ڈونٹ انڈر ایسٹیمیٹ دی پاور آف عمران خان

کپتان نے فیلڈنگ کیا بدلی بعض لوگوں کو تنقید کا بہانہ مل گیا۔ شاید وہ نادان لوگ کپتان کو جانتے نہیں ہیں انہیں معلوم نہیں کہ یہ بھی ایک حکمت عملی ہوتی ہے مخالف کو آؤٹ کرنے کی۔سنہ 1992 کے ورلڈ کپ میں بھی جب پاکستان کی ٹیم اپنے ابتدائی میچ ہار گئی تو لوگ باگ مایوس ہو گئے تھے اور علانیہ کہنے لگے تھے کہ یہ ٹیم تو سیمی فائنل تک بھی نہیں پہنچے گی لیکن کپتان اسی ٹیم کے ساتھ نہ صرف فائنل تک پہنچے بلکہ ورلڈ کپ بھی جیت کر دکھا دیا۔ ہارنے کے بعد جب جیت ملتی ہے تو اس کی خوشی ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ اسی لئے تو ہم اب تک اس خوشی کو سنبھالنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ اس طرح ہار کر جیتنے والے کو بازیگر کہتے ہیں اور کپتان ایسے بازیگر ہیں جو کسی وقت بھی قوم کو حیران کر سکتے ہیں۔

Read more

بس ہوسٹس کو کیا کرنا چاہیے؟

بس ہوسٹس مہوش کے بس گارڈ کے ہاتھوں قتل نے کئی سوالات چھوڑے تھے۔ غالباً گارڈ کا موقف یہ ہوگا کہ اس کا من پسند کھلونا اگر اسے نہیں مل سکتا تو اسے توڑنے کا حق رکھتا ہے۔ مہوش اپنے خاندان کی واحد کفیل تھی۔ اب ایک اور واقعہ لاہور سے اسلام آباد چلنے والی…

Read more

سنہ 2024 کا پاکستان کیسا ہو گا؟

بس اتنا یاد ہے کہ میں ہوشربا مہنگائی اور اپنی قلیل تنخواہ کے بارے میں سوچتے ہوئے موٹر سائیکل چلا رہا تھا۔ اچانک موٹر سائیکل ایک گائے سے ٹکرا گئی جو سڑک پر چہل قدمی کر رہی تھی۔ میں سڑک پر گرا اور دماغ پر اندھیرا چھا گیا۔ آنکھ کھلی تو میں ایک ہاسپٹل میں تھا۔ میری بیوی میرے بیڈ کے قریب ایک کرسی پر بیٹھی تھی۔ مجھے ہوش میں آتا دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ یہ خوشی کے آنسو تھے۔”شکر ہے آپ کو ہوش آ گیا۔ “ اس کی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔

میں نے اٹھنے کی کوشش کی تو اس نے منع کر دیا ”ابھی آپ کو آرام کی ضرورت ہے۔ “ فوراً ڈاکٹرز اور نرسز نے مجھے گھیرے میں لے لیا۔ وہ سب ایسے خوش ہو رہے تھے جیسے کوئی بہت بڑا واقعہ رونما ہوا ہو۔ شام تک مجھے گھر جانے کی اجازت مل گئی۔ میں ہاسپٹل کی صفائی اور عملے کی مستعدی پر حد درجہ حیران تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے میں کسی یورپی ملک کے ہسپتال میں ہوں۔ بہر حال بیوی کے ساتھ چلتے ہوئے باہر آیا تو پارکنگ میں ایک بی ایم ڈبلیو گاڑی کھڑی تھی۔

Read more

میں اس عورت کو کیا نام دوں؟

”ایکسکیوزمی! کیا میں آپ سے ایک سوال کر سکتی ہوں بیٹا؟ “ میں جو کسی سوچ میں گم تھا چونک اٹھا۔ سامنے ایک خوش شکل عورت کھڑی تھی۔ اس کی عمر پچاس کے لگ بھگ ہوگی لیکن وہ خاصی دبلی پتلی تھی اس لئے اپنی عمر سے کم دکھائی دیتی تھی۔ اس کے سیاہ بال…

Read more

گھر سے بھاگی ہوئی بیٹی

گاؤں کے دس بارہ معززین احمد علی کے گھر کے صحن میں بیٹھے تنے ہوئے چہروں کے ساتھ حالاتِ حاضرہ پر تبصرے کر رہے تھے۔ صحن میں چار پانچ ٹوٹی پھوٹی کرسیاں اور دو چارپائیاں پڑی تھیں جو اس گھر کی خستہ حالی کو ظاہر کرتی تھیں۔ ان میں صرف ایک شخص خاموش تھا اور وہ تھا بوڑھا احمد علی۔ وہ سر جھکائے چارپائی پر بیٹھا تھا اورمسلسل زمین کو گھور رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ کسی کا سامنا نہیں کرنا چاہتا۔ اس کے دل میں طوفان مچا تھا۔ پیشے کے لحاظ سے وہ درزی تھا اور گاؤں بھر کے کپڑے سیتا تھا۔ ان کے تن ڈھکنے کا وسیلہ تھا اور آج اسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ گاؤں کے ہر شخص کے سامنے ننگا ہو گیا ہے۔

اندر کمرے کا دروازہ کھلا اس میں ایک جھری سی پیدا ہوئی۔ ایک عورت نے اس درز سے جھانک کر بیٹھے ہوئے لوگوں کو دیکھا۔ بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک نوجوان اٹھ کر اندر چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ چائے کے کپ لے کر آ گیا۔ وہ احمد علی کا بیٹا تھا۔ کسی سے کچھ کہے بغیر وہ مشینی انداز میں سب کو ایک ایک کپ پکڑاتا گیا۔

”اوہو شاریب بیٹے! خواہ مخواہ تکلف کیا۔ پہلے بھی دو تین بار تو چائے پی چکے ہیں۔ “ گلفراز چاچا نے رسمی سے انداز میں کہا۔ شاریب کا چہرہ اسی طرح بے تاثر رہا اس نے کپ آگے بڑھائے رکھا۔ گلفراز نے کپ لے لیا۔ آخری کپ اس نے اپنے باپ کے سامنے پڑی ہوئی تپائی پر رکھ دیا۔ پھر خود بھی بیٹھ گیا۔ کئی منٹ گزر گئے احمد علی اسی طرح ساکت بیٹھا رہا۔ اس نے ایک بار بھی نگاہ اوپر نہ اٹھائی تھی۔ اب شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔ سورج پہاڑوں کے پیچھے چھپ رہا تھا۔ شاریب نے اٹھ کر صحن میں لگے بلب کو روشن کیا۔ میلے سے بلب کی ناکافی روشنی سے ماحول پر کوئی خاص فرق نہ پڑا تھا۔ اچانک چند نوجوانوں کے بولنے کی آواز آئی اوران کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ احمد علی نے چونک کو آوازوں کی سمت دیکھا۔ گاؤں کے نوجوان واپس آ گئے تھے۔

Read more

شراب، رقاصہ اور پرہیز گار نوجوان

سر پینا چاہتے ہوں تو آپ کے لئے کچھ لاؤں۔ جٹ نے میری طرف جھکتے ہوئے کہا۔ میں ارد گرد کے ماحول کا جائزہ لے رہا تھا۔ رات کے دس بجے تھے۔ حویلی روشنیوں سے جگمگا رہی تھی۔ ہم لان میں تھے جہاں ایک بڑی سی کینوپی لگا کر چھت فراہم کی گئی تھی لیکن سائیڈیں خالی چھوڑ دی گئی تھیں کیونکہ موسم کچھ گرم تھا۔ سامنے سٹیج تھا اور اس کے آگے کچھ حصہ خالی چھوڑنے کے بعد ریسٹورانٹ سٹائل میں میزیں لگائی گئی تھیں۔ ہر میز کے گرد آٹھ آٹھ کرسیاں لگی تھیں۔ اسٹیج کی ایک سائیڈ میوزک سے وابستہ لوگوں کے لئے مخصوص تھی۔ سازندے موجود تھے ایک گلوکار مدھرآواز میں نئے فلمی گانے گا رہا تھا۔ اس وقت تک تقریباً سب مہمان آ چکے تھے لیکن ابھی چند کرسیاں خالی پڑی تھیں۔

Read more

چھ فٹ کا بیڈ اور میلوں کی دوری

ہلکی سی آہٹ پر ثانیہ کی آنکھ کھل گئی۔ ثاقب کمرے میں آیا تھا۔ ثانیہ نے دل ہی دل میں خود کو ملامت کی۔ اس کی آنکھ لگ گئی تھی۔ حالاں کہ وہ شام سات بجے سے کھانا بنا کر اپنے میاں کا انتظار کر رہی تھی۔ ایک دو بار سوچا کہ فون کر لے پھر یاد آیا کہ دو دن پہلے فون کرنے پر ثاقب بہت ناراض ہوا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ اسے کام کے وقت ڈسٹرب کیا جانا بالکل بھی پسند نہیں۔ شاید اس کا کہنا ٹھیک بھی تھا۔ نیا نیا بزنس تھا اور وہ پوری تندہی سے بزنس میں قدم جمانے کی کوششیں کر رہا تھا۔

ثانیہ ایسا کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتی تھی جس کی وجہ سے ثاقب کا موڈ خراب ہو اور پھر اگلا دن بھی پھیکا اور بور گزرے۔ گھر میں ملازم موجود تھا لیکن ثانیہ کی خواہش تھی کہ وہ اپنے ہاتھوں سے ثاقب کے لئے کھانا بنائے۔ شاید اس نے کہیں سے سنا تھا کہ مرد کے دل کا راستا معدے سے ہو کر گزرتا ہے۔ ابھی اس کی شادی کو دن ہی کتنے ہوئے تھے۔ ایک مہینہ ہی تو ہوا تھا۔ ابھی تو وہ ایک دوسرے کو ٹھیک سے جان بھی نہیں سکے تھے۔

Read more

وہ ایک شام تھی مگر ہمیشہ کے لئے رک گئی ۔۔۔۔

بخار کی شدت میں اچانک اضافہ ہو گیا تھا۔ اب ایسا لگ رہا تھا کہ تپتے بدن کے ساتھ بستر سے اٹھ کر دروازے تک جانا مشکل ہے۔ کزن کی بارات میں نہ جانے کا فیصلہ درست تھا لیکن میں تو سمجھا تھا کہ معمولی بخار ہے اسی لئے میں نے والدین سے کہا تھا…

Read more

کیسا ہو گا اسلامی جمہوریہ نیوزی لینڈ

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے نیوزی لینڈ میں اسلام کے غلبے کا آغاز ہو چکا ہے۔ ایک افسوسناک واقعہ ہوا تھا لیکن یہی تبدیلی کا نقطہ آغاز تھا۔ آپ نے ملاحظہ کیا ہو گا کہ جمعے کو تاریخ میں پہلی مرتبہ نیوزی لینڈ میں اذان ریڈیو اور ٹی وی پر نشر کی گئی۔…

Read more

تم لڑکی ہو تو خواب مت دیکھو

تم کس قدر نادان ہو؛ اپنی آنکھوں میں خواب رکھتی ہو۔ مانا کہ خواب دیکھنا آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کے لئے بہت ضروری ہے لیکن تمہیں شاید علم نہیں کہ خوابوں کو تعبیر دینے کے لئے جس راہ سے گزرنا پڑتا ہے وہاں تمہارے لئے نو انٹری کا بورڈ لگا ہے۔ تمہیں یاد رکھنا…

Read more