جج مسخرے کب بن جاتے ہیں؟
یا وزیر قانون از خود ہی یہ تصور کرچکے ہیں کہ ملک کی عدالتیں اس قدر کمزور ہیں کہ وہ ایک جج کی ’غلطی‘ کا بوجھ برداشت کرنے کی بھی اہل نہیں ہیں اور نہ ہی اس کی تلافی کے لئے مناسب اقدام کرسکتی ہیں۔ حالانکہ اعلیٰ عدالت نے ارشد ملک کو احتساب جج کے عہدے سے علیحدہ کرنے کا حکم دے کر یہ واضح کیا ہے کہ وہ کسی مشکوک کردار کے شخص کو ایسی اہم پوزیشن پر کام کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی اور اگر کوئی جج اپنے فرائض کے حوالے سے کوتاہی کا مرتکب ہوگا تو اس کے خلاف فیصلہ کرنے میں دیر نہیں کی جائے گی۔ اس لحاظ سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ خوش آئیند، بروقت اور ملک میں عدالتوں کے وقار اور اتھارٹی کی بحالی کے لئے ضروری تھا۔ تاہم وزیر قانون کا رد عمل درحقیقت اعلیٰ عدلیہ پر عدم اعتبار کا مظہر دکھائی دیتا ہے۔
جج ارشد ملک کے جس بیان حلفی کے نکات بیان کرکے وزیر قانون فروغ نسیم نے شریف خاندان کے خلاف میڈیا کے ذریعے قانونی مقدمہ لڑنے کی کوشش کی ہے، اسے کوئی عام شخص بھی تفصیل سے پڑھ لے تو جان سکتا ہے کہ یہ بیان دینے والا شخص کچھ چھپانے کی کوشش میں بے سر و پا باتیں کررہا ہے۔ بیان حلفی میں بار بار رشوت کی پیش کش اور دھمکیوں کا ذکر کیا گیا ہے لیکن ساتھ ہی اس بات کا اعتراف بھی کیا گیا ہے کہ وہ متعلقہ لوگوں سے ملتے رہے اور ان کی مدد بھی کرتے رہے۔
حتی کہ وہ ایک کردار کی خواہش پر نواز شریف کو ملنے کے لئے جاتی عمرہ پہنچ گئے جہاں جیل سے ضمانت پر آئے ہوئے نواز شریف نے خود ان کا استقبال کیا۔ اسی طرح عمرہ کے دوران وہ حسین نواز سے ملاقات پر بھی ’مجبور‘ ہوگئے جس کے دوران انہیں العزیزیہ کیس میں نواز شریف کو جیل بھیجنے کے بعد، صرف اپنے عہدہ سے استعفیٰ دینے کے لئے 50 کروڑ روپے رشوت دینے کی کوشش کی گئی۔ یہ شاید دنیا کا پہلا مقدمہ ہو گا جس میں سزایافتہ شخص کے لواحقین سزا سنانے والے جج کو رشوت دینے کی کوشش کرتے ہیں اور جیل جانے والا شخص گھر بلا کر جج صاحب کی توقیر کرتا ہے۔
ایسے مضحکہ خیز دعوؤں سے لبریز اس بیان حلفی پر خاموشی اختیار کرنے اور معاملہ کی حقیقت سامنے آنے کا انتظار کرنے کی بجائے وزیر قانون اور حکومت کے احتساب ترجمان شہزاد اکبر نے ایک مشکوک جج کے الزامات کی بنیاد پر ایک کمزور مقدمہ لڑنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ یہ مقدمہ لڑنے کی وجہ احتساب کے تقاضوں کی بجائے سیاسی ضرورتیں ہیں۔ اسی لئے ملک کے نظام احتساب پر سوال اٹھائے جاتے ہیں اور اسی لئے جج ارشد ملک جیسے لوگ متضاد بیان دے کر خود کو مسخرا ثابت کرنے کا سبب بنتے ہیں۔
اس قسم کا ایک کردار سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار بھی تھے جو ملک میں ڈیم تعمیر کرنے، آبادی کنٹرول کرنے اور انصاف فراہم کرنے کے سوا ہر کام کرنے کی خواہش لئے اپنے عہدے سے سبکدوش ہوگئے۔ اور ان سے پہلے افتخار چوہدری نے خود کو عقل کل سمجھتے ہوئے سپریم کورٹ کو مذاق بنا دینے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی تھی۔ نتیجتاً یہ دونوں سابقہ جج خود ہی تاریخ کے ہاتھوں مذاق بن کر رہ گئے۔ جج ارشد ملک بھی ویسے ہی انجام کی طرف گامزن ہیں۔
موجودہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اب ارشد ملک اسکینڈل کی مکمل تحقیقات کے لئے دائر کی گئی ایک درخواست سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے اگلے ہفتے کے دوران اس کی باقاعدہ سماعت کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایک راست اقدام ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت ماضی میں عدالتوں کے دامن پر لگنے والے داغ دھونے کی کوشش کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی احتساب کے نام پر سیاست کرنے یا ناپسندیدہ سیاست دانوں کو انتقام کا نشانہ بنانے کے لئے احتساب کے نظام کو استعمال کرنے کے معاملہ کی تہ تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس حوالے سے احتساب بیورو کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کے کردار کی چھان بین کرنا بھی ضروری ہوگا۔ احتساب کے نام پر کھیلا جانے والا کھیل اس وقت ملک کی تقدیر سے کھلواڑ کا سبب بنا ہؤا ہے۔ سپریم کورٹ کو اس معاملہ کے سب پہلوؤں کا جائزہ لے کر درست اور راست احکام جاری کرنے چاہئیں۔
یہاں اس پہلو کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ نواز شریف کے خلاف احتساب ریفرنس سپریم کورٹ کے حکم پر قائمکیے گئے تھے اور ان ریفرنسز کی سماعت کی نگرانی سپریم کورٹ کے ایک جج کررہے تھے۔ احتساب عدالت کے جج پر ملزمان، ان کے لواحقین یا بعض نادیدہ عناصر کی طرف سے اگر دباؤ موجود رہا تھا جس کی وجہ سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوسکے تو اس کی براہ راست ذمہ داری عدالت عظمیٰ کے ان جج صاحب پر بھی عائد ہوگی جو انصاف کے تقاضے پورے کروانے کے لئے ہی نگرانی کا فرض ادا کر رہے تھے۔

