سنسان علاقہ میں گاڑی روک کر ڈائریکٹر نے ریپ کرنے کی کوشش کی: اداکارہ بدیتا باگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کام کے بدلے جنسی تعلقات بنانے کا مطالبہ یا کام دینے کے بدلہ میں جنسی استحصال ہونا بھارتی فلم انڈسٹری پر لگا ایک ایسا داغ ہے جو مٹ نہیں سکے گا۔ اداکارہ تبو کے الفاظ میں یہ وہ جرم ہے جس کو کرتے تو سبھی ہیں، لیکن کوئی پکڑا جاتا اور کوئی گرفت میں نہیں آتا ہے۔ ہالی ووڈ میں طویل وقت سے جنسی استحصال کے ملزموں کے نام سامنے لائے جارہے تھے اور اداکاراوں سمیت فلم انڈسٹری سے وابستہ دیگر خواتین جیسے رائٹرز، میک اپ آرٹسٹ، منیجر وغیرہ اپنے ساتھ ہوئے جنسی استحصال کے واقعات کو شیئر کر رہی ہیں۔

اداکارہ تنو شری دتا نے جب نانا پاٹیکر کے خلاف ایک پرانے جنسی استحصال کے تنازع کو اٹھایا تو بالی ووڈ میں بھی اس طرح کے معاملات، جنہیں پہلے چھپا لیا جاتا تھا، سامنے آنے لگے۔ اب فلم فلم بابو مشائے بندوق باز میں نواز الدین صدیقی کے ساتھ کام کرنے والی اداکارہ بدیتا باگ نے ایک سنسنی خیز انکشاف کیا ہے۔ خیال رہے کہ بدیتا باگ بنگال میں کسی شناخت کی محتاج نہیں ہیں۔

بدیتا باگ نے بتایا ہے کہ انہیں ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے ممبئی میں اپنی شارٹ فلم میں کام کرنے کیلئے بلایا۔ ڈائریکٹر بھی بنگال سے تھا تو بدیتا کو ان کے پاس جانے میں کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔ اس ڈائریکٹر نے کہا کہ وہ ایک شارٹ فلم میں بدیتا کو لیڈ رول دینا چاہتا ہے۔ یہ ایک ایلین لڑکی کا کردار ہوگا۔ بدیتا نے بتایا کہ وہ کام کی تلاش میں تھیں اور ایسے میں ایک شارٹ فلم بھی ان کیلئے اہمیت کی حامل تھی، لیکن اس فلم کی کوئی کہانی تیار نہیں تھی۔ جب شوٹنگ شروع ہوئی تو ڈائریکٹر نے کہا کہ وہ اس کا خاتمہ بعد میں سوچ لیں گے، فی الحال کام شروع کرتے ہیں۔

سیٹ پر ڈائریکٹر اکثر بدیتا سے کافی الگ طرح سے بات کرتا، وہ ان کے قریب آنے کی کوشش کرتا اور بال بنانے کے بہانے بالوں اور چہرے پر ہاتھ لگاتا۔ اس طرح کا رویہ دیکھتے ہوئے بدیتا نے اس فلم کو درمیان میں ہی چھوڑ دیا اور طویل عرصہ تک دونوں میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔

بعد ازاں ایک دن اس ڈائریکٹر نے بدیتا کو فون کیا اور ایک پارٹی میں آنے کے لئے کہا۔ ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ اس پارٹی میں بڑے بڑے ڈائریکٹر آئیں گے اور بدیتا کو یہاں جانا چاہئے۔ بدیتا اس پارٹی میں پہنچی تو وہاں بڑے بڑے ڈائریکٹر موجود تھے اور کئی لوگوں سے اس کی ملاقات بھی ہوئی۔ لیکن کچھ دیر بعد بدیتا کو بلانے والے ڈائریکٹر نے بدیتا سے شراپ پینے کی درخواست کی۔ بدیتا کو وہ اپنے ساتھ چھوڑنے کی بات کہہ کر لایا تھا۔ اس لئے وہ تنہا اس پارٹی میں آئی تھی اور اس ڈائریکٹر کے پاس سے اٹھ کر جانا بھی اس کو مناسب نہیں لگا۔ لوگوں کے درمیان وہ کوئی ہنگامہ نہیں کرنا چاہتی تھی کیونکہ کام نہ ملنے سے وہ پریشان تھی اور ایسا کرنے پر وہ لوگوں کی نظروں میں غلط طریقہ سے آسکتی تھی۔

کچھ دیر بعد وہ گاڑی میں بیٹھے اور جوہو علاقہ میں ایک چھوٹے سے سنیما گھر کے پاس گاڑی روک کر اس ڈائریکٹر نے اپنی حد پار کردی۔ شراب کے نشے میں مدہوش اس ڈائریکٹر نے اپنے کپڑے اتار دئے اور زبردستی بدیتا سے جنسی تعلق بنانے کی کوشش کرنے لگا۔ دونوں کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی اور بدیتا نے گاڑی کھول کر بھاگنے کی کوشش بھی کی لیکن گاڑی کو آٹو لاک کردیا گیا تھا۔ بدیتا نے بتایا کہ اس کی پیشانی، گردن اور ہاتھوں پر چوٹ لگی، لیکن اس ڈائریکٹر کا حوصلہ کم نہیں ہوا۔

تھوڑی دیر تک جب بدیتا مسلسل مزاحمت کرتی رہی تو ڈائریکٹر نے کہا کہ دیکھو تم اس کو کر لو۔ کچھ وقت بعد تمہیں یہ یاد بھی نہیں رہے گا اور اپنی فلم میں تمہیں کام بھی دوں گا۔

مسلسل مزاحمت خالفت کرنے پر ڈائریکٹر نے بدیتا کو وہیں اپنی گاڑی سے اتار دیا۔ بدیتا نے بتایا کہ اس ڈائریکٹر کی بیوی ایک مشہور ٹی وی اداکارہ ہیں اور ان کا ایک بچہ بھی ہے۔ دنیا کی نظر میں یہ ڈائریکٹر ایک شریف اور اہل خانہ سے پیار کرنے والا انسان ہے، لیکن اصل میں اس کی سچائی لوگوں کے سامنے آنی چاہئے۔

بدیتا نے کہا کہ میں اس کا نام لے کر اس کے کنبہ کیلئے مصیبت نہیں کھڑی کرنا چاہتی ہوں، بڑی مشکل سے اس انسان کی بیوی اپنا گھر چلا رہی ہے۔ وہ ڈائریکٹر ابھی بھی اپنی پہلی فلم بنانے کیلئے ترس رہا ہے اور اس کی سزا اس کو مل چکی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •