رنڈی ان منڈی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لًغت میں رنڈی کے لُغوی معنی جو بھی ہوں مگر ہمارے مردانہ معاشرے میں رنڈی کا لفظ ہمیشہ اپنے مخالفین کی عورتوں کی تذہیک کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ کچھ دن پہلے ٹوئٹر پر ایک ٹاپ ٹرینڈ چلا جس میں رنڈی ان منڈی کو موضوع بنایا گیا۔ جس کو دیکھ کر اور اس سے متعلقہ ٹویٹس پڑھ کر مجھے منٹو کے افسانے یاد آ گئے۔ جس نے آج سے کئی دہائیوں پہلے اپنے دور کے معاشرے کی ایسی تصویر کشی کی جو آج کے خود ساختہ ترقی یافتہ اور باشعور معاشرے سے ہو بہو مشابہت رکھتی ہے۔

اور منٹو کے دور کے تعفن زدہ معاشرے کی بدبو آج کے دور میں بھی اپنے ارد گرد محسوس ہوتی ہے۔ منٹو کی تحریروں میں کبھی کبھی اتنی زیادہ تلخی اور حقیقت پسندی ہوتی ہے کہ جتنی مرتبہ پڑھو منہ کا ذائقہ خراب ہو جاتا ہے۔ منٹو کہتا ہے کہ “ہم عورت اسی کو سمجھتے ہیں جوہمارے گھر کی ہو۔ باقی ہمارے لئے کوئی عورت نہیں ہوتی بس گوشت کی دکان ہوتی ہے اور ہم اس دکان کے باہر کھڑے کتوں کی طرح ہوتے ہیں جن کی ہوس زدہ نظر ہمیشہ گوشت پرٹکی رہتی ہے”۔ اور شاید حقیقت بھی یہی ہے۔

ہمارے معاشرے میں عورت کو جب عزت دینی مقصود ہو تو اسے ماں سے مشابہت دیتے ہیں کبھی اسے مادر ملت، مادر جمہوریت یا مادر وطن کا خطاب دیتے ہیں اور اور جب کسی مخالف کو گالی نکال کر تذلیل کی گہرائیوں میں گرانا چاہیں تو اسے دی گئی گالی کے ساتھ بھی ”مادر“ کا لفظ جوڑ دیتے ہیں۔ جب ہماری بیٹی گاتی یا جھومتی ہے تو پری لگتی ہے اور دنیا کی سب سے خوبصورت اور مقدس لگتی ہے اور اگر کسی دوسرے کی بیٹی یا بہن گائے یا جھومے تو ہمیں فاحشہ لگتی ہے۔ اور ہمیں اس کے جسم کے اتار چڑھاؤ سے زیادہ دلچسپی ہونے لگتی ہے۔ ہم وہ قوم ہیں جب ضرورت پڑے تو اپنی مادر وطن کی چھاتیوں کو ہی چبا جاتے ہیں جس کا دودھ اور خون پی پی کر ہماری نسلیں جوان ہوتی ہیں۔

ٓٓرنڈی ان منڈی کا ٹاپ ٹوئٹر ٹرینڈ یقینا ہمارے معاشرے کی اس اکثریت سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس میں عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا ہے جہا ں اپنی دشمنی کا بدلہ پورا کرنے کے لئے اسے ونی کردیا جاتا ہے یا جائیدادکا حصہ بچانے کے لئے اس کی شادی مقدس کتابوں سے کردی جاتی ہے۔ جہاں ٹی وی کے براہ راست پروگرام میں مذہبی لیڈر عورت کے مقابلے میں دلیل نہ ہونے پراس کو سب کے سامنے شلوار اتارنے کی دھمکی دیتا ہے اور ہمارا معاشرہ اس کو ووٹ دے کر منتخب کرلیتا ہے۔ اور دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ہم نے عورت کو سب سے زیادہ عزت اور حقوق دے رہے ہیں۔ اور یہ مرد کی کیسی عزت ہے جس کا دارومدار عورت کے کچھ کرنے، سوچنے، پہننے یا ہونے سے متاثر ہونے لگتا ہے۔ یقینا ہمارے معاشرے میں عورت کا مقام ایک جیتے جاگتے وجود کے بجائے ایک تصرف میں موجود شے سے زیادہ کبھی بھی نہیں ہے۔

رنڈی ان منڈی ایک ٹوئٹر ٹرینڈ نہیں بلکہ ہمارے بدبودار معاشرے کا ایک ایسا رجحان ہے جو اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ ہمارے آج کے معاشرے کا تعلیم یافتہ طبقہ اور منٹو کے افسانوں میں بیان کردہ بدبودار کرداروں میں کوئی فرق نہیں۔ جہاں سیاسی اختلاف کی وجہ سے کسی عورت کو نیچا دکھانے اور بے عزت کرنے کے لئے سیاق و سباق سے ہٹ کر ہر جھوٹا سچا حربہ استعمال کرنا جائز ہے۔

رنڈی ان منڈی ہمارے معاشرے کے شعور کی پستی میں ہونے کا پتہ دیتا ہے جس میں دلیل کے نہ ہونے پر ذاتیات پر اتر آنا ہماری معاشرتی روایت بن چکی ہے۔ ہم بحثیت معاشرہ شعوری ترقی کے بجائے تنزلی کی طرف گامزن ہیں اور اس میں سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ ہمیں اس تنزلی پر فخر ہے۔ ہمارے معاشرے سے برداشت، رواداری، مکالمہ بازی، دلیل سے بات کرنا اور مخالفت کو اخلاقیات کے دائرے میں رکھنا شاید سب ختم ہو چکا ہے۔ اور سیاسی، سماجی، لسانی اور مذہبی مخالفت میں ہم دلیل سے بات کرنے کے بجائے مخالف کو ذلیل کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

رنڈی ان منڈی ہمارے معاشرے کا ایسا آئینہ ہے جس میں ہم اپنے معاشرے کے گھٹیا بدبودار کرداروں کو پڑھے لکھے اور تعلیم یافتہ طبقے کے روپ میں دیکھتے ہیں جن کے نزدیک مقدس صرف ان کے گھر کی عورت ہے اور گھر کی دہلیز سے باہر ہر عورت رنڈی ہے۔ مگر وہ یہ نہیں سمجھتے باہر دکان پرجو گوشت ہے وہی گوشت ان کے گھر بھی موجود ہے فرق صرف ان کی نظر کا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •