وہ راتوں رات سٹار بننا چاہتی تھی

کشف جب سلمان ظہور کے دفتر میں داخل ہوئی تو وہ اپنے دل کو سینے میں دھڑکتے ہوئے واضح طور پر محسوس کر رہی تھی۔ کتنی مشکلوں کے بعد یہ گھڑی آئی تھی کہ ملک کے نامور فلم ڈائریکٹر کے پاس آڈیشن کے لیے آنے کا موقع ملا تھا۔ سلمان ظہور اسے دیکھتے ہی مسکرا اٹھا۔ اس کی عمر پچاس برس کے لگ بھگ تھی۔ جسم قدرے بھاری تھا۔ سر کے بال اڑ چکے تھے۔ چہرے پر نمایاں ترین چیز اس کی بڑی بڑی مونچھیں تھیں جو آدھی سفید ہو چکی تھیں۔

Read more

کوئی موڈ ہو تو بتائیں صاحب!

گھر سے نکلتے ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ کوئی گڑ بڑ ہے۔ کار کا اے سی کولنگ چھوڑ رہا تھا۔ پھر جب پیشانی پر پسینے کے قطرے نمودار ہونے لگے تو میں نے گاڑی کے شیشے کھول دیے۔ باہر سے گرم ہوا اندر آئی تو چودہ طبق روشن ہو گئے۔ دوپہر ایک بجے کا…

Read more

باپ، بیٹا اور مایا کی محبت

”میں شادی کرنا چاہتا ہوں“
طویل تمہید کے بعد جب بنٹی تقریباً تنگ آ چکا تھا تب بالآخر احمد جمال کے منہ سے یہ جملہ نکلا۔ بنٹی حیران تھا کہ اس کے باپ کو کیا ہوا ہے، اس کا باپ احمد جمال خوش شکل تھا اور متناسب جسم کا مالک تھا۔ اس کی عمر تقریباً پینتالیس برس تھی مگر دیکھنے میں پینتیس کا لگتا تھا۔ چہرے پر گھنی کالی مونچھیں تھیں اور بال کنپٹیوں پر سفید ہو چکے تھے تاہم یہ برے نہیں لگتے تھے بلکہ وہ گریس فل دکھائی دیتا تھا۔

Read more

چاندی کا جادو اور پرہیز گار محلے دار

”زاہد! مجھے مارکیٹ تک چھوڑدو گے؟ “

ایک لمحے کے لیے تو زاہد کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کہے۔ سوچ رہا تھا یہ کس مصیبت میں پھنس گیا۔ کاش میں اس وقت گھر سے نکلا ہی نہ ہوتا یا پھر جب چاندی نے رکنے کا اشارہ کیا تھا تو موٹر سائیکل کو بریک نہ لگاتا بعد میں کہہ دیتا کہ میں نے دیکھا نہیں تھا لیکن میں ایسی باتیں کیوں سوچ رہا ہوں صاف صاف انکار کر دینا چاہیے۔ ”سوری! مجھے دیر ہو رہی ہے۔ “ اس نے لڑکھڑاتے ہوئے لہجے میں کہا۔ جسے جھوٹ بولنے کی عادت نہ ہو اس کے لیے چھوٹا سا جھوٹ بولنا بھی کتنا مشکل ہوتا ہے۔

”دیر کیسے ہو گی؟ تم نے ابھی بتایا ناں کہ تم گھنٹہ گھر چوک جا رہے ہو حسین آگاہی بازار تو راستے میں آئے گا۔ چلو تھوڑا آگے ہو جاؤ کہیں تمہیں دیر نہ ہو جائے۔ “ چاندی بڑی بے تکلفی سے اس کے پیچھے بیٹھ گئی۔ زاہد نے جلدی سے موٹر سائکل آگے بڑھا دی کہ کہیں محلے والے اسے دیکھ نہ لیں۔ راستے میں سوچ رہا تھا کہ مروت بھی بڑی بری شے ہے۔ ابھی اس نے تھوڑا سا فاصلہ ہی طے کیا تھا کہ چاندی نے اس کے اور اپنے درمیان فاصلہ ختم کر دیا۔ اس کی کمر سے چپکا نرم گرم وجود اس کے حواس پر بری طرح اثر انداز ہو رہا تھا، پیشانی پر پسینے کے قطرے نمودار ہونے لگے تھے اور وہ یہ کہنے کی جرات نہ کر پا رہا تھا کہ ذرا ہوا کو تو گزرنے دو۔

Read more

یاسر حسین اور اقرا عزیز، تم نے بہت غلط کیا

ایوارڈ تقریب جاری تھی ایسے میں اداکار، رائٹر اور اینکر یاسر حسین نے اداکارہ اقرا عزیز کو پروپوز کر ڈالا، باقاعدہ گھٹنوں پر جھکتے ہوئے پوچھا کہ کیا تم مجھ سے شادی کرو گی؟ اقرا عزیز نے انگوٹھی قبول کر کے رضا مندی ظاہر کر دی۔ یاسر حسین نے ہاں کرنے پر فرطِ جذبات میں اقرا کو چوم لیا۔ وہاں موجود لوگوں نے خوش ہو کر تالیاں بجا دیں۔ وہیں بیٹھے ہوئے پاکستانی سینما کے لیجنڈ ندیم بیگ نے بھی مسکراتے ہوئے یاسر حسین کو گلے لگا کر مبارک باد دی۔

Read more

آپ کو عوام نے سلیکٹ کیا ہے

محترم وزیرِاعظم صاحب! میں آپ کا ان دنوں سے فین ہوں جب پی ٹی آئی کو تانگہ پارٹی کہا جاتا تھا۔ اب پارٹی ’عوام ایکسپریس‘ بن چکی ہے جس پر اسٹیشن پر پہنچنے سے ذرا پہلے دوسری ریل گاڑیوں کی سواریاں بھی بھاگ بھاگ کر سوار ہو گئیں۔ اپوزیشن کو مگر یہ کامیابی ذرا نہ…

Read more

عورت کو مشین سمجھنے والو! وہ بھی انسان ہے

آج سے سترہ برس پیشتر میں نے اسے پہلی بار دیکھا تھا۔ وہ نظریں جھکائے کسی شرمیلی دلہن کی طرح بیٹھا تھا۔ رات کے نو بج رہے تھے اور عموماً اس وقت تک مریض بہت کم رہ جاتے تھے لیکن اس روز ڈاکٹر شیخ کے کلینک پر رش کچھ زیادہ تھا۔ ڈاکٹر کے کمرے میں…

Read more

اس نے ایک اجنبی سے محبت کی تھی

وہی کالے لمبے بال، وہی فربہی مائل جسم، وہی بوٹا سا قد، وہ افرا ہی تھی لیکن اس کی بڑی بڑی آنکھوں پر ایک عینک کا اضافہ ہو گیا تھا۔ اینا نے اسے پہلی نظر میں ہی پہچان لیا تھا۔ سات برسوں میں یہی ایک تبدیلی تھی جو اس میں نظر آ رہی تھی۔ اینا تو اپنی سہیلیوں اور رشتہ داروں سب سے ناتے توڑ کر اسلام آباد میں آ بسی تھی۔ اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ زندگی میں دوبارہ کبھی کراچی نہیں جائے گی۔ کراچی نے اسے بہت کچھ دیا تھا مگر بہت کچھ چھینا بھی تھا۔ کراچی سے جڑی یادوں میں سب سے تلخ یاد شہزاد کی تھی۔ وہ اسے یکسر فراموش کر دینا چاہتی تھی۔

”اوہ مائی گاڈ! اینا تم سے یہاں اچانک ملاقات ہو گی یہ تو میں نے سپنے بھی نہیں سوچا تھا۔ “ افرا نے اس کے گلے سے لپٹتے ہوئے کہا۔
”میں نے بھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن سپر مارکیٹ میں مجھے تم ملو گی۔ “ اینا نے مسکراتے ہوئے کہا۔

Read more

لڑکیوں کو کیوں چھیڑا جاتا ہے؟

کوئی سڑک ہو یا پارک، بس سٹاپ ہو یا دفتر لڑکیوں کو چھیڑے جانے کے واقعات ہر جگہ رونما ہوتے ہیں۔ میں نے ایک بار مال روڈ پرایک لڑکے کو ایک ایسی لڑکی پر آوازہ کستے ہوئے دیکھا جو مغربی طرز کا لباس زیبِ تن کیے ہوئے تھی۔ لڑکی نے پلٹ کر دیکھا نہ کوئی بات کی۔ اس کی رفتار میں فرق آیا اور وہ تیز تیز چلتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔ میں نے جب اس لڑکے سے پوچھا کہ اس کے اس عمل کی وجہ کیا ہے تو اس نے منہ بنا کر جواب دیا۔
”آپ نے اس کے کپڑے دیکھے تھے؟ وہ خود چھِڑنے آئی تھی۔ “

Read more

اس لڑکی کو اپنے جسم سے نفرت تھی

وہ میرے سامنے تھی۔ دبلی پتلی سی، لمبے قد کی لڑکی، اس کے چہرے کے نقوش بہت دلکش تھے لیکن اس کی آنکھوں میں ایک بے نام سی اداسی تھی۔ وہ کاٹن کے سادہ سے شلوار قمیص میں ملبوس تھی، دُپٹا سینے پر پھیلا ہوا تھا اور لمبے براؤن بال اس کے کندھوں پر لہرا رہے تھے۔

” بہت خوب، آپ نے عورت کے جسم کو انتہائی منفرد زاویوں سے جس انداز میں پینٹ کیا ہے وہ آپ کے تخلیقی ذہن کا آئینہ دار ہے۔ “ میں نے ستائش کے لہجے میں کہا۔ اس نے چونک کر مجھے گہری نظروں سے دیکھا۔

Read more