سینیٹ میں تحریک عدم اعتماد: ہارے بھی تو بازی مات نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی کی طرف سے نیشنل پارٹی کے سربراہ میر حاصل بزنجو کو متفقہ امیدوار نامزد کرنے کے تھوڑی دیر بعد وزیر اعظم عمران خان نے چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ حکومت ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو ناکام بنانے کی ہرممکن کوشش کرے گی۔ رپورٹس کے مطابق اس ملاقات میں سینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز کے علاوہ بعض وزرا بھی موجود تھے ۔ اس موقع پر اپوزیشن کے سینیٹرز کو ساتھ ملانے کے مختلف طریقوں پر غور کیا گیا۔

اپوزیشن جماعتوں کے ایک اجلاس نے جون کے آخر میں چئیرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا تھا تاہم اس مقصد کے لئے ایک رہبر کمیٹی بنائی گئی تھی۔ خیال کیا جا رہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے بعض سینیٹرز صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد لانے کے حامی نہیں ہیں اور اسے ملک کے موجودہ سیاسی ماحول میں درست حکمت عملی نہیں سمجھتے۔ جیسا کہ یہ واضح ہے کہ پاکستان کی سیاست میں جو نقل و حرکت سامنے ہو رہی ہوتی ہے، اس سے زیادہ سرگرمی درپردہ ہوتی ہے۔ حکومت ہی نہیں، اپوزیشن کی سیاسی پارٹیاں اور ان کے منتخب ارکان انفرادی طور پر بھی، ان حلقوں کے رابطے میں ہوتے ہیں جنہیں ملک میں ’اصل حکمران‘ یا سیاسی معاملات طے کرنے کا اصل ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔

ایک آئینی جمہوری انتظام میں یہ تاثر اگرچہ تکلیف دہ حد تک افسوسناک ہے لیکن اسے زائل کرنے کے لئے کسی طرف سے بھی کوئی کوشش دیکھنے میں نہیں آتی۔ ملک کی دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کو البتہ گزشتہ سال کے دوران پوری طرح نظر انداز کیا گیا ہے۔ ان کی اہم قیادت زیر حراست ہے یا گرفتاریوں کا انتظار کر رہی ہے۔ شہباز شریف جیسے اسٹبلشمنٹ نواز سیاست دان کو بھی ہر طرف سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے بعد اپوزیشن کی طرف سے جارحانہ سیاسی اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چئیر مین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد اس حوالے سے پہلا قدم ہے۔

 تحریک انصاف کی حکومت فی الوقت معاشی بہتری کے منصوبہ کے کوئی واضح خد و خال پیش کرنے، سرمایہ کاری کے لئے پر امن ماحول پیدا کرنے اور عام شہریوں کی سہولت کے لئے ٹھوس منصوبہ سامنے لانے میں تو کامیاب نہیں ہو سکی لیکن وزیراعظم یہ بات روزانہ کی بنیاد پر کھول کر بیان کرتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو ’تاحیات‘ قید کرنے اور سیاست میں ان کا کردار ختم کئے بغیر ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ماہ جب قومی اسمبلی سے بجٹ منظور کروانے کا وقت آیا تو اپوزیشن کو کوئی رعایت دینے یا اس کی کسی تجویز کو سراہنے اور سیاسی قبولیت کا ماحول پیدا کرنے کی بجائے ’چور چور‘ کا شور زیادہ زور سے برپا کیا گیا۔

آرمی چیف کی طرف سے حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر مکمل اعتماد کے اظہار کے بعد بجٹ تو منظور ہو گیا لیکن قومی پیداوار میں اضافہ اور تاجروں میں اعتماد پیدا کرنے کا ماحول پیدا نہیں ہو سکا۔ گزشتہ روز عمران خان نے کراچی کے دورہ کے دوران تاجروں اور صنعتکاروں کے وفود سے ملاقاتوں میں حکومت کی نیک نیتی کا یقین دلانے کی بھرپور کوشش کی اور کاروباری حلقہ سے حکومت کا شراکت دار بن کر کام کرنے کی درخواست بھی کی لیکن ان ملاقاتوں میں بھی ان کے پاس معاشی اصلاح کا کوئی واضح خاکہ موجود نہیں تھا۔ اسی لئے تاجر اور سرمایہ دار حکومت پر اعتبار کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ یہ سادہ نکتہ تو سب جانتے ہیں کہ سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمی کے بغیر ملکی معیشت کا پہیہ گھومنے کا نام نہیں لے گا۔

حکومت یہ اعتماد پیدا کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہے کیوں کہ اس کا خیال ہے کہ اسے ملک کے طاقت ور اداروں کی مکمل حمایت حاصل ہے اور وہ جو اصولی جنگ شروع کر چکی ہے، اسے جیتے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس کے معاشی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ عمران خان نے گزشتہ روز تاجروں و صنعتکاروں سے ملاقات کے دوران جن تین نکات کو معیشت کی بحالی کے لئے بنیادی قرار دیا ان میں حکومت کی آمدنی میں اضافہ، معاشرہ کے نئے گروہوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے اور سابقہ سیاسی لیڈروں کی بد عنوانی پر انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کا عمل شامل تھا۔

عمران خان سابقہ حکومتوں بلکہ شریف خاندان اور آصف زرداری کو قومی وسائل کا ’غاصب اور چور‘ قرار دیتے ہیں ۔ اس لئے عملی طور سے وزیر اعظم کا مؤقف ہے کہ ان دونوں خاندانوں یعنی ملک میں سیاسی اپوزیشن کے عملی طور پر خاتمہ سے پہلے، معاشی اصلاح کا کوئی منصوبہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ احتساب اور چوروں سے قومی دولت کا حساب لینے کے بارے میں گرمجوشی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ جبکہ ملک میں سیاسی بے چینی کی وجہ سے  معاشی معاملات بدستور دگرگوں ہیں۔ اور احتساب کے اداروں کی غیر جانبداری اور خود مختاری پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

قومی احتساب بیورو کے چئیر مین جسٹس (ر) جاوید اقبال کے اخباری انٹرویو اور پریس کانفرنسوں کے علاوہ ایک خاتون کو ہراساں کرنے کے الزام نے بھی صورت حال کو پیچیدہ کیا ہے۔ لیکن حکومت اس معاملہ پر ’غیر جانبدار ‘ رہی۔ کیوں کہ عمران خان عوام کے ایک بڑے طبقہ کو اس بات پر آمادہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں کہ ملک کے سابقہ حکمرانوں نے بدعنوانی کی ہے جس کی وجہ سے ملک کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ البتہ جب سال بھر حکومت میں رہنے کے بعد بھی عوام کو وہی چورن بیچا جائے گا  اور بجٹ تجاویز اور عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط پر عمل کرتے ہوئے عام لوگوں کی مالی مشکلات میں اضافہ ہوگا تو بدعنوانی کا نعرہ بہت دیر تک متاثر کرنے کی صلاحیت برقرار نہیں رکھ سکے گا۔ اب یہ سادہ سوال زیادہ شدت اختیار کرے گا کہ ’چور حکومتوں کے جانے کے بعد ملک میں ایماندار لوگوں کی حکومت قائم ہے لیکن قومی پیداوار اور عوام کی صورت حال کیوں ابتر ہوتی جا رہی ہے؟‘

عمران خان اور ان کی حکومت اس سوال کا جواب دینے کی تیاری کرنے کی بجائے سرپرستوں کو خوش رکھنے اور اپوزیشن کے خلاف سیاسی محاذ کو گرم رکھ کر معاشی مباحث کو ایجنڈا سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ حکمت عملی میڈیا کی حد تک کامیاب ہونے کے باوجود بارآور نہیں ہوسکتی کیوں کہ ملک کے بیشتر شہریوں اور خاص طور سے نچلے متوسط طبقے کی مالی مشکلات میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہو رہا ہے۔ تجارتی سرگرمیوں میں تیزی کے بغیر نہ نیا روزگار پیدا ہوگا اور نہ ہی معیشت نئے محاصل اور ٹیکسوں کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہو گی۔

ایف بی آر کی اصلاح اور ٹیکس دینے کی اخلاقی ذمہ داری کی باتیں معاشی معاملات کی فوری اصلاح کا سبب نہیں بن سکتیں۔ ٹیکس نیٹ میں حسب خواہش اضافہ نہ ہؤا تو بجٹ میں تجویز کردہ 5500 ارب روپے کی آمدنی حاصل کرنے کے لئے باالواسطہ محاصل عائد ہوں گے۔ اس طرح پہلے سے دباؤ میں آئے ہوئے سماجی طبقات کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ یہ وہی سماجی طبقات ہیں جنہوں نے گزشتہ چند برسوں میں کرپشن کے بیانیہ پر عمران خان کی حمایت کی ہے۔

اپوزیشن نے مفاہمت کی کوشش میں ناکامی اور ’این آر او‘ مانگنے کے طعنے سننے کے بعد اب سیاسی پنجہ آزمائی کا فیصلہ کیا ہے۔ چئیر مین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد اس سلسلہ میں پہلا اہم قدم ہے۔ صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک سے صرف حکمران جماعت کو ہی چیلنج نہیں کیا گیا بلکہ ان طاقت ور اداروں کو بھی بالواسطہ وارننگ دی گئی ہے جنہوں نے گزشتہ سال کے شروع میں غیر معروف صادق سنجرانی کے انتخاب کے لئے اسٹیج سجانے میں کردار ادا کیا تھا۔ بلوچستان کے ہی حاصل بزنجو کو متفقہ امیدوار نامزد کر کے اپوزیشن پارٹیوں نے سیاسی حکمت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس طرح حکومت سینیٹرز کو بہکانے کے لئے بلوچستان کارڈ استعمال نہیں کرسکے گی۔

امید کی جا سکتی ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں نے اس بارے میں ہوم ورک کیا ہوگا اور ان کے سینیٹرز پارٹی قیادت کے فیصلہ کے مطابق ہی عدم اعتماد اور نئے چئیر مین کو چننے کے لئے ووٹ ڈالیں گے۔ ملک میں چئیر مین سینیٹ کو عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانے کی یہ پہلی مثال ہوگی۔ اپوزیشن صادق سنجرانی کو ہٹانے میں کامیاب ہو گئی تو یہ سیاست کو غیر سیاسی بالادستی سے پاک رکھنے کی خواہش کا مؤثر اظہار ہوگا اور ملک کی سیاست پر اس کے دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔

تاہم اگر اپوزیشن جماعتیں اکثریت کے باوجود چئیرمین سینیٹ کے خلاف تحریک اعتماد منظور نہ کروا سکیں تو یہ تاثر یقین میں بدل جائے گا کہ جمہوری انتظام کو غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے کنٹرول کرنے کا طریقہ بدستور جاری ہے۔ اس طرح وزیر اعظم کی خواہش تو شاید پوری ہوجائے لیکن وہ ’نامز د وزیر اعظم ‘ کی باز گشت اور جمہوری لیڈر کی بجائے اسٹبلشمنٹ کا نمائیندہ ہونے کے الزام سے نجات حاصل نہیں کرسکیں گے۔ طاقتور حلقوں کے لئے بھی یہ خوش آئند صورت حال نہیں ہوگی۔ سینیٹ میں چئیر مین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا کوئی بھی نتیجہ برآمد ہو، اسٹبلشمنٹ کی حکمت عملی اور قومی امور میں پارلیمنٹ کو غیر مؤثر کرنے کی کوششوں پر بحث اور رائے عامہ میں شدت پیدا ہوگی۔

سینیٹ کے قائد ایوان شبلی فراز نے اپوزیشن کو حیران کرنے کی بات کی ہے اور آج وزیر عظم کو بھی اس بات کا یقین دلایا ہے کہ تحریک انصاف اپوزیشن کے سینیٹرز کو توڑ لے گی۔ آخر حکومت کے پاس وہ کون سے طاقت ہے کہ وہ دوسری پارٹیوں کے سینیٹرز کو خفیہ رائے دہی میں پارٹی لائن کے خلاف ووٹ دینے پر آمادہ کرسکتی ہے؟ یا تو سرکاری وسائل سے ان کا منہ بھرا جائے گا یعنی سیاسی بدعنوانی کا ایک نیا باب رقم ہوگا یا اسٹبلشمنٹ کا دباؤ استعمال کر کے یہ مقصد حاصل کیا جائے گا۔ یہ دونوں طریقے نئے مباحث کو جنم دیں گے اور تحریک انصاف کے خلاف اپوزیشن کا گھیرا تنگ ہو گا۔

سینیٹ میں شو آف پاور کی نوبت نہیں آنی چاہئے تھی یا اس کے آثار سامنے آتے ہی اس سے درگزر کی کوشش ہونی چاہئے تھی۔ لیکن معاملات جس تیزی سے تصادم کی طرف بڑھے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ریاستی ڈھانچہ کی ہر سطح پر بصیرت اور غیر روایتی سوچ کی شدید کمی ہے۔ اس صورت حال میں حکومت اپوزیشن کو چیلنج کرنے کی بجائے غیر جانبدار رہ کر اپوزیشن کے اس حملہ کو ناکارہ بنا سکتی تھی۔ لیکن عمران خان بہر صورت اسی سمت میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں جو سیاسی میدان کو سب دشمنوں سے پاک کردے اور وہ ملکی اقتدار پر تن تنہا قابض ہو کر ’قوم کی اصلاح‘ کا منصوبہ پورا کر سکیں۔ بظاہر عمران خان کا یہ خواب پورا ہونے کا امکان نہیں ہے لیکن اس جد و جہد میں خرابی کا بہت زیادہ امکان ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1245 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali