ساڑھے تین آنے: منٹو کا افسانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”خدا معلوم میں کیا بکواس کرتا رہا ہوں، لیکن میرے ذہن میں ہر وقت ایک آدمی کا خیال رہا ہے۔ اس آدمی کا، اس بھنگی کا جو ہمارے ساتھ جیل میں تھا۔ اس کو ساڑھے تین آنے چوری کرنے پر ایک برس کی سزا ہوئی تھی۔ “

نصیر نے حیرت سے پوچھا۔ صرف ساڑھے تین آنے چوری کرنے پر؟ ”

رضوی نے یخ آلود جواب دیا۔

”جی ہاں۔ صرف ساڑھے تین آنے کی چوری پر۔ اور جو اس کو نصیب نہ ہوئے، کیونکہ وہ پکڑا گیا۔ یہ رقم خزانے میں محفوظ ہے اور پھگو بھنگی غیر محفوظ ہے۔ کیونکہ ہو سکتا ہے وہ پھر پکڑا جائے۔ کیونکہ ہو سکتا ہے اس کا پیٹ پھر اسے مجبور کرے، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس سے گُو مُوت صاف کرانے والے اس کی تنخواہ نہ دے سکیں، کیونکہ ہو سکتا ہے اس کو تنخواہ دینے والوں کو اپنی تنخواہ نہ ملے۔ یہ ہو سکتا ہے کا سلسلہ منٹو صاحب عجیب وغریب ہے۔ سچ پوچھئے تو دنیا میں سب کچھ ہو سکتا ہے۔ رضوی سے قتل بھی ہوسکتا ہے۔ “

یہ کہہ کروہ تھوڑے عرصے کے لیے خاموش ہو گیا۔ نصیر نے اس سے کہا۔

”آپ پھگو بھنگی کی بات کررہے تھے۔ ؟ “

رضوی نے اپنی چھدری مونچھوں پرسے کوفی رومال کے ساتھ پونچھی۔

”جی ہاں۔ پھگو بھنگی چور ہونے کے باوجود، یعنی وہ قانون کی نظروں میں چور تھا۔ لیکن ہماری نظروں میں پورا ایماندار۔ خدا کی قسم میں نے آج تک اس جیسا ایماندار آدمی نہیں دیکھا، ساڑھے تین آنے اس نے ضرور چرائے تھے، اس نے صاف صاف عدالت میں کہہ دیا تھا کہ یہ چوری میں نے ضرور کی ہے، میں اپنے حق میں کوئی گواہی پیش نہیں کرنا چاہتا۔ میں دو دن کا بھوکا تھا، مجبوراً مجھے کریم درزی کی جیب میں ہاتھ ڈالنا پڑا۔ اس سے مجھے پانچ روپے لینے تھے۔ دو مہینوں کی تنخواہ۔ حضور اس کا بھی کچھ قصور نہیں تھا۔ اس لیے کہ اس کے کئی گاہکوں نے اس کی سلائی کے پیسے مارے ہوئے تھے۔ حضور، میں پہلے بھی چوریاں کر چکا ہوں۔ ایک دفعہ میں نے دس روپے ایک میم صاحب کے بٹوے سے نکال لیے تھے۔ مجھے ایک مہینے کی سزا ہوئی تھی۔ پھر میں نے ڈپٹی صاحب کے گھر سے چاندی کا ایک کھلونا چرایا تھا اس لیے کہ میرے بچے کو نمونیا تھا اور ڈاکٹر بہت فیس مانگتا تھا۔ حضور میں آپ سے جھوٹ نہیں کہتا۔ میں چور نہیں ہوں۔ کچھ حالات ہی ایسے تھے کہ مجھے چوریاں کرنی پڑیں۔ اور حالات ہی ایسے تھے کہ میں پکڑا گیا۔ مجھ سے بڑے بڑے چور موجود ہیں لیکن وہ ابھی تک پکڑے نہیں گئے۔ حضور، اب میرا بچہ بھی نہیں ہے، بیوی بھی نہیں ہے۔ لیکن حضور افسوس ہے کہ میرا پیٹ ہے، یہ مر جائے تو سارا جھنجھٹ ہی ختم ہو جائے، حضور مجھے معاف کردو۔ لیکن حضور نے اس کو معاف نہ کیا اور عادی چور سمجھ کر اس کو ایک برس قید بامشقت کی سزا دے دی۔ “

رضوی بڑے بے تکلف انداز میں بول رہا تھا۔ اس میں کوئی تصنع، کوئی بناوٹ نہیں تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ الفاظ خود بخود اس کی زبان پر آتے اور بہتے چلتے جارہے ہیں۔ میں بالکل خاموش تھا۔ سگریٹ پہ سگریٹ پی رہا تھا اور اس کی باتیں سن رہا تھا۔ نصیر پھر اس سے مخاطب ہوا۔

”آپ پھگو کی ایمانداری کی بات کررہے تھے؟ “

”جی ہاں۔ “

رضوی نے جیب سے بیٹری نکال کر سلگائی۔

”میں نہیں جانتا قانون کی نگاہوں میں ایمانداری کیا چیز ہے، لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ میں نے بڑی ایمانداری سے قتل کیا تھا۔ اور میرا خیال ہے کہ پھگو بھنگی نے بھی بڑی ایمانداری سے ساڑھے تین آنے چرائے تھے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگ ایماندار کو صرف اچھی باتوں سے کیوں منسوب کرتے ہیں، اور سچ پوچھیے تو میں اب یہ سوچنے لگا ہوں کہ اچھائی اور برائی ہے کیا۔ ایک چیز آپ کے لیے اچھی ہو سکتی ہے، میرے لیے بری۔ ایک سوسائٹی میں ایک چیز اچھی سمجھی جاتی ہے، دوسری میں بری۔ ہمارے مسلمانوں میں بغلوں کے بال بڑھانا گناہ سمجھا جاتا ہے، لیکن سکھ اس سے بے نیاز ہیں۔ اگریہ بال بڑھانا واقعی گناہ ہے تو خدا ان کو سزا کیوں نہیں دیتا اگر کوئی خدا ہے تو میری اس سے درخواست ہے کہ خدا کے لیے تم یہ انسانوں کے قوانین توڑ دو، ان کی بنائی ہوئی جیلیں ڈھا دو۔ اور آسمانوں پر اپنی جیلیں خود بناؤ۔ خود اپنی عدالت میں ان کو سزا دو، کیونکہ اور کچھ نہیں تو کم از کم خدا تو ہو۔ “

رضوی کی اس تقریر نے مجھے بہت متاثر کیا۔ اس کی خامکاری ہی اصل میں تاثر کا باعث بھی۔ وہ باتیں کرتا تھا تو یوں لگتا ہے جیسے وہ ہم سے نہیں بلکہ اپنے آپ سے دل ہی دل میں گفتگو کررہا ہے۔ اس کی بیڑی بجھ گئی تھی، غالباً اس میں تمباکو کی گانٹھ اٹکی ہوئی تھی۔ اس لیے کہ اس نے پانچ چھ مرتبہ اس کو سلگانے کی کوشش کی۔ جب نہ سلگی تو پھینک دی اور مجھ سے مخاطب ہو کر کہا۔

”منٹو صاحب، پھگو مجھے اپنی تمام زندگی یاد رہے گا۔ آپ کو بتاؤں گا تو آپ ضرورکہیں گے کہ جذباتیت ہے، لیکن خدا کی قسم جذباتیت کو اس میں کوئی دخل نہیں۔ وہ میرا دوست نہیں تھا۔ نہیں وہ میرا دوست تھا کیونکہ اس نے ہر بار خود کو ایسا ہی ثابت کیا۔ “

رضوی نے جیب میں سے دوسری بیڑی نکالی مگر وہ ٹوٹی ہوئی تھی۔ میں نے اسے سگریٹ پیش کیا تو اس نے قبول کرلیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •