ہمیں نثار ترابیؔ یہیں پہ رہنا ہے

گزشتہ دنوں مجھے راولپنڈی آرٹس کونسل میں ایک شعری مجموعے کی تعارفی تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔ توقع کے عین مطابق شرکا کی تعداد آسانی سے گنی جا سکتی تھی۔ اس تقریب کے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے نئی نسل کے نمائندہ، ممتاز شاعر ڈاکٹر نثار ترابی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ…

Read more

رابی پیرزادہ نے اپنی نازیبا ویڈیوز کیوں بنائیں؟

گلوکارہ رابی پیرزادہ کی نازیبا ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد گلوکارہ نے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو کارروائی کے لیے درخواست دی جس میں کہا گیا تھا کہ تحقیقات کی جائیں کہ سوشل میڈیا پر قابلِ اعتراض ویڈیوز کس نے اپ لوڈ کیں۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ رابی پیرزادہ خود کشی…

Read more

چنری کے نیچے کیا ہے؟

دپٹا کہہ لیں، اوڑھنی یا چنری، اس سے مراد ڈھائی گز کا وہ کپڑا ہے جسے اوڑھنے کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ لڑکی پرہیز گار، نیک اورصالحہ ہے جبکہ جینز شرٹ پہننے والی یا  بنادپٹے والی لڑکی کو دیکھ کر اسے بے شرم، بے حیا جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے۔  ہمارے ہاں…

Read more

جنسی ہراسانی کے ملزم لیکچرار نے خود کشی کی یا اسے قتل کیا گیا؟

8  جولائی 2019 کو ایم اے او کالج کے ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کی ایک طالبہ انگلش کے لیکچرار محمد افضل پر جنسی ہراسانی کا الزام لگاتی ہے۔ کالج کی انتظامیہ نے انکوائری ٹیم بنا دی۔ تین مہینے کی انکوائری سے یہ ثابت ہو گیا کہ الزام جھوٹا تھا۔ لیکچرار پرنسپل کے نام درخواست میں مطالبہ…

Read more

ایک سلگتی اور ترستی لڑکی

گھوڑا گلی سے ذرا پہلے پی ایس او پیٹرول پمپ کے قریب ایک نئی کرولا کھڑی تھی۔ اس کا بونٹ کھلا تھا۔ وقت شام کا تھا، میں اسلام آباد سے مری واپس آ رہا تھا۔ میں نے بریک لگائی کہ شاید کسی کی مدد کر سکوں۔ کرولا کے پیچھے گاڑی روک کر میں باہر نکلا۔…

Read more

ایک تیکھی لڑکی اور میں

اس کے آنے کا پتا خوشبو دیتی تھی۔ وہ جہاں سے گزرتی ہوا میں مسحور کن مہک پھیل جاتی۔ جب وہ یونیورسٹی میں قدم رکھتی تو نہ جانے کتنی نگاہیں اس کا تعاقب کرتی تھیں یہ اور بات ہے کہ دیکھنے والے اسے چوری چوری دیکھتے تھے۔ سب کو اس کے مزاج کا پتا تھا۔…

Read more

اس کی بیوی کو کس کی تلاش تھی؟

کہر میں لپٹی ہوئی رات اپنے جوبن پر تھی۔ سردیوں میں یوں بھی جلد ہی ہر طرف سناٹا چھا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ شادی والا گھر تھا مگر رات کے بارہ بجے تک تمام ہنگامے موقوف ہو چکے تھے۔ آفاق احمد ابھی تک اپنے دیرینہ دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا۔ وہ کئی بار جانے کے لیے اٹھے تھے مگر آفاق انہیں ہر بار روک لیتا تھا۔ آخر جب اس کی ماں کا صبر جواب دے گیا تو اس نے اپنے شوہر سے بات کی۔ چناں چہ اس کے باپ کونہ چاہتے ہوئے بھی آ کراس کے دوستوں کو رخصت کا مشورہ دینا پڑا۔ ظاہر اس کے بعد رکنے کا کوئی جواز نہ تھا۔ دوستوں کے جانے کے بعد آفاق کے پاس اس کے سوا کیا چارہ تھا کہ دلہن کے پاس جائے۔ وہ بوجھل قدموں سے اپنے کمرے کی طرف بڑھتا چلا گیا۔

دروازہ کھول کر اندر جھانکا تو بیڈ پر ایک سرخ گٹھڑی کی صورت اس کی نوبیاہتا بیوی موجود تھی۔ اس کی آہٹ سنتے ہی وہ کسمسائی اور گھونگھٹ ٹھیک کیا۔ کمرہ بڑے خوبصورت انداز میں سجایا گیا تھا۔ بیڈ پر گلاب کی پتیاں تھیں۔ کمرے میں مسحور کن خوشبو پھیلی تھی۔ وہ بیڈ کے کنارے پر بیٹھ گیا۔ چند لمحے خاموشی میں گزر گئے پھر اس کے لب ہلے۔

Read more

میاں، بیوی اور کال گرل (دوسرا حصہ)۔

”میں دروازہ بند کر کے آتا ہوں۔ “ محمود تیزی سے بیرونی دروازے کی طرف بڑھا۔ ماہین اپنی جگہ پر کھڑی ہونٹ چبا رہی تھی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس صورتِ حال کو کیسے ہینڈل کرے۔ وہ شادی کے پہلے دن سے ہی محمود کو دباؤ میں رکھنے میں کامیاب رہی تھی۔ بعض اوقات خواہ مخواہ اس پر شک کرتے ہوئے سخت ناراضی دکھاتی تھی۔ محمود کا انداز ہمیشہ سے معذرت خواہانہ ہی رہا تھا۔ وہ اس کے ناز نخرے بھی اٹھاتا تھا۔ اور اسے خوش رکھنے کی کوشش بھی کرتا تھا مگر شاید ماہین کا رویہ وقت کے ساتھ ساتھ کچھ زیادہ بگڑ گیا تھا۔ وگرنہ محمود ایسی حرکت نہ کرتا۔

Read more

میاں، بیوی اور کال گرل

محمود اور ماہین کی شادی ارینجڈ میرج تھی۔ شادی کے بعد چھے مہینوں میں شاذ و نادر ہی کوئی ایسا دن گزرا تھا جب ان کے درمیان تو تکار یا چھوٹی موٹی جھڑپ نہ ہوئی ہو۔ حالاں کہ ماہین کی کوئی نند تھی نہ ساس۔ محمود کے والدین کئی برس پہلے ہی داغِ مفارقت دے چکے تھے۔ محمود ایم بی اے کرنے کے بعد ایک فرم میں کام کرتا تھا۔ اچھی خاصی تنخواہ تھی۔ وراثت میں اسے ایک پرانا مکان ملا تھا جسے بیچ کر اس نے سکائی ٹاور میں ایک خوبصورت فلیٹ خرید لیا تھا۔ یہ فلیٹ تیسری منزل پر تھا۔ محمود کی خالہ حیات تھیں۔ انہوں نے ہی ماہین سے اس کا رشتہ کرایا تھا۔ ماہین کی ماں خالہ کی جاننے والی تھیں۔

Read more

فردوس عاشق اعوان: آپ نے رنج و الم پر ہنسنا کہاں سے سیکھا؟

پاکستان میں منگل کو 8.5 کی شدت سے آنے والے زلزلے میں جو تباہی ہوئی اس کے نتیجے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق پچیس سے زیادہ لوگ جاں بحق ہوئے اور سینکڑوں زخمی ہیں۔ وزیراعظم کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے زلزلے کے بارے میں کہا کہ ”پاکستان میں جب کوئی تبدیلی آتی ہے تو نیچے (زمین میں ) بے تابی ہوتی ہے۔ یہ تبدیلی کی نشانی ہے جو زمین نے بھی کروٹ لی ہے کہ اس کو بھی اتنی جلدی تبدیلی قبول نہیں۔ “ انہوں نے یہ بیان مسکراتے ہوئے دیا۔

Read more