سرائیکیوں کے مسائل، ان کے خواب اور عمران خان کی کارکردگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

  سرائیکی صوبے کے نام پر جتنے بھی لوگ اسمبلی میں گئے ہیں ان کے دل میں سرائیکیوں کا تھوڑا سا بھی درد ہوتا تو سرائیکی صوبہ نہ سہی سرائیکی غریبوں کے بچوں کو کم از کم اتنی نوکریاں ضرور ملتیں جتنی صوبہ جنوبی پنجاب کا نعرہ لگا کر اسمبلی جانے والوں کو وزارتیں ملی ہیں۔ صوبہ جنوبی پنجاب کا نعرہ لگا کر ایوان اقتدار میں جانے والوں کا مسئلہ سرائیکی صوبہ کبھی نہیں رہا ۔

سرائیکی صوبہ کارڈ صرف اسمبلی میں داخلے کا اسم کھل جا سم سم تھا۔ سادہ لوح سرائیکیوں کو بیوقوف بنانے کا ایک نیا ڈرامہ تھا جو ہمیشہ کی طرح کامیاب رہا مگر اس دفعہ جاگیرداروں کے ساتھ کسی اور کو بھی ننگا ہونا پڑا۔ آج پورے جنوبی پنجاب میں یہ سوال پورے زور و شور سے اٹھ رہا ہے کہ آخر کب تک جاگیردار اور تیسرا ہاتھ الائنس ان کی قسمت کا فیصلہ کرتا رہے گا اور ان کی تقدیر کوڑیوں کے مول بکتی رہے گی۔

آخر کب تک جکھڑ امام شاہ کے مامدو نائی کا خاندان انپڑھ رہے گا آخر کب تک بستی کوجھا کاکارا کے ربنواز کوکارا کے یتیم بچوں کی دو ایکڑ زمین پر موجودہ ایم این کے کارندے قبضہ کرتے رہیں گے آخر کب تک وقت کے جاگیردار اور ٹرائبل چیف جمال لغاری کو دن میں تارے دکھانے والا پڑھا لکھا رونگھن کا نوجوان سیف کمانڈو بیروزگار رہے گا۔ چھابری بالا کے گونگے میراثی کے بچے کب تک علاج کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ساری زندگی گونگے رہیں گے۔

آخر کب تک سروروالی کے شبیر گورمانی گردہ بیچ کر اپنی ماوں کا علاج کراتے رہیں گے آخر کب تک سرائیکی نوجوانوں کا سب سے بڑا بزنس چھابڑی فروشی اور ریڑھی بانی رہے گا آخر کب تک سرائیکی نوجوان سرائیکی ملازمین میں درجہ چہارم کے نائب قاصد بیلدار سویپر ڈرائیور کی نوکری کے لئے دھکے کھاتے اور سرداروں کے ٹاوٹوں کو رشوتیں دیتے رہیں گے؟

آخر کب سردار جعفر لغاری کا بیٹا چوٹی ٹیکسٹائل کی طرح کی کسی مل میں فورمین کی نوکری کرے گا آخر کب سردار امجد کھوسہ کا بیٹا دس کلو کی بندوق اٹھا کر 47 سینٹی گریڈ کی تپتی دوپہر میں کانسٹیبل کی نوکری کرے گا آخر کب سردار نصراللہ دریشک کا بیٹا شوگر مل میں پلے داری کرے گا آخر کب سردار بلخ شیر مزاری کا بیٹا اور پوتا ایم این اے ایم پی اے بننے کی بجائے راجن پور روجھان روڈ پر سبزی کی ریڑھیاں لگائیں گے آخر کب زرتاج گل کی بیٹی گھر میں چوڑیاں اور لیس بیچے گی ۔

آخر کب خواجہ شیراز کا بیٹا دربار پر جھاڑو دینے کی نوکری کرے گا آخر کب جہانگیر ترین کا بیٹا گیارہویں سکیل میں ٹیچر اور شاہ محمود قریشی کا بیٹا کسی درگاہ کے باہر لنگر بانٹنے والی لائن میں لنگر لینے والی پوزیشن میں آئے گا؟ آخر کب تک سردار جاگیردار سرائیکیوں کے خون پسینے کی کمائی پر وزارتوں کے مزے لوٹتے اور عیاشی کرتے رہیں گے اور آخر کب تک سرائیکیوں کے غریب مزدور چھوٹی چھوٹی نوکریاں کر کے ذلیل ہوتے رہیں گے اور سرائیکیوں کے بچے تعلیم اور بزرگ علاج کی سہولتوں کو ترستے رہیں گے؟

پورے ملک کی طرح سرائیکیوں کو بھی یقین تھا عمران خان کی تبدیلی واقعی ثمر لائے گی اور ان کو ان جاگیرداروں اور ذلت کی زندگی سے چھٹکارا ملے گا مگر عمران خان کی ذاتی خوبیوں اور زندگی کی جھلک پورے ملک کی طرح سرائیکیوں پر کسی بھی صورت میں نظر نہیں آ رہی۔

عمران خان کی موجودہ کارکردگی پر بلھے شاہ کے چند اشعار حاضر خدمت ہیں

راتیں جاگیں کریں عبادت راتیں جاگن کتے تیتھوں اُتے بھونکنوں بندمول نہ ہوندے جا رڑی تے ستے تیتھوں اُتے کھسم اپنے دا در نہ چھڈدے بھانویں وجن جتے تیتھوں اُتے “بلھے شاہ” اُٹھ یار منا لے نہیں تے بازی لے گئے کتے تیتھوں اُتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •