے بلا رہا ہے۔ تمہیں تو پتا ہے وہ جسم میں آگ سی بھر دیتا ہے۔ میں تم سے پھر بات کروں گی، او کے، بائے۔ “ افرا نے فون بند کر دیا۔ اینا کے ہاتھ سے فون گر پڑا۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا لیا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •