اللہ کا بڑا فضل ہے

اللہ کا بڑا فضل ہے صاحبان …. ایک وہ زمانہ جہالت تھا کہ جگہ جگہ کچہریاں تھیں۔ ہائی کورٹیں تھیں۔ تھانے تھے ، چوکیاں تھیں، جیل خانے تھے، قیدیوں سے بھرے ہوئے۔ کلب تھے جن میں جوا چلتا تھا۔ شراب اڑتی تھی۔ ناچ گھر تھے ، سینما تھے ، آرٹ گیلریاں تھیں اور کیا کیا…

Read more

ایک زاہدہ، ایک فاحشہ

جاوید مسعود سے میرا اتنا گہرا دوستانہ تھا کہ میں ایک قدم بھی اُس کی مرضی کے خلاف اُٹھا نہیں سکتا تھا۔ وہ مجھ پر نثار تھا میں اُس پر ہم ہر روز قریب قریب دس بارہ گھنٹے ساتھ ساتھ رہتے۔ وہ اپنے رشتے داروں سے خوش نہیں تھا اس لیے جب بھی وہ بات…

Read more

ٹیٹوال کا کتا: کشمیری منٹو نے کشمیر کا دکھ کیسے لکھا؟

کئی دن سے طرفین اپنے اپنے مورچے بر جمے ہوئے تھے۔ دن میں ادھر اور ادھر سے دس بارہ فائر کیے جاتے جن کی آواز کے ساتھ کوئی انسانی چیخ بلند نہیں ہوتی تھی۔ موسم بہت خوشگوار تھا۔ ہواخود رو پھولوں کی مہک میں بسی ہوئی تھی۔ پہاڑیوں کی اونچائیوں اور ڈھلوانوں پر جنگ سے…

Read more

ساڑھے تین آنے: منٹو کا افسانہ

”میں نے قتل کیوں کیا۔ ایک انسان کے خون میں اپنے ہاتھ کیوں رنگے، یہ ایک لمبی داستان ہے۔ جب تک میں اس کے تمام عواقب و عواطف سے آپ کو آگاہ نہیں کروں گا، آپ کو کچھ پتہ نہیں چلے گا۔ مگر اس وقت آپ لوگوں کی گفتگو کا موضوع جرم اور سزا ہے۔…

Read more

شریفن ۔۔۔ یہ افسانہ سعادت حسن منٹو نے لکھا

سعادت حسن منٹو کا یہ افسانہ ان قیامت خیز دنوں کا ایک ورق پیش کرتا ہے جب راتوں رات انکشاف ہوا کہ ہندوستان میں ایک نہیں، دو قومیں بستی ہیں۔ ایک ہزار برس تک ایک ہی ملک میں رہنے والی ان دو قوموں نے جب الگ ہونے کا فیصلہ کیا تو دونوں قوموں کے اندر…

Read more

بلاؤز

کچھ دنوں سے مومن بہت بے قرار تھا۔ اس کا وجود کچا پھوڑا سا بن گیا تھا۔ کام کرتے وقت، باتیں کرتے ہوئے، حتٰی کہ سوچتے ہوئے بھی اسے ایک عجیب قسم کا درد محسوس ہوتا تھا۔ ایسا درد جس کو اگر وہ بیان کرنا چاہتا تو نہ کر سکتا۔ بعض اوقات بیٹھے بیٹھے وہ…

Read more

بابو گوپی ناتھ کے پھول، منٹو کی حماقت اور عثمان بزدار کی سمجھ داری

پھول پیش کرنا ایک خوشگوار رسم ہے۔ پھول محبت کا نشان ہیں۔ پھول پیش کرنے کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں۔ منٹو کے شہرہ آفاق بابو آفاق افسانے بابو گوپی ناتھ کا متکلم کردار پھولوں کو مسخرہ پن کہہ کر نکو بن گیا۔ یہ افسانہ 1940 کے آس پاس کا ماحول بیان کرتا تھا۔ گویا قریب اسی برس گزر چکے۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو آج بھی پھول پیش کرنے کے موقع محل کی سمجھ نہیں۔ لیجئے منٹو کا فسانہ پڑھیے۔

Read more

منٹو نے فحاشی کے الزام پر اپنا دفاع کیسے کیا؟

منٹو کے چھے افسانوں، ”کالی شلوار“، ”دھواں“، ”بو“، ”ٹھنڈا گوشت“، ”کھول دو“، اور ”اوپر نیچے اور درمیان“ پر فحاشی کے الزام کے تحت فوجداری مقدمے چلائے گئے۔ ان میں سے ابتدائی تین کہانیوں پر مقدمات برطانوی دور حکومت میں قائم ہوئے اور بقیہ تین تحریروں پر مملکت پاکستان میں درج ہوئے۔ آج پاکستان میں منٹو…

Read more

منٹو کا فحش افسانہ؟ اوپر، نیچے اور درمیان

میاں صاحب: بہت دیر کے بعد آج مل بیٹھنے کا اتفاق ہوا ہے۔
بیگم صاحبہ: جی ہاں!

میاں صاحب: مصروفیتیں۔ بہت پیچھے ہٹتا ہوں مگر نا اہل لوگوں کا خیال کرکے قوم کی پیش کی ہوئی ذمہ داریاں سنبھالنی ہی پڑتی ہیں
بیگم صاحبہ: اصل میں آپ ایسے معاملوں میں بہت نرم دل واقع ہوئے ہیں، بالکل میری طرح

میاں صاحب: ہاں! مجھے آپ کی سوشل ایکٹی وٹیزکا علم ہوتا رہتا ہے۔ فرصت ملے تو کبھی اپنی وہ تقریریں بھجوا دیجئے گا جو پچھلے دنوں آپ نے مختلف موقعوں پر کی ہیں۔ میں فرصت کے اوقات میں ان کا مطالعہ کرنا چاہتا ہوں۔
بیگم صاحبہ: بہت بہتر

Read more