خلیل الرحمٰن قمر کے نام کھلا خط

امید ہے مزاج بخیر ہوں گے۔ عرض ہے آپ کے ساتھ پیش آنے والے اندوہناک واقعے پر پوری قوم یک گونہ صدمے کی کیفیت میں ہے۔ آپ جو قوم کے دانشور ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنے سنہری اقوال سے اہلِ دانش و بینش کو بے مزہ کر چکے ہیں، آپ کے ساتھ بقول آپ کے ایک ”دو ٹکے کی عورت“ نے جو سلوک کیا ہے وہ آپ کے شایان شان نہیں۔ بہتر تو یہ تھا کہ آپ کی مدارات میں

Read more

ٹیبل لیمپ

شہلا دبے قدموں سے بیڈ روم کی طرف بڑھی۔ اس کا حسین چہرہ انجانی مسرت کے احساس سے تمتما رہا تھا۔ اس نے اپنے دائیں ہاتھ سے دروازے پر ہلکا سا دباؤ ڈالا۔ کمرے میں کوئی نہیں تھا۔ اے سی آن تھا اور چھت کا پنکھا بھی چل رہا تھا۔ بیڈ سائیڈ ٹیبل لیمپ روشن تھا اور اس کی مدھم روشنی کمرے کی تاریک فضا میں لرز رہی تھی۔ سب کچھ ویسا ہی لگ رہا تھا جیسا وہ سات دن

Read more

آخر مہنگائی کا توڑ مل گیا

وطن عزیز میں ہوش ربا مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ عوام اپنی ٹوٹی ہوئی کمر کا ایکسرے ہاتھوں میں اٹھا کر نوحہ کناں ہیں مگر حکومت کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ اربابِ اختیار کی طرف سے ہر روز کسی نئے ٹیکس کا ٹیکہ لگایا جاتا ہے۔ ہر دن ڈالر کا ریٹ پہلے سے اونچی اڑان بھرتا ہے۔ بجلی کی قیمت مسلسل بڑھائی جا رہی ہے اور روزمرہ اشیا کے نرخ بھی آسمان کی بلندیوں

Read more

عورت مارچ: یہ تو ہو گا

ہر چند کہ ’جید علمائے کرائم‘ معاف کیجیے گا قلم پھسل گیا تھا۔ کہنا یہ تھا کہ خود ساختہ علمائے کرام عورت کو ٹافی، چلغوزہ اور اسی قبیل کی دیگر اشیا قرار دے چکے ہیں لہٰذا عورت کو یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ وہ ایک ٹافی ہے اور اگر ٹافی کسی کے ہاتھ لگ جائے تو وہ ریپر اتار کر اسے منہ میں ڈالنے پر مجبور ہوتا ہے۔ حیف صد حیف کہ عورتیں یہ بات سمجھتی نہیں ہیں

Read more

ناجیہ نام کی لڑکی

ایک دن شام کو ہوا خوری کے لیے جا رہا تھا کہ امی جان نے روک لیا۔ انھوں نے بتایا کہ ناجیہ آ رہی ہے اس کے لیے کمرہ تیار کرنا تھا۔ چنانچہ میں نے گیسٹ روم کا جائزہ لیا۔ جو اشیا درکار تھیں ان کی فہرست بنائی اور جمیل میاں کو کمرے کی صفائی کا کام دے کر باہر نکل گیا تا کہ مطلوبہ چیزیں لا سکوں۔ جمیل گھر کا ملازم تھا۔ ہر فن مولا تھا۔ صفائی ستھرائی، لان

Read more

ابھار

فرخندہ کریم پینتالیس برس کی ایک پر وقار خاتون تھیں۔ میں نے پہلی بار انھیں بھوربن میں دیکھا تھا۔ عام طور پر ان کے چہرے پر گہری سنجیدگی طاری رہتی لیکن جب بعد میں ملاقاتیں ہوئیں تو اندازہ ہوا کہ جاننے والوں کی محفل میں وہ خوب ہنستی تھیں اور ہنسی مذاق بھی کرتی تھیں۔ فرخندہ کریم کا قد لمبا تھا، رنگت سفید تھی، بال سیاہ تھے، جسم قدرے فربہ تھا لیکن برا نہیں لگتا تھا۔ لبوں پر ہلکی سی

Read more

نچے ہوئے ریشوں پر منڈلاتی قضا

اس کی آنکھیں کھلی تھیں۔ دور تک بہت دور تک، جہاں تک نظر کی حد تھی ایک ہی رنگ پھیلا ہوا تھا۔ اس نیلگوں رنگ میں ایک چھوٹا سا سیاہ دھبہ تھا۔ یہ دھبہ بڑھتا جاتا ہے۔ شاید وہ کوئی پرندہ تھا۔ اب وہ کچھ واضح ہونے لگا تھا۔ ہاں وہ پرندہ ہی تھا مگر وہ اکیلا نہ تھا، وہ تعداد میں کافی زیادہ تھے اور نیچے اتر رہے تھے۔ اس کی کمر کے نیچے گویا آگ جل رہی تھی۔

Read more

گم شدہ جسم

کہیں دور سے کوئی آواز آ رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی ڈھول پیٹ رہا ہو۔ ”نہیں شاید یہ ڈھول نہیں ہے، کچھ اور ہے۔“ اس نے غنودگی کے عالم میں سوچا۔ اگر یہ ڈھول نہیں ہے تو پھر کیا ہے؟ شاید کوئی لوہار لوہا کوٹ رہا ہے۔ نہیں یہ لوہار بھی نہیں ہے۔ اس نے سوچا۔ آواز میں شدت آ گئی۔ اس نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھولیں۔ اب وہ مکمل طور پر بیدار ہو چکا تھا۔ کوئی

Read more

سیاہ آنکھ میں مری ہوئی لڑکی

ڈاکٹر آنکھ کا معائنہ کر رہا تھا۔ اس نے محدب عدسے سے دو تین بار نہایت غور سے مریض کی سیاہ آنکھ میں جھانکا۔ بوڑھے ڈاکٹر کی آنکھوں میں الجھن کے آثار تھے۔ اس نے مریض پر ایک گہری نگاہ ڈالی۔ مریض ادھیڑ عمر تھا۔ چہرے پر ہلکی داڑھی تھی۔ بال لمبے تھے اور اس کی آنکھیں گہری سیاہ تھیں۔ غور سے دیکھنے پر ان آنکھوں میں ویرانی نظر آتی تھی مگر مریض کا اصرار تھا کہ اس کی آنکھ

Read more

موم بتی کی لو

میں آرڈر کا انتظار کر رہا تھا۔ وقت گزاری کے لیے ریسٹورانٹ میں بیٹھے ہوئے افراد کا جائزہ لینے لگا۔ یہ اسلام آباد کے بلیو ایریا کا ریسٹورنٹ تھا اور اس وقت کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ میری خوش قسمتی تھی کہ مجھے آتے ہی ایک میز مل گئی۔ اس میز کے گرد چار کرسیاں تھیں۔ یوں تو کئی لوگ میز خالی ہونے کے منتظر تھے لیکن مجھے جگہ مل گئی تھی۔ دراصل یہاں ایک جوڑا بیٹھا تھا جیسے ہی میں اندر داخل ہوا میں نے انہیں اٹھتے ہوئے دیکھا تو فوراً یہاں بیٹھ گیا۔

اتفاق سے انتظار کرنے والی فیملیز پانچ سے سات افراد پر مشتمل تھیں اور ان کی نظریں بڑی میزوں پر جمی تھیں۔ ڈنر کے لیے آنے والے بیشتر افراد کے چہروں سے آسودگی جھلکتی تھی۔ میرے سامنے ایک بڑی میز کے گرد آٹھ افراد بیٹھے تھے ان میں بھاری بھرکم خواتین اور بڑی توندوں والے مرد بڑی رغبت سے کھانے میں مصروف تھے۔ اس سے اگلی میز پر ایک چار افراد پر مشتمل فیملی بیٹھی تھی۔ مرد گنجا تھا اور اس کے چہرے پر گھنی سیاہ داڑھی تھی جبکہ اس کی بیوی دبلی پتلی سی عورت تھی اور خاصی دلکش لگ رہی تھی۔

Read more

ٹوٹے ہوئے پر والی چڑیا

شام کے سات بجے ہوں گے جب ڈور بیل بجی۔ میں اس وقت ٹی وی دیکھ رہا تھا۔ پاکستان اور انڈیا کا کرکٹ میچ چل رہا تھا۔ بڑی دلچسپ صورت حال تھی۔ اس موقع پر دروازے کی گھنٹی نے مجھے بے مزہ کر دیا۔ ابھی میں اٹھنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ بیل دوبارہ بجی۔ بادل نخواستہ میں گیٹ کی طرف بڑھا۔ گیٹ کا چھوٹا دروازہ کھولا تو ایک اجنبی چہرہ دکھائی دیا۔ وہ ایک لڑکی تھی جس کی عمر بیس اکیس برس رہی ہو گی۔ اس کے تراشیدہ بال کندھوں پر لہرا رہے تھے۔ چند لمحوں کے لیے میں اس کے دلکش چہرے کو دیکھ کر کھو سا گیا۔

Read more

مرزا صاحب کی شرمیلی بیوی

مرزا صاحب نے سر سے پاؤں تک اس کا جائزہ لیا پھر ایک گہری سانس لے کر گویا ہوئے۔ ”تو تمہیں باقر صاحب نے بھیجا ہے“ ناصر نے امید بھری نظروں سے مرزا صاحب کو دیکھتے ہوئے کسی قدر ہچکچاتے ہوئے کہا۔ ”جی۔ جی انھوں نے بھیجا ہے۔ دیکھیے مجھے ایک سائبان کی اشد ضرورت ہے۔ اگر آپ مہربانی کریں تو میں تا عمر آپ کا احسان مند رہوں گا۔“ مرزا صاحب کسی گہری سوچ میں گم ہو گئے۔ ناصر

Read more

پاکستانی سیاست: کون صحیح ہے کون غلط؟

پاکستانی سیاست میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ بظاہر سیاسی جیت کے بعد مٹھائی تقسیم کرنے کے بعد سیاسی کارکنان کو پتا چلتا ہے کہ دراصل ان کی ہار ہوئی تھی۔ اب پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کو ہی دیکھ لیجیے۔ حمزہ شہباز نے محض چالیس دن میں تیسری بار وزرات اعلیٰ کا حلف اٹھایا تو اسی روز عدالتی حکم سے وہ ایک بار پھر عبوری وزیراعلیٰ بن کر رہ گئے۔ ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کی رولنگ پر عدالت

Read more

مظہر کلیم ”عمران سیریز“ کے حوالے سے تنقید کا نشانہ کیوں؟

مظہر کلیم ایک نامور ادیب تھے۔ انہوں نے بچوں کے لیے بہت سے ناول لکھے جن میں چھن چھنگلو، چلوسک ملوسک اور آنگلو بانگلو سیریز اہم ہیں لیکن ان کی وجہ شہرت ”عمران سیریز“ ہے۔ عمران سیریز کے حوالے سے انہیں بہت زیادہ سراہا جاتا ہے اور اسی حوالے سے تنقید کا نشانہ بنانے والوں کی بھی کمی نہیں۔ انہوں نے ساٹھ کی دہائی کے آخری برسوں میں لکھنا شروع کیا اور 2018 تک تادم مرگ پوری توانائی سے لکھتے

Read more

آدھی رات کا سورج

شاہی خاندان کے تمام افراد بے چینی سے وزیر کے باہر نکلنے کا انتظار کر رہے تھے۔ پندرہ منٹ قبل وہ شاہی حکیم کے ساتھ بادشاہ کی خوابگاہ میں گیا تھا۔ شاہی حکیم نے کسی مصلحت کے تحت شاہی خاندان کے کسی فرد کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے وقت تھم گیا ہو۔ ایک ایک لمحہ بھاری تھا۔ پھر دروازہ کھلا اور وزیر کی شکل دکھائی دی۔ اس کے تاثرات سے کوئی اندازہ لگانا

Read more

میرے پاس خط ہے

سابق وزیر اعظم عمران خان کی سیاست کا محور اب ایک خط رہ گیا ہے۔ قوم یوتھ بھی تبدیلی کے نعرے کو بھول چکی ہے۔ وہ تبدیلی جو کبھی آ نہ سکی۔ کیونکہ کھاری چشمے سے آب شیریں کا حصول ناممکن ہے۔ عمران خان سے اختلاف رکھنے والے بھی ان کی ایک صلاحیت کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ بیانیہ بنانا اور اس پر ڈٹے رہنا خوب جانتے ہیں۔ ظفر اقبال کا ایک مشہور شعر ہے : جھوٹ بولا ہے

Read more

عمران خان : ایوان اقتدار میں آمد سے رخصتی تک

سابق وزیر اعظم عمران خان کو مقبول لیڈر بنانے والے عناصر خواہ کچھ بھی ہوں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ 2018 کے الیکشن سے پہلے وہ ایک مقبول لیڈر بن چکے تھے۔ تاہم اس قدر مقبول نہیں تھے کہ حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ تعداد میں سیٹیں جیت سکیں۔ چنانچہ ”غیبی امداد“ کے نتیجے میں وہ حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ ان کے ہاتھ ایک سنہری موقع آیا تھا کہ وہ اپنے دور اقتدار میں ملک و قوم

Read more

کپتان کی آخری اننگز

کپتان اپنے پہلے ٹیسٹ میچ کے لیے اپنی ٹیم کے ساتھ میدان میں اترے پورا سٹیڈیم پر جوش نعروں سے گونج رہا تھا۔ تماشائیوں کو یقین تھا کہ کپتان کی ٹیم چوکے چھکے لگا کر رنز کے ڈھیر لگا دے گی۔ کپتان کی مخالف ٹیم میں کافی تجربہ کار کھلاڑی تھے مگر کپتان کی ٹیم تازہ دم اور پرانے کھلاڑیوں کا حسین امتزاج تھی۔ اسی لیے ان کے حامی خوب زور و شور سے نعرے لگا رہے تھے۔ میچ شروع

Read more

سن رہا ہے نا تو رو رہا ہوں میں

میں نے بہت لمبی جد و جہد کی ہے۔ 22 سال کے بعد میں اقتدار میں آیا۔ میں نے تبدیلی کا نعرہ لگایا تھا۔ میں نے ملک کی معیشت کو ٹھیک کرنا تھا۔ میں نے آئی ایم ایف سے قرض نہیں لینا تھا۔ میں نے اس مقصد کے حصول کے لیے بار بار وزیر خزانہ بدلے۔ میں تبدیلی کا علم بردار ہوں۔ اس لیے باقی وزارتوں میں بھی مستقل بنیادوں پر تبدیلی لاتا رہا۔ کبھی دو وزیروں کی وزارت آپس

Read more

کپتان کے خلاف عالمی طاقتوں نے سازش کیوں کی

کپتان کے حکومت سنبھالتے ہی ملک ترقی کی راہ پر روشنی کی رفتار سے گامزن ہوا تو پاکستانی عوام نے سکھ کا سانس لیا کہ بالآخر انہیں ایک ایماندار رہنما نصیب ہوا۔ کپتان کے اقتدار کا پونے چار برس کا دور، مملکت ضیا داد کا روشن ترین عرصہ تھا۔ وہ ملک جو بجٹ بنانے اور امور سلطنت چلانے کے لیے بیرونی قرضوں کا محتاج تھا وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو گیا۔ غریب عوام نے کپتان کے مشوروں پر عمل

Read more

وہ زندہ تھا یا مر چکا تھا

میں اپنے کمرے میں بیٹھا تھا اور کاغذ قلم نکال کر کچھ لکھنے ہی والا تھا کہ اچانک وہ آن دھمکا۔ اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ وہ انتہائی خوف زدہ لگ رہا تھا۔ میں نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا۔ ”کیا ہوا؟“ اس نے میرے ہاتھ سے قلم اور کاغذ لے کر سائیڈ پر رکھا اور ڈرے ڈرے لہجے میں کہا۔ ”میں بہت پریشان ہوں۔ کوئی مجھے مارنا چاہتا ہے۔“ میں نے پانی کا ایک گلاس اسے

Read more

ڈٹ کے کھڑا ہے کپتان

اپوزیشن نے جب عدم اعتماد کی تحریک پیش کی تو کپتان نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ اپوزیشن کو علم ہی نہیں تھا کہ اس طرح کپتان ”خطرے ناک“ بن جائے گا اور نقصان اپوزیشن کا ہی ہو گا۔ چنانچہ وہی ہوا۔ اگرچہ پی ڈی ایم  نے کپتان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کر کے گستاخی کی تھی لیکن کپتان نے اعلیٰ اخلاقی اقدار کی پاسداری کرتے ہوئے انہیں زندان میں ڈالنے کی بجائے فوری طور پر جلسے

Read more

خواب کی کھڑکی سے جھانکتی لڑکی

بادل گرجا اور اس کے ساتھ ہی بجلی چمکی تھی۔ اچانک ایک احساس نے مجھے چوکنا کر دیا۔ کسی ہیولے کا شائبہ تمام حسیات کو بیدار کرنے کے لیے کافی تھا۔ میں نے کھڑکی کے شیشے پر نگاہیں جما کر پار دیکھنے کی کوشش کی۔ کچھ دکھائی نہ دیا جب کہ چند لمحے پہلے مجھے واضح طور پر کسی وجود کی موجودگی کا احساس ہوا تھا۔ پندرہ بیس منٹ پہلے بارش شروع ہوئی تھی اور اب اس کی شدت بڑھتی

Read more

حلیمہ سلطان’ برا ‘کے اشتہار میں اور پاکستانی صالحین

ترک اداکارہ اسرا بلگچ پاکستان میں بہت معروف ہیں اور ان کی وجہ شہرت سلطنت عثمانیہ کی تاریخ پر بنایا جانے والا ڈراما سیریل ”ارطغرل غازی“ ہے۔ گزشتہ دنوں خواتین کے ملبوسات کے ایک برانڈ ’وکٹوریہ سیکرٹ‘ کے لیے ان کا ایک اشتہار منظر عام پر آیا۔ اسرا بلگچ نے یہ اشتہار اپنے انسٹا گرام پر بھی شیئر کیا۔ پاکستانیوں کی کثیر تعداد انہیں فالو کرتی ہے۔ انہوں نے یہ اشتہار دیکھا تو بھڑک اٹھے اور غم و غصے کے

Read more

میرے کپتان: ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

دنیا بھر کی حسینائیں آپ پہ مرتی تھیں، ایک عالم آپ کا دیوانہ تھا۔ ورلڈ کپ 92 جیتنے کے بعد آپ کروڑوں پاکستانیوں کے دل کی دھڑکن بن چکے تھے۔ آپ چاہتے تو اس کے بعد ساری زندگی عیش و آرام سے گزار سکتے تھے لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔ آپ نے سیاست کی وادی پر خار میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ بائیس برس آپ اقتدار میں آنے کی جد و جہد کرتے رہے۔ ان بائیس برسوں میں آپ

Read more

عدم اعتماد: جاہ و جلال، دام و درہم اور کتنی دیر

ضمیر جاگ رہے ہیں یا وکٹیں گر رہی ہیں؟ اقتدار کے سر سبز درخت کی شاخوں سے جب پنچھی ہجرت کرنے لگیں تو یہ اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ زلزلہ آنے والا ہے۔ ایوان اقتدار لرز رہا ہے۔ شاید اسی لیے جلد بازی میں حکومت کو سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کرے۔ پہلے بیان دیا جاتا ہے کہ منحرف حکومتی ارکان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ پھر فواد چودھری فرماتے ہیں کہ منحرف ارکان واپس

Read more

ہوس ناک

بس رکی تو اترنے والا وہ اکیلا مسافر تھا۔ بس ہارن بجاتی روانہ ہو چکی تھی اور وہ گاؤں کی طرف جاتی نیم پختہ سڑک پر کھڑا تھا۔ قدم بڑھانے سے پہلے اس نے چاروں طرف دیکھا۔ تا حد نظر لہلہاتی فصلیں اور نیلا آسمان ویسے کے ویسے تھے جیسے وہ چھوڑ کر گیا تھا۔ اکا دکا لوگ گاؤں کے سٹاپ پر موجود تھے لیکن کسی نے اس پر توجہ نہیں دی تھی۔ ایک گہری سانس لے کر وہ چل

Read more

"بیمار مسیحا” ایک جائزہ

انسانی جبلتوں میں سے ایک اہم ترین جبلت ”ہنسی“ ہے۔ جب تخلیقی سطح پر اس جبلت کا اظہار کیا جاتا ہے تو مزاحیہ فن پارہ وجود میں آتا ہے۔ اعلیٰ پائے کے مزاح نگار مزاح کی مسرت سے نہ صرف خود لطف اندوز ہوتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی اس میں شریک کرتے ہیں۔ معروف مزاح نگار اسٹیفن لی کاک اپنی کتاب ”Humour and Humanity“ میں مزاح کی تخلیق کے حوالے سے کہتے ہیں : ”مزاح زندگی کی ناہمواریوں کے

Read more

مولانا صاحب، عورت کیا کیا کر سکتی ہے؟

سوال یہ تھا کہ کیا عورت خوشبو لگا سکتی ہے؟ یہ سوال ایک اینکر پرسن نے پوچھا تھا۔ جواب میں مولانا نے فرمایا۔ عورت خوشبو لگا سکتی ہے مگر ایسی خوشبو جس کی مہک نہ ہو یعنی گزرے تو خوشبو نہ ہو۔ مطلب یہ کہ ایسی خوشبو لگائے جس میں خوشبو نہ ہو۔ ایسا عمدہ جواب سن کر اینکر پرسن نے فوراً سر ہلایا کہ بجا فرمایا۔ ویڈیو یو ٹیوب پر موجود ہے۔ افسوس کہ ویڈیو مختصر تھی اور فقط

Read more

تم وحشی ہو، تم قاتل ہو

سیالکوٹ کا لرزہ خیز واقعہ قابل مذمت ہے مگر اس پر کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ مذہبی درندگی کا یہ پہلا واقعہ ہرگز نہیں۔ جنونیوں نے سری لنکن پرانتھا کمار کے جسم کی تمام ہڈیاں توڑ دیں صرف ایک پیر سلامت بچا تھا پھر اس کی لاش کو آگ لگا دی۔ انتہا یہ ہے کہ اسی ہجوم میں شامل کچھ لوگ اس جلتی ہوئی لاش کے ساتھ سیلفیاں بھی بناتے رہے۔ اسی آگ میں امن پسندی کا دعویٰ

Read more

با ادب، با ملاحظہ، ہوشیار

با ادب، با ملاحظہ، ہوشیار کا با آوازِ بلند اعلان ہوا۔ درباری کورنش بجا لائے اور بادشاہ سلامت ایک شانِ بے نیازی سے دربار میں تشریف لے آئے۔ بادشاہ سلامت نے تخت پر براجمان ہونے کے بعد وزیرِ بے تدبیر کی طرف التفات کی نظروں سے دیکھتے ہوئے فرمایا: "اے مردِ دانا! کوئی فریادی ہو تو دربار میں پیش کیا جائے۔” "حضور کا علامہ اقبال ۔۔ سوری۔ حضور کا اقبال بلند ہو۔ فریادی تو ان گنت تھے لیکن آپ کو

Read more

اُس کا بھائی بھی غیرت مند نکلا

تھوڑا شرماتے ہوئے اور کچھ جھجھکتے ہوئے اُس نے پوری بات بتائی تو میں سوچ میں پڑ گیا۔ واقعی یہ بات اُس کے بھائی کو پتہ چل گئی تو ہنگامہ ضرور ہو گا۔ میں تو اس کے بھائی کو اچھی طرح جانتا تھا۔ وہ میرا دوست تھا۔ ” ٹینا تم اس خیال کو دل سے نکال نہیں سکتی؟” جانتا تھا اس کی طرف سے ناں ہو گی اس کے باوجود میں نے ایک کوشش کی۔ اس کی آنکھوں میں تاریک

Read more

میں اُس کی بیوی سے ملنا چاہتا تھا

گاڑی سے سامان اتارا جا چکا تھا۔ میں اور میری بیوی نگار اپنے کرائے کے مکان کے دروازے پر کھڑے سوچ رہے تھے کہ یہ سامان گھر میں کیسے منتقل ہو گا تب ایک ہنستا ہوا چہرہ سامنے آیا۔ وہ میرا ہم عمر شخص تھا۔ ”اگر مدد کی ضرورت ہو تو مجھے بتائیے، میں آپ کا پڑوسی ہوں۔ میرا نام کمال ہے۔ “ یہ کمال سے میرا پہلا تعارف تھا۔ میں نے اسے بتایا کہ ہماری نئی نئی شادی ہوئی ہے اسی لئے یہاں آئے ہیں، اس سے قبل میں اپنے دفتر کی طرف سے فراہم کردہ سنگل روم میں رہتا تھا۔

کمال واقعی کمال کا شخص تھا۔ اس نے فوراً ہمیں ڈنر کی دعوت دے ڈالی۔ شام کو ہم اُس کے ہاں پہنچے۔ بیل بجائی تو کمال نے مسکراتے ہوئے ہمیں خوش آمدید کہا۔ پھر بصد احترام اپنے ڈرائینگ روم میں بٹھایا۔ کچن سے بڑی اشتہا انگیز خوشبو اٹھ رہی تھی۔ ”کمال صاحب آپ کا گھر بہت خوبصورت ہے۔ “ نگار نے گھر کی تعریف کی تو کمال کھل اٹھا۔ ”شکریہ بھابی! یہ تو آپ کا حسنِ نظر ہے۔ “

Read more

لفٹ لینے والی عورت، گورا قبرستان اور ہمسائے کی بیٹی

بیگم کوٹ سے گزرتے ہوئے ایک کولڈ ڈرنک کارنر دیکھ کر میں نے کار روک دی. باہر نکلنے کی زحمت نہ کی اور شیشہ نیچے کر کے ایک کولڈ ڈرنک طلب کی. عین اسی وقت میں نے اس نوجوان عورت کو دیکھا. وہ ایک گلی سے نکل کر مین سڑک پر آئی تھی. اس نے ایک بڑی سی چادر اپنے جسم پر لپیٹی ہوئی تھی اور تین چار سال کی بچی کو سینے سے لگائے ہوئے تھی. غالباً وہ کسی

Read more

الزام عورت پر اور مجرم سے ہمدردی

موٹر وے کیس ہو، نور مقدم یا مینار پاکستان، ان میں ایک قدر مشترک ہے اور وہ یہ کہ الزام عورت پر لگایا گیا جبکہ مجرموں کے حق میں ایسے دلائل دیے گئے کہ قصوروار ہونے کے باوجود وہ معصوم نظر آئیں۔ اگر فوری طور پر کوئی دلیل نہ ملے تو وطن عزیز کے خود ساختہ دانشور ایک دو دن میں ہی کوئی نہ کوئی ایسا عذر تراش لیتے ہیں کہ جس کی بدولت متاثرہ عورت خود ہی اس واقعے کی ذمہ دار نظر آئے۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر اس طرح کی خبریں لگتی ہیں کہ فلاں کیس کی اصل حقیقت سامنے آ گئی، فلاں عورت نے خود ہی قاتل کو بلایا تھا۔ بعض لال بجھکڑ تو یہاں تک ثابت کر دیتے ہیں کہ فلاں لڑکی نے پہلے اپنا ریپ کروایا پھر ریپیسٹ سے خود اپنا گلا کٹوا لیا۔ وہ بے چارہ تو بے بس تھا۔

Read more

مینار پاکستان کے سائے میں ”مردانہ طاقت“ کا مظاہرہ

14 اگست کو گریٹر اقبال پارک میں مینار پاکستان کے سائے میں اکیلی لڑکی کے ساتھ ہونے والی اجتماعی دست درازی اور بد ترین سلوک قابل شرم نہیں یہ تو ہمارے معاشرے کا اصل چہرہ ہے۔ شرم و حیا اور اخلاقیات کا تصور تو انسانوں کے معاشرے میں ہوتا ہے۔ حیوان ان خصوصیات سے محروم ہوتے ہیں۔ چار سو درندے تھے جو ایک نہتی لڑکی کے سامنے اپنی ”مردانہ طاقت“ کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ ان درندوں کی حمایت میں

Read more

ڈاکٹر نثار ترابی اور ”تم سے کہنا تھا“ کی تعارفی تقریب

مشاعرہ ختم ہوا تو شعرا چائے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے خوش گپیوں میں مصروف ہوئے۔ میں چائے کا کپ اٹھائے ممتاز شاعر، ادیب اور نقاد ڈاکٹر نثار ترابی کے قریب آ گیا۔ برسوں سے ان سے غائبانہ تعارف تھا مگر ملاقات کا پہلا موقع تھا۔ وہ اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ کلین شیو، درمیانہ قد، قدرے لمبے بال اور ٹو پیس سوٹ پہنے ہوئے خاصے خوشگوار موڈ میں تھے۔ رسمی دعا سلام کے بعد میں نے عرض کی

Read more

وہی کارواں وہی راستے

طوفانی رات تھی اور منظر بہت ہیبت ناک تھا۔ بادلوں کی گھن گرج اور کڑکتی بجلیوں کے ساتھ شدید تیز بارش کا شور تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ آسمان کے سب دریچے کھل گئے ہیں اور پانی آبشاروں کی طرح گر رہا ہے۔ جنگل کے تمام جانور سہم کر اپنی اپنی پناہ گاہوں میں چھپ گئے تھے۔ اس تاریک رات میں ایک بھٹکا ہوا توتا اپنی جان بچانے کی سعی کرتے ہوئے ایک گھنے برگد کی ٹہنیوں میں پناہ ڈھونڈ

Read more

میں اور وہ لڑکی

شاید غلطی میری ہی تھی۔ کمپنی کے اکاؤنٹس کے معاملات دیکھنا یقیناً میرے فرائض میں شامل تھا لیکن باس کو کمپنی دینا اضافی تھا وہ بھی ایسے کہ باس کے پینے کا اہتمام بھی کیا جائے۔ اب ایسے میں کئی ایسے راز بھی مجھ تک پہنچ گئے تھے جو باس کے مطابق پوشیدہ رہنے چاہئیں تھے۔ اس کے باوجود باس کی طرف سے کسی انتہائی اقدام کی توقع نہیں تھی لیکن کچھ دنوں سے میں باس کی سیکریٹری کی نظروں میں کھٹکنے لگا تھا۔ طوفان اس وقت آیا جب باس کی بیوی کی آفس میں دھواں دار آمد ہوئی۔ آفس میں جو شعلے بھڑکے اس کی آنچ باہر تک محسوس ہو رہی تھی۔ باس کی بیوی تو آنکھوں اور زبان سے آگ برساتی چلی گئی مگر اس کے فوراً بعد سیکریٹری نے باس سے ون ٹو ون ملاقات میں نہ جانے کیسے اس آگ میں اتنا پیٹرول ڈالا کہ باس آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑے۔

مجھے فوراً آفس میں بلایا گیا اور سارا الزام میرے سر ڈال دیا گیا۔ پرشباب سیکریٹری باس کے سینے سے لگ کر ہچکیاں لے لے کر رو رہی تھی۔ باس کی بری بھلی باتوں پر میرا خون کھول اٹھا، میں نے اسی وقت استعفیٰ لکھ کر باس کی ٹیبل پر رکھا اور باہر نکل آیا۔

Read more

پاکستان میں عورتوں سے مغرب کے مقابلے میں بہتر سلوک کیا جاتا ہے؟

پاکستان میں مغرب کے مقابلے میں عورتوں کے حقوق اور ان سے روا رکھے جانے والے سلوک کے حوالے سے بات کی جائے تو قریباً ہر دوسرا فرد دعویٰ کرتا ہے کہ وطن عزیز میں عورتوں سے بہت اچھا سلوک کیا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں عورتوں کو جتنی عزت دی جاتی ہے مغرب سوچ بھی نہیں سکتا۔ یہاں عورتوں کو جتنے حقوق حاصل ہیں کسی معاشرے میں نہیں ہیں۔ چند مثالیں بھی دی جاتی ہیں جیسے مغرب نے عورت

Read more

وہ وہاں گئی ہی کیوں تھی

کسی بھی معاشرے میں جب ظلم و جور کا کوئی اندوہناک واقعہ ہوتا ہے تو اس میں فقط دو فریق ہوا کرتے ہیں، ظالم اور مظلوم۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم کس کے ساتھ کھڑے ہیں، ظالم کے ساتھ یا مظلوم کے ساتھ۔ وکٹم بلیمنگ دراصل ظالم کی حمایت کا دوسرا نام ہے۔ جب ہم ظلم کا جواز ڈھونڈتے ہیں تو مظلوم کے ہاتھ مضبوط کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ ایسے معاشروں میں ظلم و ستم اور درندگی

Read more

شکنتلا کون تھی؟

جنید کے بارے میں کوئی اندازہ لگانا اس کے دوستوں کے لیے بھی مشکل تھا۔ وہ اپنے احساسات اور جذبات بہت سنبھال کر دل کے نہاں خانوں میں رکھتا تھا۔ بہت کم بولتا تھا شاید تولتا زیادہ تھا۔ دوست بھی گنے چنے تھے، وہی جو اس کے دفتر کے ساتھی تھے۔ سکول اور کالج کے دوست تو مدت ہوئی دنیا کی بھیڑ میں گم ہو چکے تھے۔ در اصل جنید خود کسی سے رابطہ رکھنے کا قائل نہیں تھا۔ ایسا

Read more

اس رات کیا ہوا تھا؟

بارش اس قدر تیز تھی کہ یوں لگتا تھا جیسے بادلوں میں سوراخ ہو گئے ہوں اور پانی آبشاروں کی طرح برس رہا ہو۔ شام کا وقت تھا مگر گہرے کالے بادلوں کی وجہ سے رات کا گمان ہوتا تھا۔ ایسے میں دور تک دیکھنا بھی ممکن نہیں تھا۔ اچانک بجلی چمکی اور بادل زور سے گرجا۔ اس ایک لمحے میں مجھے سامنے ایک مکان نظر آیا جس کے دروازے پر شیڈ گویا ڈوبتے کو تنکے کا سہارا تھا۔ میں لپک کر اس شیڈ کے نیچے آ گیا مگر یہ شیڈ مجھے بارش کے پانی سے بچانے سے قاصر تھا۔ ہوا تیز تھی اور میں شیڈ کے نیچے ہونے کے باوجود بری طرح بھیگ رہا تھا۔ میں نے سوچے سمجھے بغیر فوراً دروازے پر زور دار دستک دے ڈالی۔

مجھے امید نہیں تھی کہ دروازہ فوراً کھل جائے گا۔ ایسا لگتا تھا کہ دروازہ کھولنے والا بالکل دروازے کے پاس ہی کھڑا تھا۔ جب میں نے اس کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ ایک لڑکی تھی۔ اس کی عمر انیس بیس برس کے قریب رہی ہو گی۔ وہ دیدہ زیب لباس میں ملبوس تھی۔ لمبے سیاہ بال شانوں پر لہرا رہے تھے۔ میں ایک لمحے کے لیے اس کے حسین چہرے کو دیکھ کر کھو سا گیا۔ وہ میری طرف خالی خالی آنکھوں سے یوں دیکھ رہی تھی جیسے سمجھ نہ پائی ہو کہ کیا کہے۔

Read more

ریپ کو عورت کے لباس سے جوڑنا حماقت کے سوا کچھ نہیں

اگر کسی جگہ پر کوئی حادثہ ہوتا ہے تو دیکھنے والے یا جائے حادثہ پر پہنچنے والے سب سے پہلے اس حادثے کی وجوہات کا جائزہ لیتے ہیں۔ اندازہ لگاتے ہیں کہ غلطی کس کی تھی تا کہ وہ غلطی دہرائی نہ جائے اور اس قسم کا حادثہ دوبارہ نہ ہو۔ مثلاً ایک ڈرائیور اگر مقررہ حد سے بہت زیادہ رفتار پر گاڑی چلا رہا ہو اور گاڑی بے قابو ہو کر سڑک سے اتر کر کنارے لگے درختوں سے

Read more

عورت کے سینے میں دل نہیں ہوتا

عورت کی سنگ دلی کے مظاہرے ایسے وحشت ناک ہیں کہ انہیں سنانے کے لیے شیر کا جگر درکار ہے۔ ان عورتوں سے کچھ بعید نہیں، نہ جانے کس وقت کیا کر ڈالیں۔ سڑک پر نکلتی ہیں تو بھولے بھالے مردوں کو ایسی ہوس ناک نظروں سے گھورتی ہیں کہ ان بے چاروں کا دل چاہتا ہے زمیں پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائیں۔ مگر بات گھورنے تک محدود نہیں رہتی، یہ جان بوجھ کر جاتے جاتے مردوں

Read more

عورت کو بدلنا ہو گا

عورتوں پر تشدد کی دوسری بڑی وجہ کوئی بھی ہو، اس کی پہلی وجہ کسی نہ کسی مرد کو قرار دیا جاتا ہے۔ مثلاً تنسیخ نکاح کا دعویٰ کرنے پر بال کاٹ کر زخمی کرنا، سالن میں نمک زیادہ ڈالنے پر بیوی پر تشدد، جہیز کم لانے پر نئی نویلی دلہن کو مار پیٹ کر گھر سے نکالنا، بیٹیاں پیدا کرنے پر لعنت ملامت کے ساتھ مار پیٹ، گول اور بر وقت روٹی نہ پکانے پر تشدد، پسند کی شادی کرنے کی خواہش پر ہڈیاں توڑنا اور جان سے مار دینا جیسی خبریں اکثر کسی نہ کسی ذریعے سے ہم تک پہنچتی رہتی ہیں۔ ایسے واقعات میں عورت بظاہر مظلوم دکھائی دیتی ہے اور مرد ایک سنگدل اور ظالم آقا کے روپ میں دکھائی دیتا ہے۔

Read more

ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں؟

چار سال کی بچی اور اس کی ماں کے ریپ کا اندوہناک سانحہ کسی بھی صاحب دل کا کلیجہ چیر سکتا ہے۔ اس سے پہلے زینب کیس نے بھی خون کے آنسو رلایا تھا۔ درندگی کے ان واقعات پر غم و غصے کا اظہار لازم ہے لیکن صاحب! امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی ریپ کے بے شمار واقعات ہوتے ہیں۔ مغرب میں جنسی ہراسانی کے متعدد واقعات ہوتے ہیں۔ ریپ بھی ہوتے ہیں۔ ان کا میڈیا ایسی خبریں سامنے نہیں لاتا۔ ہمارا ”غدار میڈیا“ ایسے واقعات کو نمایاں طور پر پیش کرتا ہے جس سے ہماری دنیا بھر میں بدنامی ہوتی ہے۔

Read more

بینک مینیجر کی ویڈیو: قصوروار کون؟

بینک مینیجر کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد ”قلیل خمری صاحب“ کے فرمودات کی صداقت روز روشن کی طرح ذہن و دل کو منور کر گئی۔ ہم بھی کتنے سادہ ہیں جو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ فرسٹریشن کے مارے ہوئے مرد عورتوں کی مجبوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کا استحصال کرتے ہیں اور جنسی ہراسانی کا شکار بناتے ہیں۔ ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ مینیجر صاحب اپنے فرائض منصبی پوری سنجیدگی سے ادا کر رہے تھے ایسے میں جب وہ اپنے کیبن کے طرف جانے لگے تو راستے میں ان کی ساتھی خاتون کھڑی تھیں۔ چناں چہ انہوں نے جاتے جاتے فرض سمجھ کر ”ہاتھ پھیرا“ جسے ہم جیسے نامناسب سمجھتے ہیں مگر خاتون کے رویے کی طرف ہماری توجہ منتقل نہیں ہوئی تھی۔ صد شکر کہ سوشل میڈیا کے دانشوروں کی نشاندہی پر ہم ”اصل حقائق“ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

Read more

دو نمبر لڑکی

وہ خوبصورت تو نہیں تھی لیکن اسے خوش شکل کہہ سکتے ہیں۔ سلیو لیس کپڑوں میں اپنے انداز سے ماڈرن دکھائی دیتی تھی۔ اس کی عمر بیس اکیس برس ہوگی۔ میں اور عامر اس وقت جناح سپر مارکیٹ کے ایک کافی سٹال پر تھے۔ وہ لڑکی چلتے چلتے ہمارے قریب سے گزری۔ اسی دوران اس نے ایک اچٹتی ہوئی نگاہ ہم پر ڈالی اور آگے بڑھتی چلی گئی۔ ”شرط لگا لو یہ لڑکی دو نمبر ہے۔ “ عامر نے کافی کا سپ لیتے ہوئے کہا۔ ”جانے دو یار کیوں کسی شریف لڑکی پر تہمت لگا رہے ہو۔ “ میں نے سر جھٹکتے ہوئے کہا۔

عامر کو شاید یہ بات بری لگی کہ میں نے اس کے گیان پر شک کیا ہے۔ وہ پوری سنجیدگی سے مجھے یقین دلانے لگا کہ وہ لڑکیوں کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتا ہے اور محض ایک نظر دیکھ کر بتا سکتا ہے کہ لڑکی کا کریکٹر کیسا ہے جب کہ میں مصر تھا کہ ظاہر سے کسی کے باطن کا اندازہ لگانا ناممکن ہے۔ ”اچھا آؤ ذرا اس کا تعاقب کرتے ہیں ابھی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ “ عامر نے تنگ آ کر کہا۔ میرے جواب کا انتظار کیے بغیر وہ اس سمت چل پڑا جدھر وہ لڑکی گئی تھی۔

Read more

کیا دہشت ناک سزائیں جنسی جرائم کا علاج ہیں؟

ایک نجی نیوز چینل کے مطابق ملک میں جنسی جرائم بہت بڑھ گئے ہیں۔ جہاں یہ خبر ایک المیہ ہے وہیں جنسی جرائم کے حوالے سے ملک کے طول و عرض میں جاری بحث بھی قابل غور ہے۔ عوام کی اکثریت کا کہنا ہے کہ ایسے مجرموں کو دہشت ناک سزائیں دی جائیں۔ وزیراعظم بھی یہ فرما چکے ہیں کہ جنسی زیادتی کے مجرم کو سرعام پھانسی دی جانی چاہیے یا انہیں کیمائی مواد کے ذریعے بانجھ بنا دیا جانا

Read more

خلیل الرحمٰن قمر کا غصہ ریپ کے خلاف نکلنے والی عورتوں پر اور ریپسٹ پر خاموشی

موٹر وے ریپ کیس کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں خواتین کی شمولیت پر مخصوص ذہنیت کے حامل افراد خاصے چراغ پا ہوئے۔ ڈراما نویس خلیل الرحمٰن قمر جو خواتین سے متعلق متنازع بیانات کے حوالے سے جانے جاتے ہیں ایک بار پھر میدان میں آ گئے اور ایسی زبان استعمال کی جسے کسی طور مہذب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایک ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ عورتیں کس کی اجازت سے پہنچی ہیں اور دندناتی پھر رہی ہیں، چیخ چلا رہی ہیں، یہ بھانڈوں کی فوج ہے۔ انہوں نے عورتوں سے سوال کیا کہ آپ کیا چاہتی ہیں کہ آپ بوائے فرینڈ کے ساتھ کمرے میں چلی جائیں اور باپ باہر کھڑا ہو جائے پہرے کے لیے؟

انہوں نے اسی قسم کی کچھ اور باتیں بھی کیں۔ سوال یہ ہے کہ موٹر وے پر درندگی کے واقعے کے بعد اگر خواتین احتجاج کے لیے نکلیں تو انہیں غصہ کیوں آیا؟ اتنا غصہ انہیں ان درندوں پر کیوں نہ آیا جو انسان کہلانے کے حق دار نہیں۔ انہوں نے کسی چینل پر ان کے خلاف ایسی زبان استعمال کیوں نہیں کی؟

Read more

پاکستان عورتوں کے لیے غیر محفوظ کیوں ہے؟

پاکستان اگر غیر محفوظ ملک بنتا جا رہا ہے تو اس کی وجہ آزادی نہیں، پابندی ہے۔ ٭٭٭     ٭٭٭ بلا شبہ پاکستان عورتوں کے لیے غیر محفوظ ملک بن چکا ہے۔ جہاں عورت شلوار قمیص پہنے یا جینز، دپٹا پہنے یا دپٹے سے بے نیاز ہو، چادر میں لپٹی ہو یا بغیر آستینوں کے ہو، اس کی عمر تین سال ہو یا پچھتر سال ہو، وہ ریپ ہو جاتی ہے۔ اب تو صورت حال اس قدر ابتر ہو چکی

Read more

دھند کے شہر میں اجنبی

جب میرے احساسات بیدار ہوئے تو میرے کانوں میں عجیب سا شور تھا۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میں متحرک ہوں یا شاید میں جس بستر پر ہوں وہ حرکت میں ہے۔ جھولے کی طرح لگ رہا تھا۔ میں نے آنکھیں کھول دیں۔ سامنے کھڑکی کے شیشے سے درخت نظر آتے تھے۔ متحرک درخت، تیزی سے پیچھے کو بھاگتے ہوئے درخت۔

”اوہ! یہ کیا ہے؟“ میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ دائیں بائیں دیکھا تو صورت حال کا صحیح اندازہ ہوا۔ میں ایک ٹرین میں تھا۔ صبح ہو چکی تھی بیشتر مسافر ابھی تک سو رہے تھے۔ ٹرین پوری رفتار سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی۔ میں نے مسافروں پر ایک اچٹتی سی نگاہ ڈالی۔ میرے سامنے سیٹ پر ایک ادھیڑ عمر عورت نیم خوابیدہ سی حالت میں ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔ اس کے ساتھ ایک نوخیز لڑکی سمارٹ فون میں گم تھی۔ اوپر والی برتھ پر ایک بوڑھا سویا ہوا تھا۔ نہ جانے ان کی منزل کیا تھی۔

Read more

جسے تر نوالہ سمجھا تھا

”جی نہیں، کوئی ٹیبل خالی نہیں ہے“ ویٹر نے روکھے لہجے میں کہا۔ مجھے کافی مایوسی ہوئی۔ میرا خیال تھا کہ ویٹر کوئی نہ کوئی جگہ نکال لے گا۔ میں نے ایک بار پھر ہال کا طائرانہ جائزہ لیا۔ ریسٹورنٹ میں رش تھا۔ پھر ایک ٹیبل پر میری نگاہیں رک گئیں۔ دو لڑکیاں ایک ہی سائیڈ پر بیٹھی خوش گپیوں میں مصروف تھیں اور دوسری طرف دو کرسیاں خالی تھیں۔ غالباً وہ آرڈر کا انتظار کر رہی تھیں۔ میں نے

Read more

یو ٹیوب بند کرنے سے کیا فائدہ ہو گا؟

فرض کریں کہ وطن عزیز سے باہر دنیا کے کسی کونے میں کوئی غیر صالح شخص اپنے گھر میں داخل ہونے کے بعد ریموٹ کنٹرول سے ٹی وی آن کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن ٹی وی آن نہیں ہوتا تو وہ کیا کرے گا؟ جی ہاں وہ بیٹری سیل چیک کرے گا لیکن ہمارے ہاں ایسی ہی صورت حال میں اکثر ہم وطنوں کا ردعمل بالکل مختلف ہو گا۔ وہ فوراً ریموٹ کنٹرول کو کان سے پکڑ کر اس

Read more

کیا ہم جاہل قوم ہیں؟

اب اس بات میں رتی برابر بھی شک کی گنجائش نہیں رہی کہ ہم ایک جاہل قوم ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے ببانگ دہل فرمایا ہے کہ شاید ہی کوئی قوم اتنی جاہل ہو گی جس طرح کے ہم لوگ ہیں۔ وہ یہ باتیں کورونا وائرس کے حوالے سے احتیاط کے تناظر میں کہہ رہی تھیں۔ انہوں نے کہا ہم ایسی قوم ہیں جو بالکل بات نہیں مانتے۔ خاص طور پر لاہوریے ایک علیحدہ مخلوق ہیں اللہ کی۔ واقعی یہ

Read more

ہنوز دلی دور است… لیکن کورونا آن پہنچا

سنہ 1719 میں دہلی کی مغل سلطنت پر محمد نصیر الدین روشن اختر بہادر تخت نشین ہوا جو تاریخ میں اپنی طبیعت کی جولانی اور رنگینی کے سبب محمد شاہ رنگیلا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ محمد شاہ رنگیلا رقص و سرود کی محفلوں کا دلداہ تھا اور شمشیر وسناں اس کے بس کا روگ نہیں تھا۔ محمد شاہ رنگیلا نے اپنی مدت حکومت کا زیادہ تر وقت عیش و نشاط میں گزارا۔ بادشاہ کی عیش پرستی اور بے

Read more

ساری دنیا ہمارے خلاف سازشیں کیوں کرتی ہے

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس کی تباہ کاری کے اثرات بتدریج کم ہو رہے ہیں۔ اٹلی، سپین اور یو کے اس سے بہت زیادہ متاثر تھے لیکن اب وہاں کورونا پر تقریباً قابو پایا جا چکا ہے۔ امریکہ میں بھی حالات بہتری کی طرف گامزن ہیں۔ اس کے بر عکس وطن عزیز میں کورونا بے قابو ہو چکا ہے۔ کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ ڈھائی ہزار سے زیادہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ گزشتہ روز تقریباً چھ ہزار نئے مریض سامنے آئے اور سو سے زیادہ اموات ہوئیں۔ یاد رہے کہ یہ سرکاری اعداد و شمار ہیں۔ غیر سرکاری ذرائع کے مطابق یہ تعداد لاکھوں میں ہو سکتی ہے۔ ہر روز اس تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

ایسے میں ایک دوست سے فون پر بات ہوئی تو انہوں نے صورت حال پر پرمغز تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کورونا وائرس بھی ہمارے خلاف ایک سازش ہے۔ یہ خیال محض ایک فرد کا نہیں بلکہ ہمارے کروڑوں پاکستانیوں کی یہی رائے ہے۔ آپ نے یہ تو سنا ہی ہو گا کہ ”لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے“ واقعی یہ ہمارے خلاف ایک سازش ہے۔ دنیا میں کورونا وائرس کا خاتمہ ہو رہا ہے اور ہمارے ہاں یہ عروج کی طرف رواں ہے۔

Read more

کالا دپٹہ سرخ شلوار

جس دن میری موت ہوئی موسم بہت اچھا تھا۔ آسمان سرمئی بادلوں میں چھپا ہوا تھا۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ بہار کی آمد آمد تھی۔ باغوں میں پھول کھلے تھے۔ فضا معطر تھی۔ گلیوں اور بازاروں میں چہل پہل تھی۔ زندگی رواں دواں تھی۔ اچانک موت کا بھیانک چہرہ میرے سامنے آ گیا۔ میں مرنا نہیں چاہتی تھی اور اس دن تو بالکل بھی نہیں۔ کون مرنا چاہتا ہے؟ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ جہان آب و گل ہمارا مستقل ٹھکانہ نہیں ہے۔ سب بڑے بڑے منصوبے بناتے ہیں۔ دوسروں کومرتا دیکھ کر چند لمحوں کے لئے افسردہ ہوتے ہیں، پھر دوبارہ اپنے معمولات میں اس طرح گم ہوتے ہیں کہ موت کا تصور ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتا۔ مگر وہ یہ نہیں جانتے موت ایک چالاک شکاری کی طرح ان کا پیچھا کرتی ہے۔ جب کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا وہ اچانک اپنا وار کرتی ہے اور مرنے والا سوچتا ہی رہ جاتا ہے کہ میرے ساتھ ہوا کیا ہے۔

Read more

اگر تم بے حیا نہ ہوتیں

عاقل و دانا اور فاضل عالم کے بیان اور اربابِ اختیار کی خاموش گواہی کے بعد احقر اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ آج وطنِ عزیز میں اہلِ وطن جس زبوں حالی اور عذابِ مسلسل کا شکار ہیں اس کا سبب لڑکیوں کی بے حیائی ہے۔ یہ بے حیا لڑکیاں سمجھتی نہیں ہیں کہ اگر ان کے ہاتھ کا ناخن بھی کسی مرد کو نظر آ جائے تو اس کا ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ کچھ تو بے حیا

Read more

سولہ برس کی لڑکی

زیبی نے زور دار آواز سے دروازہ بند کیا۔ نگینہ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ زیبی کی سانس پھولی ہوئی تھی اور وہ بہت سہمی ہوئی لگ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ نگینہ ابھی ابھی کھانا بنا کر صحن میں آئی تھی۔ دو بج کر بیس منٹ ہوئے تھے اور اسے پتا تھا کہ دو بجے سکول سے چھٹی ہوتی ہے اور بیس منٹ میں زیبی گھر پہنچ جاتی تھی۔ لیکن ایسا پہلی بار ہوا

Read more

کیا وہ لڑکی جھوٹی تھی؟

اس دن موسم کچھ سرد تھا۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ آسمان پر گہرا ابر تھا۔ میں ہفت روزہ ”لیل و نہار“ کے چیف ایڈیٹر اسد صاحب کے آفس میں بیٹھا تھا۔ در اصل میں ’لیل ونہار‘ کے ادبی صفحے کا انچارج تھا۔ اسی حوالے سے وہاں میری حاضری ہوتی تھی۔ ابھی مجھے وہاں بیٹھے چند منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ ہوا کا ایک جھونکا آیا۔ یہ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا نہیں تھا۔ یہ خوشبو سے بھرا ایک جھونکا

Read more

ناصر بشیر کے گھر چوری کی واردات اور جذبہ ایمانی

ممتاز شاعر اور کالم نگار ناصر بشیر کا تعلق ملتان سے ہے۔ وہ لاہور میں مقیم ہیں مگر ان دنوں ملتان میں شاہ شمس روڈ پر اپنے گھر میں قرنطینہ میں ہیں۔ ایسے میں ایک نامعلوم چور رات کو دیوار پھلانگ کر ان کے گھرمیں داخل ہوا اور ان کا بیگ اور ان کے گھر کے افراد کے تین قیمتی موبائل لے اڑا۔ بیگ میں 65 ہزار روپے اور قیمتی کاغذات تھے۔ ناصر بشیر کا کہنا ہے کہ انہوں علاقے کے تھانے میں ایس ایچ او کو رپورٹ کی ہے مگر نہ جانے کب ایف آئی آر درج ہو گی اور کب چور کو پکڑنے کے لیے کوئی قدم اٹھایا جائے گا۔

Read more

آپ ہی بتائیے کہ مختارا کیا کرے؟

اگرچہ ندیم افضل چن صاحب نے کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کے حوالے سے نہایت موثر انداز میں ’مختیارے‘ کو سمجھایا تھا، مقدور بھر ڈرایا بھی تھا کہ گھر میں رہو، باہر نہیں نکلنا مگر مختارا سمجھتا ہی نہیں ہے۔ قصور مختارے کا بھی نہیں ہے۔ حکومت تو لاک ڈاؤن کرکے بیٹھ گئی۔ اب بازاربند ہیں، کاروبار بند ہیں، روزگار بند ہیں، مختارا جائے تو کدھر جائے لیکن جب چوبیس گھنٹے گھر میں پڑا رہے گا تو بچے بھی

Read more

وبا کے دنوں میں محبت

ڈاکٹر سعدیہ کے دل کی دھڑکن معمول سے کچھ زیادہ تیز تھی۔ ہاسپٹل میں اس دن کام کا رش نسبتاً کم تھا۔ ڈاکٹر خرم کے کمرے کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے اس نے دو تین بار اپنی بے ترتیب سانسوں کو نارمل کرنے کی کوشش کی مگر دل کم بخت بڑے زور دھڑک رہا تھا۔ ڈاکٹر سعدیہ کو ڈاکٹر خرم پر بہت غصہ آ رہا تھا۔ آخر وہ سمجھتا کیوں نہیں ہے۔ کتنی بار اس نے اپنے دل کو سمجھانے

Read more

کورونا وائرس کو سیرئس لینے کی ضرورت ہے

کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر ابھی تک قابو نہیں پایا جا سکا۔ معلومات کے مطابق کورونا وائرس کے اثرات 15 دن کے اندرظاہر ہوتے ہیں۔ چناںچہ اگر کوئی اس کا شکار ہو جائے تو نادانستگی میں وہ اس کے ظاہر ہونے تک بہت سے افراد کو کورونا سے متاثر کر چکا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چند کیسز کے سامنے آنے کے بعد اچانک کورونا کی زد میں آئے ہوئے افراد کی تعداد بتدریج بلند ترین سطح کی طرف

Read more

کورونا کا مقابلہ ایسے کرنا ہے

کورونا وائرس کا پھیلاؤ ہنوز جاری ہے اور اب یہ چین کے بعد اٹلی، ایران، سپین، جرمنی اور امریکہ سمیت 170 سے زیادہ ممالک کو متاثر کر رہا ہے۔ اٹلی اور ایران میں تو یہ بے قابو ہو چکا ہے۔ پاکستان میں بھی تین سو سے زائد مریض سامنے آ چکے ہیں مگر یاد رہے کہ ہمارے ہاں کسی بھی قسم کا ٹیسٹ کروانے کا رواج نہیں ہے اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ دنیا بھر

Read more

ڈاکٹراجمل نیازی: ایک سچے اور کھرے قلمکار کا المیہ

بستر علالت پر اپنی بیماری سے لڑتے ہوئے ڈاکٹر اجمل نیازی پیرانہ سالی کے باوجود عزم و ہمت کا پیکر دکھائی دیتے ہیں۔ وہ شدید بیمار ہیں اور اپنی آواز کھو چکے ہیں۔ وہ سرگوشیوں میں گفتگو کرتے ہیں۔ ان کے خاندانی ذرائع سے پتا چلا کہ ان کی آواز کھو جانے کا سبب سرکاری ڈاکٹروں کی غفلت ہے۔ ڈاکٹر اجمل نیازی کا یہ حال تو ہونا ہی تھا۔ کیوں کہ وہ ایک سچے قلم کار ہیں۔ انہوں نے قلم

Read more

میں عورت مارچ کے خلاف ہوں

میں عورت مارچ کے خلاف ہوں کیوں کہ اس مارچ کا ہمارے سماج سے کوئی واسطہ نہیں۔ ہمارے ہاں عورتیں سڑکوں پر نعرے بازی نہیں کرتیں، آرام سے گھر بیٹھ کر گھر کے کام کاج کرتی ہیں۔ یہ تو مغرب کی عورت کے مسائل ہیں۔ ہمارا معاشرہ نہایت صالح اور پاکیزہ معاشرہ ہے۔ ہم نے عورت کو جتنے حقوق دے رکھے ہیں اتنے کسی سماج نے نہیں دیے۔ مشرق کی عورت کا تو یہ مسئلہ ہی نہیں ہے۔ ہمارا اس سے کیا لینا دینا۔

Read more

میرا قلم میری مرضی

یہ لڑکیاں بڑی چالاک ہوتی ہیں۔ ایسا جال بچھاتی ہیں کہ بھولے بھالے مرد خود بخود اس جال کی طرف کھنچتے چلے آتے ہیں۔ ”عورت مارچ“ والا معاملہ ہی دیکھ لیجیے۔ انہوں نے ایسے ایسے نعرے ایجاد کیے کہ ایک خاص نقطہ نظر کے حامل مرد نہ چاہتے ہوئے بھی چیختے چنگھاڑتے انگاروں پر لوٹنے لگے۔ یہی تو ان لڑکیوں کا مقصد تھا۔ اب وہ اطمینان سے آلو میتھی پکاتے ہوئے مسکرا رہی ہوں گی اور وہ مرد گھروں میں،

Read more

ماروی سرمد بمقابلہ خلیل الرحمان قمر

ایک ٹی وی چینل پر ماروی سرمد اور خلیل الرحمان قمر کی جھڑپ اس وقت شدت اختیار کر گئی جب خلیل الرحمان قمر نے جذبات کی شدت میں ماروی سرمد پر گالیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ یہ گفتگو عورت مارچ کے ایک نعرے ”میرا جسم میری مرضی“ کے حوالے سے ہو رہی تھی۔ خلیل الرحمان قمر نے خاموشی سے ماروی سرمد کی گفتگو سنی پھر درخواست کی کہ میری بات کے بیچ میں بولا نہ جائے۔ انہوں نے آغاز اس

Read more

توبہ

نجیب عالم اور صبغت اللہ کی دوستی کافی گہری تھی۔ وہ ماڈل ٹاؤن میں رہائش پزیر تھے۔ گلی تو ایک ہی تھی مگر نجیب عالم کا گھر گلی کے شروع میں اور صبغت اللہ کا آخر میں تھا۔ نجیب عالم ایک بینکرتھے جبکہ صبغت اللہ ایک عالم تھے اور خاصے دیندار آدمی تھے۔ وہ جب بھی نماز کے لیے نکلتے تو جاتے جاتے نجیب عالم کے دروازے پر ہلکی سی دستک ضرور دیتے تھے۔ نجیب عالم بھی گویا اس دستک

Read more

جب شامین دلہن بنی

دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے سیٹھ عالمگیر ایک لمحے کے لیے رکا۔ اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ بالآخر وہ لمحہ آن پہنچا تھا۔ اس کمرے میں شامین بیٹھی ہو گی۔ وہ شامین جسے اس نے جب پہلی باردیکھا تھا تو اس کے سارے بدن پر چیونٹیاں سی رینگنے لگی تھیں۔ کسی بھوک سے بے تاب چیتے کے سامنے ایک کومل سی ہرنی آ جائے تو اسے چیتے کا نوالہ بننے میں کتنی دیر لگتی ہے۔ مگر

Read more

مرشد! حور والا انجیکشن کہاں سے ملے گا؟

کپتان کی قیادت میں ڈیڑھ سال کا عرصہ بیت چکا، اس عرصے میں اتنی بڑی تبدیلی آئی کہ آنکھیں بند کر کے بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ سونا نوے ہزار فی تولہ سے بھی تجاوز کر چکا ہے، ڈالر کو پر لگ گئے، بجلی اور گیس کی قیمتیں تقریباً دگنی ہو چکی ہیں۔ پیٹرول ایک سو اٹھارہ روپے فی لیٹر سے بھی زیادہ ہو چکا، روز مرہ استعمال کی ہر چیز حد سے زیادہ مہنگی ہو چکی ہے، عام

Read more

حریم شاہ! گھبرانا نہیں ہے

ایک نجی ٹیلی ویژن چینل نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ہدایات کے بعد ایجنسیوں نے حریم شاہ سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ تحقیقات کا آغاز وزرا سمیت دیگر اہم شخصیات کے ساتھ ویڈیوزاور آڈیوز منظر عام پر آنے کے بعد کیا گیا۔ جو لوگ حریم شاہ سے ناواقف ہیں انہیں یہ خبر سن کر ایسا لگا ہو گا جیسے حریم شاہ کے پاس شاید کوئی "ایٹمی راز” ہیں کہ وزیراعظم نے اس معاملے

Read more

پانچ بچوں کے باپ کی خود سوزی اور قبر کا سکون

کراچی میں درمیانی عمر کے شخص نے مبینہ طور پر شدید مالی مشکلات کے باعث اپنے اہلخانہ کی ضروریات پوری نہ کر پانے پر خود کشی کر لی۔ پولیس کے مطابق متوفی کی عمر لگ بھگ چالیس برس تھی اور وہ علاقہ کورنگی (ابراہیم حیدری) کا رہائشی تھا، اس کا نام میر حسن تھا اور اس کے پانچ بچے تھے۔ پولیس حکام نے بتایا کہ متوفی نے خود پر تیل چھڑک کر آگ لگا لی جس کے بعد اسے ڈاکٹر

Read more

عمران خان کا طوطی بولتا ہے

ایکسٹینشن کی بات ہو یا حکومت میں آنے سے پہلے کیے گئے وعدے ہوں، وزرا کی سلیکشن ہو یا نیب کے قوانین، ہر معاملے میں یو ٹرن لینے کے باوجود عوام کپتان سے مایوس ہرگز نہیں ہیں۔ انہیں پوری امید ہے کہ اس ٹیسٹ میچ کا نتیجہ ان کی فتح ہو گی۔ یعنی کپتان کی فتح ہو گی۔ تنقید کرنے والے چند لوگ جو آٹے میں نمک کے برابر ہیں مخالفت برائے مخالفت میں یہ دلیل دیتے ہیں کہ تقریباً

Read more

اور کتنے بچوں کا لہو چاہیے ان درندوں کو

ایک لمحے کے لیے تصور کیجئے، اگر آپ کے منہ پر ٹیپ لگا دی جائے۔ ہاتھوں اور پیروں پر اسی ٹیپ سے اتنے بل دیے جائیں کہ آپ انہیں ہلا بھی نہ سکیں، پھر آپ کو ایک الماری میں بند کر دیا جائے۔ آپ کو سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا ہو۔ تاریکی میں کچھ دکھائی نہ دیتا ہو۔ تو آپ اس کیفیت میں کتنی دیر جی سکیں گے؟ وہ تو محض چار برس کا تھا۔ ایک چار برس

Read more

ہمیں نثار ترابیؔ یہیں پہ رہنا ہے

گزشتہ دنوں مجھے راولپنڈی آرٹس کونسل میں ایک شعری مجموعے کی تعارفی تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔ توقع کے عین مطابق شرکا کی تعداد آسانی سے گنی جا سکتی تھی۔ اس تقریب کے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے نئی نسل کے نمائندہ، ممتاز شاعر ڈاکٹر نثار ترابی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جس قدر تیزی سے ہمارے ملک میں ادبی محفلوں اور مشاعروں میں سامعین کی تعداد کم ہو رہی ہے، اتنی ہی سرعت سے شدت پسندی

Read more

رابی پیرزادہ نے اپنی نازیبا ویڈیوز کیوں بنائیں؟

گلوکارہ رابی پیرزادہ کی نازیبا ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد گلوکارہ نے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو کارروائی کے لیے درخواست دی جس میں کہا گیا تھا کہ تحقیقات کی جائیں کہ سوشل میڈیا پر قابلِ اعتراض ویڈیوز کس نے اپ لوڈ کیں۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ رابی پیرزادہ خود کشی کے بارے میں سوچ رہی ہیں اور یہ کہ گلوکارہ نے شوبز چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ صورتِ حال یہ ہے کہ انٹرنیٹ کے

Read more

چنری کے نیچے کیا ہے؟

دپٹا کہہ لیں، اوڑھنی یا چنری، اس سے مراد ڈھائی گز کا وہ کپڑا ہے جسے اوڑھنے کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ لڑکی پرہیز گار، نیک اورصالحہ ہے جبکہ جینز شرٹ پہننے والی یا  بنادپٹے والی لڑکی کو دیکھ کر اسے بے شرم، بے حیا جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے۔  ہمارے ہاں لڑکیوں پر معاشرتی دباؤ اس قدر ہے کہ وہ چاہیں یا نہ چاہیں انہیں دوپٹے کو گلے کا پھندہ بنا کر رکھنا ہی پڑتا ہے۔

Read more

جنسی ہراسانی کے ملزم لیکچرار نے خود کشی کی یا اسے قتل کیا گیا؟

8  جولائی 2019 کو ایم اے او کالج کے ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کی ایک طالبہ انگلش کے لیکچرار محمد افضل پر جنسی ہراسانی کا الزام لگاتی ہے۔ کالج کی انتظامیہ نے انکوائری ٹیم بنا دی۔ تین مہینے کی انکوائری سے یہ ثابت ہو گیا کہ الزام جھوٹا تھا۔ لیکچرار پرنسپل کے نام درخواست میں مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں اس کیس سے بریت کا سرٹیفیکیٹ دیا جائے۔ انکوائری مکمل ہونے کے بعد انہیں زبانی کہہ دیا گیا کہ آپ پر

Read more

ایک سلگتی اور ترستی لڑکی

گھوڑا گلی سے ذرا پہلے پی ایس او پیٹرول پمپ کے قریب ایک نئی کرولا کھڑی تھی۔ اس کا بونٹ کھلا تھا۔ وقت شام کا تھا، میں اسلام آباد سے مری واپس آ رہا تھا۔ میں نے بریک لگائی کہ شاید کسی کی مدد کر سکوں۔ کرولا کے پیچھے گاڑی روک کر میں باہر نکلا۔ ایک سانولا نوجوان گاڑی کا جائزہ لے رہا تھا۔ اس کے قریب ایک گوری چٹی بھرے بھرے جسم والی لڑکی فکر مند انداز میں کھڑی

Read more

ایک تیکھی لڑکی اور میں

اس کے آنے کا پتا خوشبو دیتی تھی۔ وہ جہاں سے گزرتی ہوا میں مسحور کن مہک پھیل جاتی۔ جب وہ یونیورسٹی میں قدم رکھتی تو نہ جانے کتنی نگاہیں اس کا تعاقب کرتی تھیں یہ اور بات ہے کہ دیکھنے والے اسے چوری چوری دیکھتے تھے۔ سب کو اس کے مزاج کا پتا تھا۔ وہ جس قدر حسین تھی اتنی ہی بے باک اور نڈر بھی تھی۔ اپنی طرف غلط انداز نظروں سے دیکھنے والے کی طبیعت ایسی صاف

Read more

اس کی بیوی کو کس کی تلاش تھی؟

کہر میں لپٹی ہوئی رات اپنے جوبن پر تھی۔ سردیوں میں یوں بھی جلد ہی ہر طرف سناٹا چھا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ شادی والا گھر تھا مگر رات کے بارہ بجے تک تمام ہنگامے موقوف ہو چکے تھے۔ آفاق احمد ابھی تک اپنے دیرینہ دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا۔ وہ کئی بار جانے کے لیے اٹھے تھے مگر آفاق انہیں ہر بار روک لیتا تھا۔ آخر جب اس کی ماں کا صبر جواب دے گیا تو اس نے اپنے شوہر سے بات کی۔ چناں چہ اس کے باپ کونہ چاہتے ہوئے بھی آ کراس کے دوستوں کو رخصت کا مشورہ دینا پڑا۔ ظاہر اس کے بعد رکنے کا کوئی جواز نہ تھا۔ دوستوں کے جانے کے بعد آفاق کے پاس اس کے سوا کیا چارہ تھا کہ دلہن کے پاس جائے۔ وہ بوجھل قدموں سے اپنے کمرے کی طرف بڑھتا چلا گیا۔

دروازہ کھول کر اندر جھانکا تو بیڈ پر ایک سرخ گٹھڑی کی صورت اس کی نوبیاہتا بیوی موجود تھی۔ اس کی آہٹ سنتے ہی وہ کسمسائی اور گھونگھٹ ٹھیک کیا۔ کمرہ بڑے خوبصورت انداز میں سجایا گیا تھا۔ بیڈ پر گلاب کی پتیاں تھیں۔ کمرے میں مسحور کن خوشبو پھیلی تھی۔ وہ بیڈ کے کنارے پر بیٹھ گیا۔ چند لمحے خاموشی میں گزر گئے پھر اس کے لب ہلے۔

Read more

میاں، بیوی اور کال گرل (دوسرا حصہ)۔

”میں دروازہ بند کر کے آتا ہوں۔ “ محمود تیزی سے بیرونی دروازے کی طرف بڑھا۔ ماہین اپنی جگہ پر کھڑی ہونٹ چبا رہی تھی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس صورتِ حال کو کیسے ہینڈل کرے۔ وہ شادی کے پہلے دن سے ہی محمود کو دباؤ میں رکھنے میں کامیاب رہی تھی۔ بعض اوقات خواہ مخواہ اس پر شک کرتے ہوئے سخت ناراضی دکھاتی تھی۔ محمود کا انداز ہمیشہ سے معذرت خواہانہ ہی رہا تھا۔ وہ اس کے ناز نخرے بھی اٹھاتا تھا۔ اور اسے خوش رکھنے کی کوشش بھی کرتا تھا مگر شاید ماہین کا رویہ وقت کے ساتھ ساتھ کچھ زیادہ بگڑ گیا تھا۔ وگرنہ محمود ایسی حرکت نہ کرتا۔

Read more

میاں، بیوی اور کال گرل

محمود اور ماہین کی شادی ارینجڈ میرج تھی۔ شادی کے بعد چھے مہینوں میں شاذ و نادر ہی کوئی ایسا دن گزرا تھا جب ان کے درمیان تو تکار یا چھوٹی موٹی جھڑپ نہ ہوئی ہو۔ حالاں کہ ماہین کی کوئی نند تھی نہ ساس۔ محمود کے والدین کئی برس پہلے ہی داغِ مفارقت دے چکے تھے۔ محمود ایم بی اے کرنے کے بعد ایک فرم میں کام کرتا تھا۔ اچھی خاصی تنخواہ تھی۔ وراثت میں اسے ایک پرانا مکان ملا تھا جسے بیچ کر اس نے سکائی ٹاور میں ایک خوبصورت فلیٹ خرید لیا تھا۔ یہ فلیٹ تیسری منزل پر تھا۔ محمود کی خالہ حیات تھیں۔ انہوں نے ہی ماہین سے اس کا رشتہ کرایا تھا۔ ماہین کی ماں خالہ کی جاننے والی تھیں۔

Read more

فردوس عاشق اعوان: آپ نے رنج و الم پر ہنسنا کہاں سے سیکھا؟

پاکستان میں منگل کو 8.5 کی شدت سے آنے والے زلزلے میں جو تباہی ہوئی اس کے نتیجے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق پچیس سے زیادہ لوگ جاں بحق ہوئے اور سینکڑوں زخمی ہیں۔ وزیراعظم کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے زلزلے کے بارے میں کہا کہ ”پاکستان میں جب کوئی تبدیلی آتی ہے تو نیچے (زمین میں ) بے تابی ہوتی ہے۔ یہ تبدیلی کی نشانی ہے جو زمین نے بھی کروٹ لی ہے کہ اس کو بھی اتنی جلدی تبدیلی قبول نہیں۔ “ انہوں نے یہ بیان مسکراتے ہوئے دیا۔

Read more

کیا مہوش حیات پر تنقید جائز ہے؟

وجاہت مسعود صاحب کا ایک بلاگ پڑھ کر پتا چلا کہ معروف اداکارہ مہوش حیات ان دنوں امریکہ کے دورے پر ہیں، انہوں نے اپنی چند تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں تو پرستاروں نے ان کے لباس کی وجہ سے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔ جان علی نامی شخص نے کہا کہ ”مسلمان خواتین کو ننگی ٹانگیں اور ننگے بازو دکھانے کی اجازت نہیں ہے۔“ یقیناً وہ اور ان جیسے کئی پرستار مہوش حیات کا لباس دیکھ کر غیرتِ قومی سے زمین میں گڑ گئے ہوں گے۔ اقبال کے ان شاہینوں کے لیے ایک لائک تو بنتا ہے۔

Read more

با پردہ پاکستان میں اجنبی

جہاز نے محمود غزنوی ائیر پورٹ پر لینڈ کیا تو میری آنکھیں بھیگ گئیں۔ بالآخر میں دس سال بعد پاک سر زمین پر تھا۔ میرے ایک انتہائی قریبی دوست شیخ نے وٹس ایپ میسیج کیا تھا کہ وہ مجھے لینے آئے گا۔ وطن کی مٹی سے نگاہ اٹھا کر سامنے دیکھا تو وہ کہیں نظر نہ آیا۔ البتہ سینکڑوں ہمشکل افرد نظر آئے۔ مجھے شدید حیرت ہوئی کہ کسی زمانے میں چینی باشندے ہمیں ایک ہی شکل کے لگتے تھے

Read more

یار! دیکھو کیا کمال کا پیس ہے

”یار دیکھو کیا کمال کا پیس ہے۔“

میں پارک میں پتھر کی بنچ پر بیٹھا دنیا کی بے ثباتی پر غور و فکر کر رہا تھا جب اس جملے نے میری سماعت تک رسائی حاصل کی۔ دو نوجوان مجھ سے محض چند فٹ کے فاصلے پر براجمان تھے اور آس پاس سے یکسر بے خبر دکھائی دیتے تھے۔ وہ وضع قطع اور چہرے مہرے سے کالج کے سٹوڈنٹس لگ رہے تھے۔ ایک اپنے موبائل میں موجود تصویر دوسرے کو دکھا رہا تھا۔ دوسرے نے سر ہلاتے ہوئے اس کے انتخاب کی داد دی۔

Read more

صلاح الدین کا ٹائم آ گیا تھا

پولیس کے تشدد سے جاں بحق ہونے والے صلاح الدین کی کئی ویڈیوز وائرل ہو چکی ہیں۔ ان ویڈیوز میں تشدد کے ثبوت دیکھ کر اور صلاح الدین کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد جس میں لکھا گیا ہے کہ اس پر تشدد کیا گیا تھا، ہمیں محکمہ پولیس کے وہ افسر بہت یاد آ رہے ہیں جنہوں نے بڑے اطمینان سے فرمایا تھا کہ ملزم پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش

Read more

عابی کو پھر مار پڑی تھی

نہ جانے کیا بات تھی، عابی کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ وہ اس وقت کچن میں برتن دھو رہا تھا۔ شام کو گھر میں پارٹی تھی۔ مہمان کافی زیادہ تھے۔ لہٰذا گندے برتنوں کی تعداد بھی کافی زیادہ تھی۔ باورچی نے کئی قسم کے کھانے بنائے تھے۔ اب وہ شاید اپنے کوارٹر میں پڑا خراٹے لے رہا ہوگا۔ یوں بھی برتن دھونا اس کی ڈیوٹی میں شامل نہیں تھا۔ ڈرائیور سے خیر یہ توقع کی ہی نہیں جا

Read more

جب میں اس کی بہن سے ملا

”آج میری بہن کا برتھ ڈے ہے“ پیٹر کا لہجہ کچھ الجھا ہوا تھا۔ ”یہ تو خوشی کی بات ہے، تم کچھ پریشان لگ رہے ہو؟ “ میں نے حیرت سے کہا۔ ”میری سمجھ میں یہ نہیں آ رہا کہ میں اس کے لیے کیا گفٹ خریدوں“ وہ بولا۔ ”بس اتنی سی بات ہے، یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے، مارکیٹ میں جاؤ وہاں جو چیز پہلی نظر میں اچھی لگے خرید لو، تحفہ خریدنے کا بہترین طریقہ یہی

Read more

تشدد کر کے جان لینے والے نیکو کار اور مرتے ہوئے گنہگار

جب اپنے تئیں ایک مبینہ گنہگار کو قرار واقعی سزا دینے کے لیے نیکو کاروں کے ہاتھ اٹھے ہوں گے تو انہیں اپنے اس عمل کی راستی کا کامل یقین ہو گا۔ چودہ پندرہ برس کا ایک کمسن ملزم جسے جنگلے سے باندھ کر، مکمل طور پر بے بس کر کے انسانیت سوز سلوک کرتے وقت وہ احساس برتری کے سرور میں یہ ضرور سوچتے ہوں گے کہ آج ہم اپنے محلے، شہر، ملک اور دنیا کو ایک پاپی سے نجات دلانے کا مقدس فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔

Read more

مانی بابا کس کا بیٹا تھا؟

مولوی تمیزالدین اس وقت فجر کی تیاری کر رہے تھے جب کسی نے ان کے دروازے پر دستک دی۔ ”یا اللہ خیر! اس وقت کون ہو سکتا ہے؟ “ انہوں نے بڑبڑاتے ہوئے کہا۔ سردیوں کے دن تھے اور ایسے میں کسی کا اتنی سویر میں دستک دینا حیران کن تھا۔ ان کی بیگم اور تینوں بیٹیاں وضو کر چکی تھیں۔ مولوی صاحب نے مسح کیا اور دروازے کی طرف بڑھ گئے۔ دروازہ کھولا تو باہر کوئی نہیں تھا۔ بہت

Read more

رخشی کیوں روتی تھی؟

ایک چھوٹی سی پگڈنڈی تھی۔ پہاڑی علاقے میں پیڑ پودوں کی کثرت تھی۔ بادل زمین پر تھے اور اتنے گہرے تھے کہ چند فٹ سے آگے دیکھنا ممکن نہ تھا۔ وہ اس رستے پر چلی جا رہی تھی۔ اسے کچھ خبر نہ تھی کہ وہ کہاں جا رہی ہے مگر چلی جا رہی تھی۔ اچانک اسے ایسا لگا جیسے کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے۔ پھر یوں لگا جیسے پیچھا کرنے والا ایک نہیں ہے وہ بہت سے تھے۔ ان کی سرسراہٹیں سن کر اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ پھر ان میں سے ایک اس کے سامنے آ گیا۔ اس کے منہ سے ایک زوردار چیخ نکل گئی۔ ایک خونخوار چیتا اس کے سامنے تھا اور بھوکی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کے جبڑوں سے خون ٹپک رہا تھا۔ وہ بری طرح پھنس گئی تھی۔ چیتے نے دھاڑتے ہوئے اس پر چھلانگ لگ دی۔ اس نے ایک چیخ ماری اور الٹے قدموں بھاگ نکلی۔

Read more

پاکباز لڑکی اور صالح نوجوان

عابد نے چابی گھمائی اور تالا کھل گیا۔ اس نے دائیں بائیں دیکھا اور جلدی سے اندر داخل ہو گیا۔ یہ تین مرلے کا مکان اس کے دوست راشد کا تھا۔ نہ جانے کیوں اس کا دل دھک دھک کر رہا تھا۔ دو تین بار وہ اس مکان میں آیا تھا۔ راشد کی شادی ایک سال قبل ہی ہوئی تھی۔ ان دنوں اس کی بیوی میکے گئی ہوئی تھی۔ عابد نے جب اس سے درخواست کی کہ وہ ایک دن کے لیے اسے گھر کی چابی دے دے تو وہ بخوشی مان گیا۔ چناں چہ اب وہ اس مکان میں تھا۔ راشد اپنے سسرال چلا گیا تھا۔

Read more

چھپر کی زرینہ اور بنگلے کی زویا

زرینہ کے منہ سے ایک زور دار چیخ نکلی۔ بشیرے نے جس زور سے اس کے بال کھینچے تھے اس پر یہ ردِ عمل توبنتا تھا لیکن بشیرے کو شاید یہ بہت برا لگا۔

”چیختی ہے، سارے محلے کو بتانا چاہتی ہے، لے اور زور سے چیخ، بتا سب کو“ اس نے زرینہ کے منہ پر دو تین تھپڑ جڑ دیے۔ زرینہ کے منہ سے دبی دبی چیخیں نکلیں۔ ایک تو بشیرے کا ہاتھ بہت بھاری تھا اور پھر اوچھا پڑا تھا زرینہ کا نچلا ہونٹ پھٹ گیا تھا۔ اس سے خون بہنے لگا تھا۔

Read more

فلمی ہیروئن سے دیہاتی رومانس

وہ میرے سامنے تھی اور مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ لوگ اسے جینا کے نام سے جانتے تھے۔ کیا یہ وہی ساحرہ ہے جس نے کروڑوں دلوں کو اپنے سحر میں جکڑا ہوا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ میں بھی اس کے چاہنے والوں میں سے تھا۔ کون ہے جس نے اس حسن بلاخیز کو دیکھا ہو اور اپنا دل اس کے قدموں میں نچھاور نہ کیا ہو، کس میں اتنی تاب ہے کہ اسے دیکھے اور اس کے عشق میں مبتلا نہ ہو۔ وہ دلوں کی ملکہ تھی، پنجاب کے اس دور افتادہ علاقے میں اس کی موجودگی کی خبریں گرم تھیں مگر وہ یوں اچانک سامنے آ جائے گی یہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔

Read more