میڈیا پر پابندیاں: حکومت  خوفزدہ کیوں  ہے؟ 

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کو گزشتہ روز لندن میں میڈیا کی آزادی کے بارے میں منعقد ہونے والی ایک   کانفرنس میں غیر معمولی پریشان کن صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔  ایک طرف  کانفرنس میں شریک  صحافیوں کی بڑی تعداد نے   شاہ محمود قریشی کی تقریر کا بائیکاٹ کیا کیوں کہ ان کی حکومت پاکستان میں میڈیا پر سنسر شپ عائد کرنے کی نئی مثالیں قائم کررہی ہے تو دوسری طرف کینیڈا کی ایک صحافی نے  پاکستانی حکومت کی مداخلت  پر اپنے ٹوئٹ پیغامات سنسر کروانے پر احتجاج کرتے ہوئے  شاہ محمود قریشی کو شدید نکتہ چینی کا نشانہ بنایا۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے اس موقع پر اپنی پوزیشن واضح کرنے اور  یہ دلیل دینے کی کوشش کی کہ اگر کسی غیر ملکی صحافی کے ٹوئٹ بلاک کئے جاتے ہیں تو وہ ذاتی طور پر اس کے  کیسے ذمہ دار ہوسکتے ہیں؟  لیکن اس جوابی حملہ کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا کہ  یہ اقدامات  ایسی حکومت کررہی ہے جس کا وہ خود بھی حصہ ہیں۔ اگرچہ  اس حوالے سے  صرف پاکستانی حکومت  کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا کیوں سوشل میڈیا کے بڑے ادارے اپنے کمرشل مفادات کے لئے  مختلف حکومتوں کے دباؤ کو قبول کرنے کی افسوسناک مثالیں قائم کررہے ہیں اور اس طرز عمل کے خلاف مختلف عالمی فورمز  پر  مباحث بھی سامنے آرہے ہیں ۔ اس کے علاوہ  شاہ محمود قریشی کو سخت سست کہنے والی کینیڈین صحافی ایذرا لیوانٹ کے طرز عمل کی  تائید بھی نہیں کی  جاسکتی کیوں کہ اختلاف کا اظہار ذاتی حملوں اور نفرت پھیلانے سے  کیاجائے تو  مدلل ڈائیلاگ کا  دروازہ بند ہوجاتا ہے۔ لیوانٹ کا  ’ریبل میڈیا‘ دائیں بازو کے انتہا پسندانہ خیالات کا پرچار کرتاہے جس میں خاص طور سے اسلام اور پاکستان کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

لندن میں میڈیا کی آزادی کا تحفظ کرنے والی اس کانفرنس میں البتہ دیگر صحافیوں کی طرف سے شاہ محمود قریشی کے سیشن کا بائیکاٹ زیادہ قابل غور نکتہ ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی ایک ایسی حکومت کے وزیر خارجہ کی بات سننے  سے انکار کیا گیا ہے جو خود کو جمہوری قرار دیتے ہوئے انصاف اور مساوی سلوک کی اعلیٰ مثال قائم کرنے کی دعوے دار ہے۔   البتہ  جو حکومت آزادی رائے کے بارے میں جمہوریت  کے بنیادی اصول کو تسلیم کرنے سے انکار کرررہی ہو تو اسے کسی بھی جمہوری عالمی فورم پر  عزت و احترام میسر نہیں آسکتا۔ میڈیا کو سرکاری دباؤ میں لانا ،  سیاسی لیڈروں  کے انٹرویو نشر کرنے سے روکنا اور عدالتی نظام  اور طریقہ کار کو نظر انداز کرتے ہوئے کابینہ  میں  سنسر شپ کے فیصلے  کرنا، کسی بھی طرح قابل قبول  رویہ نہیں ہو سکتا۔

اس کانفرنس میں سنسر شپ کے بارے میں بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے تسلیم کیا کہ خبروں کو سنسر کرنا یا سیاسی لیڈروں کو بات کرنے سے روکنا مسئلہ کا حل نہیں ہوسکتا۔ اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لئے انہوں نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا کے ہوتے کسی دوسرے میڈیا پر پابندی لگانے کا کوئی فائدہ نہیں  کیوں کہ سوشل میڈیا کے ذریعے یہ خبر یا رائے بہر صورت زیادہ شدت سے  لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔ لیکن  اسی سانس میں انہوں نے آصف زرداری  کا انٹرویو نشر ہونے سے روکنے اور پشتون تحفظ موومنٹ  کے  ارکان قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر  پر پابندیوں  پر  سوالوں کا جواب دیتے ہوئے دیرینہ سرکاری مؤقف اختیار کرنے کی کوشش کی  کہ  سیکورٹی فورسز کے خلاف الزام تراشی اور فوجی چوکی پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔  شاہ محمود قریشی سے زیادہ کوئی اس بات کو نہیں جان سکتا کہ عوام کے بڑے گروہوں میں  سیکورٹی فورسز کے بارے میں کیوں شبہات پیدا ہورہے ہیں اور ان کی حکومت کس وجہ سے  مسلسل قومی اور عالمی سطح  پر جمہوریت پسند حلقوں کی طرف سے تنقید کی زد پر ہیں۔ سیاست میں غیر جمہوری اداروں کی مداخلت نے ہی ملک میں انتشار اور اداروں پر  بداعتمادی  کی موجودہ فضا پیدا کی ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت اگر عسکری اداروں کے ساتھ اشتراک عمل اور بنیادی جمہوری حقوق میں توازن پیدا کرنے کی دیانت دارانہ کوشش کرتی تو وہ موجودہ تکلیف دہ  اور پریشان کن صورت حال سے محفوظ رہ سکتی تھی۔ لیکن  عوام کے ووٹ لے کر منتخب ہونے کے باوجود عمران خان نے اقتدار کے لئے  ان نادیدہ ہاتھوں کی  تائید حاصل کرنا ضروری سمجھا جو  دوسری پارٹیوں میں نقب لگا کر یا آزاد ارکان  کی  رہنمائی کے ذریعے   تحریک انصاف کو قومی اسمبلی اور پنجاب میں اکثریت دلوانے کا سبب بنے تھے۔  عمران خان گزشتہ برس   اپنی سیاسی جد و جہد کے  آخری مرحلہ میں  وزیر اعظم بننے کے لئے اس قدر بے تاب ہوچکے تھے کہ انہوں نے غلط یا درست اور جمہوری یا غیرجمہوری  میں  فرق  کو محسوس کرنا چھوڑ دیا تھا۔   اس کے علاوہ  عمران خان برسر اقتدار آنے کے بعد   جمہوری طریقے  سے   اپنے سیاسی ایجنڈے  پر عمل کرنے  کی بجائے انتقام لینے  اور مخالف سیاسی عناصر کو کچلنے  کے مقصدکو ہی  حکومت کا سب سے مقدس اور اہم مشن ماننے لگے ہیں۔ اسی لئے وہ  جبر اور فسطائیت کے وہ سارے ہتھکنڈے اختیار کررہے ہیں جو کسی آمر  اور مطلق العنان حکمران کا طریقہ ہوتے ہیں۔

پاکستان کے وزیر خارجہ جس وقت لندن کی کانفرنس میں صحافیوں  کے بائیکاٹ اور تند و تیز سوالوں کے جواب میں  اپنی حکومت کے آزادی رائے و صحافت پر یقین کا پرچار کررہے تھے ، اسی وقت پاکستان میں کابینہ کے فیصلہ کے مطابق  ہم ٹی وی پر ندیم  ملک کے ساتھ مریم نواز کا انٹرویو نشریات کے دوران روک دیا گیا۔  ندیم ملک  نے بعد میں یہ انٹرویو یو ٹیوب پر نشر کردیا اور واضح کیا کہ انہیں علم نہیں ہے کہ کس دباؤ کے تحت چینل کی انتظامیہ نے  یہ انٹرویو نشر کرنے سے روکنے کا فیصلہ کیا۔  اس دوران یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ اس سے پہلے تین ٹی وی اسٹیشنوں  کی نشریات  بھی بعض  ’ناپسندیدہ‘ شخصیات کےانٹرویو نشر کرنے کے منصوبہ کی وجہ سے  اچانک معطل کی گئی تھیں۔ تاہم جب مالکان نے کانوں کو ہاتھ لگا کر  حکومت کی خواہش کے برعکس مواد نشر نہ کرنے کا وعدہ کرلیا تو  یہ نشریات بحال کردی گئیں۔

  یہ بوالعجبی بھی  پاکستانی جمہوریت اور   سیاسی انتظام میں ہی  دیکھنے میں آتی ہے کہ یوں تو پیمرا نام کا ادارہ  ٹی وی چینلز کو کنٹرول  اور ضابطہ اخلاق کا پابند کرنے کا اختیار  رکھتا ہے لیکن اچانک نشریات روکنے   کے معاملہ میں وہ بھی ویسے ہی بے بس ہوتا ہے جیسا کہ ٹی چینل کے مالکان۔  یہ اقدام کون کرتا  ہے اور کس قانونی  اختیار کے تحت کسی  جائز ٹی وی اسٹیشن کی نشریات کو  آن ائر جانے سے روکا جاتا ہے، اس کا کوئی واضح جواب سامنے نہیں آسکا۔ حکومت اس بنیادی اصولی سوال کا جواب تلاش کرنے کی بجائے اس  غیر قانونی  ہتھکنڈے کو  اب پنا مؤثر ہتھیار بنانے  کی کوشش کررہی  ہے تاکہ میڈیا کو حکومت کا ’ذیلی ادارہ‘ یا پروپیگنڈا سیل بنانے کا مشن پورا ہوسکے۔

یوں تو شاہ محمود قریشی نے لندن کانفرنس  میں   یہ سچ بیان  کیا ہے کہ سوشل میڈیا کے موجودہ دور میں کوئی حکومت کیوں کر سنسر شپ نافذ کرسکتی ہے لیکن انہوں نے جو بات لندن میں کی ہے کیا وہ یہی دلیل واپس آکر اپنے وزیر اعظم کے سامنے یا کابینہ کے اجلاس میں بھی  پیش کرسکیں گے؟ یا ان اداروں کو قائل کرنے کی  کوشش کریں گے جو ملک میں رائے  کی آزادانہ  ترسیل کے لئے ڈراؤنے خواب کی حیثیت اختیار کئے ہوئے ہیں۔ جن معاملات میں براہ راست پابندی نہیں لگائی جاتی ، ان میں سوشل میڈیا  کے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے پروپیگنڈا  کرتے ہوئے بعض عناصر کے خلاف عوام میں نفرت اور غصہ پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تحریک انصاف کا سوشل میڈیا گروپ بھی اس سلسلہ میں یدطولیٰ رکھتا ہے۔  ابھی حال ہی میں ملک کے نامور اینکرز اور صحافیوں کے خلاف چلائی جانے والی  سوشل میڈیا مہم  اس بات کا بین ثبوت ہے کہ یہ پارٹی اقتدار میں ہونے کے باوجود بعض مقاصد کے حصول کے لئے   اپنے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹوں  کو  غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہتھکنڈے    بروئے کار  لانے پر آمادہ کرتی  ہے۔

اس صورت حال میں  یہ سوال پیدا ہوتا ہے  کہ حکومت آخر کس خوف میں مبتلا ہے کہ وہ میڈیا پر پابندیوں اور مخالف سیاسی قائدین کی آواز  دبانے کے لئے  انتہائی اقدمات کرنے پر تلی ہوئی ہے۔  تحریک انصاف کو اقتدار سنبھالے ابھی ایک سال بھی پورا نہیں ہؤا لیکن اس  کی بدحواسی کا یہ عالم ہے کہ وہ  کسی  قسم کی مخالفانہ رائے  سننے  کے لئے تیار نہیں ہے۔ عمران خان کی حکومت اگر کسی خفیہ ایجنڈے کی بنیاد پر یہ  غیرجمہوری رویہ اختیار کئے ہوئے ہے تو اسے یہ سمجھنا چاہئے کہ بنیادی آزادیوں  اور حقوق کو دبانے کی پالیسی  تحریک انصاف اور اس کے قائدین   کے خلاف ہی  رائے ہموا ر کرے گی ۔ یعنی موجودہ حکمران اپنی شدت پسندانہ اور جمہوریت کش پالیسیوں کا خود ہی نشانہ بنیں گے۔

اس تصویر کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ میڈیا کے خلاف حکومت کی مہم جوئی ،     کرپشن کے خاتمہ کے لئے اس کے ایجنڈے کو سخت نقصان پہنچائے گی۔ آج اس معاملہ پر اگر اپوزیشن قیادت مشکل کا شکار ہے تو اس کی وجہ   یہی ہے کہ بدعنوانی  کے خلاف رائے بنانے  میں میڈیا نے عمران خان کا دل کھول کر ساتھ دیاتھا۔   اسی میڈیا کے خلاف اعلان جنگ سے عمران خان   اپنی سیاسی لڑائی میں اکیلے رہ جائیں گے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1235 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali