پرندوں کے نام پر کوے، چیل اور گدھ باقی رہ گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شہر کراچی میں اپنے گھر کی چھت پر کھڑے ہوں یا اپنے دفتر کی کھڑکی سے جھانک کر آسمان کو دیکھیں تو چیلیں، گدھ اور کوے چار سو اڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان تین پرندوں کے علاوہ خال خال ہی کوئی دوسرا پرندہ دکھائی دے گا۔ چہچہاتی چڑیاں، مدھ بھری اواز کی مالک کوئل اور ان کی قبیل کے خوش گلو پرندے اب شہر کی فضاؤں میں اور اس کے درختوں پر کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔ چیلوں، گدھ اور کوؤں کی اکثریت اور ان کی تعداد میں روز افزوں اضافہ اس شہر کے گندگی، تعفن اور آلائشوں سے بھرے ماحول کا غماز ہے۔

چیل، کوے اور گدھ اس علاقے کی فضاؤں میں منڈلاتے نظر آتے ہیں جو جمالیاتی حسن سے محروم ہو کر گندگی اور مرداروں سے اٹا ہوا ہو۔ کراچی شہر کی بدقسمتی کہ فضائی، زمینی اور سمندری آلودگی سے اس کا ماحول شدید متاثر ہو کر ایک ہولناک منظر پیش کر رہا ہے۔ جب چیل، گدھ اور کوے فضا اور ماحول کو مغلوب کر لیں تو خوش گلو اور خوشنما پرندے دور دیس ٹھکانہ بنا لیتے ہیں اور ان کی غیر موجودگی ایک ایسے ماحول کا پتا دیتی ہیں جس میں حسن، جمالیات اور زندگی کی تابانی عنقا ہوتی ہے۔

شہر کراچی کی فضاؤں میں موجود گدھ، چیلیں اور کوے جب سے شہر میں قانون قدرت سے کھلواڑ شروع ہوا اس وقت سے امڈ آئے لیکن اس ملک کی فضاؤں میں کوؤں، چیلوں اور گدھوں کی موجودگی روز اول سے پتا دیتی ہے اور ان کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ یہ گدھ، کوے اور چیلیں آئینی بندوبست اور قانون کی حکمرانی کی عدم موجودگی میں اس ہر سو اڑتے پھرتے ہیں۔ یہ گدھ، کوے اور چیلیں اس حقیقت کی علامت ہیں کہ اس ملک کی سیاسی فضا مسموم ہے جو آئین و قانون سے کھلواڑ کی وجہ سے جنم لیتی ہے۔

ملک کا کوئی ایسا شعبہ اور ادارہ نہیں جو ان کی دست برد سے محفوظ ہو۔ سیاست کے شعبے کو ہی لے لیں تو اس میں چیلیں، گدھ اور کووں کی اتنی بھرمار ہے کہ انہوں نے سیاست کو گالی بنا کر رکھ دیا ہے۔ جسد سیاست کو انہوں نے نوچ نوچ کر اس کا حلیہ تک بگاڑ دیا۔ ان میں وہ شامل ہیں جو ائین اور قانون کی حکمرانی کی بجائے اسے تباہ کرنے والوں کے ہم رکاب رہے۔ عوام کے حق حکمرانی کی بجائے وہ نادیدہ قوتوں کی حکمرانی کو قائم کرنے کے لیے ان کے دست و بازو بنے رہے۔

یہ عوام کو نادان سمجھتے ہیں اور ان کے حق حکمرانی کو اس بنیاد پر مسترد کرتے ہیں کہ پاکستان کے عوام ابھی تک اس قدر تعلیم یافتہ، با شعور اور سمجھ دار نہیں ہیں کہ وہ اچھے برے کی تمیز کر سکیں۔ یہ ٹولہ خود سے بات نہیں کہتا بلکہ اپنے آقاؤں کے حکم پر ایسا پراپیگنڈا پھیلاتا ہے۔ تاہم پاکستان کے عوام ان کی سوچ اور سمجھ سے زیادہ عقل مند اور باشعور ہیں اس لیے تو جب جب انہیں موقع ملا انہوں نے اپنے حق حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے دانشمندانہ فیصلے کیے۔

سیاست میں کوؤں، چیلوں اور گدھوں کی بہتات کی ایک اور وجہ سیاست کو ملکی وسائل اور دولت کے لوٹنے کا ذریعہ بنانا ہے۔ ان کی ہوس پلاٹ اور پرمٹ سے بڑھتے بڑھتے منی لانڈرنگ، جعلی اکاؤنٹس اور بیرون ملک اثاثوں تک جا پہنچی۔ سیاست کو ذاتی مالی منفعت کے لیے یہ صاحبان سیاست نت نئے گٹھ جوڑ کرتے ہیں تاکہ وہ اور ان کے خاندان دولت کے انبار اکٹھے کر لیں۔

سیاست کے ساتھ اس ملک کے انصاف کے شعبے میں بھی کوؤں، چیلوں اور گدھوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ نظام انصاف میں ان کی موجودگی نے اس نظام کو غیر معتبر بنا دیا ہے۔ نظام انصاف میں کوؤں، چیلوں اور گدھوں کی موجودگی کے بار ہا ثبوت منظر عام پر آچکے ہیں کہ کیسے انہوں نے اس شعبے کو نوچ اور بھنبھوڑ کر مکروہ صورت بنا دیا ہے۔ صحافت کا شعبہ بھی کوؤں، چیلوں اور گدھوں سے پاک نہیں ہے اور جب سے نجی ٹی وی چینلوں کی بھرمار ہوئی ہے اس کے بعد تو ان کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔

یہ کوے، چیلیں اور گدھ آزادی صحافت کی بجائے درپردہ ایجنڈوں پر عمل پیرا ہیں۔ ان کی دن رات کی سمع خراشی کوے کی کائیں کائیں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی کیونکہ اس میں سچائی کے پرچار کی بجائے حقیقت کو مسخ کیا جاتا ہے۔ ان میڈیائی کوؤں کی کائیں کائیں سماعتوں کے لیے بہت ناگوار ہوتی ہے اور ماحول کو اسی طرح بوجھل کر دیتی ہے جیسے اصلی کوے کی آواز ایک سکون دہ ماحول میں نحوست پھیلا دیتی ہے۔ صحافت میں کوؤں، چیلوں اور گدھوں کی اکثریت آزادی رائے کے قافلے کی بجائے اس کو نیست و نابود کرنے والی قوتوں کے ہمنوا ہیں۔

ملک میں جب جب سنسر شپ کی بلا نازل ہوئی آزادی صحافت کے لیے بہت سے جری اور نڈر صحافی اس کے خلاف مزاحم ہوئے اور اس کی پاداش میں کوڑے اور جیلیں بھی بھگتیں لیکن ایک ایسا ٹولہ ایسا ہمیشہ سے موجود تھا اور اج بھی ہے جسے صحافت سے کوئی سروکار نہیں بلکہ وہ ان قوتوں کے ہم رکاب ہیں جو اس پر قدغن لگانے کے درپے ہیں اس ملک میں کوؤں، چیلوں اور گدھوں کی تعداد بڑھتی رہے گی تا وقتیکہ یہاں ہر عوام کے حق حکمرانی، دستور کی پاسداری اور قانون کی سر بلندی کو یقینی بنا دیا جائے۔

آئینی کی عملداری اور قانون کی سربلندی سے جو خوشنما ماحول جنم لیتا ہے اس میں کوؤں، چیلوں اور گدھوں کی پیدائش تھم جاتی ہے اور خوش گلو اور دیدہ زیب پرندے وہاں کا رخ کرتے ہیں جو شہری آزادیوں، آزادی رائے اور مذہبی آزادی کے خوش کن نغمے گاتے پھرتے ہیں۔ ان خوبصورت پرندوں کے گلوں سے نکلنے والی مدھ بھری آوازیں ایک ایسے معاشرے کا پتا دیتی ہیں جہاں ہو عوام کے حق حکمرانی کی بنیاد پر ان کے حکمرانوں کے فیصلے ہیں، جہاں انصاف بکتا ہو اور نا ہی جھکتا ہو، جہاں پس پردہ قوتیں حکومتوں کی اکھاڑ پچھاڑ کی بجائے اپنا اصلی فرض منصبی ادا کرنے کی پابند ہوں، جہاں آزادی صحافت کے میٹھے زمزمے بہتے ہوں اور ان میں کوئی جبر اور سنسر شپ کا زہر نہ گھول دیتا ہو۔ آئیے ملک اور معاشرے کو تمام تو آلائشوں اور گندگی سے صاف کریں تاکہ کوے، چیلیں اور گدھ آپ کو چاروں طرف منڈلاتے نظر نہ آئیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •