جنگل میں چھپی ایک محبت گزیدہ دوشیزہ
یہ ان وقتوں کی بات ہے جب چڑھتا دن اور ڈھلتی شام لوگوں کو وقت سمجھاتے تھے۔ بدلتے موسم آنے والے وقت کا حال بتاتے۔ حال اگر اچھا ہوتا تو خوشیاں اور برا ہوتا تو خیر مناتے۔ یہ ان وقتوں کی بھی بات ہے جب انسان سحر ہوتے ہی اپنے مشاغل میں مشغول ہو جاتے اور شام ڈھلتے ہی گھروں کو لوٹ جاتے۔ مصروف ہونے کے باوجود ان کو فراغت اتنی ہوتی کہ غروب افتاب کے وقت مجمع لگائے سب گھروں سے باہر بیٹھے ہوتے۔ رات کو ٹھنڈ زیادہ ہوتی تو سب اپنے گھروں کی عافیت میں بسیرا کر لیتے اور اگر گرمی ہوتی تو مرد گھروں سے باہر اور عورتیں برامدوں میں چارپاٰئیاں بچھا لیتے۔
رات کو سب بچے اکٹھا ہو کر پریوں اور بھوتوں کی کہانیاں سنا کرتے۔ یونہی اک شب جب پریوں کا ذکر چھڑا تو ایک بات کھل کے سامنے آئی جو نہ کبھی کسی نے سنی اور نہ دیکھی تھی۔ اسی گاؤں سے میلوں دور ایک جنگل تھا۔ جس کو اکثر اوقات بچوں کو ڈرانے دھمکانے کے لئے روہستان کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس جنگل میں بہت سالوں سے ایک دوشیزہ اپنے خود بنائے ہوئے شاندار، شوخ نما قلعے میں اپنی خوش دلی سے قید ہے۔ اس کے خود کو قید کرنے کی وجہ محبت کا زوال اور اس شخص پر اندھا اعتماد تھا جس کی وجہ سے اسے گاؤں والوں پہ اپنی جادوئی طاقتوں کے ذریعے ظلم کرنا پڑا۔
یہ قلعہ کچھ ایسے تعمیر کرکیا گیا تھا کہ اس کے اندر سے تو سب باہر دکھائی تھا لیکن باہر سے کوئی نگاہ اس کے اندر کا منظرنہیں دیکھ سکتی تھی۔ اس کو ایسے تعمیر کرنے کی وجہ لوگوں سے نظریں نہ ملا پانا تھا۔ دوشیزہ کو اب بھی اپنے حسن سے محبت اتنی تھی کہ قلعہ کا بیرونی حصہ ہیرے اور جواہرات سے لدا ہوا تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ اس کے گرد سونے اور تانبے کی تاریں لپٹی تھیں۔ اس کی دیواریں نہیں بلکہ تانبے کی ایسی جالیاں تھیں جو اس کے جادو کو بڑھنے سے روکتی تھیں۔
قلعہ کی چھت اتنی مضبوطی سے ڈھکی ہوئی تھی کہ کوئی آندھی یا طوفان اس کو نقصان نہ پہنچا سکتا تھا۔ اپنا طرز حیات برقرار رکھنے کے لئے اس نے اپنی دنیا بسا لی تھی۔ اب قلعہ میں پڑا تخت ہی اس کی حکومت تھا۔ وہ دن میں تخت پہ بیٹھی زندگی کے مزے لیتی اور شام ڈھلتے ہی اس کی مایوسی تخت پہ شمع جلا دیتی۔ شمعِ موم اور شعاعِ قمر جب چھت سے لٹکے پھول سے ٹکراتیں تو پورا قلعہ محبت اور زوال کی روشنی میں نہا جاتا۔ جالیوں سے نکلی روشنی شہر یاراں کا عجب منظر پیش کرتی۔
دوشیزہ کی عمر لگ بھگ اتنی تھی کہ گیسوؤں پہ پڑی ہر اک روشنی الگ دلفریب رنگ دکھاتی۔ نگاہیں کبھی نم رہتی تو کبھی چھوٹی چھوٹی خوشیاں مناتیں۔ رخسار اور لبوں سے ہر دم لالی جھڑتی۔ پھولوں اور پتوں سے کچھ خاص لگاوٹ تھی اس کو۔ جب زندگی سے بیزار ہونے لگی تو کچھ پھولوں کو کھوج کر اک خاص پنکھ تیار کیا جو مہتاب کہ نمودار ہوتے ہی اسے جنگل سے دور ندی پار لے جاتا۔ پھولوں سے دل بھر کر باتیں کرتی اور پھر واپس مایوس لوٹ آتی۔
اس لمحہ اس کو ایک احساس یہ ہوا کہ کسی کو اس کی ضرورت نہ تھی۔ جس کے برعکس وہ خود اپنی سہیلی بن بیٹھی تھی۔ کبھی خود سے خفا ہوتی تو کبھی خود ہی خود کو مناتی یا کبھی اپنے بنائے لطیفوں پہ لوٹ پوٹ ہوتی۔ یونہی اس کی زندگی گزرتی رہی اور اب اس کو تخت سے زیادہ مٹی پہ سکون محسوس ہونے لگا۔ حال اس کا کچھ ایسا ہو گیا تھا کہ وہ سانس تو لیتی تھی محض اپنے آپ کو زندہ رکھنے کے لئے۔ گزرے وقت وہ اکثر سوچا کرتی تھی:
کسی کا عشق کسی کا خیال تھے ہم بھی
گئے دنوں میں بہت باکمال تھے ہم بھی
ہماری کھوج میں رہتی تھی تتلیاں اکثر
کہ اپنے شہر کا حسن و جمال تھے ہم بھی
زمیں کی گود میں سر رکھ کہ سو گئے اخر
تمہارے ہجر میں کتنے نڈھال تھے ہم بھی
ہم عکس عکس بکھرتے رہے اسی دھن میں
کہ کبھی زندگی میں لازوال تھے ہم بھی
ضرورتوں نے ہمیں اندھا کر دیا ورنہ
قائلِ رزق حلال تھے ہم بھی
کسی کی یاد نے ہم کو نکما کر دیا ورنہ
ادمی تو بے مثال تھے ہم بھی


